دردِدل، دردِ جگر

رضاشاہ جیلانی
یہ قصہ آج سے کافی سال پرانا ہے جب ہم ساتویں جماعت میں پڑھا کرتے تھے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی میں عموماً حالات خراب ہوجایا کرتے تھے اور پھر معمولات ہڑتالوں تک جا پہنچتے ایسے میں کراچی سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد علاج معالجے کے لیے کافی حد تک پریشان رہتی تھی.میرا بنیادی طور پر تعلق جس شہر جس علاقے سے ہے وہاں سے کوئٹہ کوئی چار چھ گھنٹے کی مسافت پر ہے بلکہ اب تو سی پیک کی مہربانی سے روڈ اس حد تک اچھے بن چکے ہیں کہ دن میں کوئٹہ جانا اور آنا دونوں ہو جاتا ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ان دنوں میرے اسکول کی چھٹیاں تھیں اور میں گاؤں آیا ہوا تھا ہمارے اکلوتے چچا کو کچھ روز سے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ انہیں عارضہ قلب ہوچکا ہے اٹھتے بیٹھتے سینے میں ہلکی ہلکی تکلیف کی شکایت کرتے تھے.
دوست احباب نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ کوئٹہ کا ایک چکر لگا لیں کیوں کہ کراچی میں حالات مناسب نہیں اور اُن دنوں کوئٹہ میں بھی کافی امن و امان ہوا کرتا تھا اور پھر کوئٹہ میں بھی اعلٰی پائے کے مشہور ڈاکٹر صاحبان تشریف رکھا کرتے تھے (جن کا ہونا اب قصے کہانی کی حد تک ہی رہ گیا ہے) اور اس دور میں ہم لوگ بھی کراچی سے زیادہ کوئٹہ ہی جایا کرتے تھے.
چچا نے اپنے ایک قریبی دوست کو بلایا اور پروگرام سیٹ کیا.
پھر ہمیں بھی لیکر کوئٹہ کی جانب رختِ سفر باندھا.
سفر کا پہلا پڑاؤ چچا کے ایک پرانے کلاس فیلو کے ہاں خضدار میں ڈالا گیا.
جن کے ہاں ہم رکے وہ کافی ملنسار آدمی تھے خضدار میں اُس وقت شدید سردی پڑ رہی تھی مگر انکی بیٹھک میں ہمیں باہر کی نسب اندر سردی کا احساس کافی کم ہو رہا تھا جس کی وجہ بیٹھک کے ایک کنارے چھوٹا سا زمیں دوز تنور تھا جس کی گرمائش نے کمرے میں کافی حد تک ماحول سازگار بنایا ہوا تھا.
کچھ دیر بعد میزبان کی جانب سے سبز قہوہ اور پھر دسترخوان لگایا گیا. دستر خوان کیا تھا بس میرے لیے سیکھنے اورسمجھنے کا مرحلہ تھا وقفے وقفے سے خدا کی نعمتیں بچھائی جانے لگیں اور پھر ایک صاحب نے تنور کا اوپری پٹ کھول کر ایک چھوٹے سے قد کا بکرا کھینچ تان کر باہر نکلا اور اسے دسترخوان پر لٹا دیا.
میرے نزدیک چونکہ سالم بکرے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات تھی سو میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا کچھ لمحے بعد ایک صاحب سر پر بڑی سی پوٹلی رکھے اندر تشریف لائے اور ہمارے سامنے ڈھپ سے پوٹلی اتاری.
جب اُس چادر کو کھولا گیا تو میرے لیے حیرانگی کی سی کیفیت تھی مگر میں پھر بھی چپ رہا کیونکی مجھے چچا نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ بیٹا خدا کو ماننا سب کے سامنے کوئی سوال نہ پوچھنا.
پوٹلی کھولی گئی تو اسکے اندر میرے قد جتنی لمبی لمبی مگر بے انتہا موٹی روٹیاں موجود تھیں اور انکی تعداد بھی لگ بھگ چالیس پچاس ہوں گی.
میں انکی تعداد سے زیادہ انکی لمبائی پر حیران اور ساتھ میں پریشان بھی تھا حیران اس لیے تھا کہ ہمیشہ ہی اماں کو روٹی گول اور توّے کے حساب سے پکاتے دیکھا ہے مگر یہ روٹی کس توّے پر بنی ہوگی اسکا سائز اپنے چھوٹے سے دماغ کے حساب سے لگانے لگا اور چچا کی جانب سوالیہ نگاہوں سے جوں ہی دیکھتا وہ آنکھیں نکال کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ کر دیتے.
سب نے کھانا شروع کیا اور مجھے بھی کہا گیا بیٹا شروع کریں..
میری سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب شروع کروں تو کیا کروں اور کیسے کروں اور کروں تو کہاں سے کروں..
روٹی میرے ہاتھ سے موٹی اور اس قدر موٹی کہ ایک نولہ منہ میں ڈالتا تو شاید منہ سمیت معدہ بھی چوک ہوجاتا….
بلآخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں نے چچا سے آخر پوچھ ہی ڈالا..
چاچو یہ کیا ہے..؟
بیٹا یہ روٹی ہے
پر یہ ہم اکیلے کیسے کھائیں گے؟
بچے یہ ایک ہی ہم تم مل کر کھا لیں گے.
تو چاچو باقی تو ضائع ہو گئیں نا انکا کیا ہوگا ؟
چچا جو کے پہلے ہی بھوک کے مارے پریشان تھے جھلا کر کہا یار ایک روٹی سے میں تم اور ڈرائیو پیٹ بھر لیں گے باقی جو ہیں انہیں اوڑھ کر سو جائیں گے یار اب سوال مت کرنا کھانا شروع کرو….
اس رات پہلی بار روسٹ کیئے ہوئے بکرے کو ایک بھاری بھرکم چاقو سے کاٹنے کا تجربہ حاصل ہوا.
قبائلی نظام میں کچھ چیزیں بے انتہا بلکہ حد درجہ ہی قبائلی ہوا کرتی ہیں جیسا کہ انکی دعوتیں شادی بیاہ کھانا پینا رسم رواج سماجی تعلقات وغیرہ.
مجھ سے روٹی نا ٹوٹ رہی تھی اور نا ہی میرے دانت اس قابل تھے کہ میں وہ چبا سکتا اس لیے چچا نے آرڈر کیا کہ پلیٹ پر رکھا چاقو اٹھائیں اور بکرے کا گوشت کاٹ کر کھا لیں…
میرے لیے یہ تجربہ بھی پہلا ہی تھا اس سے پہلے یہ کام میرے لیے چچا یا دادا کر دیا کرتے تھے.
بہت کوشش کے بعد جتنا گوشت کاٹا اُس پر فاتحانہ انداز سے چاقو ہاتھ میں لیکر سب کو دیکھا…
وہ تو مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ کافی دیر تک میں نے بکرے کی ایک بوٹی کے لیے اُس پر جتنے وار کیئے اس نے بکرے کی پوری حالت بگاڑ دی تھی.
اور میری بکرے کیساتھ اس جنگ کو سب اپنا اپنا کھانا چھوڑ کر کافی دیر تک دیکھا اور خوب لطف اندوز بھی ہوئے.
بہت مشکل سے میں وہ آدھی کچی آدھی پکی بوٹی کو نگل سکا.
اس رات مجھے اندازہ ہوا کہ پہاڑوں پر رہنے والے اتنے سخت جان کیسے ہوتے ہیں.
اگلے روز ہم صبح ہی صبح کوئٹہ کے لیے نکلے اور دو ہی گھنٹوں کے اندر میں اپنے پسندیدہ شہر کوئٹہ میں تھا.
آزاد کشمیر دیکھنے سے پہلے کوئٹہ مجھے زمین پر ایک جنت سے کم نہیں لگتا تھا مگر آج بھی کوئٹہ کسی جنت سے کم نہیں خوبصورت اور مہمان نواز لوگوں کا شہر کوئٹہ پاکستان میں دوسرے شہروں کی طرح ہی ہے جہاں تمام بنیادی مسائل جوں کے توں ہی ہیں.

خیر یہ تو تھی ایک یاداشت مگر اب آتا ہوں کام کی بات پر..
ہم کوئٹہ پہنچتے ہی سریاب روڈ پر موجود ایک امراضِ قلب کے حوالے سے مشہور نجی کلینک جا پہنجے جہاں کے لکے مشہور تھا کہ ڈاکٹر صاحب لندن سے تعلیم یافتہ ہیں اور لندن میں ہی پریکٹس کرتے ہیں مگر پاکستان بھی آنا جانا لگا رہتا ہے.
کافی دیر بعد ہمیں اندر بلایا گیا.
میں چچا اور انکے دوست کیساتھ ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں گھس گیا اور ایک کونے میں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا.
ڈاکٹر صاحب نے ای سی جی کی ساتھ میں چچا کی پرانی روپورٹس دیکھیں اور ایک سگریٹ جلائی.
رپورٹس دیکھتے گئے اور سگریٹ کے کش لگاتے گئے…
پھر اچانک کرسی پیچھے کر کے ایک فائل کاؤنٹر سے نکالی اور اسے پڑھنے لگ گئے.
ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر پریشانی کے ایسے تاثرات تھے کہ پوچھیے مت…
ڈاکٹر صاحب کے چہرے کی پریشانی دیکھ کر چچا سینے کو پکڑے اپنے دوست کے کاندھے سے جا لگے اور ٹپ ٹپ آنسو رواں دواں. انکے دوست ڈاکٹر کا چہرہ دیکھ کر الگ پریشان اور چچا کو دلاسے دیتے ہوئے کہتا رہا سائیں پریشان نہ ہوں اللہ رحم کرے گا. وہ خدا جانے زندگی اور موت والے کیا کیا ڈائیلاگز بولتا رہا اور چچا غمگین شکل بنائے اس کے کاندھے سے لگ کر آنسو بہاتے رہے اور کہتے جاتے یار عبداللہ میں نے اس سال انشورنس کے پیسے جمع نہیں کیئے تم دیکھ لینا اور فلاں فلاں بینک میں اکاؤنٹ ہے بڑے بھائی کو بتا دینا اور پھر چچا میری جانب ایسی شکل بنا بنا کر دیکھتے رہے جیسے چھری کے آگے بکرا..
سچ تو یہ ہے کہ چچا اور انکے دوست کی کیفیت کو دیکھ کر مجھے بھی رونا آگیا تھا.
اس ہی دوران ڈاکٹر صاحب نے اپنی لینڈ لائن فون سے کسی کا نمبر ملایا…
ھیلو… یار آپ خود آجائیں اور ساری پوزیشن دیکھ لیں.
دیکھیں آپریشن تو ہوگا یہ نا ہو کہ میرا نام بھی آجائے آجکل میڈیا کا پتہ ہی ہے نا آپکو…
بس آپ آجائیں اور خود اپنی نگرانی میں جو کرنا کرانا ہے کر لیں..
دیکھیں میں اکیلے یہ ھینڈل نہیں کر سکتا سو مسئلے ہیں بس یار آپ آجائیں میں نہیں چاہتا کہ بعد میں کسی کو مسئلہ ہو..

یہ باتیں سن کر چچا کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی.
چچا کے دوست نے انہیں بڑی مشکل سے بیڈ پر لٹایا اور کولر سے پانی کا گلاس بھر کے دیا مگر ایک گھونٹ پیتے ہی چچا نے مجھے آواز دی….
رضا میرے بچے ادھر آنا…
میں بھی جلدی سے انکے پاس پہنچ گیا.
مجھے لگا کہ جیسے کوئی فلمی سین چل رہا ہے.
چچا نے بڑے پیار سے مجھے سمجھایا کہ کسی کو تنگ نہیں کرنا ہمارا کیا بھروسہ لگتا ہے رپورٹس ٹھیک نہیں ہیں شاید آپرہشن ہو اپنا خیال رکھنا..
میں انکے برابر میں بیٹھ گیا.

ڈاکٹر صاحب نے فون رکھ کر ایک سگریٹ اور جلائی اور ہماری جانب دیکھ کر فرمایا…
جی آپ لوگ..؟
کیا مسئلہ ہے بتائیں..
جبکہ چچا کے کیس کی مکمل فائل انکے سامنے ہی پڑی تھی.
بہت مشکل سے چچا کے منہ سے نکلا " سر وہ سینے میں درد "
اوہ ہاں یہ فائل آپ کی پڑھ لی میں نے اور آپکی ای سی جی بھی کر لی ہے.
اچھا سر ایک کام کریں کچھ روز مرغن کھانے مت کھائیں اور جب بھی گیس کی شکایت ہو تو فوری ENO پی لیا کریں.
چچا نے پھر کہا جناب مجھے دل میں تکلیف ہوئی ہے اور آپ ابھی جو فون پر میرے متعلق…
ارے نہیں بھئی آپ کو کچھ نہیں ہوا ہے بس ایسیڈٹی کی شکایت ہے اور گیس ہوگئی ہے تھوڑی سی، بس باہر کا کھانا پینا بند کردیں واک وغیرہ کیا کریں اور کوشش کریں کہ بدہضمی نہ ہو اور جہاں تک دل کی بات تو یہ وہم ہے آپ کو ایسا کوئی عارضہ نہیں ہے.
میں تو واپڈا کے انجنیئر دوست سے بات کر رہا تھا کہ آجکل مشرف صاحب نے واپڈا کو آرمی کے حوالے کر رکھا ہے کُنڈی مافیہ کے خلاف کافی سخت آپریشن ہورہا ہے بس اس دوست کو بلایا ہے کہ کنڈی کا کوئی مستقل جگاڑ کر دے تا کہ میرے پیچھے فیملی کو کوئی تکلیف نہ ہو.
اور ہاں یہ باہر کاؤنٹر سے eno کے ساشے لیتے جائیے گا..
ڈاکٹر صاحب نے گھنٹی بجائی ایک نوجوان اندر آیا اور اسے کہا کہ سر والوں کو باہر لے جائیں اور نیکسٹ پیشنٹ لے آئیں اور سر باہر کاؤنٹر پر ہی ہزار روپے میری فیس بھی جمع کروادیجیے گا.
اُس لمحے چچا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جوتا اتار کر شروع ہوجائیں مگر انکے دوست نے انہیں سنبھالا اور باہر لے آئے.
خیر کچھ عرصے بعد چچا کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں اینجیو گرافی کروانی پڑگئی….

اچھا تو آخر میں کہنا یہ تھا کہ ہماری عوام بھی پرلے درجے کی
" چاچو " ہے اور عمران خان انکا دوست….
دل کے جس مرض کو لیکر وہ جس کلینک میں گیا ہے وہاں سے اسے صرف گیس ہی ملے گی کیونکہ کلینک کے ڈاکٹر صاحب بظاہر تو کافی سنجیدہ ہیں مگر وہ ہر بیماری کا علاج صرف ENO سے ہی کرتے ہیں…..

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *