جمہوری ناستک قبول نہیں۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

نواز شریف کی نااہلی کی وجہ سے کچھ دوست ناراض لگ رہے ہیں. اُن کی ناراضگی کی وجہ بالکل درست ہے، سب عیاں ہے کہ فوجی اشرافیہ پاکستانی بحران میں اپنا حصہ محفوظ کرنا چاہتی ہے، لہذا اپنے مقابل سرمایہ دار نوازشریف کو ٹھکانے لگانے کے لیے عدالتی طاقت کو استعمال کر رہی ہے. تحریک انصاف چونکہ نوازشریف کی جگہ لینا چاہتی ہے لہذا یہ لوگ عدالت کی ببانگ دہل اور فوجی اشرافیہ کی غیراعلانیہ حمایت کر رہی ہے،یاد رکھنا چاہیے کہ یہی کردار آج سے پانچ سال قبل نوازشریف نے بھی ادا کیا تھا  جو گڑھا نوازشریف نے پیپلز پارٹی کے لیے کھودا تھا اُس میں خود آ گرا ہے، یاد رکھیے جلدبدیر تحریک انصاف بھی اِسی گڑھے میں گرے گی جو وہ نواز شریف کے لیے کھود رہی ہے. فوجی اشرافیہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، حتی کہ اپنے  ازلی دوستوں کو بےیار و مددگار کر دیتی ہے، جماعت اسلامی کو دیکھ لیں، اب نوازشریف کی حالت دیکھ لیں حالانکہ یہ بندہ اسٹیبلشمنٹ کا سب سے لاڈلا برخوردار تھا. اگر آج تحریکِ انصاف نے نواز شریف کے خلاف نوازشریف والا کردار ادا کیا تو یقیناً فوجی اشرافیہ بھی تحریکِ انصاف کو گلیوں میں اُڑتا ہوا لفافہ بنا دے گی. بلکہ نوازشریف کی نسبت اسٹیبلشمنٹ کے لیے عمران خان “صیدِ سہل” ثابت ہو گا.
عدلیہ اور سیاست کی تاریخ چوہدری نثاروں اور ثاقب نثاروں سے بھرپور ہے. عدلیہ “موجودہ حالات” میں جو روایتی انفصالِ مہتر کر سکتی تھی وہ کر چکی ہے. ثاقب نثار کی مثال اُس لونڈے کی ہے جو “استاد” کی پشت پناہی کے سبب بڑے بڑوں کو بیچ بازار مائل بہ گریہ کرنے پہ تُل جاتے ہیں. عدلیہ کر بھی کیا سکتی ہے؟ موجودہ نظام میں کمزور ترین، سستا ترین اور کرپٹ ترین لوگ یہی جج ہیں. مالیاتی کرپشن سے لیکر اخلاقی کرپشن کے گٹر میں ناک کے نتھنوں تک ڈوبے ہوئے یہ خانہ زادانِ عدل و انصاف اِس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ یہ اُن کا قصور نہیں، یہ اُن کی روایت ہے. یہ اُن کا جرم نہیں، یہ اُن کی حکمتِ عملی ہے. عدلیہ باؤلی نہیں کہ طاقتور کے مقابل نسبتاً کم طاقتور کا ساتھ دے. جب ہر چیز قابلِ خرید و فروخت ہے تو عادل کیوں اپنی قیمت وصول نہ کریں؟عادلوں کے کتفوں پہ کمانِ خاکی چڑھی، رنگ بھی نکھر گیا ہے.
نوازشریف کے پاس صرف ایک اہلیت ہے، بےپناہ سرمایہ!
ستم ظریف بھی خاکیوں کے خوف ایسا طاقتور ہے. اپنی دولت کے بل بوتے پر نواز شریف کے لیے مولِ صاأھیت کٹھن نہیں. ممکن ہے یہ بندہِ زَر اسٹیبلشمنٹ کے لیے طرارِ صعب و عدوِ خشم آلود ثابت ہو (جس کے امکان بہت کم ہیں). مگر میرا سوال اُن دوستوں سے ہے جن کا ذکر راقم نے سطرِ اولیں میں کیا تھا. وہ دوست جن کو آج “غیرفوجی” حقوق کا دورہ پڑ رہا ہے اُس وقت کہاں تھے جب گمشدگان کے لواحقین دربدر تھے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے خاکی مخالف کل تک حلیفِ خاکی کیوں تھے؟ خاکیوں کے رویے تو نہیں بدلے، پھر کیوں؟ ہم سے لوگ یہ امید کر رہے ہیں کہ ہم نوازشریف کی مہم میں اُن کا اِس لیے ساتھ دیں گے کہ “نوازشریف عوام کے جمہوری راج کی جنگ لڑ رہا ہے”. ہماری طرف سے آپ کو مکمل انکار ہے. آپ دوستوں کی عوامی رگ اُس وقت کیوں نہیں جاگی جب کراچی میں ایک نہتی عورت کو قتل کر دیا گیا اور اسی شہرِ “قائد” میں ایک صحافی کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا. آپ کی سویلین رگ اُس وقت کیوں نہیں جاگی جب چند خاکیوں نے موٹروے پولیس کو گریبانوں سے پکڑ رکھا تھا. آپ کی جمہوری رگ اُس وقت کیوں نہیں جاگی جب عورتیں ایک کٹھن لانگ مارچ لیکر شہرِ اقتدار کی جانب عازمِ سفر تھیں. آپ اُس وقت کہاں تھے جب پی آئی اے کے ملازمین کو سیدھا سینوں میں گولیاں ماری گئیں. آپ اُس وقت کہاں تھے جب لوگ اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے یہی نوازشریف اُن کو اُن کے منہ پہ گولیاں مار رہا تھا. ہمیں آپ کی جمہوری سیاسی اور عوامی منافقت کا ساتھ نہیں دینا.
نواز جیتے، عمران جیتے، ثاقب نثار جیتے یا پھر خاکی جیتیں۔۔ ہمارے لیے سب ایک سے ہیں. پوری جنگ میں عوام کہیں نہیں ہیں. طاقتوروں کا ایک دوسرے سے مقابلہ ہے. ایک سرمایہ دار کمزور ہو گا، دوسرا سرمایہ دار کامیاب ہو گا. ایک ظالم جائے گا دوسرا آ جائے گا.
ہاں آئیے سرمایہ داری کے خلاف نعرہ لگائیے، ہم آپ کو لیڈر مان لیں گے. آپ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت اور آزاد منڈی کی معیشت کے خلاف نعرہ لگائیے ہم آپ کو راہنما مان لیں گے!

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *