ہمارے ریان میاں کی ر یان ریلویز۔۔اقبال دیوان

کرمان۔ ایران کے یہ نعمت الہی صوفی سلسلے کے بزرگ سیدنا جاوید نور بخش بھی عجیب افتاد طبع کے بزرگ تھے۔1952 میں تہران سے معالجیاتی نفسیات میں ڈاکٹریٹ کیا اور سوربون پیرس چلے گئے۔انقلاب یاران کے بعد انہوں نے ایران کو خیر باد کہا اوربرطانیہ کو اپنا مرکز تجلیات بنایا۔وہیں اب سے دس برس قبل اللہ کو پیارے ہوگئے۔حضرت نے کتوں پر ایک کتاب لکھی ۔یوں تو اصحاب کہف کے کتے قطمیر سے لے کر سیدنا بایزید بسطامی کی زندگی میں سگان باشعور اور پیکران وفا، انسانوں کی تربیت مختلف مراحل پر رضائے الہی سے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ اہل معرفت کے ہاں کتے کی بے مکانی اور غربت ذات کی بڑی وقعت ہے ۔اس کی وفاداری ، مالک کی جانب سے سختی اور فراہمی رزق کے حوالے سے اس کا توکل راہ سلوک میں مشعل راہ ہیں، کتے کی اس حوالے سے دس خصوصیات کا بیان بھی عجیب ہے وہ خود کو مالک کے سامنے بے وقعت گردانتا ہے۔اس کا کوئی ساز و سامان نہیں ہوتا۔ اپنی طرف سے بے مکاں ہوتا ہے، مالک کے آستانے پرجہاں جگہ ملتی ہے، پڑ ارہتا ہے۔مالک کھانا نہ دے تو اکثر بھوکا رہتا ہے۔اپنے مالک کا در چھوڑ کر کہیں اور نہیں جاتا۔مالک کے سامان (ایمان پڑھیے )کی حفاظت کرتا ہے۔

EPSON scanner image

مالک کی حفاظت میں رات بھر سوتا نہیں جب کہ ہمیں تو رسومات بندگی ادا کرنے کے لیے صرف نصف شب یا اس سے بھی کم جاگنے کا حکم ہے(سورۃ المزمل۔قرآن العظیم)اپنے فرائض وہ خاموشی سے سرانجام دیتا ہے،مرجاتا ہے تو کوئی وراثت نہیں چھوڑ کر جاتا۔

ہم نے غنیمت جانا کہ کتے کو چھوڑ ایک چھوٹے سے بچے سے راہ سلوک کا  سبق سیکھ لیں وہ ہے اپنے مقصد کی انتھک لگن،اس کے حصول میں لیزر فوکس اور اپنے مقصد کو سب سے عظیم سمجھنا۔ یہ سبق ہمیں ریان میاں نے سکھایا۔
نیویارک میں پانچ برس پورے ہمارے ریان میاں ہیں۔ ڈاکٹروالدہ کے ساتھ ہسپتال سے جڑے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں برونکس میں رہتے ہیں۔قریب کے ایک عیسائی مدرسے(مشنری  سکول) میں جاتے ہیں،ہمارے دے مار ساڑھے چار قسم کے جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے شکستہ،معاشی محرومیوں کے مارے ہوئے ماحول کے پروردہ مولوی استاد نہیں ہوتے کہ داخل ہوتے ہی کولہے پر پین دی سری کا نعرہ مار کر ایک بید رسید کرکے مدرسے میں خوش آمدید کہیں، آئرش پس منظر کی شفاف مسکراتی ہوئی ننز(Nuns) کے حوالے کرنے کے لیے وہاں سڑک کراس کرانے کے لیے رضاکار ڈیوٹی دینے والے پڑوسی ہوتے ہیں۔آدھے  گھنٹے کا پہلا پیریڈ چرچ کا ہوتا ہے۔ ہمارے ریان میاں ، پردیپ ہندو اور مراکش کا مسلمان حماد اس کلاس میں نہیں جاتے۔انہیں اس دن پڑوس کی ایک لڑکی جو رضا کار کے طور پر موجود ہوتی ہے۔وہ انہیں لائبریری میں لے کر بیٹھتی ہے۔انہیں کتابیں نکال نکال کر دیتی ہے۔حماد کی امی آجائیں تو وہ اسے اور ریان میاں کو صلوۃ اور قرآنی قصص بیان کرتی ہیں۔سکول کی انتظامیہ اس پر معترض نہیں ہوتی۔رضا کار لڑکی اگر چینی اور ہسپانوی ہو تو یہ تینوں بول چال کی چینی اور ہسپانوی زبان سیکھتے ہیں۔

سکول میں ان تینوں طالب علموں کا مرحلہ سکول کی جانب سے فراہم کردہ لنچ تھا۔اس میں منگل کے دن سور کے گوشت کی Sausages اور قتلے ہوتے ہیں۔اس دن ان کے لیے اپنی باری پر ایک والدہ صاحبہ بڑا سا لنچ دیتی ہیں جسے یہ تینوں مل جل کر کھاتے ہیں۔ سکول کے دیگر بچوں کو ریان میاں کی ڈاکٹر والدہ صاحبہ کا جواب قابل قبول ہے کہ پورک، ہیم اور بیکن medically and faithwise dont go well with the body system of these three boys.
ریان میاں ہمارے ہاتھ  سویرے چار بجے لگتے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی عیاشی یہ ہے کہ انہیں گھر کے باہر میٹرو نارتھ ٹرین  سٹیشن پر کوئی لے جائے۔جب ان کی والدہ ہفتے کو انہیں ان کی خالہ کے گھر مین ہٹن لے جاتی ہیں تو ان کی عید ہوجاتی ہے۔دنیا کے سب سے بڑے ریلوے  سٹیشن گرانڈ سینٹرل پر ان کی ریلوے کے سفر کا اختتام و آغاز ہوتا ہے۔ اسٹیشن کیا ہے ایک دنیا ہے۔ریان میاں کو اس کے ۴۴ پلیٹ فارموں کا ایسے پتہ ہے جیسے موبائیل والوں کو اپنے علاقے میں پولیس کی سرپرستی میں چلنے والے جرائم کے اڈوں کا  پتا ہوتا ہے۔

ہم نے ریان میاں سے باتوں  باتوں میں پوچھ لیا کہ ’’ انہیں اپنی امی ابو کے بعد سے اچھا کیا لگتا ہے؟‘‘ تو کہنے لگے’’ ٹرین‘‘۔گفتگو آگے بڑھی تو ہم نے پوچھ لیا’’ انہیں سو جانے پرخواب آتے ہیں کیا؟’ تو کہنے لگے۔’’countless‘‘۔ہم نے پوچھا کہ ان بے شمار خوابوں میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہنے لگے’’ ٹرین‘‘۔ اللہ اللہ بچوں کو تو کیسا لیزر فوکس دیتا ہے ۔برسہا برس سے اترا اتر ا کر ایک عقیدہ اسلام پالا ہے ہمارا ایمان مالک پر کتوں کے پاسنگ بھی نہیں اور ہماری لگاوٹ ایک بچے کے معاملے میں ہیچ ہے۔ مجال ہے کہ اس پر ہمیں کبھی ایسی یکسوئی حاصل ہوئی ہو۔یہ تھا وہ نکتہ جہاں آن کر ہم نے اللہ سے نبی محترم ﷺ والی دعا دہرائی کہ ’’ اللھم قریبنی الیک‘‘(اے رب مجھے اپنی قربت سے سرفراز کر)۔

ریان میاں کو اپنے آئی پیڈ پر گوگل خوب برتنا آتا ہے۔انہیں ان کی نانی اماں نے ایک ڈیجٹل گلوب لے کر دیا ہے۔ہر دفعہ ان کو انعام اور تحفے میں ان کی فرمائش پرٹرین ہی تحفے میں دی جاتی ہے۔ہم سے مل کر ان کا خیال ہے کہ ایک ریان ریلویز کی بنیاد رکھیں۔یہ ریلوے ان کے منصوبے کے مطابق پورے امریکہ کا چکر لگاتے ہوئے نیویارک سے ہوتی ہوئی بحری جہاز میں لد کر لندن تک آئے گی وہاں سے دوبئی ،کراچی (کراچی کیوں ؟ وہ اس لیے کہ میری امی ابو وہاں پیدا ہوئے تھے)وہاں سے ایران ،مصر ہوتی ہوئی تھائی لینڈ اور پھر Other end of the world آسٹریلیا۔یہ سب جغرافیہ ان کا منصوبہ ہے۔ان کے لیے اس سفر میں پچاس  سٹیشنوں کا انتخاب بڑا مرحلہ تھا۔گوگل پر نقشہ کھولے ،گلوب سجائے فیس ٹائم پر بیٹھے تھے ہم چھیڑنے کے لیے کوئی الٹا   سیدھا سٹیشن بتاتے تو کہتے “Are you suggesting Google knows less about world than you.Don’t you act funny with me or Google about my railway journey”.
امریکی ریاستوں کا اور دوبئی تک کا ان کا سفر متاثر کن حد تک اغلاط سے مبرا تھا۔

ہم نے پوچھا کہ’’ ہم ساتھ چلیں گے ؟‘‘کہنے لگے ’’یقیناً ‘‘۔ہم نے پوچھا کیا ہمیں ٹکٹ لینی ہوگی کہنے لگے ’’نو یو آر فیملی ۔ ٹکٹس آر فار اسٹرینجرز ٹو بائی ‘‘ہم نے پوچھا اور کھانے کا کیا کریں گے۔وہ کہنے لگے’’ یو آر سو ڈمب‘‘ ٹرین پر ہمیشہ ڈائننگ کار ہوتی ہے۔ہم نے پھر تنگ کرنے کے لیے پوچھ لیا ”مینو کیا ہوگا اور کیا ہمیں کھانے کے پیسے دینے ہوں گے” کہنے لگے ’’ہاؤ مینی ٹائم آئی ہیو ٹو ٹیل یو ،یو آر فیملی‘‘ ہم نے مینو کی یاد دلائی تو ان کا مینو ناشتے لنچ اور رات کے کھانوں کا نرا ولایتی مینو تھا۔ہم نے کہا ’’واٹ اباؤٹ مائی بریانی؟‘‘۔؟ تپ گئے کہنے لگے Can not you leave these silly things behind for one big journey of a life time
ہم نے بہت آہستگی سے ساحل سے لگ کر بہتے اس دریا کا رخ اس وقت موڑا جب ایک صبح ہمیں دیر ہوگئی ۔فون کیا تو ان کا پہلا جملہ تھا کہ Where were you? You know i was alsmost breathless? Do you know how much I miss you?

ساری عمر حسرت رہی کہ یہ جملہ وہ کہتیں جن کو ہم نے بہت چاہا تھا۔ہم نے اسے چھیڑا کہ ہمیں کیا پتہ کہ وہ ہمیں اتنا چاہتا ہے تو کہنے لگا کہ ہم اس سے کوئی فرمائش کریں وہ پوری کرے گا. ہم نے کہا جب بھی بات ہوتی ہے وہ ہمیشہ ہم سے ٹرینوں کی بات کرتا ہے۔یہ کیسا تعلق ہے وہ ہمارے پسند کے موضوعات پر تو بات ہی نہیں کرتا۔آپ کے پسندیدہ موضوعات کون سے ہیں۔ہم نے کہا اس کو کھلا چھوڑ دیں مگر ہمیں اس کے  سکول،کتابوں،موسیقی،دین، اور دیگر موضوعات پر بات کرنے کا بہت شوق ہے۔ ہمارے اعتراض کو سن کے اس کے معصوم چہرے پر سوچ کی بدلیاں لشکنے لگیں اسی نے پیشکش کی کہ ایک دن ہم اپنی باتیں کریں گے ۔وہ ہمارے ہر سوال کا جواب دے گا۔ایک دن وہ صرف ٹرین کی بات کرے گا۔ہم نے جب اس کی تجویز مان لی تو کہنے لگا Eye Dee .Baby last word. Do not ever make me breathless. Be here on time.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ہمارے ریان میاں کی ر یان ریلویز۔۔اقبال دیوان

  1. دنیا کے سب سے بڑے ریلوے سٹیشن گرانڈ سینٹرل پر ان کی ریلوے کے سفر کا اختتام و آغاز ہوتا ہے۔ اسٹیشن کیا ہے ایک دنیا ہے۔ریان میاں کو اس کے ۴۴ پلیٹ فارموں کا ایسے پتہ ہے جیسے موبائیل والوں کو اپنے علاقے میں پولیس کی سرپرستی میں چلنے والے جرائم کے اڈوں کا پتا ہوتا ہے۔
    ….. “what a wonderful sentence to describe “all in one

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *