سول سروس کے صاحب بہادر۔۔عارف انیس ملک /حصہ اول

بیوروکریٹ اور سیاست دان کا ملاپ آگ اور پانی کا ملاپ ہے. ان دونوں کا ‘دودھ سوڈا’ ہوجانے کا نقصان صرف عوام کو پہنچتا ہے جو ان دونوں کو پال رہی ہوتی ہے. احد چیمہ کی گرفتاری اور بعد ازاں افسران میں احتجاجی کیفیت ریاست پاکستان کی نام نہاد ریڑھ کی ہڈی (بیوروکریسی) میں کینسر کی نشاندہی کرتی ہے جس کے علاج کا کوئی تمنائی نظر نہیں آتا ہے.

یہ بچپن کی بات ہے جب میرے رشتے کے ایک ماموں مجھے حسرت بھرے لہجے میں بتایا کرتے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ میں کسی طرح ڈپٹی کمشنر لگ  جاؤں اور جب گھر سے نکلا کروں تو سائلین کی قطاریں لگی ہوئی ہوں اور میں ان پر نظر عنایت کرکے ایک نگاہ غلط ڈالتے ہوئے آگے نکل جایا کروں. سون سکیسر کے بارانی علاقے کے چرواہوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے مجھے یونیورسٹی کے زمانے تک کچہری دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا تو مجھے ماموں کی اس خواہش کے جملہ فوائد کا کماحقہ اندازہ صرف اس وقت ہوا جب آج سے سولہ برس پہلے سول سروس اکیڈمی میں آئی آر ایس میں بطورِ نیم اسسٹنٹ کمشنر داخل ہوا تھا.

یہ بھی پڑھیں :  کمانڈو بابو اور سول سروس آف پاکستان (1947-2018)۔۔عارف انیس ملک

اکیڈمی میں عجیب ماحول تھا. ڈھائی سو کے آس پاس پورے پاکستان کے چنے ہوئے دماغ دلچسپ لوگ تھے. ان میں نابغے بھی تھے، ذہین بھی اور میرے سمیت چغد بھی، جو بھولے بھٹکے بارہ سنگھے کی طرح سٹپٹا رہے تھے جو اچانک گاڑی کی ہیڈلائٹس کی زد میں آگیا ہو. سول سروس اکیڈمی میں پہلی دفعہ ‘نیو سینس ویلیو’ کا  ذکر سنا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک افسر کی قدروقیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کسی کا مختصر ترین وقت میں کیا بگاڑ سکتا ہے. یعنی اگر آپ کھڑے کھڑے کسی کو گرفتار کر کے اس کی مشکیں کس سکتے ہیں تو آپ اتنے ہی بڑے افسر ہیں. اس حساب سے پولیس افسروں اور ڈی ایم جی کے افسر بڑے افسر تھے حالانکہ ہمارے بیچ کے ٹاپر فارن سروس کے ایک ذہین آفیسر تھے لیکن فارن سروس بارے میں مشہور تھا کہ جنگل میں مور ناچا،کس نے دیکھا. ویسے بھی وہ کھڑے کھڑے کسی کو جیل نہیں بھیج سکتا تھا تو اس حساب سے اس کا ششکا پولیس اور ڈی ایم جی صاحبان کے مقابلے میں بہت دھندلا تھا.

سول سروس اکیڈمی میں ہی معلوم ہوا کہ سول سروس بری طرح فرقوں میں تقسیم ہے. پہلی چوائس کے طور پر پولیس، ڈی ایم جی، کسٹمز اور انکم ٹیکس کے گروپس تھے جو کسی نہ کسی کا کچھ نہ کچھ بگاڑ سکنے کی صلاحیتوں کے حامل تھے. پھر ہومیوپیتھک گروپس تھے جن میں کامرس،انفارمیشن ،پوسٹل، کنٹونمنٹ، اکاؤنٹس اور سیکرٹیریٹ گروپ کے لوگ تھے اور اس افسرانہ گاڑی کا آخری ڈبہ ریلویز کے افسران پر مشتمل تھا. پولیس اور ڈی ایم جی کے افسران برہمن تھے، جبکہ کسٹمز، ٹیکس، فارن سروس، اکاؤنٹس والے کھشتری تھے اور باقی شودر گردانے جاتے تھے حالانکہ اکیڈمی میں اور بعد ازاں بھی میں اپنی زندگی میں جن چند بہترین تخلیقی اور ذہین افراد سے ملا، ان کا تعلق ماٹھے سمجھے جانے والے گروپس سے تھا.  پولیس اور ڈی ایم جی والے مرجع خلائق تھے، ان کو ہرجگہ ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا. ان کی آنیاں جانیاں دیکھنے جوگی تھیں اور قدرے ہومیوپیتھک گروپس کے کچھ افسران ان کی مٹھی چانپی کرتے ہوئے پائے جاتے تھے. یہ حیران کن امر تھا کہ ایک ہی امتحان پاس کرنے، تقریباً ایک جیسی صلاحیتوں کے حامل لوگ، محض میرٹ لسٹ میں اوپر نیچے نازل ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے گنبد میں قید تھے اور ان میں سے بعض ابھی تک قید ہیں.

یہ بھی پڑھیں :  جنوب ایشیائی مسلمانوں کے ہسپانیہ سے عشق کی داستان(ترجمہ: شوذب عسکری)ڈاکٹر خالد مسعود

ڈی ایم جی جو کہ بعد میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس بن گیا، میں ایک انوکھی شان تھی.گو اس وقت پرویز مشرف کے ریفارمز پروگرام کی وجہ سے ان کا مورال ڈاؤن تھا. اس گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک بہت پیارے دوست جنہیں ہم پیار سے چیف کہتے تھے، ہر روز اخبار پڑھ کر تمام کامنرز کو بتایا کرتے تھے کہ مجسٹریٹس نظام واپس آرہا ہے (یعنی ہمیں ایزی مت لو). سروس میں آیا تو دیکھا کہ عمومی طور پر ڈی ایم جی افسر ایک سپرمین یا ایکس مین تھا جس میں محیرالعقعول صلاحیتیں پائی  جاتی تھیں. وہ ایجوکیشن سیکرٹری بھی تھا، ہیلتھ کے معاملات بھی اس کی دسترس میں تھے ، ملک میں بجلی کم ہوجائے تو اس کی چابی بھی اس کی جیب میں تھی، یہی نہیں، وہ ٹیکس کے معاملات، کسٹمز کے ایشوز، کامرس کے بکھیڑے، انفارمیشن کے اسرارورموز اور ریلوے چلانے کی گھنڈی بھی جانتا تھا اور ملک میں قانون کی حکمرانی بھی اسی کے وجود کے ساتھ نتھی تھی. ڈی ایم جی افسر نطشے کامافوق الفطرت سپرمین تھا جس پر نور برستا تھا اور وہ بلا روک ٹوک پھسلتا ہوا اکیسویں، بائیسویں گریڈ تک پہنچ جاتا تھا.

سول سروس اکیڈمی سے باہر آئے تو معلوم ہوا کہ بیوروکریسی مزید تہ در تہ تقسیم ہے. ہر گروپ میں ایک ‘ٹونی گروپ’ ہے جو اس گروپ کا برہمن ہے. ٹونی کسی بھی گروپ میں تھے، وہ ایک قوم اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے. وہ نسل درنسل افسران تھے، جن کے چاچے مامے سیکرٹری تھے، ایم این اے یا ایم پی اے تھے اور ان کو اپنی مرضی کی پرکشش پوسٹنگ دلوا دیتے تھے. ایسے ہی ایک ایس پی ٹونی نے ایک روز مجھے بتایا کہ وہ اپنے آئی جی پولیس سے بہت بےزار ہے اور اس نے انکل سے کہا ہے کہ وہ فلاں کو آئی جی لگا دے. اس وقت ایک ہفتے بعد خبر ملی کہ وہ فلاں آئی جی لگائے جا چکے ہیں. ٹونی گروپ کے برہمن اپنا باس بھی بعض اوقات اپنی مرضی کا منتخب کرلیتے ہیں. ان کی ترقی سپیڈوسپیڈ ہوتی ہے اور یہ تمام انکوائریوں میں سے مکھن سے بال کی طرح نکل جاتے ہیں.

اسی طرح ہر گروپ میں ایک ‘ماجھا گروپ’ ہے. یہ ڈی ایم جی، پولیس سے لے کر ریلویز تک کسی گروپ میں بھی ہو سکتے ہیں. یہ مڈل کلاسیے اور سیلف میڈ لوگ ہیں جو گھیسیاں کرتے دوسرے یا تیسرے امتحان میں افسری کی بس میں گھسنے یا اس کے پائیدان پر چڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر پوری زندگی ایک پاؤں پر کھڑے رہنے اور توازن برقرار رکھنے میں تھک جاتے ہیں، ان کی ترقیوں میں بھی سپیڈبریکر لگتے رہتے ہیں اور گریڈ بیس اکیس تک پہنچتے ان کا سانس بری طرح پھول جاتا ہے. اور کسی نہ کسی ناکے پر پکڑے جاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں :  اردو ادب کی عمارت جنسیت کی نفی پر کھڑی ہے: ژولیاں/انٹرویو

میرے ایک سینیئر اس حوالے سے بہت دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے تھے، ‘ڈی ایم جی اور پولیس والے بھی ہماری طرح نوکر ہی ہیں، بس ان کی پہنچ صاحب کی خواب گاہ تک ہے اور اسی وجہ سے ان کا ششکا قائم ہے.’

پاکستانی بیوروکریسی میں عروج وزوال کے ستر سالوں کا تجزیہ کار ایک بات پر واضح اصرار کرتے ہیں. ان کے خیال میں ہر نامی گرامی بیوروکریٹ اس وقت بام عروج کو پہنچا جب اس نے سیاستدانوں کے ساتھ ایک ہی بستر میں چھلانگ لگا دی. تبھی تبرکات کا نزول ہوا، افسران ارب پتی بنے اور ان کی نسلیں سنور گئیں. یہ   ذہن میں رہے کہ بیوروکریسی کی اکثریت محنتی، ذہین اور لقمہ حلال کھانے ہر یقین رکھتی ہے. تاہم بیوروکریسی کے اکثر مامے مہا کلاکار ہیں جنہوں نے ایک خصم کے بعد دوسرے میں پناہ ڈھونڈی اور آئینی اور قانونی چراگاہ میں اپنی  پسند کے سیاست دانوں اور جرنیلوں کو کھل کھیلنے کی اجازت دی. بہت سے حوالوں سے پاکستانی بیوروکریسی کی موت واقع ہوچکی ہے اور اور وہ وینٹیلیٹر پر پڑے ہوئے اس مریض کی مانند ہے جسے مصنوعی تنفس کے سہارے زندہ رکھا جارہا ہو.

احد چیمہ اور اسی قبیلے کے  ذہین، محنتی اور کلاکار افراد کو اور سی ایس ایس کرنے والے اکثر افسران کو کیریئر کے شروع میں ہی ڈاکٹر فاسٹس کے ساتھ والی ڈیل کرنی پڑتی ہے. انہیں ایک ہاتھ میں اختیار، پیسہ، مرضی کی پوسٹنگ اور طاقت ملتی ہے تو دوسرے ہاتھ سے انہیں اپنی روح نوازنے والے کے حوالے کرنی پڑتی ہے. سودا عموماً اسی وقت مکمل ہوتا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ   ایسے افسران کی ایک لمبی قطار ہے جو اپنی روح ہاتھوں میں پکڑے اپنی باری کے منتظر ہیں.
جاری ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *