پاکستان ،اقبال کا جھوٹا خواب اور باچا خان و ابوالکلام آزاد

باچا خان اور ابوالکلام آزاد انتہائی بے بصیرت لوگ تھے اور قوم کو بہت گمراہ کرنے والوں میں شامل تھے . …اگرچہ پہلے مودودی بھی یہی سمجھتے تھے لیکن بعد میں سدھرگئے…

1. ان تینوں کی یہ بات بالکل بے بنیاد تھی کہ اگر بھارت اکٹھا رہتا تو مسلمان بہتر ہوتے …مسلمان اب بھارت کا چودہ فیصد ہیں اور اکٹھے ہونے کی صورت اکتیس فیصد ہو جاتے (بنگلہ دیش کے 14 کروڑ + پاکستان کے 18 کروڑ + انڈیا کے 17 کروڑ= 49 کروڑ جبکہ برصغیر کی کل آبادی بھارت کی 125 کروڑ + باقی کی 32 کروڑ…یہ مل کر بنے157کروڑسو نسبت بن گئی 31 فیصد ..) …وہی حال ہوتا جو اب ہے ….اقلیت اکثریت میں تو بدل نہ پاتی….

2. پہلے تو نسل پرست ہندو کی حکومت بھی نہ تھی اور انگریز کے تحت رہتے۔ ہندو نسل پرست آپکی متحد مسلم آبادی کو رگڑ کر رکھتے تھے ….جتنے علاقے آج پاکستان یا بنگلہ دیش میں ہیں ، سب برصغیر کے سب سے پسماندہ علاقے تھے اور یہاں بھی ہندو نسل پرست تجارت اور سیاست پر چھائے ہوئے تھے …ہر جگہ جہاں بھی کانگرس کے ہندو نسل پرستوں کی صوبائی حکومت بنی تقسیم سے پہلے ، اردو اور مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیا جاتا تھا…..

3. انہی تینوں کی گمراہ سوچ نے بھارت کے چودہ کروڑ مسلمانوں کو بھارتی سیکولرزم کے دھوکے میں ہجرت سے باز رکھا اور اب وہ اس حالت بد میں ہیں کہ یو پی جہاں دیوبند جسے شہروں میں مسلمان 65 فیصد تک ہیں، ایک مسلمان ایم پی اے بھی ہندو نسل پرستوں نے نہیں کھڑا کیا اور اس کے باوجود سب ہندووں نے مل کر ایک بلاک میں ووٹ دے کر ستر فیصد سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی..پاکستان میں قیامت تک کوئی مولوی حکومت نہیں بنا پائے گا…پختوں عوام نے نہیں بلکہ مشرف نے انہیں پختونخواہ میں ضرور مسلط کیا لیکن یہ وہاں بری طرح ناکام ہوئے…

4. سرسید جیسا لبرل بلکہ علما کے نزدیک نیم ملحد و مرتد مسلمان ، قائد جیسا انتہائی لبرل مسلمان اور ہر با بصیرت شخص یہ کہنے پر مجبور تھا کہ ہندو نسل پرست اکثریت نہ آپ کے مذھب و زبان کے احترام کو تیار ہے نہ انسانی حقوق دینے کو …جب جب موقع آتا ہندو اکثریت اردو کو ختم کر کے ہندی کے نفاذ کی حمایت کرتی…قائد کو کہنا پڑا کہ مسلمان تو اپنے ملا کو مار سکتا ہے بلکہ مار چکا ہے ، ہندو کبھی ایسا نہیں کریگا…

5. تقسیم اور اس سے پیدا ہونے والا خطے میں فساد مکمل طور پر ہندو نسل پرست کی وجہ سے شروع ہوا ..

6. بنگلہ دیش روس کی مداخلت کو وجہ سے ٹوٹاورنہ وہاں آج بھی دو قومی نظریہ ہم سے زیادہ مضبوط ہے .. وہ مر کر بھی بھارت میں نہیں ملیں گے. ..بھارت نے پیشکش بھی کی تو انہوں نے لعنت بھی نہ بھیجی..بنگلہ دیش کو لسان پرست سیکولرزم پر مبنی بھارتی اور روسی پروپیگنڈہ لے ڈوبا..اور وہ اسلام کو بھلا بیٹھے …ایسا بہت آسانی سے ہوتا ہے جب کھلا پیسہ اور چند مقامی لیڈر مل جائیں جنھیں خود ایک نئے ملک کا سربراہ بننے کا شوق ہو ….بہت سا قصور ہمارا بھی تھا لیکن علیحدگی تک کبھی نوبت نہ آتی اگر بھارت و روس پورا زور نہ لگا دیتے …دو قومی نظریہ تب بھی ناکام نہیں بلکہ مزید پختہ ہو جاتا ہے چونکہ علیحدہ ہو کر بھی بنگالی بھارت کا حصہ بننے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں …سو، دو قومی نظریہ ادھر بھی زندہ ہے !…بنگلہ دیشی ذلالت کی مثال سامنے ہے کہ کیسے دو دو سو ریال پر خلیج میں غلامی سے بدتر زندگی پر راضی ہیں اور کراچی سے یوں غیر قانونی پکڑے جاتے ہیں جیسے کوئی یورپ سے ..

Avatar
ثاقب چوہدری
ثاقب چوہدری سعودی جامعہ میں عشرہ بھر تدریس کے بعد اب کینیڈا میں ایک لیموزین فلیٹ ، تدریس ، اور متعدد موضوعات پر خامہ فرسائی میں خود کو مصروف رکھتے ہیں......

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”پاکستان ،اقبال کا جھوٹا خواب اور باچا خان و ابوالکلام آزاد

  1. اب پاکستان کے وجود کے خلاف ہونا اور 1947میں پاکستان بننے کے خلاف ہونا دو الگ الگ پہلو ہیں۔ ۔
    یہ سراسر نا انصافی ہو گی کہ جو سیاسی راہنما یا علماء کی کثیر تعداد بشمول اس وقت کے زیادہ تر مسلمان (جن میں بہت سارے  آج پاکستان ہندوستان یا بنگلہ دیش میں ہیں) مجموعی طور پر پاکستان کے قیام کو  مستقبل میں اس خطے کے مسلمانوں کی بحثیت امت مسلمہ کمزوری سے تشبیع دے رہے تھے (نتائج آپکے سامنے ہیں) انکو آج پاکستان یا اسلام کا غدار کہا جائے ۔ ۔
    بلکہ پرکھنے اور جاننے کی بات یہ ہے کہ آج کون پاکستان سے غداری کا مرتکب ہے کس نے بار بار آئین پاکستان کو پامال کیا ، اور کس سیاسی گٹھ جوڑ نے تب انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اور جب پاکستان بنتے دیکھا تو مرداروں کی طرح نوزائیدہ ریاست پر ٹوٹ پڑے اور آج ستر سال حکمرانی کے بعد پاکستان کا انگ انگ نوچ کھایا اور بدلے میں اپنی ساری جائیدادیں پاکستان سے باہر بنائیں۔ ۔ ۔
    اور دوسری طرف خاص طور پر پاکستان سے محبت کے حوالے سے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اسلام پسند ہونے کے باوجود ڈنکے کی چوٹ پر اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کے قیام کے خلاف تھا (حقائق سے قطع نظر) اور اس پر وہ طبقہ ستر سال سے غداری کی گالی سن رہا ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی اور پھر بھی وہ لوگ ملک پاکستان کی حفاظت اپنے تن من دھن سے کر رہے ہیں ۔ ۔
    بلکل اسی طرح کہ ایک بار مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں پاکستان کو ایک مسجد سے تشبیع دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ایک مسجد کی طرح ہے جس کے بننے پر اختلاف تو کیا جا سکتا ہے کہ ضرورت ہے یا نہیں  لیکن جب بن جائے تواسکی حفاظت سب مسلمانوں پر فرض ہو جاتی ہے ۔ ۔!!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *