خودکلامی۔۔۔ انعام رانا

وسی بابا بہت اچھے اور معروف لکھاری ہیں۔ کئی بار تو سمجھ نہیں آتی کہ خود انکا وزن زیادہ ہے یا انکی تحریر کا۔ مزاح کی پڑی میں تلخ بات کو لپیٹ دینا انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، اگر اس ہاتھ میں کھانے کیلئیے کچھ پکڑا نا ہو تو۔ فیض صاحب کے بارے میں ممتاز مفتی کا کہنا تھا کہ افسوس ایک بڑا شاعر کمیونسٹوں نے یرغمال بنا کر سمجھو ضائع کر دیا ورنہ موجود سے بہتر کام کرتا۔ نا وسی فیض ہے اور نا میں مفتی، سو ایسا کچھ کیوں کہوں؟ دیر ہوئی ہم دوست سے انجان بن چکے مگر اب بھی اسے سی فرسٹ پہ رکھا ہوا ہے۔ سویرے باتھ روم جانے سے قبل تین چیزیں میرے لئیے سمجھئیے فطرت ثانیہ بن گئی ہیں؛ کافی، سگریٹ اور وسی بابا کی تحریر۔ کافی اور سگریٹ تو چلو سمجھ آتا ہے، مگر وسی بابا کی تحریر کی ضرورت ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔
خیر وسی بابا کہتے ہیں کہ
“الیکشن جیتنے کے لیے سیاسی مخالف کی جان نہیں درکار ہوتی۔ نہ اسے جیل بھجوانا ضروری ہوتا۔ ایسے سارے کام تو مخالف کو مظلوم بناتے ہیں۔ ووٹر کا غصہ طوفان کی طرح سب بہا لے جاتا ہے۔ اگر نہیں سمجھ آتی تو آج بھی ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کے نعروں پر جیالوں کی دھمالیں دیکھ لیں”۔

بس پڑھا تو سوچ ادھر ادھر آوارہ گردی کرنے لگی۔ خود کے سامنے سوال رکھا کہ نواز شریف کی کرپشن یا کمزور لیڈرشپ سامنے کی بات ہے مگر لوگوں کی اک بڑی تعداد اس کے باوجود کیوں جڑی ہے؟ آپ سب ہی کو بکے ہوے، مفادات کے اسیر یا جاہل سپورٹر تو نہیں کہہ سکتے۔ ویسے بھی یہ سب ہر سیاسی جماعت کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ خودکلامی کی اس کیفیت میں جانا کہ لوگ ری ایکشن میں ہیں۔
اس ملک کی عوام کو کبھی اپنا لیڈر خود چننے نہیں دیا گیا ورنہ شاید وہ بہت سے لوگ لیڈر ہی نا بنتے جو پاکستانی سیاست کا اہم کردار بنے۔ بھٹو کی مثال لیجئیے، شاید پاکستانی سیاست کا اس سے بڑا دیوتا کوئی نہیں ملے گا۔ لیکن بھٹو لیڈر کیسے بنا؟ سکندر مرزا کے کچن میں روز مرغیاں بھیجتا نوجوان بھٹو، وزیر بنا دیا جاتا ہے، ایوب خان کو ڈیڈی کہہ کر انکے ناک کا بال بن جاتا ہے۔ پھر جب “کرمفرماوں” کو ایوب بوجھ لگنے لگتا ہے تو ارسٹوکریٹ بھٹو کو “عوامی کر دیا جاتا ہے”۔ بلاشبہ بھٹو صاحب کی ذہانت اور محنت کا اعتراف نا کرنا ممکن ہی نہیں، لیکن کرمفرماوں کے ہاتھ کا انکار بھی تو ممکن نہیں۔ اب بھٹو مجیب کے مقابل ایک “بارگین چِپ” ہے مگر بازی پلٹ جاتی ہے۔ وزیراعظم بھٹو ہمیں ہر گزرتے سال کے ساتھ ناکام ہوتا ہوا نظر آتا ہے مگر کرمفرماوں کو اب بھٹو بوجھ لگنے لگا ہے، سو تخت سے تختے کا سفر طے کرا دیا جاتا ہے۔ آپ پولیٹیکل سائنس کے کسی بھی طالب علم سے پوچھیئے، بھٹو صاحب شاید اگلا الیکشن جیت نہیں پاتے، مگر انکی موت انکو اساطیری کردار بنا گئی۔ عوام کو موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ خود بھٹو کو سیاسی موت دیتے اور عدالتی قتل کے انتقام میں عوام نے بھٹو کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔
نواز شریف کی سیاست میں آمد اک شرمناک تاریخ ہے۔ ایک سیاست کی الف ب سے ناواقف شخص آمر کی پسند محض پر وزیر بنا، وزیراعلی بنا۔ بے نظیر کے مقابل بارگین چپ پیدا کی گئی اور وہ وزیراعظم بنا۔ لیکن جیسے ہی عوام نے اسے لیڈر سمجھنا شروع کیا، اسے کٹ ٹو سائز کر دیا گیا۔ نواز شریف کا تازہ ترین اقتدار ایک ناکام ترین اقتدار تھا۔ چار سال بطور وزیراعظم انکی کارکردگی مایوس کن تھی، عوام میں مقبولیت کم ہو چلی تھی، سیاسی وراثت کے جھگڑے جنم لے رہے تھے اور نواز شریف ہر وقت مایوسی والا منہ بنا کر خاموش خاموش سے نظر آتے تھے۔ مگر نجانے کس عقل مند نے “کرمفرماوں” کو کوئی نئی راہ سجھا دی۔ جسکی آواز نہیں نکلتی تھی اب وہ ہر جگہ “مجھے کیوں نکالا؟” سنا رہا ہے اور ترکش کے تیر خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ اگر کہیں کہ احتساب ہونا چاہیے تو بالکل ہونا چاہیے، لیکن اسکی انداز اور ٹائمنگ اتنی بدتر نہیں ہونی چاہیے کہ مجرم مظلوم بن جائے۔ شاید عوام بھی اس بار تل گئی ہے کہ لیڈر لاؤ بے شک تم، نکالیں گے بس ہم۔ پنجاب پہلی بار کرمفرماوں کے مخالف کھڑا ہے۔ کچھ لوگ نواز مخالف ہیں مگر اسکو جمہوری جدوجہد کا استعارہ بنا کر ساتھ دے رہے ہیں۔ حالانکہ جسکا وہ ساتھ دے رہے ہیں، مناسب سودا ہوتے ہی وہ سب سے پہلے انکا انتظام کرے گا۔
میرے وطن کی، اسکے عوام کی بدقسمتی ہے کہ نا یہ اپنے لیڈر بناتی ہے اور نا انکو سیاسی موت دے پاتی ہے۔ کبھی بھٹو، کبھی نواز، کبھی افتخار چوہدری اور کبھی عمران؛ کرمفرماوں کی کرم فرمائی ہوتی ہے تو لیڈر بن جاتے ہیں۔ اور جب عوام انکے انتخاب یا انکو مسترد کرنے کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہے تو کوئی جرنیل، کوئی جج یہ اختیار اپنے ہاتھ لے لیتا ہے۔ جو کل بھٹو سے ہوئی ، اب نواز سے ہو رہی ہے، کل یہ ہی عمران سے بھی ہو گی۔ ہمیں ایک شخص کی جنگ لڑنے کے بجائے یہ سوچنا ہو گا کہ ایسا سسٹم کیسے لایا جائے جو ہمارے لیڈر ہم میں سے پیدا کرے اور ہمیں انکے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی دے۔ کسی اور کے بجائے، خود اپنی جنگ لڑئیے کہ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خودکلامی۔۔۔ انعام رانا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *