صرف دو آپشنز ہیں۔۔طارق احمد

ملک میں ستر سال سے جاری خاکی و سول برتری کی کشمکش ایک نئے فیز میں داخل ہو گئی  ہے۔ اور اس وقت مسلم لیگ ن کے پاس صرف دو ہی  آپشنز بچے  ہیں۔ ایک سیدھا کھلا ٹکراؤ ۔ اس کی شکل کچھ ایسے ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے۔ اور لاکھ دو لاکھ افراد پارلیمنٹ کے ارد گرد دھرنا دے کر بیٹھ جائیں۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں عدلیہ کے حوالے سے آئینی ترامیم کی جائیں۔ اور ان پر فوری طور پر عمل کر دیا جائے۔ عوام کا اجتماع اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو کسی ردعمل سے روک رکھے گا۔ یہ صرف عوامی طاقت ہی ہے۔ جو اس کشمکش میں سول برتری بحال کر سکتی ہے۔ اور پارلیمنٹ کو قوت مہیا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر پارلیمنٹ اپنے طور پر کوئی قدم اٹھائے  گی  تو اس کا حال وہی ہو گا  جو ابھی پارٹی صدارت کے فیصلے سے ہوا  ہے ۔

یاد رہے ستر سال کی ہسٹری نے پارلیمنٹ کو بہت کمزور کر دیا ہے۔ جو لوگ اس کی ذمہ داری پارلیمنٹیرینز پر ڈالتے ہیں۔ وہ بوجہ ایسا کرتے ہیں۔ یہ لوگ یا تو بنیادی طور پر غیر جمہوری ہیں  یا پاکستان کی سیاسی تاریخ سے ناواقف ہیں، یا سیاسی شعور سے عاری ہیں۔ سیاسی مخالفین ہیں  اور یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہرکارے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہی ہے  کہ پاکستان کا سول و جمہوری سیٹ اپ بہت کمزور ہے۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ بہت طاقتور ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ کی یہ طاقت عدلیہ ، میڈیا ، ان کے حمایتی سیاستدان اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بے بہا بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب سیاستدان اور سول سوسائٹی باہمی طور پر تقسیم ہے ۔ آج بھی یہ سمجھا جاتا ہے، سیاست میں کامیابی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ پکڑنا بہت ضروری ہے۔ بھٹو نے یہ ہاتھ پکڑا تھا۔ نواز شریف اسی راستے سے سیاست میں داخل ہوا تھا۔ اور اب عمران خان بھی ایمپائر کی انگلی پکڑ کر چل رہا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ نہ صرف طاقتور ہے، منظم ہے،یکسو ہے  اور متحدہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ظالم بھی بہت ہے۔ انتہائی بے مروت ہے۔ اور اپنے مفاد اور اپنی طاقت اور اپنے ہولڈ کو قائم رکھنے کے لیے کوئی کام بھی کر گزرتی ہے، یہ اتنی ظالم ہے۔ لیاقت علی خان اور بے نظیر اور اکبر بگٹی کو قتل کروا دیتی ہے، بھٹو کو پھانسی لگا دیتی ہے، نواز شریف کو جیل میں ڈال دیتی ہے، جلاوطن کر دیتی ہے، نااہل کروا دیتی ہے۔ اپنے ہی لائے ہوئے وزراء اعظم جونیجو اور جمالی کو نکال دیتی ہے۔ ایسا کرتے وقت اسٹیبلشمنٹ یہ نہیں سوچتی۔ لیاقت علی خان پاکستان بنانے میں شامل تھا، بگٹی گوادر بندرگاہ حاصل کرنے میں شامل تھا۔ بھٹو نے ایٹم بم بنایا تھا۔ پاکستان کو پہلا آئین دیا تھا۔ بے نظیر میزائل ٹیکنالوجی لائی  تھی۔ یا نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ اور ملک کو معاشی ترقی کے راستے پر ڈالا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتی، جمہوری قدقنیں لگانے یا اکثریتی پارٹی کو اقتدار نہ دینے کا نتیجہ پاکستان ٹوٹنے کی شکل میں نکلا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے بابو فوری طور پر وہ کرتے ہیں جو ان کے سامنے ہوتا ہے۔ دو چار سال آگے جا کر سوچنے کی صلاحیت ان میں مفقود ہے۔ یہ بڈھا پیر کا ہوائی  اڈا امریکہ کو دے دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے روس کا ردعمل کیا ہو گا۔ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کر دیتے ہیں اور بھارت کے ساتھ جنگ کی تیاری نہیں کرتے۔ تزویراتی گہرائی کے تحت طالبان بنا لیتے ہیں اور امریکہ کی لڑائی لڑتے ہیں۔ اور آج جنرل باجوہ کہتے ہیں۔ وہ ہماری غلطی تھی۔ آج خود روس کو گرم پانیوں تک آنے کی آفر کر رھے ہیں۔ کارگل پر جا بیٹھتے ہیں، اور یہ نہیں سوچتے کہ دنیا کا ردعمل کیا ہو گا۔ کتنا نقصان ہو گا۔

طاقت کے ساتھ جب عارضی نوعیت کے فیصلے اور مفادات جڑ جائیں۔ تو وہ خطرناک ہوتے ہیں۔ نقصان دہ ہوتے ہیں۔اس طاقت اور عارضی فیصلوں کا ایک ہی ہدف ہے۔ ملک پر ہر صورت میں خاکی برتری قائم رکھنی ہے۔ اور سول سپریمیسی کو پنپنے نہیں دینا اسے تسلیم نہیں کرنا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو سکیورٹی اسٹیٹ بنایا گیا۔ اسے ویلفیئر ریاست بننے سے روکا گیا۔ عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ  ہم  آپ کے محافظ ہیں۔ سیاستدانوں اور جمہوریت کے خلاف مسلسل پراپیگنڈا کیا گیا۔ اور اس کے باوجود اگر کوئی لیڈر پاپولر ہوا۔ اسے جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا۔ ایسے صحافی ، دانشور ، پریشر گروپس اور سیاستدان پالے گئے  جو ججوں اور جرنیلوں کا دفاع کرتے ہیں۔ اپنی عقل و دانش سے ان کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہیں اور معتوب سیاستدانوں میں کیڑے نکالتے ہیں اور کیڑے ڈالتے ہیں۔

ستر سال کی برتری نے اسٹیبلشمنٹ کو اقتدار و اختیار کا عادی بنا دیا ہے۔ جسے چھوڑنے کو وہ تیار نہیں۔ اگر کسی نے اسٹیبلشمنٹ کی سائیکی سمجھنا ہو تو وہ وزیراعظم ظفراللہ خان جمالی کو یاد کر لے جو کہتا رہا جنرل مشرف میرے باس ہیں۔ ہمارے جنرل واقعتا خود کو باس سمجھتے ہیں  اور آئرنی یہ ہے کہ  ان کے مائنڈ سیٹ کی ٹریننگ ہی یہ ہوئی  ہے کہ وہ محب وطن ہیں، منظم ہیں،عقل مند ہیں  اور مسیحا ہیں۔

طاقت اور طویل تاریخ اور طالع آزمائی اور مفادات اور اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرانا حماقت ہے۔ جیسا میں نے پہلے کہا۔ یہ بہت ظالم ہیں اور کج فہم ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی برتری ختم کرنے اور سول سپریمیسی قائم کرنے کے لیے ایک پروسیس کا چلنا ضروری ہے  اور خوش قسمتی سے یہ پروسیس چل رہا ہے  اور یہی دوسری آپشن ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پہلے مارشل لاء لگا کر براہ راست حکومت پر قبضہ کر لیتی تھی۔ پھر پاور شیئرنگ کا دور آیا۔ پھر کنٹرولڈ ڈیموکریسی کا زمانہ آیا۔ پہلے حکومت الٹا دی جاتی تھی۔ اب کیانی ڈاکٹرائن چل رہی۔ پہلے سامنے آ کر کھیلتے تھے۔ اب عدلیہ کی آڑ میں کھیل رہے ۔ تو تبدیلی تو آ رہی، پارلیمنٹ نے 58 ٹو بی ختم کر دی۔ اٹھارویں ترمیم پاس کر دی۔ آئندہ  ججوں کا بندوبست بھی ہو  جائے گا۔ منتخب  وزیراعظم کو استثناء بھی مل جائے گا۔ پہلے پنجاب چھوٹے صوبوں کے خلاف ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ اب پنجاب ان کے خلاف اٹھ رہا۔ بیداری اور شعور بڑھ رہا، لوگ بےباک اور بہادر ہو رہے۔ سوشل میڈیا اپنا کام کر رہا، جج سیاسی فیصلے دے رہے  اور پھر یہی جج وضاحتیں دے رہے۔ ووٹ کی طاقت اپنا اثر دکھا رہی۔ موجودہ کشمکش زحمت میں رحمت ثابت ہو گی۔ ارتقاء کا عمل انقلاب سے بہتر اور احسن ہے۔لوگوں میں اتنا سیاسی شعور آ جائے گا  کہ سول سپریمیسی خود حاصل ہو  جائے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کی برتری کے دن کم ہوتے جا رہے ہیں۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *