تانیہ خاصخیلی، انصاف کا منتظر خون۔۔ مشتاق علی شان

ملک میں جاری نیم جاگیردارانہ ، نیم سرمایہ دارانہ ، قبائلی پدر سری سماج میں گھروں سے لے کر کام کی جگہوں ، فیکٹریوں ،کارخانوں اور کھیتوں کھلیانوں تک میں عورتوں کی تذلیل ،قتل وغارت ،صنفی وجنسی امتیازات و تعصبات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ آئے روز عورتوں، بالخصوص محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں پر ڈھائےگئے مظالم کی وہ روح فرسا داستانیں منظرِ عام پر آتی ہیں جنھیں سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ 7ستمبرکو سندھ کے ضلع دادوکے علاقے جھانگارا میں پیش آیا جس میں مقامی بااثر افراد میں سے ایک ڈاکو اور مجرمانہ پس منظر کے حامل خانو نوحانی ( جس کا ایک بھائی اشرف نوحانی مفرور ڈاکو ہے اور حکومت کی طرف سے اس کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے)نے محنت کش اور غریب خاندان کی بیٹی، میٹرک کی طالبہ تانیہ خاصخیلی کو رشتے سے انکار کرنے پر اغوا کی کوشش کی اور مزاحمت کرنے پر اسے گھر والوں کے سامنے سفاکی سے گولی مار کر قتل کر دیا ۔

جھانگارا پولیس جس سے پہلے ہی اس سلسلے میں متعدد بار شکایات درج کی گئی تھیں،اور اس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تھی، اس قتل کے بعد بھی وہ ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری تھی۔ روز مرہ کی بنیاد پر ہونے والے اس طرح کے واقعات کی  طرح یہ قتل بھی کسی کے ضمیر وقلب پر خلش کی کوئی لکیر چھوڑے بغیر فراموش کر دیا جاتا مگر سوشل میڈیا پر تانیہ خاصخیلی کی خون سے تر ، گرد سے اٹی لاش اورقاتل خانو نوحانی کی بندوق بدست، گردش کرتی تصویر کے نتیجے میں سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا، پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں تواتر سے خبریں آنے کے بعد چیف جسٹس سندھ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا،ایف آئی آر درج ہوئی، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ،جن کا یہ انتخابی حلقہ بھی ہے ،تانیہ خاصخیلی کے اہل خانہ سے ملنے ان کے گھر گئے ، ملزمان گرفتار ہوئے اور یہ کیس تاحال انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے ۔

اس حوالے سے گزشتہ دنوں ہمارے دوست عبدالجبار خاصخیلی  کے  توسط سے راقم کی تانیہ خاصخیلی کے والدین اور بہن سے کراچی میں ملاقات ہوئی. اس موقع پرتانیہ خاصخيلي کے بہیمانہ قتل، کیس اور اب تک کی صورتحال کے حوالے سے جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں ۔
تانیہ خاصخیلی کے والد غلام قادر خاصخیلی ساکنہ جھانگارا نے راقم کو بتایا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے ٹیلر ماسٹر ہیں ان کی چار بچیاں اور تین بچے ہیں ۔تانیہ خاصخیلی بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور اس نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی ۔خانو نوحانی چھ سال سے تانیہ کو مسلسل پریشان کر رہا تھا ،وہ ہمارے گھر میں کئی  بار زبردستی گھس آتا ، ہمیں دھمکیاں دیتا اور رشتے پر مجبور کرتا لیکن تانیہ اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی تھی ۔خانو نوحانی نے رشتے سے انکار کے بعد ہمیں مسلسل دھمکیاں دیں اور ہمارے گھر میں لوٹ مار بھی کی، لیکن پولیس نے ہماری ایک نہ سنی۔

غلام قادر نے اس ہولناک سانحے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 7ستمبر کو ہم سارے گھر میں موجود تھے ،شام تقریباََ پانچ بجے کا وقت تھا جب خانو نوحانی ، مولا بخش نوحانی اور علی نوحانی ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے ،مولا بخش نوحانی نے خانو نوحانی کے لیے تانیہ کا رشتہ مانگا جس پر میں نے انکار کر دیا ،اس پر مشتعل ہو کر مولا بخش نوحانی اور خانو نوحانی نے اسلحہ نکال لیا ۔خانو نوحانی نے دھمکی دی کہ اگر مجھے تانیہ کا رشتہ نہیں دیا تو میں کسی اور سے بھی اس کی شادی نہیں ہونے دوں گا۔خانو نوحانی شدید اشتعال میں تھا ، اس نے تانیہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنا شروع کر دیا ، اس موقع پرتانیہ نے مزاحمت کی تو اس نے پستول اس کی کنپٹی پر رکھ کر گولی چلا دی ، یہ سب کچھ آناََ فاناََ ہوا ۔
تانیہ خاصخیلی کی چھوٹی بہن 14سالہ ایمان نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے بہت شور کیا، روئی ،چلائی مگر اس موقع پر کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آیا ۔

تانیہ خاصخیلی کے والد غلام قادر نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد پولیس آئی ، اس نے لاش کی تصویر لی ،جو ہمیں نہیں دی گئی ۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سیہون  ہسپتال لیجایا گیا ۔ بعد میں پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کی لیکن اس میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کیں ۔خانو نوحانی ، مولا بخش نوحانی یہ سارے ڈاکو اور مجرمانہ پس منظر کے بااثر لوگ ہیں اور علاقے میں ان کا خوف بھی ہے جس کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی نہیں آ رہا تھا ۔ہم خود بھی شروع میں انتہائی خوفزدہ تھے اور اب بھی ہمیں اپنی زندگیوں کا ڈر ہے ۔یہ علاقے کے مشہور ڈاکو ہیں، خانو نوحانی کا بھائی اشرف نوحانی مفرور ڈاکوہے ،اس کے چچا غلام قادر کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی جو چند سال قبل ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا ۔

تانیہ خاصخیلی کی والدہ خورشیدہ بیگم نے راقم کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد جب میڈیا پر شور ہوا تو چند روز بعد وزیر اعلیٰ سندھ ہمارے گھر آئے میں ان کے قدموں میں پڑی اور سندھی راویت کے مطابق اپنا دوپٹہ ان کے قدموں میں رکھا لیکن انھیں میرے سر پر ہاتھ رکھنے کی توفیق تک نہ ہوئی ۔ہمیں لگتا ہے کہ وہ صرف میڈیا پر اس واقعے کی مسلسل گردش کی وجہ سے خانہ پری کے لیے آئے تھے ۔ انھوں نے صرف آدھا گھنٹہ گزارا اور یہ سارا وقت وہ ہمارے سامنے میڈیا پر گرجتے برستے رہے کہ وہ اس ایشو کوخوامخواہ اچھال رہے ہیں ۔انھوں نے میڈیا کے سامنے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کی تاکید کی لیکن ہم سے ہمدردی کے دو بول تک ادا نہیں کیے ۔ اس موقع پرآئی جی سندھ اے ڈی خواجہ صاحب موجود تھے جنھوں نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا ۔

ایک سوال کے جواب میں تانیہ خاصخیلی کے والد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ہماری کوئی مدد نہیں کی  اور نہ ہی کسی اور سیاسی جماعت نے ہماری مدد کی۔میری درزی کی دکان تھی اور میں اکیلا کمانے والا سات بچوں کی بمشکل پرورش کر رہا تھا ۔تانیہ پڑھ لکھ کر ہمارا سہارا بننا چاہتی تھی وہ سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھی۔  وہ سلائی کڑھائی کا کام کر کے کسی حد تک ہمارا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن اس واقعے کے بعد دکان رہی اور نہ گھر ۔ہم دربدری کی حالت میں ہیں روزی روٹی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کیوں کہ ان بااثر ملزمان کی دھمکیوں کی وجہ سے ہم اپنے علاقے میں نہیں رہ سکتے ۔البتہ ہماری برادری کی تنظیم ’’ خاصخیلی اتحاد‘‘ کے رہنما سرائی نیاز حسین صاحب نے ہماری ہر ممکنہ مدد کی ،اس سانحے کے پندرہ روز بعد انھوں نے کراچی میں ہماری رہائش کا بندوبست کیا اور اب تک ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ۔ تنظیم کے ایک اور رہنما عبدالجبار خاصخیلی بھی ان مشکل حالات میں ہماری ہر ممکنہ مدد کر رہے ہیں. ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی صاحب نے بھی ہماری مالی مدد کی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں.

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت حیدر آباد میں چلنے والے کیس کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اس کیس کی اب تک چار سماعتیں ہو چکی ہیں اور 4مارچ کو اس کی اگلی پیشی ہوگی۔ 16دسمبر کو ہونے والی پیشی کے بعد جب میں عدالت سے باہر نکلا تو2 نامعلوم افراد نے میرا تعاقب کیا اور راستے میں روک کر مجھے پستول دکھاتے ہوئے دھمکایا کہ آئندہ پیشی پر مت آنا ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار رہنا۔یہ ساری صورتحال انتہائی خطرناک ہے ،ہماری زندگیوں کو اب بھی خطرات لاحق ہیں اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ہم حیدر آباد کے مقابلے میں کراچی میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ کیس کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیا جائے ۔عدالت ملزمان پر فردِ جرم عائد کر چکی ہے عمومی طور پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت تین ماہ میں کیس حتمی طور پر نمٹا دیتی ہیں لیکن اس کیس میں چھ ماہ گزرجانے کے باوجود فیصلہ نہیں سنایا گیا اور اسے طول دیا جا رہا ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں جلد انصاف فراہم کیا جائے.

تانیہ خاصخیلی قتل کیس میں انصاف کی توقع کے حوالے سے تانیہ خاصخیلی کی والدہ خورشیدہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ان کا کہنا تھا کہ جس طرح میرے سامنے میری جوان بچی کو بے دردی سے قتل کیا گیا اب انصاف کا حصول میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے ؟۔اس کے لیے تو سزائے موت بھی ناکافی ہے ،میں چاہتی ہوں کہ عدالتیں ایسا فیصلہ دیں کہ پھر میری طرح کسی ماں کی گود نہ اجڑے اور عورتوں پر ظلم وتشدد کرنے والے درندوں کو اس سے عبرت حاصل ہو ۔اس موقع پر تانیہ خاصخیلی کی بہن ایمان نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ جس طرح ہمارے سامنے ہماری بہن کو قتل کیا گیا اسی طرح ہم خانو نوحانی اور دیگر قاتلوں کا آخری انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔

قصور کی ننھی زینب کے والدین نے بھی مجرم کو کچھ اسی قسم کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ملکی قوانین کی روشنی میں تانیہ خاصخیلی کی والدہ اور بہن کا یہ مطالبہ پورا کرنا کس حد تک ممکن ہے ؟ یہ بحث اپنی جگہ لیکن ان کے جذبات کو سمجھنے کے لیے یہ نکتہ ضرور ذہن میں رہے کہ ان کی جوان بچی اور بہن کو ان کی نگاہوں کے سامنے جس سفاکی سے قتل کیا گیا ہے اس کا کوئی مداوا نہیں ہے ۔یہ ہمارے عورت دشمن بیمار سماج کا ایساالمیہ ہے جس نے وبائی صورتحال اختیار کر لی ہے ۔تانیہ خاصخیلی کے بہیمانہ قتل کے بعد اس طرح کے واقعات نہ صرف سندھ بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں مسلسل رونما ہورہے ہیں جس کی ایک مثال رشتے سے انکار پر کوہاٹ ( پختونخوا) میں 27جنوری کو میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کا اسی طرح بہیمانہ قتل ہے ۔

یہ ساری صورتحال چیخ چیخ کر اس امر کا اعلان کرتی ہے کہ اس کے خاتمے اور مستقل انسداد کے لیے نہ سماج ،نہ قانون اور نہ ہی حکومتوں نے کبھی سنجیدگی سے کوئی کردار ادا کیا ہے اور نہ ہی تاحال وہ اس سلسلے میں کسی قسم کے ٹھوس اقدامات کرتے نظر آتے ہیں ۔ننھی زنیب کے مجرم کو جس طرح گرفتار کر کے تیزی سے انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے وہ ایک خوش آئند امر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اس امر کا بھی متقاضی ہے کہ تانیہ خاصخیلی سے لے کر عاصمہ رانی تک جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان کے انصاف پر مبنی فیصلوں اور ان پر عمل درآمد کو سرعت سے یقینی بنایا جائے ۔سماج میں نام نہاد عقائد و اعتقادات کی بنیاد پر عورت دشمن خیالات کی تشہیر کرنے والے رجعتی عناصرکے خلاف ایک مربوط حکمتِ عملی اور طریقہ کار وضع کیے بغیر،جاگیردارانہ نظام اور مذہب کی آڑ میں عورت دشمنی کو تحفظ فراہم کرنے جیسے آمرانہ دور کے اقدامات کو ختم کئے بغیر، عورتوں کے خلاف امتیازی ، رجعتی قوانین ، جرگہ سٹم ، قبائلی اور جاگیردارانہ روایات، رسومات کا خاتمہ کیے بغیر، نظام تعلیم میں بنیادی تبدیلی اورموثر قانون سازی اور اس کے عملی اطلاق کے بغیر اس صورتحال میں تبدیلی محض ایک خواب ہی رہے گا اور آئے روز انصاف کی دہائی دیتی کسی نہ کسی تانیہ خاصخیلی کی،کسی عاصمہ رانی کی خوں آلود لاش اس بے حس سماج پر، مذہب ، اخلاق اور نام نہاد عورت کش روایات کے ٹھیکہ داروں پر ،قانون اور عدالتوں سے لے کر حکمران طبقات کے کردار تک پر ایک سوالیہ نشان کی صورت ابھرتی رہے گی ۔

Save

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *