مجھے آج پیار آیا ہے.

مجھے آج پیار آیا ہے.
مجھے آج پیار آیا ہے اور پہلی بار آیا ہے اور وہ بھی محترم جناب صدر پاکستان عزت مآب جناب ممنون حسین صاحب پر آیا ہے. ہم کتنی ناشکری قوم ہیں, ہمارے ٹی وی چینلز ہر وقت کرپشن کی کہانیاں سنا سنا کر, ہماری عدالتیں رنگ رنگ کے کیس سن سن کے, ہمارے سیاستدان ہمارے لیڈر ہمارے رہنما, کما ل ہے, آج تو مجھے اپنی عقل پہ ماتم کرنے کو جی چاہ رہا ہے, ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ میں ہی صدر پاکستان ہوتا, میں ہی وزیراعظم ہوتا, میرے پاس اختیار ہوتا, میرے پاس دولت ہوتی, ہم حقیقت پسند نہیں رہے. ہم نے حقیقت سے ناتا توڑ لیا ہے اور ہم خیالوں کی دنیا کے بادشاہ ہیں۔
آج سے پہلے یہ غلطی میں بھی کر رہا تھا مگر آئندہ ایسا نہیں کروں گا, گزشتہ روزصدر مملکت خبروں کی زینت رہے, میں نے ان کا نام عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سنا, پھر منفی جنرلزم کے توسط سے یہ بھی سنا کہ وہ میاں نوازشریف کی دہی بھلوں سے تواضع وغیرہ کرتے رہے, اور اس کے بعد تقریبا 3-4 سالوں سے میں نے انہیں ایک شریف, ایماندار, بزرگ اور اچھے آدمی کے ساتھ ساتھ قابل احترام بھی پایا ہے. کسی طرح کا کوئی سکینڈل نظر سے نہیں گزرا, کوئی کرپشن نظر سے نہیں گزری, کسی مجرے میں نہیں دیکھا, کہیں شراب پیتے نہیں دیکھا غرض کوئی عیب والی بات میری نظر سے نہیں گزری, تو میں جو یہ چاہتا ہوں کے ہمارے حکمران شریف لوگ ہوں وہ کرپشن نہ کرتے ہوں, وہ ماؤں بہنوں کے عزت کرنے والے ہوں, وہ چور ﮈاکو نہ ہوں, وہ ملک و قوم کے ساتھ وفا دار ہوں وغیرہ وغیرہ, تو پھر محترم ممنون حسین صاحب جیسے بندے پے ٹھٹھا مذاق کا کیا مطلب ? کچھ دوستوں کی ایسی پوسٹوں پر میں نے بھی بھدے اور مسخرے کمنٹس کیے جن کے لیے میں عزت مآب صدر پاکستان سے معافی کا طلب گار ہوں.
لیکن سوچ یہ رہا ہوں کہ ہم میں سے اکثریت کا رویہ ایسا کیوں ہے, کیا کوئی شریف آدمی اس ملک میں لطیفہ ہے ؟ مجھے سیاستدانوں, صحافیوں, جرنیلوں سمیت ججوں, وکلاء بیوروکریٹس سمیت عام تاجر تک کسی بھی شخص کی ایسیکریڈیبلٹی نظر نہیں آتی جیسی محترم صدر ممنون حسین صاحب کی ہے. تو پھر ہم کیوں ایک شریف آدمی کا مذاق اڑاتے ہیں, اللہ پاک نے انہیں اس قدر نوازا ہے کہ وہ ہمارے ملک کے سب سے عالی مرتبت عہدے پر فائز ہیں۔ وہی ملک جس کے ہم ترانے گاتے ہیں اور جس کے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں تو پھر اسی ملک کا ایک شریف آدمی ہم سے برداشت کیوں نہیں ہو رہا? اس لیے کے وہ حکومت کی ہر بات کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں, تو بھائی یہی ان کا آئینی کام ہے اور بس, آپ کے آئین نے جتنے اختیارات صدر کو دے رکھے ہیں اس پر وہ ایمان داری سے کام کر رہے ہیں تو میری تکلیف کی وجہ بے سبب ہے, عدالتیں جن کا کام فیصلے کرنا ہے جب وہ انصاف کے بجائے حکومتی احکامات پر عمل کرتی ہیں لیکن وہ پھر بھی باعزت رہتی ہیں, ہمارے رہنما جو بددیانتی پر اترے ہوئے ہیں وہ پھر بھی زندہ باد رہتے ہیں تو پھر صدر پاکستان کے منصب اور ممنون حسین صاحب جیسے شریف آدمی کی بے توقیری کیوں؟
میں نے آج اپنے سمیت صحافیوں, وکیلوں, سیاسی ورکروں سمیت عام آدمی کو یہ تمسخر اڑاتے دیکھا ہے تو مجھے صدر ممنون حسین سے محبت ہو گئی ہے اور میں آئندہ ان کا ہر قسم کا تقدس ملحوظ خاطر رکھوں گا۔

Avatar
اظہر الحسن
ایک نیم خواندہ سا مزدور آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *