مہنگا خدا__ محمد منیب خان

مبشر علی زیدی اردو میں مختصر کہانی کی صنف”سو لفظوں کی کہانی” کےسر خیل ہیں۔ اس صنف کو اگر اردو زبان میں کسی نے پذیرائی دی تو وہ مبشر زیدی ہیں۔ ادب کی کوئی بھی صنف ہو لکھنے والا اس میں اپنے مطالعے اور فکر کی بنیاد پہ تجربات کرتا رہتا ہےیہی وجہ ہے کہ غزل سے لیکر آزاد نظم تک آج بھی ارتقا میں ہیں اور یہ ارتقا ہی دراصل صنف کو دوام بخشتا ہے۔
کہانی سننا اور سنانا اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ اور اب اس قدیم ترین صنف کی مختصر ترین شکل بھی موجود ہے۔ میرا مبشر علی زیدی سے کوئی ذاتی تعلق نہیں، نہ ہی مجھے ان کے بارے میں کوئی خوش گمانی یا بد گمانی ہے۔ میرا ان سے واحد تعلق ان کی تقریباً روز چھپنے والی “سو لفظوں کی کہانی” یا کتاب چہرے (فیس بک) کی پوسٹ ہیں۔ اب کچھ عرصے سے وہ زیادہ کھل کر سوشل میڈیا پہ کچھ ایسا فکشن لکھ رہے ہیں جو عام انسان کی ذہنی سطح سے کچھ اوپر ہے۔
ادب کے قارئین جانتے ہیں کہ فکشن کیا ہے؟ فکشن ہے ہی کہانی کا غیر حقیقی اور جھوٹ ہونا۔ لیکن جب فکشن میں کسی تشبیہہ یا استعارے کا استعمال کیا جائے تو وہ بڑا معنی خیز ہو جاتا ہے۔۔۔
زیدی صاحب کی حالیہ    تحریر “مہنگا خدا” میرے  نزدیک فکشن کی معراج کو چھوتی ہوئی کہانی ہے۔ میں نے مکالمہ پہ چھپنے والی اس کہانی کو دو سے تین بار پڑھا ایک نظر نیچے لکھے تعفن زدہ کمنٹس پہ ڈالی اور میں وہاں سے اسی لمحے یہ سوچتا ہوا نکل آیا کہ مجھے اس بارے کچھ لکھنا ہے۔
آپ ایک لمحے کو بھول جائیے کہ “مہنگا خدا” نامی کوئی تحریر چھپ چکی ہے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر ڈالیں۔ چلیں آپ اپنے گریبان میں جھانک لیں۔ آپ کا تعلق کس سماجی کلاس سے ہے؟ اور پھر دیکھیں کیا اس کلاس میں خدا کا وہی تصور نہیں جو کہانی میں موجود ہے۔ اگر جواب نہیں میں ہے تو آئیں مل کے فتوی لگاتے ہیں اور اگر جواب ہاں میں ہے  تو آئیں فتوی لگانے پہ تھوڑی شرم کھائیں۔
میں اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں لوگ “تحفے” میں ملی رقم سے حج اور عمرہ کرتے ہیں۔ میں اس سماج کا حصہ ہوں جہاں رشوت کے پیسوں سے گھر بنانے والا “ھذا من فضل ربی” لکھواتا ہے۔ میں اس سماج کا حصہ ہوں جہاں صرف جائیداد کی تقسیم بچانے کے لیے بیٹیوں کی شادیاں قرآن سے کر دی جاتی ہیں۔ میں اس سماج کا حصہ ہوں جو اوپر کی کمائی سے ایک فلاحی ادارہ بنانے والا لوگوں میں نیک نام مشہور ہوتا ہے۔ اتنی ورائٹی کیوں ہے معاشرے میں؟ کیونکہ ہمارا خدا اپنا ہے ہم سب کا نظریہ خدا بارے اپنا ہے۔ میں نماز میں سستی کر کے کہتا ہوں اللہ معاف کرے گا اور کوئی دوسرا دو نفل بھی چھوڑ دے تو اس کو سنت غیر موکدہ کے ترک کا گناہگار ثابت کرتا ہوں۔اس معاشرے میں لوگوں کے خدا بارے نظریات کیا ہیں اس کے لیے کسی محدب عدسے سے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ایک کلاس نائٹ کلب میں بھی جاتی ہے اور چیریٹی بھی کرتی ہے۔ یہاں ایک کلاس بد نظری پہ بھی ماشااللّہ بولتی ہے۔ یہ سب کیا ہے؟؟؟؟ کیا کبھی ان سب پہ فتوی لگا؟ نہیں اور نہ ہی لگے گا کہ کیونکہ یہ میں ہوں اور یہ آپ ہیں۔ بھلا ہم پہ فتوی کیوں لگے؟
میری زیدی صاحب سے ایک گزارش ہے کہ آپ وہ آئینہ توڑ دیں جس سے معاشرے کے بیمار ضمیر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس معاشرے نے کسی کو نہیں بخشا۔ ہم کسی کی ایک لائن پکڑ کر ساری زندگی کے اعمال پہ لائن لگا دیتے ہیں۔ اس ملک میں کسی نہ کسی مقام  پہ کسی نہ کسی لحاظ سے سب پہ فتوی لگ چکےہیں چاہے کوئی منٹو تھا یا ممتاز مفتی۔ یہاں کون بچ پایا ہے۔ اور یہ معاشرہ  بڑا چالاک ہے یہ منٹو کا “ یزید” نہیں پڑھتا، یہ منٹو کے “ٹوبہ ٹیک سنگھ” سے بھی بے خبر ہے اس کو “نیا قانون” بھی کسی کتاب میں نہیں ملا ۔ اس کو “لبیک”میں رحمن سے دوستی نظر نہیں آئی لیکن اس کو لفظ “کوٹھا” پہ بھی اعتراض ہے اس کو محب سے بھی بیر ہے اور محبت سے بھی۔۔۔۔
لیکن ایک گذارش ہے زیدی صاحب کی خدمت میں، مجھے نہیں پتہ کہ آپ کی نیت کیا ہے اس کا علم صرف رب کو ہے لیکن میرا مشورہ ہے کہ ہر چیز ہر انسان کی  ذہنی سطح کی نہیں ہوتی اور فیس بک پہ مختلف استعداد کے  اذہان موجود ہیں۔ سو وہ ہر تحریر کا اپنے انداز میں آپریشن کرتے ہیں۔ گویا مصنف کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کتاب میں چھپنے والی تحریر طالب تک جاتی ہے جب کہ  فیس بک ہر غیر طالب تک بھی پہنچا دیتا ہے۔ تو کچھ تحریروں کو صرف کتابوں میں شائع ہونا چاہیے یہ ایک ادنی سا مشورہ ہے اور فیصلے کا استحقاق صرف مصنف (آپ) کا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *