چین کے ساتھ کسی بھی صورت میں مذاکرات نہیں ہو سکتے

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

ایک رپورٹ کے مطابق  چین گذشتہ پانچ برس سے بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کر رہا ہے اور چین کا کہنا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند اب ان کے لیے مزید خطرہ نہیں ہیں۔
گو کہ بعد میں چین نے بھی بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرت کی خبروں کو مسترد کیا تھا۔
چین پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی رقم سے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ جس کے تحت چین کے صوبے سنکیانگ سے گوادر تک راہداری بنائی جا رہی ہے اور پاکستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا چین کے مفاد میں ہے جبکہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلانے والی جماعتیں چین پاکستان اقتصادی راہدری منصوبے کی مخالف ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا کہنا تھا کہ جہاں ہماری نسل کشی ہو رہی ہوں وہاں کے شراکت دار سے ہم مذاکرات نہیں کریں گے۔
انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘ہمیں کوئی ان مذاکرات سے جوڑے اور نہ ہی کوئی ملک ہم سے مذاکرات کرنے کی توقع رکھے۔’
بلوچستان میں جاری علیحدگی کی تحریک میں شامل عسکریت پسند گروہوں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ سب سے متحرک گروہ ہے، جو خاص طور پر مکران کے علاقے میں سرگرم ہے۔ مکران کی ساحلی پٹی سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی ایک بڑی گزرگاہ ہے۔
اللہ نذر بلوچ کا کہنا ہے کہ ‘کوئی بھی جمہوری پارٹی یا علیحدگی پسندگروہ وہ چین، حکومتِ پاکستان یا کسی ایسے ملک سے جو بلوچ قومی وجود کے خلاف سے مذاکرات کرے تو اسے نہ صرف میں بلکہ پوری قوم اس کو مسترد کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ ‘یہ پوری قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔’
ڈاکٹر اللہ نذر کا کہنا ہے کہ بے اعتمادی تو پہلے سے موجود ہے ‘مگر یہاں ہمارے وجود کو خطرہ ہے، یہاں ہماری عزت اور ناموس محفوظ نہیں ہے، وہاں پر اعتماد کی کیا بات کی جاسکتی ہے اب تو ہمارے وجود اور بقا کا مسئلہ ہے۔’
پاکستان کی سکیورٹی اداروں نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو تلاش کرنے کے لیے کئی آپریشن کیے ہیں اور حال ہی میں ہونے والے ایک فوجی آپریشن میں محفوظ رہے تھے خیال کیا جارہا تھا کہ وہ اس میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
گذشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی اہلیہ کو بھی حراست میں لیا تھا۔جس کے بعد سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد ان کی اہلیہ کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *