تقدیر کا حقیقی مفہوم

تقدیر کیاہے ۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمارے ذہن کے دریچے پراکثر دستک دیتا ہے۔تقدیر کے متعلق بھی عمومی طور پر ہماری اکثریت فکری مغالطوں کی شکارہے۔مختلف شکوک وشبہات ذہن کے نہاں خانوں میں گونجتےہیں۔تقدیر کیاہے؟ اگر سب کچھ پہلے سے ہی لکھا لکھایاہے۔تو ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار کس طرح ہو گئے۔پھر اعمال کی سزا اور جزا کیسی؟ پھر جنت اور دوزخ کیا معنی رکھتی ہے؟ہمارا عمومی رویہ یہی ہے کہ ہم ایسے سوالات پر کم ہی غورو فکر کرتے ہیں ۔ان سوالات کو ذہن سے جھٹک دیتے ہیں یا پھر شیطانی وسوسہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ہمارے ہاں تقدیر کا مفہوم یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہماری زندگی کے اعمال پہلے سے طےشدہ ہیں ۔لہذا ہم اس میں اپنی مرضی اور اختیار استعمال کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ کاتب تقدیر نے پہلے سے ہی سب کچھ مرتب کر دیاہے ۔اس تفہیم کی وجہ سے ہماری زندگی ساکت اور جامد ہو چکی ہے۔یہی وہ غلط تفہیم ہے جو ہم نے اپنی کج فہمی کی بنیاد پر اپنے ذہن میں بٹھا رکھی ہے۔جس کے کارن ہماری آگے بڑھنے کی امنگ ختم ہو رہی ہے۔ہم جدوجہد کر کے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے سے قاصر ہو چکے ہیں اور اپنی تمام تر محرومیوں کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر نا امیدی اور یاسیت کا شکار ہو چکے ہیں ۔اپنی تمام صلاحیتوں کو زنگ آلود کر رہے ہیں ۔تقدیر کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کے لیے فقط تدبر کی ضرورت ہے ۔تقدیر کیا ہے ؟ اگر سب کچھ پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہےتو ہم اپنے اعمال کے کس طرح ذمہ دار ہیں؟ سزا اور جزا کیسی؟ پھر جنت اور دوزخ کیا معنی رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب ممتاز سکالر ڈاکٹر غلام مرتضی ملک صاحب نے ان الفاظ میں دیاہے ۔ان کا جواب اتنا جامع اور عام فہم ہے کہ سارے مغالطے یکسر ختم ہو جاتے ہیں ۔غلام مرتضی ملک فرماتے ہیں کہ” سچی بات ہے کہ اس سوال نے ان کو بھی مدتوں پریشان کیے رکھا کہ اگر اللہ تعالی نے سب کچھ پہلے سے ہی لکھ رکھا ہے اور ہماری زندگی کا مکمل شیڈول پہلے سے ہی لکھا لکھایا ہے تو میرا کیا قصور ہے؟ لکھنے والے کا قصور ہے۔۔بات تو خطرناک ہے، وہ فرماتے ہیں عربی زبان میں اک لفظ ہے۔علم اللہ ہی سابق یعنی اللہ تعالی کا علم جو اسے پہلے سے حاصل ہے۔ pre Atained knowledge of Allah. اللہ تعالی کو معلوم ہے کہ آج اتنے بجکر اتنے منٹ پر میں لیکچر دوں گا اتنے بجے فلاں شخص کو گالی دوں گا اور فلاں شخص کو تھپڑ رسید کروں گا ۔اللہ تعالی کے ہاں میرے تمام اعمال کا مکمل شیڈول موجود ہے کہ میں کل اپنی مرضی سے اپنے ارادے سے اپنی آزادی فکر اور آزادی عمل کو کا م میں لاتے ہوئے اپنی مرضی سے کوئی کام کروں گا ۔تو بھئی کام تو میں اپنی مرضی ارارے اور اختیار سے کر رہا ہوں مگر اتنی سی بات تو مانو کہ اللہ تعالی علم الغیوب ہے علیم بذات صدور ہے۔اللہ تعالی کو میرے دس سال بعد اور زندگی بھر اپنی مرضی ارادے اور اختیار سے آزادانہ اور خود مختارانہ کیے جانے والے تمام اعمال کا علم ہے۔اس نے اپنے ہاں لکھ رکھا ہے۔اس کو پوری کائنات کا نظام چلانا ہے اور اللہ کا علم صحیح ہے مگر اس کا یہ علم میری مرضی اور ارادے سے نہیں ٹکراتا ۔میں سب کچھ اپنی مرضی ارادے اور آزادی عمل اور اختیار سے کرتا ہوں ۔اور اللہ تعالی میرے ارادے سے ٹکراؤ کی کیفیت کو پیدا نہیں کرتا مگر اس کو میرے ارادے کا علم ہے۔اک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد مجھ پر تقدیر کا حقیقی مفہوم مکمل طور پر آشکار ہو گیا۔ایک دن وہ اپنے دفتر میں موجود تھے کہ ایک نجومی ان کے پاس آیا اور کہا میں آپ کی خدمت کے لیے آیا ہوں اور آپ کے مستقبل کی آگاہی دینا چاہتاہوں ۔انہوں نے پہلے تو انکار کیا کہ میں ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔اس نے کہا آپ مجھے چند منٹ دیں ۔اس نے ایک کاغذ میز پر رکھا اس میں چالیس خانے موجود تھے اور ان میں چالیس الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔قلم دوات کتاب برکھا بادل بارش پانی وغیرہ وغیرہ نجومی نے کہا آپ اپنی مرضی سے ان چالیس الفاظ میں سے کوئی بھی لفظ چن لیں یا الگ لکھ لیں۔خفیہ طور پر۔۔ یہ کہتے ہی اس نے کاغذ پر ایک لفظ لکھا اور کاغذ کو الٹا کر کے رکھ دیا۔میں نے پوچھا یہ کیا کیا تم نے؟ اس نے کہا یہ وہ لفظ جو آپ اپنی مرضی اورfree willسے چن کر لکھیں گے۔میں نے سوچ سوچ کر ان چالیس الفاظ میں سے ایک لفظ لکھا تو نجومی نے اپنا کاغذ سیدھا کر دیا میں حیران ہو گیا کہ یہ بالکل وہی لفظ تھا جو میں نے اپنی مرضی اور اختیار کو استعمال کرکے لکھا تھا ۔اس دن مجھے سمجھ آئی کہ اگر اک محدود علم رکھنے والا انسان میرا ارادہ میرا عمل جان سکتاہے تو رحمٰن کیوں نہیں جان سکتا۔اللہ تعالی نے میرے تمام اعمال جو میں نے آئندہ چل کر کرنے ہیں اپنے ہاں لکھ رکھے ہیں ۔اس کو انتظام کرنا ہے میرے رزق میری زندگی کا میری موت کا اس نے میرے متعلق تمام ڈیٹا جمع کر رکھا ہے مگر اس کے لکھے سے میری مرضی ختم نہیں ہوتی۔، میری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی ،میرا ارادہ میریfree willختم نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کہ ہم اعمال کرتے ہیں اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں ۔ہم خود اپنی مرضی اور ارادے سے سزا اور جزا والے اعمال کر تے ہیں ۔تقدیر کی حقیقی تفہیم کے ذریعے ہم اپنی زندگی کو یکسر تبدیل کر سکتےہیں ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *