جنگلی جمہوریت، جنگلی اور شکاری…معاذ بن محمود

SHOPPING

دو شکاری شکار کی نیت سے جنگل کا رخ کرتے ہیں۔ شکار ابھی ڈھونڈ ہی رہے ہوتے ہیں کہ جنگلیوں کا ایک گروہ شکار ڈھونڈتا ان کے قریب آ نکلتا ہے۔ ایک شکاری درخت پہ چڑھنا جانتا ہے سو درخت پر چڑھ کر خود کو بچا لیتا ہے جبکہ دوسرا جنگلیوں کے رحم و کرم پر ہی رہ جاتا ہے۔ جنگلیوں کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں البتہ سفید فام انسانی “شکار” کو دیکھ کر ان کی جنسی رگ پھڑک اٹھتی ہے جس کے بعد کئی گھنٹے زمین پہ رہ جانے والا شکاری دکھ ہی دکھ سہتا ہے۔ جنگلی اپنی بھوک مٹا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اگلے دن پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ درخت پہ چڑھنے کا گر جاننے والا شکاری اوپر، دوسرا نیچے۔ سلسلہ پورے سات دن جاری رہتا ہے۔ آٹھویں دن درخت پہ چڑھنا جاننے والے شکاری کو رحم آجاتا ہے۔ وہ اپنے ساتھی شکاری کو بھی درخت پہ چڑھنا سکھا دیتا ہے اور یوں سات دن سے زیادتی کا شکار بننے والا شکاری آٹھویں دن درخت پر چڑھ کر رب کا شکر ادا کرتا ہے کہ جان چھوٹی۔ شام کو پھر سے جنگلی آتے ہیں، مگر اس بار اپنی زبان میں بات کرنے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ سات دن سے وہ زمین پہ پڑے شکاری کا شکار کر رہے ہیں، آج درخت والے کو پکڑیں گے۔ راوی اس کے بعد خاموشی لکھتا ہے۔

پاکستان بننے سے لے کر اب تک ہماری پارلیمان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔ آمر ریاست کو جنگل مان کر کھلے سانڈ کی طرح گھومتا پھرتا ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جرنیل پارلیمان کے ساتھ جنگلیوں والی زیادتی کرتے ہیں۔ پارلیمان کے اپنے لوگ اس زیادتی کے سہولت کار بنتے ہیں۔ ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوتا ہے۔ کبھی یحیی خان تو کبھی ایوب خان، کبھی ضیاء تو کبھی مشرف، جنگلی پارلیمان کے ساتھ کئی بار جبری زیادتی کرچکے ہیں۔ بار بار کا جبر سہہ کر جب سیاستدانوں کو ترس آیا اور انہوں نے اٹھاون ٹو بی کا طوق گلے سے نکال کر اپنے دفاع کی کوشش کی تو اب کی بار پتلی تماشہ کرنے والوں نے بھی اپنا طریقہ کار تبدیل کر ڈالا۔ افسوس که ہمیشہ کی طرح پارلیمان کے خلاف سازش کرنے والوں کو تقویت پارلیمان کے اندر سے میر جعفر و میر صادق ہی دیتے رہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اب کی بار پارلیمان کو آئینی طور پر بانجھ کرنے کے ٹیکے بھی لگوائے جا رہے ہیں۔ نظریہ ضرورت کا وہ مردہ جسے عدلیہ و پارلیمان نے مشترکہ طور پر سزائے موت دے ڈالی تھی، کی روح ایک نئے جسم کو فراہم کی جارہی ہے۔ ایک عالمی اصول ہے کہ پارلیمان اور فقط پارلیمان ہی نئی قانون سازی کر سکتی ہے۔ آئین کے ارتقاء کا یہ عمل عدلیہ کی جانب سے ایسے انجیکشن لگا کر روکا جارہا ہے جن پہ جلی حروف میں “عدلیہ سپریم ہے” درج ہے۔ فی الوقت ہم کسی شخصی بحث میں نہیں جاتے کہ کس نے کب اور کیوں قانون سازی میں غفلت برت کر ایسا ماحول بنانے کا موقع دیا، کیونکہ جوابی دلیل یہی ہے کہ جو سیاہ کردار آج نئی آئینی شقوں کو کالعدم قرار دے رہے ہیں کیا بعید ہے کہ وہ تب بھی ایسا نہ کرتے؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام میں ایسا کیا نقص که جس کی بدولت بظاہر ایک ادارہ بدنیتی پر مبنی فیصلوں کے ذریعے پارلیمان کو بانجھ کیے جارہا ہے جبکہ باقی ادارے یہ ہوتا دیکھ رہے ہیں؟

حاضر سروس جرنیلوں کے خلاف فورم حاضر سروس جرنیلوں پر ہی مبنی ہے۔ اسی لیے “The notification is rejected” والا چوکیدار اپنے کرم فرما آقاؤں کی مہربانی سے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہ کیا جاسکا۔ اسی لئے ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی اور پھر ہلاکت پہ آج تک کوئی سوال نہ ہوسکا۔ اسی لیے بھٹو کی پھانسی پہ مولوی مشتاق سے انصاف شہد کی مکھیوں کو کرنا پڑا۔ اسی لیے پی سی او ججز کے خلاف آئین سے غداری کی بابت آج تک سوال نہ ہوسکا۔ دوسری جانب جرنیل اور جج کی ملی بھگت کا نتیجہ کبھی سیاستدان کی موت پہ نکلتا ہے تو کبھی منتخب سیاسی حکومت کی برطرفی پہ۔

یہاں ایک اہم ترین سوال یہ اٹھتا ہے کہ جرنیل یا جج کی مبینہ بدنیتی کو کیسے روکا جائے۔ مثال کے طور پہ سیاستدان کی بدنیتی ماپنے کا آلہ سپریم کورٹ ایجاد کر چکی ہے جس کے تحت حال ہی میں ایک وزیراعظم کو بدنیت قرار دیا گیا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ڈارون تھوڑی سی تحقیق اور کرتا تو اس نتیجے پہ پہنچتا کہ بندر بننے سے پہلے بھی انسان سیاسی اختلافات کے لیے احتساب کا ہتھیار ہی استعمال کرتا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں ججوں کی نیت پہ سوال ضرور اٹھتے ہیں۔ کچھ دوست کہتے ہیں کہ حکومت کو اس بدنیتی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رابطہ کرنا چاہئے۔ ایسے سادہ لوح پیاروں کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان کی حد تک سپریم جوڈیشل کونسل میں یہی ججز بیٹھے ہیں۔ اب اگر یہ بابے بدنیت ہوچکے ہیں تو کیا کیا جاسکتا ہے؟ آپ آئینی ترمیم کریں گے جواباً یہ اسے کالعدم قرار دیتے رہیں گے۔ ایسے میں حکومت کے لیے بہترین طریقہ محاذ آرائی کے نتیجے میں سیاسی شہید بننا ہی ہوگا لیکن اس صورت میں پاکستان مزید دس سال پیچھے جا پہنچے گا۔ جو حالات چل رہے ہیں اس کے نتیجے میں ہمیں کتنے قدم پیچھے جانا پڑے گا یہ معلوم نہیں۔

SHOPPING

بہ الفاظ دیگر طاقت کا نشہ جب تم برقرار رہے گا، شکاری خود جنگلیوں کا شکار ہوتا رہے گا اور جنگلی اپنی ہوس یونہی وقتاً فوقتاً پوری کرتے رہیں گے۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے!

SHOPPING

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *