عصمت دری کے بڑھتے واقعات

SHOPPING

پاکستان میں جہاں بے روزگاری کے سبب بہت سے لوگ پریشانی کا شکار ہیں وہیں عوام کی ایک بڑی تعداد مجبوری کے عالم میں چند پیسوں کے عوض اپنی عصمتوں کا سودا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ معاشرتی انسان نما درندوں نے اپنی سفاکی میں جنگلی درندوں کو کہیں بہت پیچھے چهوڑ دیا ہے۔ وہ اپنی درندگی کے شکنجے میں ہمیشہ عورت کو ہی دبوچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ایک خاص حد تک کامیاب بهی ہو جاتے ہیں لیکن بعض مستور زمانہ جنہیں نان نفقہ سے زیادہ اپنی عزت و حرمت کا پاس رہتا ہے وہ ان کی مکاری کو بر وقت بخوبی بهانپ لیتی ہیں۔
حال ہی میں پاکستان کے شہر کراچی میں ایک جواں سالہ لڑکی کے ساتھ جو عجیب واقع پیش آیا وہ قارئینِ کرام کے گوش گزار کرتا ہوں۔ شازیہ(فرضی نام)لڑکی نوکری کی غرض سے(او ایل ایکس)پر جهانکتی ہے، سکرول ڈاؤن کرتے ہوئے اس کی نظر ایک پُرکشش نوکری پر جا ٹکتی ہے جہاں کسی مرد نے نوکری کے حوالے سے اشتہار اور ساتھ ہی اپنا موبائل نمبر چسپاں کر رکھا ہوتا ہے۔ لڑکی نوکری حاصل کرنے کی غرض سے فون کال کرتی ہے تو جناب انہیں نوکری کی فراہمی کے لیے یقین دہانی کرواتے ہوئے بعد میں ازخود رابطہ کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔۔ پهر کچھ دنوں بعد موصوف کی کال آتی ہے اور لڑکی کو اپنی(سی وی) اور تازہ بنی ہوئی تصویریں میل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا جاتا ہے۔لڑکی فوراً پاسپورٹ سائز تصویریں اور کاغذات ای میل کر دیتی ہے لیکن چند روز بعد وہی موصوف فون کرکے شکایتکرتے ہیں کہ آپ کے ضروری کاغذات تو مل چکے ہیں لیکن تصاویر نہیں ملیں۔۔ لڑکی اس بات پر بضد رہتی ہے کہ میں تصویریں بھی بھیج چکی ہوں اور رابطہ منقطع کر دیتی ہے۔دراصل بات یہ تهی کہ اس شخص کو لڑکی کی پاسپورٹ سائز تصاویر کی بجائے گھر میں عام طور پر بنائی جانے والی تصاویر چاہییں تھیں ،اس شخص کو کاغذات سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ تصویروں کے لیئے اصرار جاری رہا جس پر لڑکی نے کوئی توجہ نہ دی۔ پهر کچھ عرصے بعد دوسرے نمبر سے کال آتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کی نوکری ہو گئی ہے، آپ اپنا پتہ بتائیں میں آپ کو وہاں سے پِک کر لوں گا۔ لڑکی انکار کر دیتی ہے اور آفس کا ایڈریس مانگتی ہے جس پر وہ آئیں بائیں اور شائیں کرنے لگتا ہے۔۔۔ موصوف ہر طرح کے جال بچھاتا ہے کہ کسی طرح لڑکی اس کے ہاتھ لگ جائے جبکہ لڑکی کو ماہانہ خرچ دینے کی پیش کش بهی کی جاتی ہے اور شاپنگ پر لے جانے کے سبز باغ بهی دکھائے جاتے ہیں۔ اسے ریسٹورنٹ لیجانے اور گهر پر آنے کی دعوت بهی دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ گهر سے کوئی بہانہ بنا کر نکل آئیں میں آئندہ آپ کی ساری ضروریات زندگی کا خیال رکهوں گا لیکن آپ مجھ سے ایک بار ملاقات کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ جس کے جواب میں لڑکی یہ کہہ کر انکار کر دیتی ہے کہ مجهے نوکری چاہیے تهی لیکن نوکری کی اتنی بهی ضرورت نہیں کہ جس کے لیے میں اپنا آپ بیچ ڈالوں اور موصوف کی ہر شیطانی چال کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس سب کے باوجود ہر روز نئے نمبر سے آنے والی فون کالز کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس پر اسکے سارے نمبرز بلاک کر دیے جاتے ہیں اور بلآخر وہ شخص خود ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
یہ تو محض ایک واقعہ ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ ملک بهر میں کتنے امراء نوکری کا جهانسہ دے کر عورتوں کی عزتوں کے ساتھ کهلواڑ کرتے ہوں گے؟ بہت کم لڑکیاں اس جال سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتی ہوں گی لیکن کثیر تعداد مجبوری اور لاچارگی کی ماری ہوئیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے اپنے آپ کو ایسے وحشیوں کے حوالے کر دیتیں ہیں اور پهر زندگی بهر چند پیسوں کے لیے عوض درندگی کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ کیے گئے زنا بل رضا یا زنا بالجبر کا مجرم کون ہے؟
ہم یہی کہتے ہیں کہ مجرم وہی دونوں ہیں جنہوں نے اس گناہ کا ارتکاب کیا لیکن میں اس غلیظ کام کی ذمہ داری ریاست پر ہی ڈالتا ہوں۔ اس کا ذمہ دار ایوان پارلیمنٹ میں بیٹھا ہر وہ شخص ہے جو الیکشن کے قریبی دنوں میں روزگار کی فراہمی کے لیے جهوٹے وعدوں اور دعوؤں کا سہارا لیتا ہے اور عہدہ ملتے ہی ان وعدوں کو فراموش کر دیتا ہے اور عوام الناس برسوں تک اس کے دئیے گئے دھوکے کا رونا روتی رہتی ہے۔ صرف حکمران ہی نہیں معاشرے کا وہ با اثر طبقہ بهی اس میں برابر کا شریک ہے جو دولت کے نشے میں دهت کمزور عناصر کو راستے کی چیونٹیاں جان کر مسل دیتا ہے, صرف یہی نہیں بلکہ وہ پیسے کی لالچ دے کر متعلقہ عورت تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور اسے اپنے اعتماد میں لے کر اغواء کاروں کے ذریعے وحشیا بننے پر مجبور کیا جاتا ہے یا کاروباری معاہدے کے طور پر پیشہ وارانہ طوائف کے حوالے کر دیا جاتا ہے جس سے کئی عورتوں کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ آپ پاکستان میں مردوں اور عورتوں کے عصمت فروشی کے اعداد و شمار اٹها کر دیکھ لیں تو آپکی روح کانپ اٹهے گی اور توجہ طلب بات یہ ہے کہ ان کالے دهندوں میں دلالوں اور کرپٹ پولیس افسروں کا گہرا تعلق ہوتا ہے، ان طوائفوں کی ٹهیکیدارنی کو تحفظ فراہم کیرکے بدلے میں معاوضہ وصول کیا جاتا ہے یعنی اب ایسے قبیح کاروبار بهی مکمل سکیورٹی کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں۔ اسلام کے نام پر بنائے گئے اس ملک میں ہر محلے میں ایسے گھناؤنے کاروبار کے اڈے بنے ہوئے ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ۔ضروری ہے کہ ان عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے وگرنہ وہ دن دور نہیں جب گلی کوچوں میں سر عام بہنوں بیٹیوں کی عزتیں تار تار کی جائیں اور ہمارے پاس صرف ایک چُپ باقی رہ جائے گی۔

SHOPPING

Avatar
سعد رزاق
میں ازل سے طالب علم تها اور ابد تک رہوں گا-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *