مشرق وسطی میں نئی جنگ کے خطرات

SHOPPING

کیا مشرق وسطی میں کسی نئی جنگ کا آغاز ہونے والا ہے؟
یہ وہ خدشہ ہے جو بہت سے ذہنوں میں موجود ہے لیکن عالمی میڈیا اس موضوع کو براہ راست مخاطب کرنے سے گریزاں ہے۔ لیکن آپ کارپوریٹ میڈیا سے توقع بھی کیا کرسکتے ہیں؟ سوائے اس کے کہ اہم موضوعات کو نظرانداز کرکے غیراہم پہ فوکس کرے؟
ہیلری کی انتخابات میں فتح کے بعد ایک یقینی جنگ کا خطرہ پھر سے سر پہ منڈلا رہا ہے، جس کا جنگوں کی ملکہ نے اشارہ بھی دے دیا۔ لیکن سوال ہے کہ آخر مشرق وسطی میں نئی جنگ کیوں ہو؟ آخر شام کی اتنی اہمیت کیا ہے؟ کیا یہ وہی بشار نہ تھا جس کی سربراہی میں ۲۰۰۷ تک عرب لیگ کے اجلاسات بھی ہوتے رہے اور قذافی دہاڑتا رہا، روس آخر بشار کو بچانے کے لیے کیوں جنگ میں کودا اور قذافی جیسے پرانے دوست کو القاعدہ کے ہاتھوں مرتا برداشت بھی کرلیا؟
ان تمام سوالوں کو سمجھنے کے لئے ۲۰۰۹ پہ نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یہ سال تھا جب قطر یورپ گیس پائپ لائن کا معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت گیس کی پائپ لائن قطر سے براستہ سعودیہ اور عراق و شام سے گزرتے ترکی تک پہنچنا تھی اور وہاں سے جنوبی یورپ کو گیس سپلائی ہوتی۔ یہ امریکی منصوبہ روس کی ترک سٹریم گیس لائن کا جواب تھا۔ اور اس کا متبادل منصوبہ تاکہ یورپ کا انرجی کے معاملہ میں روس پہ انحصار کم سے کم ہو بلکہ ختم ہوجائے۔ اس کے بعد ہی روس کا معاشی طور پہ گلاگھونٹا جاسکتا تھا ورنہ نہیں۔ شام اور ترکی سے فرار ممکن نہیں اس بارے میں کیونکہ مجوزہ لائن انہی ممالک سے ہو کے گزرنا تھی۔ تبھی عرب دنیا میں “عرب بہار” آئی اور عرب دنیا کو جمہوریت کے نام پہ نئے حکمرانوں کا مزہ چکھنے کو ملا تیونس سے چلنے والی یہ بہار شام پہ آکے خزاں میں صرف اس لئے تبدیل ہوئی کہ روس سے کوئی تزویراتی سودا نہیں کیا گیا تھا۔ ایسا ہی سودا جو بارک اوباما نے چین کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے معاملہ میں کرلیا تھا۔ لہذا روس کا میدان میں کودنا لازم تھا۔ اس کے بعد “مجبوراً ” امریکہ کو بھی القاعدہ کو شام میں جبتہ النصرہ اور عراق میں داعش کے نام سے اتارنا پڑا۔ اور کھیل زیادہ تلخ اور خطرناک ہوا۔ باقی کھیل سب دوستوں کو ویسے ہی یاد ہے کہ کس طرح حلب جل رہا ہے کے نعرے لگانے والے اب موصل کو جلتا دیکھ کے خاموش رہیں گے؟
یا ایردوان اپنی پالیسی سے یکدم کیوں یو ٹرن لینے پہ مجبور ہوا؟ فوجی بغاوت ایرداون کے یوٹرن کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ اس کی وجہ تھی یہ فرق ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
سیاسی نظریات کی جذباتی شدت کی وجہ سے بہت سے اہم زمینی حقائق نظرانداز کردیے جاتے ہیں۔ مثلاً کیوں القاعدہ/جبتہ النصرہ کی حمایت میں اسرائیل شام کے گولان کے علاقہ میں بمباری کرتا رہا؟ یا کیسے امریکی بمبار طیارے داعش پہ بمباری کے بہانے داعش اور کردوں کو اسلحہ اور اشیائے ضروریات فراہم کرتے رہے؟ یہ سب جان بوجھ کے نظرانداز ہوا۔ بہرحال بات کو سمیٹتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ جب روس اس جنگ میں شامل ہوا تو اس نے براہ راست دہشتگردوں کے ٹھکانوں پہ واقعی حملے کرنے شروع کئے جس پہ داعش اور تمام گروہ پسپا ہونا شروع ہوئے۔
یہ سب ماضی تھا۔ اب ہم زمانہ حال کی طرف لوٹتے ہیں۔ لمحہ حال میں شام تو کیا ترکی بھی روس کے ساتھ گیا اس طرح قطر یورپ گیس پائپ لائن کی امید ختم ہوئی بلکہ اوبور، یعنی چین مغرب زمینی شاہراہ ریشم براستہ جنوب بھی ایک حقیقت بنتی نظر آرہی۔ ان حالات میں امریکہ کا بھڑکنا لازمی ہے۔ لیکن امریکہ کو درپیش چیلنج بھی اب گوناگوں ہیں۔ کیا وہ سی پیک کو انڈیا کی مدد سے روکیں( پاکستان کے اندر موجود قومیت پرست یا مذہبی سیاست امریکیوں کی مدد تو کرسکتی ہے، انڈیا کے توسط سے، لیکن زیادہ نہیں) اور کیا امریکی ماسکو اور چاہ بہار کے درمیان شمال جنوب کاریڈور کو روکیں؟ لیکن یہ تو روس، ایران اور آذربائیجان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ترک سٹریم نامی گیس پائپ لائن پہ پچھلے ماہ روس اور ترکی دستخط کر چکے ہیں۔
مسلسل ناکامیوں پہ امریکی برافروختگی سمجھ آتی ہے۔ مشرق وسطی میں ان کے اتحادی بھی تیل کم قیمت پہ فروخت کرتے اب تنگ آچُکے ہیں، سعودیہ مالی مشکلات کا شکار ہونے کے قریب ہے بلکہ ہوچکا ہے۔ قطرانڈیا گیس لائن کے راستہ میں پاکستان حائل ہوچکا ہے۔ پائپ پاکستان کی سمندری حدود سے گزرنا ہے جس پہ انڈیا تیار نہیں۔ اسی طرح پاکستان کی جمہوری حکومت نے قطر سے ایل این جی کا جو معاہدہ کیا تھا، اس پہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تیار نہیں۔ لیکن اس سب کے دوران امریکہ اس علاقہ میں ایک اہم کارڈ جیت چکا ہے اور وہ ہے آزاد کردستان کا۔
عراقی کرد علاقہ جو ساٹھ لاکھ آبادی پہ مشتمل ہے، اربیل جس کا دارالخلافہ ہے، وہ داعش کے آتے ہی آزاد ہوگیا تھا۔ جب بغداد کا اربیل سے زمینی رابطہ ٹوٹا تھا تو نکاحِ مسیار یا جہاد بالزنا کی اجازت کی طرح ایک اور فتوی بھی آیا تھا کہ عورت کے ہاتھوں مارے جانا والا جہادی واصلِ جنت کی بجائے واصل جہنم ہوگا۔ یہ سب داعش کے گوریلوں کو کردوں سے جنگ سے باز رکھنے کے لئے تھا۔ آج کی دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ عراقی اور شامی کردستان آزاد ممالک ہیں کردستان ایک نئی حقیقت اور نیا تناظر ہے مشرق وسطی کا جس کو عالمی میڈیا اپنے مفادات کی وجہ سے نظرانداز کررہا ہے حالانکہ اندر ہی اندر بہت کام ہوچکا ہے۔ عراقی کردستان کب کا آزاد ہو چکا تھا، ۲۰۰۵ کے امریکی نافذ شدہ عراقی آئین میں عراقی کردستان ایک علیحدہ فیڈرل باڈی تھی۔ داعش کی متوقع مدد کے ساتھ بغداد اور عراقی کردستان کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا اس کے بعد آزاد عراقی کردستان وجود میں آیا۔ یہاں ان فتاوی جات کا بھی شکریہ کہ جنہوں نے اس عمل میں کیمیائی مدد کی۔ مثلاً جہاں جہاد بالزنا کے فتووں سے داعش کے جہادیوں کو مدد ملی، وہاں کردستان کی زنانہ فوج کو اس فتوی سے مدد ملی کہ جو داعشی جہادی عورت فوجی کے ہاتھوں مارا جائے گا، اس کو جنت کی بجائے جہنم رسید کیا جائے گا۔ اس طرح شام کو جنوب کی سمت القاعدہ / جمیۃ النصرہ اور مشرق کی سمت داعش نے آن گھیرا۔ امریکی تو دہری کھیل کھیلتے رہے لیکن روس نے عین موقع پہ بازی پلٹ دی اور واقعی دہشت گردوں کو شکار کرنے لگا۔ آزاد کردستان کی حقیقت دیکھتے ہوئے ترکی بھی رائے پہ رجوع کرنے پہ مجبور ہوا۔ لیکن یہ سب تاریخ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کل کیسا ہوگا؟ جبکہ ترکی بھی مخالف کیمپ میں جا چکا اور پاکستان کا اعتبار نہیں کہ کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالے؟ تو مشرق وسطی کی جنگ کیسے لڑی جائے گی؟
ایک راستہ تو یہ ہے کہ چین، اور روس امریکہ کو محفوظ راستہ دے دیں پائپ لائنز کا، تب یہ لائنز شام کی بجائے اسرائیل سے بھی گزاری جاسکتی ہیں۔ لیکن اس صورت میں اسرائیل کو بے پناہ بدنامی اٹھانا پڑے گی اور تمام دنیا، عام عربوں کے خیال کی حامی ہوگی کہ اسرائیل امن کا دشمن ہے۔ دوسرا راستہ خلیج عقبہ کا ہے جہاں اسرائیل، سعودیہ اور مصر کی سرحدیں ملتی ہیں، اس ممکنہ راستے پہ اعتراض ممکن نہیں۔ سعودیہ اور اسرائیل کے حالیہ ایام میں بہتر ہوتے تعلقات اس بارہ میں ممکنہ تعاون کو مزید آسان بنا رہے ہیں۔ اس صورت میں عراقی اور اور شامی کردستان اس پلان کی محافظت کا کردار ادا کرے گا۔ اب تک کا موجودہ آزاد عراقی اور شامی کردستان پہاڑی علاقہ ہے جس کا دفاع آسان ہے اور اس کی فوجی مدد کی جاسکتی ہے۔ موصل کے گرتے ہی وہ بھی کرکوک کی طرح پکے ہوئے پھل کی طرح عراقی کردستان کی جھولی میں ہو گا، اس طرح کرکوک سے لیکر تمام اس علاقہ کے آئیل فیلڈز امریکہ کے قبضہ میں ہونگے اور سعودیہ کی مدد سی خلیج عقبہ میں تیل برآمد کیا جاسکے گا۔ ہیلری کے برسراقتدار آنے کے بعد لازماً انہی معاملات پہ روس اور امریکہ کی بحث ہوگی۔جہاں تک اندازہ ہے مغرب لازماً آزاد کردستان کی حمایت کرے گا اور روس بھی اعتراض نہ کرے گا، لیکن ایسا کوئی معاہدہ ترکی اور ایران میں خوف کی سرد لہر دوڑا دے گا کہ اگر ساٹھ لاکھ عراقی کرد اپنی ریاست بنا چکے تو ستر لاکھ ایرانی کردوں کا قصور کیا ہے؟
ہم کردستان کا موضوع مزید نہیں چھیڑتے کیونکہ یہ الگ موضوع ہے لیکن مشرق وسطی کے آنے والے حالات میں کردستان کا موضوع بہت اہم ہے کیونکہ امریکی چاہتے ہونگے کہ عراقی اور شامی کردستان ایک ملک بن سکیں۔
اس پہ روس اور چین کا ممکنہ ردعمل کیا ہوگا؟ اس سوال سے عالمی میڈیا بچ کے گزرنا چاہتا ہے لیکن ذیادہ وقت دستیاب نہیں۔

SHOPPING

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *