نیو لبرل ازم کیا ہے؟۔۔منصور ندیم

لبرل ازم ، مغربی دنیا میں قریب ۳۰۰ سالہ تاریخ رکھتا ہے، جس نے اٹھارویں  صدی کے جنگ عظیم دوئم کے بعد پوری دنیا کو ایک حیرت انگیز سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر نئی  تبدیلی سے روشناس کروایا ۔ لیکن گزشتہ ۳۰۰ سالوں میں لبرل ازم نے بھی ہر عہد اور جغرافیہ کے اعتبار سے ارتقائی تبدیلیوں کو قبول کیا۔ان تین سو سالوں میں لبرل ازم کئی ادوار سے گزرا ہے۔   جنہیں ہم ان تین ادوار میں بانٹ   سکتے ہیں۔

۱-  کلاسیکل لبرل ازم ( Classical Liberalism) سنہء ۱۸۵۰ تک۔

۲- ماڈرن لبرل ازم  ( Modern Liberalism) سنہ ء ۱۸۵۰- ۱۹۷۰ تک۔

۳-  نیو لبرل ازم (Neo Liberalism) سنہء ۱۹۷۰ کے بعد سے موجود عہد تک۔

کلاسیکل  یا اقتصادی لبرل ازم انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے اوائل تک امریکا و یورپ  میں جاری رہا ،پھر 1930 کے عظیم مالی انحطاط کے بعد ایک نیا ماہر اقتصادیات سامنے آیا، اس کا نام جوہن مینرڈ کینز Keynes تھا۔کینز نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ سرمایہ داروں کے لیے لبرل ازم بہترین پالیسی ہے، اس کا کہنا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی افزائش کے لیے مکمل  روزگارضروری ہے اور روزگار میں اضافہ حکومت اور سینٹرل بینکوں کی مداخلت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پرانے لبرل ازم کا آغاز  چونکہ  اقتصادی معاملات میں حکومت کی مداخلت کو ختم کر دینا تھا یعنی ، مینوفیکچرنگ پر پابندیاں نہ لگائی جائیں،کامرس  یا کاروبار کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں،کوئی محصول یا ٹیکس نہ لگایا جائے۔آزاد تجارت کسی بھی قوم کی معیشت کو ترقی دینے کا بہترین طریقہ ہے۔کوئی بھی کنٹرول نہ ہونے کے حوالے سے ان تصورات کو اقتصادی معنوں میں  لبرل کہا گیا تھا۔فرد کی آزادی کے اس تصور نے آ زاد کاروبار اور آزاد مقابلے کی حوصلہ افزائی کی اور یوں سرمایہ داروں کو من چاہا منافع کمانے کی آزادی مل گئی۔

نیو لبرل ازم Neo Liberalism :

نیو لبرل ازم کا نفاذ  ، لمبے عرصے تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی مارگریٹ تھیچر اور امریکہ میں قریب ۸ برس تک حکمران رونالڈ ریگن کو جاتا ہے۔ایسا پہلی بار دنیا نے دیکھا کوئی اکانومی  آئیڈ یا پیش کیا گیا ہو اور اس کا عملی نفاذ فوری طور پر ریاست میں نظر آئے۔ابتدا  میں ان  پالیسیوں سے  بظاہر بہت سے لوگوں کی زندگی میں بہتری آئی۔۱۹۸۰ء سے  پہلے قریب ۶۰  برس  عانی سطح پر تنخواہوں اور دولت میں نا ہمواری  کم ہوتی رہی، جو خوش کن تھی، اس  اقتصادی نظریئے  کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا کہ حکومت کو عوام کی بھلائی کے لیے کام کرنا چاہیے۔لیکن گزشتہ پچیس سالوں کے سرمایہ داری بحران، سکڑتے ہوئے منافع نے کارپوریٹ اشرافیہ کو اقتصادی لبرل ازم کے احیا پر اکسایا۔یوں نیو لبرل ازم سامنے آیا جو عالمگیریت کی وجہ سے ساری دنیا میں پھیل گیا۔لیکن نیو  لبرل ازم کے آنے کے بعد یہ اس نظام کی خود غرضی اور انفرادی سطح پر  فائدہ مند ہونے کا اصل روپ سامنے آنے لگا۔ اور نیو لبرل ازم کے آغاز کے بعد سے معاشی نا ہموار میں شدت سے اضافہ ہونے لگا۔ اور اس کا تسلسل آج تک جاری ہے۔

نیولبرل ازم کے بنیادی  اہم نکات یہ  ہیں:

۱۔مارکیٹ کی حکمرانی: نجی کاروبارکوحکومت کی عائدکردہ پابندیوں سے آزاد کرناخواہ اس سے کتنا ہی سماجی نقصان کیوں نہ ہو۔بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینا۔محنت کشوں کی یونینیں ختم کر کے ان کے معاوضے کم کرنا۔سالہا سال کی جدوجہد کے بعد محنت کشوں نے جو حقوق حاصل کیے تھے،ان کو ختم کرنا۔قیمتوں پر کسی قسم کا کنٹرول نا ہونا۔مختصر یہ کہ سرمائے ، اشیا اور خدمات کی نقل و حرکت کی مکمل آزادی۔ہمیں اس کی اچھائی پر قائل کرنے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ اقتصادی گروتھ یا بڑھوتری میں اضافے کا بہترین طریقہ ایک ایسی مارکیٹ ہے جس پر کسی قسم کے ضابطوں کا اطلاق نہ ہوتا ہو۔اور جس سے بالآخر سب کو فائدہ پہنچے گا۔یہ ریگن کی رسد والی طرف کی بات اور رس رس کر نیچے پہنچنے والی اقتصادیات ہے لیکن بد قسمتی سے دولت زیادہ نیچے نہیں پہنچ پائی۔

۲۔ سرکاری اخراجات برائے سماجی خدمات جیسے تعلیم، صحت کی سہولتوں اور غریبوں کی مدد یہاں تک کہ سڑکوں اور پلوں کی دیکھ بھال اور پانی کی فراہمی میں کمی کرنا اور یہ بھی حکومت کے کردار میں کمی کے نام پر ہوتا ہے مگر وہ کاروبارکے لیے دی جانیوالی سرکاری مراعات کی مخالفت نہیں کرتے۔

۳۔ ڈی ریگولیشن:ہر اس چیز کی سرکاری ریگولیشن میں کمی کرنا جس سے منافعے میں کمی آسکتی ہو،اس میں کام کے دوران ماحولیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔

۴۔ نجکاری: سرکاری ملکیت والے اداروں اور سروسزکو نجی سرمایہ کاروں کے ہاتھ فروخت کرنا۔اس میں بینک،کلیدی صنعتیں،ریل روڈ، ٹول ہائی ویز، بجلی،سکول، اسپتال یہاں تک کہ تازہ پانی بھی شامل ہے۔گو کہ ایسا عام طور پر کارکردگی کو بہتر بنانے کے نام پر کیا جاتا ہے جس کی اکثر ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اکثر صورتوں میں اس کا نتیجہ دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کی صورت میں نکلتا ہے اور عوام کو اپنی ضرورت کی چیزیں پہلے سے مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہیں۔

۵۔ عوامی بھلائی یا کمیونٹی کے تصور کا خاتمہ کرنا اور اس کی جگہ انفرادی ذمہ  داری کی بات کرنا، معاشرے کے غریب ترین افراد پر دباؤ ڈالنا کہ وہ اپنے مسائل کا حل خود ہی ڈھونڈیں جیسے تعلیم، سماجی تحفظ،طبی سہولتوں کے فقدان جیسے مسائل اور اگروہ ایسا نہ کر سکیں تو پھر انہیں کام چور اور نکما قرار دیدیا جاتا ہے۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے طاقتور مالیاتی اداروں نے دنیا بھر پہ نیو لبرل ازم کو مسلط کر دیا ہے۔

نیو لبرل ازم کے رو بہ عمل ہونے کی پہلی واضح مثال چلی میں دیکھنے میں آئی۔جب ایلینڈے کی مقبول منتخب حکومت کا تختہ سی آئی اے کی مدد سے  ۱۹۷۳  میں الٹا گیا, اس کے بعد دوسرے ملکوں کی باری آئی، سب سے بدترین اثرات میکسیکو میں دیکھنے میں آئے جہاں نیو لبرل پالیسیوں کے نفاذ کے پہلے سال ہی محنت کشوں کی اجرتیں کم ہو کے آدھی رہ گئیں۔جب کہ ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ۸۰  فی صد اضافہ ہوا۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے بیس ہزار کاروبارختم ہو گئے اور ایک ہزار سرکاری اداروں کی نجکاری کر دی گئی۔

بقول شخصے نیو لبرل ازم کا  مطلب تیسری دنیا کے ممالک کو پھر سے نو آبادیاں بنانا ہے۔لاطینی امریکا، افریقہ اور ایشیائی ممالک میں آپ کو ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی اور غربت میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

اگر یوں کہا جائے کہ موجودہ دور کے سرمایہ داری کے نظام کو ہی نیو لبرل ازم کہا جاتا ہے تو شاید بے جا نہ ہوگا، اور اس مضمون کا مقصد بھی موجود عہد کے نیولبرل ازم پر  روشنی ڈالنا ہے ، نیو لبرل ازم دراصل ان اقتصادی پالیسیوں کا مجموعہ ہے جن پر سرمایہ دار ممالک گزشتہ پچیس  سے تیس برسوں سے   کاربند ہیں۔یہ لبرل ازم کا تصور فلاح کا دعوی کرتا تو نظر آیا لیکن اس کی پشت پر بھی معاشی فوائد ہی تھے ، جو عوام کے نہیں بلکہ خاص اشرافیہ کے ہی تھے، یورپ سے شروع ہونے والے اس لبرل ازم  سے وہاں کے جاگیردار اور سرمایہ دار ہی اصلا ً مستفیض ہوئے۔

سماجی جغرافیہ دان ( geographer social ) ڈیوڈ ہاروے اس کا خاکہ یوں پیش کرتا ہے ”سیاسی معاشی عملی ضابطہٴ عمل (practices) کا وہ نظریہ جو تجویز کرتا ہے کہ انسانوں کی فلاح کو ایک ایسے رسمی ڈھانچے کے اندر،جس کی خصوصیت نجی ملکیت کے محکم حقوق، آزاد منڈیاں اور آزاد تجارت ہو، انفرادی کاروباری تنظیم کاری (انٹرپرینیور شپ )کی آزادیاں دے کر اوراسے با ہنر بنا کر سب سے بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے“ نولبرل ریاستیں ضمانت دیتی ہیں، ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کے ذریعے  بھی، منڈی کے ’مناسب افعال‘ کی، اور جہاں ضرورت ہو اسے پیدا کرتی ہیں (مثلاً زمین، پانی، تعلیم، صحت، سوشل سیکورٹی یا ماحولیاتی آلودگی)۔ منڈیوں کی حرمت کی ضمانت ہی ریاست کے جائز افعال کی حد سمجھی جاتی ہے، اور ریاستی مداخلت ہمیشہ منڈیوں کے ماتحت ہوتی ہے۔ نہ صرف سامان اور خدمات کی پیداوار بلکہ سارا انسانی ڈھنگ منڈی کے نصرام تک محدود ہوجاتا ہے۔ منڈی بذاتِ خود ایک مقصد بن جاتی ہے، اور چونکہ ریاستوں کا جائز فعل منڈیوں کا دفاع اور انہیں نئے حلقہٴ اثر میں لے جانا ہوتا ہے اس لیے اگر لوگ ایسا چناوٴ کریں کہ جو منڈیوں کے بے قید افعال میں رکاوٹ ڈالے تو جمہوریت احتمالی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ یا انسانی endeavor کے لیے مخصوص دائرے (مثلاً تعلیم اور صحتمنڈی کی منطق کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے ایک خالصتاً نیولبرل ریاست فلسفیانہ لحاظ سے منڈی کو اختیار دیتی ہے، یہاں تک کہ اپنے شہریوں سے بڑھ کر۔ بطور نظریہ نیو لبرل ازم اتنا ہی یوٹوپیائی (خیالیہے جتنا خیالی کمیونزم۔ حقیقی دنیا میں یوٹوپیائی نیولبرل ازم کا اطلاق بگڑے ہوئے سماج کی طرف لے جاتا ہے جیسا کہ یوٹوپیائی کمیونزم کے اطلاق نے کیا”۔

نیولبرل حکومت دراصل کارپوریشنوں اور بینکوں کی حکومت ہوتی ہے اور کارپوریشنیں اور بینک جمہوری ادارے نہیں ہوتے۔ ان کا اقتدار نظم بڑھوتڑی برائے بڑھوتری سرمایہ کا اقتدار ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ میڈیا اور تعلیم کے ذریعے وہ جمہوری عمل کو ایسی انتظامی  اور قانونی ساخت میں جکڑ لیتے ہیں جو عوامی رائے کو سرمایہ دارانہ حکمت عملیوں کی تصدیق کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پچھلی چار دہائیوں میں نہ صرف غریب سے امیر طبقات کی طرف دولت کی منتقلی کا عمل شدت سے تیز ہوا ہے بلکہ دولت مند طبقات کے اندر بھی یہ عمل جاری ہے جس میں پیداوری عمل اور سہولیات کے شعبوں میں کام کر کے دولت کمانے والے امیر طبقات سے اثاثہ جات اور سرمائے کے مالک امیر طبقات کی طرف کرائے اور سود کی شکل میں دولت کی منتقلی شامل ہے۔ کرائے اور سود کی شکل میں دولت کمانے کے عمل نے محنت کر کے دولت کمانے کے عمل پر فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے

اس قانونی اور انتظامی شکنجوں سے نکلنا آج کے دور میں اور دشوار بنا دیا گیا ہے کیوں کہ کارپوریشنوں اور بینکوں کا تسلط عالمی ہو گیا ہے اور وہ عالمی انتظامی صف بندی اور قانون سازی کو ملکی سیاسی نظام پر مسلط کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ نمائندہ جمہوریت تو ملکی ریاست تک محدود ہے۔ سرمایہ دارانہ عالمی نظم اقتدار جو کہ قطعاً جمہوری نہیں قومی جمہوری اقتدار کو مقید کرتا ہے اور اس عالمی سرمایہ دارانہ استبدادی نظام کی  پشت پر استعمار  و  نو آبادیاتی نظام کی ہمہ گیر  قوت ہے۔

اشتراکیت کی طرح نیو لبرل ازم بھی ایک ایسی بلا کا نام  ہے جو ناکام تو ہوگیا ، لیکن پے در پے غلافوں میں لپٹا  نظریات اور پالیسیوں کا ایسا تسلسل ہے جس کو سمجھنا اتنا آسان نہیں، یہ سرمایہ داری، نو آبادیاتی اور سامراجیت ایک ایسی تثلیث ہے ۔ جس نے دنیا کو معاشی اور ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نیو لبرل ازم کیا ہے؟۔۔منصور ندیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *