ایک غیر مسلم کو ‘اسلام’ کی دعوت۔۔افراز اختر

غیر مسلم: مولوی صاحب، مجھے امن وسکون کی تلاش ہے۔ یہ امن و سکون مجھے کیسے ملے گا؟
مولوی صاحب: امن وسکون اللہ کے ذکر میں ملےگا۔
غیر مسلم: یہ ذکر کیسے حاصل ہوگا مجھے؟
مولوی صاحب: اسلام قبول کر لو ،۔۔ اللہ کا ذکرو۔ تمہیں دنیا اور آخرت کا امن نصیب ہوجائےگا۔
غیر مسلم: میں تیار ہوں، مجھے کیا کرنا ہوگا؟
مولوی صاحب: کلمہ شہادت ادا کرو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ اس کے بعد پانچ وقت نماز پڑھنی ہوگی ، رمضان میں روزے رکھنے ہوں گے، دولت ہو تو حج اور زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔
غیر مسلم: اس سے مجھے امن وسکون مل جائے گا؟
مولوی صاحب: یقیناً!
غیر مسلم: ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے منظور ہے۔۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ۔۔۔میں چلتا ہوں۔
مولوی صاحب: ارے محترم ا! س کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔
غیر مسلم: اچھا وہ کیا؟
مولوی صاحب: آپ کو اس دعوتِ امن یعنی کہ اسلام کو دنیا میں پھیلانا ہوگا۔ آخر امن و سکون کا پیغام دوسروں تک بھی تو پہنچنا چاہیے نا۔
غیر مسلم؛ جی ،بالکل درست۔ یہ کام تو آسان ہے۔ ہمارے ملک میں کسی بھی دین کی دعوت و تبلیغ پر کوئی پابندی نہیں۔ میں سب کو یہ دعوت دوں گا۔
مولوی صاحب: لیکن ایک مسئلہ ہے۔
غیر مسلم: جی وہ کیا؟
مولوی صاحب: وہ یہ کہ جب تک غیر مسلم ،کافر حکومتیں موجود ہیں، اسلام کی دعوت مؤثر طریقے سے دنیا کو دینا ممکن نہیں۔
غیر مسلم: وہ کیوں؟ جب غیرمسلم ملکوں میں دعوت اور تبلیغ پر کوئی پابندی نہیں ہے تو کیا مسئلہ ہے۔ آپ کی تبلیغ سے اگرکوئی اپنا مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہو جائے تو غیر مسلم حکومتیں اس میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ڈالتیں۔
مولوی صاحب: وہ تو ٹھیک ہے، لیکن انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ طاقت سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب تک غیر مسلم حکومتیں موجود ہیں لوگ ان کی طاقت اور شان و شوکت کی وجہ سے اسلام کی دعوت کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔ کفار کی حکومتوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کو اسلام کے زیرِ نگیں کرنا ہوگا ،تب ہی لوگ اسلام کی دعوت سے متاثر ہوں گے اور مسلمان ہوں گے۔
غیر مسلم: اچھا! تو اس کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
مولوی صاحب: اس کے لیے جہاد کرنا ہوگا۔ کافروں کے خلاف جنگ کرنی ہوگی۔ لیکن، اسلام امن کا  دین ہے۔ اس لیے ہم انھیں پہلے دعوت دیں گے کہ اسلام قبول کر لو اسی میں تمہاری خیر ہے۔ اگر نہیں تو ہماری ماتحتی میں آ جاؤ اور جزیہ ادا کرو، اور اگر یہ بھی منظور نہیں تو جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔
غیر مسلم: اچھا!! تو یہ بتائیے کہ مسلمانوں کی کون سی حکومت کرے گی یہ جہاد؟
مولوی صاحب: مسلم حکومتیں تو خود غیر مسلم حکومتوں کے تابع ہیں۔ وہ کیا جہاد کریں گی۔یہ جہاد تو ہم جیسے لوگوں کو ہی کرنا ہوگا جن کے دل میں اسلام کادرد ہے۔
غیر مسلم: تو آپ کا مطلب ہے ہم کچھ لوگ مل کر جہاد شروع کردیں؟
مولوی صاحب: ہاں، اور اس کے لیے افراد کو اکٹھا کیا جائے۔
غیر مسلم: کتنے افراد؟
مولوی صاحب: جتنے بھی ہوجائیں۔ مسلمان تعداد پر بھروسہ نہیں کرتا۔ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ فرشتے اس کی مدد کو کافی ہیں۔
غیر مسلم؛ تو ہم دو بھی تو ‘افراد’ ہی ہیں، ہم شروع کردیتے ہیں۔
مولوی صاحب: نہیں نہیں، کچھ تو زیادہ ہونے چاہیے۔ آخر حکومتوں سے ٹکر لینی ہے۔
غیر مسلم:تو کتنے افراد کے بعد آپ اللہ پر بھروسہ شروع کریں گے؟
مولوی صاحب: آآآ۔۔۔۔ ایک تو تم نو مسلم لوگ سوال بہت کرتے ہو۔ پس کچھ اتنے افراد ہوجائیں کہ ایک گروہ تو بن  سکے، جس کا ایک امام ہو۔
غیر مسلم : پھر تو جس کا جی چاہے اٹھے اور گروہ بنا کر جہاد شروع کر دے۔ یوں تو بہت سے گروہ بن جائیں گے اور ان کے مختلف امام ہوں گے۔ ان کےآپس میں اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔اس طرح ہڑبونگ نہیں مچ جائے گی کیا؟
مولوی صاحب: ہونا تو یہی چاہیے کہ ایک ہی امام کے تحت جہاد ہو مگراب کیا کیا جائے۔ ایسا تو ہوتا ہی ہے کہ مختلف گروہ بن جاتے ہیں ۔ بہرحال، اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جہاد ہونا چاہیے بس۔
غیر مسلم: تو ان مختلف گروہوں میں سے کون ہوگا جو غیر مسلم حکومتوں کو شکست دینے کے بعدحکومت قائم کرے گا؟ خلیفہ کون بنے گا؟
مولوی صاحب: بھئی یہ باتیں آپ اللہ پر چھوڑ دیں۔
غیر مسلم: اللہ پر کیوں؟ آپ جہاد اللہ پر نہیں چھوڑ رہے ، بلکہ خود کر رہے ہیں تو یہ معاملہ بھی تو انسانوں کے کرنے کا ہے ، اس کو اللہ پر کیسے چھوڑ دیں؟
مولوی صاحب: تم ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہونا، اس لیے عقل کا بےجا استعمال کر رہے ہو۔ کچھ دن ہمار ے ساتھ رہو گے تو ٹھیک ہو جاؤ گے۔
غیر مسلم: اچھا، توکیا آ پ کو یقین ہے کہ آپ کافر حکومتوں کو شکست دے سکتے ہیں؟
مولوی صاحب: آپ نےوہ سنا نہیں کہ: “مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی “۔ اور اللہ کہتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
غیر مسلم: تو اگر آپ غالب نہ ہوئے تو اس کا مطلب آپ مومن نہیں ہیں؟ اور چونکہ ابھی تو دنیا میں کافر ہیں غالب ہیں تو کیا کوئی بھی مومن نہیں؟
مولوی صاحب: یہ اللہ کی آزمائشیں ہیں۔ آپ ابھی نہیں سمجھیں گے۔
غیر مسلم: کافروں کے پاس باقاعدہ فوج ہے، ٹیکنالوجی ہے، طاقت ہے۔ آپ کے پاس کیا ہے؟
مولوی صاحب: ہمارے پاس اللہ ہے!
غیر مسلم: ہیں جی؟
مولوی صاحب : جی۔ہمارا کام کوشش کرنا ہے۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
غیر مسلم: اچھا اگر آپ کسی کافر حکومت کو محکوم بنا لیں گے تو پھر کیا کریں گے؟
مولوی صاحب: ان کے مردوں اور بچوں کو غلام بنا لیں گے اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے۔
غیر مسلم: تو اس طرح وہ اسلام قبول کرلیں گے؟
مولوی صاحب: اس ذلت سے نکلنے کے لیے انہیں اسلام قبول کرنا ہی بہتر لگے گا۔
غیر مسلم:لیکن ایسا ایما ن وہ اللہ پر تو نہ لائیں گے بلکہ اپنی مصیبت سے چھٹکارے کے لیے اسلام قبول کریں گے۔ کیا ایسا اسلام قابلِ قبول ہوگا؟
مولوی صاحب: ایمان قبول کرنے کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
غیر مسلم: اچھا! یہ بتائیے کہ یہ جہاد کب تک کیا جاتا رہے گا؟
مولوی صاحب: جب تک ساری دنیا پر اسلام کی حکومت قائم نہیں ہو جاتی، ہم اسی طرح کفار کے ساتھ لڑتے رہیں گے۔
غیر مسلم: پھر تو یہ لڑائی کبھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
مولوی صاحب: جی ہاں، جہاد قیامت تک مسلسل جاری رہے گا۔
غیر مسلم: تو وہ امن کہاں گیا جس کا دعوی اسلام کرتا ہے اور جس کے لیے میں آپ کے پاس حاضر ہوا تھا؟
مولوی صاحب: بھئی ،امن بھی آجائے گا، جب اسلام کا غلبہ ساری دنیا پر ہوجائے گا۔
غیر مسلم: محترم ہمارا ملک ایک غیر مسلم ملک ہے، جس نے آپ مسلمانوں کو اپنے ہاں روزگار دیا ہوا ہے، مسجدیں ، مدرسے، اجتماع کی اجازت دے  رکھی ہے۔ دعوت اور تبلیغ کی بھی اجازت دی ہوئی ہےکہ جس کو چاہیں مسلمان بنا لیں،آپ کو انصاف دیا، امن دیا۔ اور آپ یہاں مجھے  یہ سکھا رہے ہیں  کہ میں آپ کے ان محسنوں سے جنگ کروں، انہیں لونڈی اور غلام بنا لوں۔ آپ مجھے امن و سکون حاصل کرنے کا یہ طریقہ سکھا رہے ہیں  کہ میں ساری دنیا کا امن خطرے میں ڈال دوں۔۔۔۔ مجھے ایسا امن نہیں چاہییے۔
مولوی صاحب: تو تم مرتد ہو رہے ہو؟ تم واجب القتل ہو گئے ہو۔ ارے او! لانا میری بندوق، اس مرتد کو تو یہیں ٹھکانے لگا کر ثوابِ دارین حاصل کرتا ہوں۔
(بندوق آنے سے پہلے ہی غیر مسلم نودو گیارہ ہوگیا اور مولوی صاحب ثواب ِ دارین سے محروم رہ گئے)

(منقول )

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایک غیر مسلم کو ‘اسلام’ کی دعوت۔۔افراز اختر

  1. بے پر کی گھڑی ہوئی اس خود ساختہ کہانی کا مقصد اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے اور کچھ نہیں۔
    احمقانہ کہانی، احمق لکھاری۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *