بیان بارے کچھ چائے کے۔۔عظمت نواز

چائے بھی ہم  مشرقیوں کو دیگر خرابات جہاں کی مانند فرنگی جاتے جاتے عنایت کر گئے ہیں – چائے ایک نشہ ہے  مگر ویسا نشہ نہیں جیسا آج کل  اپنے میاں صاحب کی بابت انکشاف ہوا کہ وہ ایک نشہ ہیں ،حالانکہ ہم عمر بھر ان کو سائنسدان( سیاست دان) سمجھتے رہے-  مگر فرنگی  کند  ذہنوں کے وہم و گمان میں بھی چائے کے وہ فوائد و نقصانات نہ ہوں گے جن فوائد و نقصانات کا  کشف ہم باشندگان پاک و ہند  پر ہوا – چائے کے بارے ہم عین وہی نظریات رکھتے ہیں جو حضرت غالب  فرما گئے –
گو ہاتھ  میں جنبش  نہیں آنکھ میں تو دم ہے
پڑا رہنے دو پیالہ و  چائے  میرے سامنے!
ہم نے کوئی ایسا بزرگ نہ دیدم کہ جو عمر کے اخیرلے حصے میں بھی چائے سے انکاری ہوئے ہوں بلکہ نوش جاں کرتے کرتے اس جہان سے کوچ فرما گئے مگر چائے کو دغا نہ دیا -بلکہ ہم تو منکرین چائے کو انسانی دائرے سے خارج سمجھتے ہیں –  ابھی کچھ عرصہ پہلے تک چائے میں اگر گڑ ڈالا جاتا تو مطلب گھر کے افراد واسطے بن رہی اور اگر کہیں کسی روز گڑ کی بجائے چینی ڈالی جاتی تو اس کا مطلب کوئی خاص مہمان آئے ہیں جن کے لیے چینی والی  چائے بن رہی – گو کہ چینی یا  گڑ کے استعمال سے چائے کی جملہ خصوصیات پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا سوائے اس کے کہ گڑ والی چائے زبان سے چپک چپک کر داخل در شکم ہوتی اور چینی والی چائے  قدرے تیزی سے پھسل کر نکل لیتی ،بہرحال منزل مقصود دونوں کی ایک ہی ہوتی – چائے نے برصغیر پر جو احسان فرمایا وہ ناقابل فراموش ہے کہ اس عطائے فرنگ نے ہمیں بیشمار ادیب و منصفین عطا فرمائے – چونکہ اکثر ادیب حضرات ہی چائے کا ذکر اپنی دوسری محبوبہ کے طور پر کرتے پائے گئے ہیں اور جہاں چار سطور لکھیں وہاں لازماً  کہیں نہ کہیں چائے کی چسکیوں کا ذکر ضرور ہوتا بھلے وہ مصنف خود لے رہا ہو یا پھر اپنے تراشیدہ کسی بھی اہم کردار کو پلوا  رہا ہو، لیکن چائے اہم ترین حصہ ضرور ہوتی ہے-
میں سمجھتا ہوں چائے نہ ہوتی تو آدھے ادیب و مصنفین سے ہم ناواقف رہتے اور آدھے  یقیناً  گمنام رہتے تو یوں چائے کی اہمیت کا اندازہ  لگانا چنداں مشکل نہیں – اب آپ راقم کو ہی دیکھ لیجیے یعنی یہ چائیات پر  لکھتے ہوئے چائے کی چسکیاں لے رہا اور مصنفین کی قطار میں چائے کے سہارے آن کھڑا ہوا بس اسی طرح چائے نے کئی نکموں کو کسی نہ کسی شغل پر لگا رکھا ہے –
مصنفین و ادیب دریافت کرنے کے علاوہ بھی چائے نے جو ہمارے ہاں ایک حکیمانہ اثر پہنچایا ہے اس کی نظیر دنیا بھر میں چائے نوشوں کے ہاں نہیں ملتی وہ یوں کہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک، عورت ہو یا مرد، الغرض کوئی ہو اس کے سر درد کا علاج فوری طور پر کڑک چائے سے کیا جاتا ہے – کوئی کام کی زیادتی سے اگر تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے تو بھی  طور  پر  چائے پیش کر دی جاتی کہ لیجیے حضور چسکی لیتے ہی تھکاوٹ غائب اور آپ چست – علاج بالغذا ایک الگ طریقہ کار ہے البتہ یہ علاج با لچائے ضرور کہا جا سکتا  ہے-
ایسے ہی ایک شوہر نامراد کی تمثیل بھری کیسٹ گاؤں میں ہمارے بچپن میں بہت چلا کرتی تھی جس کی ایک طرف مچھر کے کارنامے ہوا کرتے تھے اور دوسری جانب چائے نوشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے  کے مصداق کچھ مقالمے ہوا کرتے تھے جیسا کہ
میں چائے ضرور پیو ں گا ہر صورت بھلے اس کے لیے مجھے بیوی کے زیور بیچنے پڑیں لیکن میں چائے ضرور پیوں  گا – حتی کہ  اگر مجھے گھر میں چائے کا بوٹا لگا کر اگا کر چائے پینی پڑی تو بھی میں چائے ضرور بالضرور پیوں گا –
سو دوستو!  آپ بھی چائے “ضرور” پیجیے گا –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *