شام اور پاکستان۔۔قمر نقیب خان

بشار الاسد حافظ الاسد کا بیٹا ہے. حافظ الاسد 1971 میں شام کا صدر بنا اور تقریباً تیس سال تک حکومت کرتا رہا. مرتے ہوئے اپنے چھوٹے بیٹے بشار الاسد کو صدر بنا گیا، کیونکہ بڑا بیٹا 1994 میں ایک کار حادثے میں مر گیا تھا.

بشار الاسد دمشق میں پیدا ہوا، میڈیکل کی ڈگری لی اور شامی فوج میں ڈاکٹر بھرتی ہو گیا. چار سال بعد سپیشلائزیشن کورس کرنے لندن چلا گیا. بڑے بیٹے کے مرنے کے بعد حافظ الاسد نے چھوٹے بیٹے بشار الاسد کو لندن سے واپس بلایا اور دوبارہ شامی فوج میں بھرتی کر دیا. بیٹے کو میجر، کرنل، برگیڈیر، جرنیل بنانے کے لیے بہت سے لوگوں کو پیچھے کیا، اور بشار الاسد کو شامی فوج کا چیف بنا دیا.

حافظ الاسد کے مرنے کے ایک مہینے بعد جولائی 2000 میں بشار الاسد نے جعلی الیکشن اور جعلی ریفرنڈم کروائے اور7.99فیصد  ووٹ لے کر سات سال کے لئے صدر بن گیا.

سنہ 2007 میں بشار الاسد نے دوبارہ الیکشن کروائے اور6.97 فیصد ووٹ لے کر ایک بار پھر صدر منتخب ہوا.

16 جولائی 2014 کو دوبارہ الیکشن اور ریفرنڈم ہوئے، بشار الاسد7.88 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوا اور اگلے سات سال کے لئے پھر منتخب ہو گیا.

یوں یہ خاندان پچھلے اڑتالیس سال سے اقتدار کو چمٹا ہوا ہے. بشار الاسد سُنیوں کو مار رہا ہے، سنی یمن میں شیعوں کو مار رہے ہیں۔ عراق میں پہلے سنیوں کو مارا جاتا رہا اور اب سنی شیعوں کو مار رہے ہیں۔ مزار شریف میں شیعوں کا قتل عام کیا گیا تھا اور شیعوں نے حلب میں سنیوں کا قتل عام کیا۔ یوں مسلمان ہی مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی لگ بھگ یہی  صورتحال حال ہے، بلکہ بشار الاسد کے ووٹوں کا تناسب دیکھ کر تو مجھے پرویز مشرف کا ریفرنڈم یاد آ گیا. سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں ن لیگ اقتدار کو جونک کی طرح چپکے ہوئے ہیں. پاکستان کا خون چوس کر غیر ملکی بینکوں، سرے محلوں اور لندن فلیٹس بھر لیے ہیں اور اب ہڈیوں کا گودہ نکال رہے ہیں. ان دو پارٹیوں کے بعد آرمی کا نمبر آتا ہے جو ہر سال پاکستان کا آدھے سے زیادہ بجٹ کھا جاتی ہے. چوتھے نمبر پر مذہبی اشرافیہ ہے جو سادہ لوح عوام کو گدھا بنائے رکھنے  کی  حتی الوسع کوشش کرتی ہے اور ان کی جیبوں سے زکوٰۃ، خیرات، صدقات اور فطرۃ کے نام پر اپنا حصہ بٹورتے ہیں.

آمریت اور جمہوریت کے چیمپئنز کو چاہیے کہ شام کے حالات سے کچھ سیکھیں.

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”شام اور پاکستان۔۔قمر نقیب خان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *