مملکتِ خُداداد میں عورت تحفظ کی طلبگار۔۔خطیب احمد

 عصرِ حاضر میں عزت اور حق کی بات تو کی جاتی ہے مگر معاشرہ میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سب سے زیادہ مظلوم عورت ہے روز سنا جاتا ہے کہ کبھی کوئی اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہے کبھی کوئی اپنی بیوی کو جلا رہا ہے۔ کہیں عورت کو محض اس لئے قتل کر دیا جاتا ہے کہ اس نے بیٹی کیوں پیدا کی ہے حالانکہ بیٹی پیدا کرنا عورت کے اختیار میں نہیں ہے اگر ایسے خاوندوں کو بروقت سزا دی جائے تو بیویوں پر بلاجواز ظلم و تشدد کا سلسلہ رک سکتا ہے۔ اکثر ٹی وی چینلز پر عورت کی عزت اور حق سے متعلق پروگرام دکھائے جاتے ہیں، مگر معاشرہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا سنا تھا کہ عورت پر ظلم و تشدد کے ذمہ دار مرد کو دو لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ مگر آج تک اس قانون پر عمل درآمد ہوتے نہیں دیکھا گیا۔

لہذا ضرورت ہے ایسے قانون کو موثر بنایا جائے۔ ہمارے معاشرے کی عورت کے مسائل کی روک تھام اور عدمِ تحفظ فراہم کرنے کیلئے مختلف ادوار میں حکومتیں قانون سازی کرتی رہیں اور مختلف اصلاحات کے اعلانات بھی کیے جاتے رہے ہیں یہ دوسری بات کہ بہت سی قانونی، معاشرتی اور سماجی پیچیدگیوں کی بنا پہ اُن پر مفصل و مشروح عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ ریاست اگر عورت کا تحفظ نہیں کرتی تو معاشرہ انہیں قبائلی اور مذہبی قوانین تحت غلام بنا دیا جاتا ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں کا مقامی کلچر عورت کو عزت نہیں دیتا بلکہ بلکہ جو عزت کے دعويدار نظر آتے ہیں یہ عورت کو پنجرے میں رکھ کر عزت کرنا سمجھتے ہیں۔

جدید ریاستوں نے عورت کو تحفظ دیا اگر ہماری ریاست عورت کو تحفظ نہیں دے گی تو یہ بات کرنا بے سود ہوگا ۔۔ اسلام نے عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کیا ہے۔ اگر معاشرے میں اس کے ساتھ عورت کے لیے جو پابندیاں رکھی ہیں وہ دراصل اُس کی عزت اور احترام کا باعث بنتی ہیں اور اگر کہیں عورت کے ساتھ غیر مساوی رویہ روا رکھا جاتا ہے تو اُس کی ذمہ دار مذہب نہیں بلکہ معاشرے کی فرسودہ روایات اور نظام ہے۔ اسلام نے عورت کو باعزت مقام دیا ہے اسلامی معاشرہ میں اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی تو ویسے بھی انتہائی تکلیف دہ بلکہ باعث شرم ہونی چاہئے حکمرانوں سے التماس ہے اس کا فوری نوٹس لیں عورت کو تحفظ دیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *