سوال ضروری ہیں : رویش کمار

(رویش کمار این ڈی ٹی وی کے بیباک صحافی ہیں، ملکی سیاست پر سوال اٹھاتے ہیں زیرِ نظر تحریر ان کی ہندی تحریر کا ترجمہ ہے : ایڈیٹر )

A must read write-up!
رویش کمار کی تازہ تحریر کا اردو ترجمہ:
میرے عزیز ناظرین و قارئین،کچھ توسمجھو اس کھیل کو، یہ آپ کے خلاف ہے

آئے دن کوئی نا کوئی سیاستداں یا دستوری منصب پر فائز شخص، اپنے ٹھونگے سے مونگ پھلی کی طرح الٹ کر، یہ مشورہ بانٹنے لگتا ہے کہ ایسے معاملوں میں سیاست نہیں ہونی چاہئے.ہم کنفیوژ ہیں کہ وہ کون سے “ایسے معاملے” ہیں جن پہ سیاست نہیں ہوسکتی ہے. مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج چوہان نے یہ بات کہی ہے.خود دستوری عہدے پر فایز رہتے ہوئے ملزم کو خطرناک دہشت گرد بتا کر ٹوئٹ کر رہے ہیں،کیا یہ سیاست نہیں ہے؟ کیا یہ ان ہی “ایسے معاملوں” پر سیاست نہیں ہے، جن پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ باقی لوگوں کو دے رہے ہیں؟ وزیر اعلی کو اتنا تو پتہ ہوگا کہ جب تک الزام ثابت نہیں ہوتے تب تک کسی کو دہشت گرد نہیں کہا جانا چاہئے.لیکن وہ کھل کر دہشت گرد لکھ رہے ہیں. اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مارے گئے لوگ بے قصور ہیں،لیکن سزا عدالت دے گی یا ٹوئٹر پر وزیر اعلی دیں گے؟ کیا اس ملک میں سکھوں کو،مسلمانوں کو اور بڑی تعداد میں ہندؤں کو انکاؤنٹر میں نہیں مارا گیا ہے؟ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ سبھی پارٹیوں کی حکومتوں نے یہ کام کیا ہے؟ اگر انکاؤنٹر پر شبہ نہیں کیا جا سکتا تو سپریم کورٹ نے گائڈ لائن کیوں بنائی ہے؟کیا وزیر اعلی کو سپریم کورٹ کا احترام نہیں کرنا چاہئے؟

انکاؤنٹر عدالت کی نگاہ میں ایک مشکوک و مشتبہ عمل ہے.ایک نہیں،سیکڑوں مثالیں دے سکتا ہوں. ویسے بھی اس معاملے میں کسی ریاست کا وزیر اعلی کیسے بغیر ثابت ہوئے(کسی کو) خطرناک دہشت گرد لکھ سکتا ہے.کیا ہمارے سیاست داں اپنے اوپر لگے الزامات کو بغیر(عدالتی) فیصلے یا جانچ کے قبول کرلیتے ہیں؟ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اپنی پارٹی کے سیاستدانوں سرکاری عہدے داروں پر ویاپم گھوٹالے کے تحت لگے الزامات بغیر عدالتی فیصلے کے قبول کرتے ہیں. جب ہمارے سیاست دانوں نے اپنے لئے کوئی مثالی پیمانہ نہیں بنایا تو دوسروں کے لئے کیسے طئے کر سکتے ہیں.

مدھیہ پردیش کے اینٹی ٹیرر اسکواڈ کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ فرار قیدیوں کے پاس بندوق نہیں تھی.تو پھر تصویروں میں کٹّے کہاں سے نظر آرہے ہیں.پھر آئی جی پولیس کس بنیاد پر تین دن سے کہہ رہے ہیں کہ قیدیوں نے جوابی فائرنگ کی۔سرپنچ کا بیان ہے کہ وہ پتھر چلارہے تھے. دو آئی.پی.ایس. افسروں کے بیان میں اتنا فرق ہے،کیا ان میں سے کوئی ایک افسر غدار ہے؟ دیش بھکت نہیں ہے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک آئی پی ایس اُن قیدیوں سے ہمدردی رکھتا ہے؟کیا ہم اس سطح تک آنے والے ہیں؟ (جب) رما شنکر یادو کو مار کر امرود کی لکڑی اور تیس چادروں سے (قیدی) سیڑھی بنا رہے تھے، اس وقت جیل انتظامیہ کیا کر رہا تھا.کیا سپاہی لوگ بھی لکڑی لانے چلے گئے تھے؟ کیا یہ سوال نہ پوچھا جائے؟

یہ بات سب سے خطرناک سیاست ہے کہ سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ دہلی میں ایک سابق فوجی نے خودکشی کی۔ پھر وہی بات کہ سیاست نہیں ہونی چاہئے. تو کیا سیاست بند ہوجانی چاہئے.؟ اس (بات) کو لے کر آپ قارئین بالکل بھرم میں نہ رہیں کہ یہ بات شیوراج سنگھ چوہان یا بی.جے.پی. کے ہی لیڈر اور منتری کہتے ہیں. آپ گوگل کر لیں تو آپ کو اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس کے منتریوں کا بھی یہی بیان ملے گا. موجودہ غیر بی.جے.پی.(ریاستی) حکومتوں کے منتریوں کا بھی یہی بیان ملے گا. اُن کے دور میں بھی ایسے معاملوں میں دھکا مکی ملے گی.سوال یہی ہے کہ تب اُن کے اور اب اِن کے درمیان کیا بدلا؟ کیا بدلاؤ محض اقتدار پر قبضے کے لئے ہوتا ہے؟ اس قبضے کو بنائے رکھنے کے لئے ہوتا ہے؟ شہید ہیمراج کے گھر کتنا تانتا لگا تھا.کیا وہاں یہ سیاست داں تعزیت کرنے گئے تھے؟ کیا وہ سیاست نہیں تھی.کیا وہ غلط سیاست تھی؟ آج بھی شھید ہیمراج کے افراد خانہ کی تمام شکایتیں (برقرار) ہیں.وہاں جانے والے سیاسی افراد میں سے کوئی دوبارہ گیا؟ تو پھر رام کشن گریوال کے خاندان سے ملنے کی بات سیاست کیسے ہے؟ کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایک.نائب وزیر اعلی کو آٹھ گھنٹے (تک) حراست میں لے لیا جائے، راہل گاندھی کو تھانے تھانے گھمایا جائے، اوپر سے گریوال کے بیٹوں کے ساتھ جو پولیس نے کیا وہ کیا تھا.؟ کیا سیاسی لیڈروں سے بیٹوں کو نہ ملنے دینا،سیاست نہیں ہے؟ایسے معاملے تو دیش کے ہوتے ہیں، تو سرکار کے منتری کیوں نہیں گئے رام کشن کے خاندان سے ملنے؟ کیا اس ملک کے سایستدانوں نے فوجیوں کی شہادت کو پارٹیوں میں بانٹ لیا ہے؟

در اصل آپ قارئین کو یہ کھیل سمجھنا ہوگا. ہرسیاسی پارٹی کے اندر سیاست ختم ہوگئی ہے. کسی پارٹی میں داخلی جمہوریت (باقی) نہیں رہی۔ پارٹیوں کے اندر جمہوریت ختم کرنے کے بعد اب ان کی نظر ملک کے اندر جمہوریت کو ختم کرنے کی ہے. اس لئے سیاست نہیں کرنے کا لیکچر جھاڑنے والے سیاست دانوں کی باڑھ آگئی ہے. اتر پردیش میں دہشت گردی کے جھوٹے معاملات میں پھنسائے گئے شہریوں کے حقوق کی مانگ کو لے کر رہائی منچ نے مظاہرہ کیا. آپ معلوم کیجئے کہ رہائی منچ کے راجیو یادو کو پولس نے کس قدر مارا ہے. وہاں تو بی.جے.پی بھی اس مسئلے پر چپ ہے اور بی.جے.پی کی سرکار پر سوال اٹھانے والے بھی چپ ہیں. یوپی ہو یا دلّی یا مدھیہ پردیش، کہیں بھی سوال کرنے والوں کی خیر نہیں ہے. الگ الگ اداروں کے صحافیوں سے ملتا رہتا ہوں،سبھی ڈرے ہوئے لگتے ہیں. نہیں سر! لائن کے خلاف نہیں لکھ سکتے مگر اصلی کہانی یہ ہے. صحیح بات ہے،کتنے صحافی استعفی دے سکتے ہیں، استعفی تو آخری حل نہیں ہے. کیا ہماری جمہوریت اتنی کھوکھلی ہوگئی ہے کہ وہ دس پچاس ایسے صحافیوں کا سامنا نہیں کر سکتی جو سوال کرتے ہیں.کیوں مجھ سے آدھی عمر کا نوجوان صحافی مشورہ دیتا ہے کی آپ کی فکر ہوتی ہے، کوئی نوکری نہیں دے گا. کیوں وہ اپنی نوکری کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ کچھ لکھ دیں گے تو نوکری جائے گی. اس بھرم میں مت رہئے کہ یہ دلّی کی بات ہے، ہر ریاست کے صحافیوں سے یہی سن رہا ہوں.

آپ قارئین و ناظرین اتنا تو سمجھئے کہ کسی بھی سیاستداں یا پارٹی کو پسند کرنا آپ کی اپنی سیاسی سمجھ کا معاملہ ہے. آپ بالکل پسند کیجئے مگر کسی نیتا کا فَین (پرستار) مت بنئے گا. عوام اور فَین میں فرق ہوتا ہے. فَین اپنے اسٹار کی بکواس فلم بھی اپنے پیسے سے دیکھتا ہے، عوام وہ ہوتی ہے جو اپنے سیاست دانوں کی بکواس نہیں جھیلتی. سوالوں سے ہی اپ کا اپنے سیاسی فیصلوں کے تئیں بھروسہ بڑھتا ہے. یہ تبھی ہوگا جب عام صحافی خوفزدہ نہیں ہوگا. اگر سیاستداں اس طرح سوال کرنے پر حملہ کریں گے تو میری ایک بات لکھ کر پرس میں رکھ لیجئے، یہی سیاستداں ایک دن آپ پر لاٹھی برسائی‍ں گے اور کہیں گے دیکھو ہم نے سوال کرنے والے دو کوڑی کے صحافیوں کو سیٹ کر دیا، اب تم زیادہ اچھل کودمچاؤ مت.

ایسا ہوگا نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا، مایوس ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے. پھر بھی صحافیوں کے اندر موجود خوف کے اس ماحول کو ختم کرنے کی ذمہ داری عوام کی بھی ہے. جب وہ اقتدار کو بدل سکتی ہے تو پریس کے اندر گھس رہے اقتدار کو بھی ٹھیک کر سکتی ہے. اس لئے آپ کسی کے شائق ہوں،سوال کیجئے کہ یہ کیا اخبار ہے، یہ کیا چینل ہے، ان میں خبروں کی جگہ مدح سرائی کیوں ہے؟ ہر خبر خوشامد کی چاشنی میں کیوں پیش کی جارہی ہے، اس میں سوال کیوں نہیں ہے، سوال پوچھنا کب ملک کے خلاف اور جمہوریت کے خلاف ہوگیا؟

کیوں ہر دوسرا آدمی میڈیا کی آزادی پر بات کر رہا ہے. آپ قارئین اور ناظرین جو مہینوں سے لے کر اب تو گھنٹوں گھنٹوں کے (انٹرنیٹ) ڈیٹا کے پیسے ادا کر رہے ہیں، پتہ تو کیجئے کہ حقیقت کیا ہے؟ ہماری آزادی آپ کی آزادی کی پہلی شرط ہے.تین دن سے انٹرنیشنل کال کے ذریعے فون کر کے کئی لوگ بھدّی گالیاں دے رہے ہیں، اگر آپ نے اپنی سیاسی عقیدت مندی کی وجہ سے اِن کا بچاؤ کیا تو ایسے لوگوں کے پاس آپ کا بھی فون نمبر ہوگا، آپ کی بھی باری آئے گی. رام ناتھ گوینکا تقریب تقسیم اعزازات کے اختتامی خطاب میں انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر راج کنول جھا نے وزیر اعظم کے سامنے ہی ایک قصہ سنا دیا. ایک بار اخبار کے بانی اور مجاہد آزادی رامناتھ گوینکا جی سے کسی وزیر اعلی نے کہہ دیا کہ آپ کا رپورٹر اچھا کام کر رہا ہے، گوینکا جی نے اسے نوکری سے نکال دیا، آج ایسے صحافیوں کو سرکار انعام دیتی ہے. تحفظ عطا کرتی ہے. آپ قارئین کو سوچنا چاہئے، کل صبح جب اخبار دیکھئے گا، چینل کی ہیڈلائن دیکھئے گا، تو سوچئے گا، اور ہاں، کہئے گا کہ ایسے سبھی معاملوں میں سیاست ہونی چاہئے. کیونکہ سیاست جمہوریت کی روح ہے، جمہوریت کی دشمن نہیں ہے. ہماری آواز چلی گئی تو آپ کی حلق سے پانی بھی نہیں اترے گا.
( ترجمہ: سعود فیروز اعظمی)

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *