کمیونسٹ مینی فیسٹو کی 170ویں سالگرہ۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

 پچھلے دنوں ایک دوست نے راہ انقلاب کی بنیادی دستاویز “کیمونسٹ مینی فیسٹو” متعلق دریافت کیا تو راقم نے ایک مختصر تعارف لکھ دیا. مگر ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اِس کتابچے بارے مفصل نوٹ لکھ مضمون کی شکل دے دی جائے. پہلی بار آج سے 170 سال قبل 1848ء کے اسی ماہ فروری میں ہی اِس کتابچے کو لندن سے شائع کیا گیا تھا.

جب فروری 1848ء میں اکثریتی یورپ عوامی بغاوت اور انقلاب کی زد میں آ گیا تو “کیمونسٹ لیگ” جو کہ تاریخ کی پہلی باقاعدہ مارکسی تنظیم تھی کی طرف سے کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے یہ کتابچہ لکھ کر شائع کیا تھا. یہ کتابچہ آج بھی دنیا کے سب سے بااثر سیاسی مسودات میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے.

یہ کتابچہ دراصل سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار اور سرمایہ دارانہ مسائل کی وجہ سے سماج میں موجود طبقاتی جدوجہد کا ایک تجزیاتی تناظر پیش کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کمیونزم کے ممکنہ مستقبل کے حوالے سے مختلف پیشن گوئیاں کرتا ہے.

“کیمونسٹ مینی فیسٹو” کو مارکس اور اینگلز کے سماجی، سیاسی اور معاشی نظریات کا نچوڑ کہا جا سکتا ہے. اِس کتابچے میں مصنفین نے مختصراً یہ بتانے کی سعی بھی کی ہے کہ کیونکر سوشلزم بالآخر سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ لے گا؟

کمیونسٹ مینی فیسٹو میں تمہید اور تین ابواب شامل کیے گئے ہیں. مصنفین نے تمہید میں یہ تاریخی الفاظ لکھے کہ “یورپ کے اوپر ایک بھوت منڈلا رہا ہے، کمیونزم کا بھوت. اس بھوت سے نجات حاصل کرنے کیلئے یورپ کی تمام طاقتوں نے مقدس اتحاد کر لیا ہے__ یہی وہ وقت ہے کہ سارے جہاں کے سامنے اپنے نظریات، مقاصد اور رجحانات کو پیش کرکے کمیونزم کے متعلق پھیلائی گئی خوفناک مگر بچگانہ باتوں کے جواب میں اپنی پارٹی کے باقاعدہ منشور پیش کیا جائے.”

پہلے باب کو “بورژوا اور پرولتاریہ” کا عنوان دیا گیا ہے. یہ باب تاریخ کے مادی تصور کو تفصیل سے بیان کرتا ہے. مصنفین نے بتایا کہ سرمایہ دارانہ سماج میں ہمیشہ سے ایک جابر اقلیت (بورژوا) ایک مظلوم اکثریت (پرولتاریہ) کا استحصال جاری رکھتے ہوئے اپنا تسلط قائم کرتی ہے جس کے نتیجے میں صنعتی محنت کش طبقے یعنی پرولتاریہ میں زرائع پیداوار کے مالکان یعنی بورژوا کے خلاف طبقاتی جدوجہد برپا کرنے کا شعور بیدار ہوتا ہے. یہ جدوجہد انقلاب کو جنم دیتی ہے جو طبقات کا خاتمہ کرتے ہوئے سماج کو بالکل نئے سرے سے تعمیر کرتا ہے.

مصنفین نے پہلے باب میں تصریحاً بتایا کہ کیسے بورژوا طبقہ صنعتی ترقی کے سبب پرولتاریہ کی قوتِ محنت کا استحصال کرتے ہوئے بےپناہ سرمایہ جمع کرکے سماج میں جاگیرداروں سے اعلٰی ترین مقام حاصل کر چکا ہے. لیکن مصنفین کی نظر میں بورژوا اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھود رہے ہیں، بالآخر پرولتاریہ کو اپنی قوت کا ادراک حاصل ہو گا اور وہ بورژوا سے اپنا اقتدار چھین لیں گے.

دوسرا باب جس میں محنت کش طبقے اور باشعور کمیونسٹوں کے باہمی تعلق کو بیان کیا گیا ہے کو “پرولتاریوں اور کمیونسٹوں” کا عنوان دیا گیا ہے. اِس باب میں مصنفین نے لکھا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی دیگر مزدور پارٹیوں کی مخالفت نہیں کرے گی مگر اُن کے برعکس سرحدوں میں مقید رہنے کی بجائے تمام دنیا کے پرولتاریہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرے گی.

اِس باب میں مصنفین نے اٹھائے جانے والے  کئی ایک مختلف اعتراضات کے مقابلے میں کمیونزم کا دفاع کیا ہے. خاص طور پر اِس مضحکہ خیز اعتراض پہ بحث کی گئی ہے کہ کمیونزم کے تحت لوگوں کو اُن کی مرضی پہ چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ چاہے تو کام کریں یا نہ کریں.

دوسرے باب کے آخر میں عبوری مطالبات بیان کیے گئے ہیں جن میں ٹیکس کے نظام میں بہتری، وراثت اور نجی ملکیت کے خاتمے، مفت سرکاری تعلیم، زرائع نقل و حمل اور  زرائع مواصلات کو قومیانا، قومی بینک کے ذریعے قرضوں کی مرکزیت، اشتراکی ملکیت کی توسیع وغیرہ شامل کیے گئے ہیں. مصنفین نے بتایا کہ ایسے مطالبات کے نفاذ سے ایک غیرریاستی اور غیرطبقاتی سماجی نظام تعمیر ہو گا.

تیسرے باب کو “سوشلسٹ اور کمیونسٹ ادب” کا عنوان دیا گیا ہے. مذکورہ باب میں کمیونزم کو دیگر سوشلسٹ نظریات سے ممتاز دکھایا گیا ہے. اِس باب میں یوٹوپیائی سوشلزم، رجعتی سوشلزم، بورژوازی سوشلزم، قدامتی سوشلزم اور اصلاح پسندی کے مقبول نظریات کے مقابلے میں کمیونزم کا امتیاز بیان کیا گیا ہے. مصنفین نے بتایا کہ محنت کش طبقے کے بنیادی، کلیدی اور شعوری کردار کے بغیر حقیقی کامیابی ناممکن ہے.

اِس باب میں انیسویں صدی میں یورپی ممالک خصوصاً فرانس، سوئٹزرلینڈ، پولینڈ اور جرمنی کی عوامی مزاحمتی تحریکوں کا تناظر بھی پیش کیا گیا ہے. مصنفین نے اِن ممالک میں برپا عوامی تحریکوں کو زیرِبحث لاتے ہوئے یہ پشین گوئی بھی کی کہ دنیا بھر میں مزید ایسی تحریکیں پھوٹ پڑیں گی.

آخری پیراگراف بھی تاریخی الفاظ سے معمور ہے کہ:
“اپنے خیالات اور مقاصد کو چھپانا کمیونسٹ اپنی شام کے خلاف سمجھتے ہیں. وہ برملا اعلان کرتے ہیں کہ ان کا اصلی مقصد اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جبکہ موجودہ سماجی نظام کا تختہ بزور طاقت الٹ دیا جائے. حکمران طبقے کمیونسٹ انقلاب کے خوف سے کانپ رہے ہیں تو کانپیں. مزدوروں کو اپنی زنجیروں کے سوا کھونا ہی کیا ہے اور جیتنے کو ساری دنیا پڑی ہے. دنیا کے مزدورو، ایک ہو جاؤ!”یہ کتابچہ ولادیمیر لینن کے الفاظ میں “دنیا کے نئے منظر نامے پہ واضح اور شاندار ذہانت کا نمونہ ہے، اور مادیت پرستی کے تحت سماجی زندگی کے دائرے استوار کرتا ہے. ارتقاء کے سب سے زیادہ جامع اور گہرے نظریے “جدلیاتی مادیت” کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ طبقاتی جدوجہد اور پرولتاریہ کے عالمگیر تاریخی انقلابی کردار کی وضاحت بھی کرتا ہے.” کنگسٹن یونیورسٹی، لندن میں فلسفہ کے مشہور استاد پیٹر اُوسبورن نے کمیونسٹ مینی فیسٹو کی 150ویں سالگرہ پہ بجا طور پر لکھا تھا کہ “یہ انیسویں صدی میں لکھی گئی بااثر ترین کتاب ہے”.کمیونسٹ مینی فیسٹو میں پیش کی گئی تمام پشین گوئیاں سچ ثابت ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں. پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی عظیم “فتح” کے بعد پھیلنے والی عوامی بےچینی سب کے سامنے ہے جس کے متعلق کمیونسٹ مینی فیسٹو میں خاصی بحث کی گئی ہے. ٹیمپل یونیورسٹی کے مشہور محقق ڈاکٹر جان رینز کے الفاظ میں “آج جب کہ سرمایہ دارانہ انقلاب زمین کے کونے کونے تک پہنچ چکا ہے، پیسے نے دنیا کو عالمی منڈی اور ایک شاپنگ مال بنا دیا ہے. آج سے 150 سال پہلے لکھی گئی کمیونسٹ مینی فیسٹو کی کتاب پڑھ کر دیکھ لیں، مارکس نے یہ سب کچھ پہلے ہی بیان کر دیا تھا”.

آج کے دور میں کمیونسٹ مینی فیسٹو کے مطالعہ سے قطعی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ کتاب آج سے 170 سال قبل لکھی گئی تھی، سرمایہ دارانہ نظام کے گہرے بحرانوں کو سمجھنے میں اور اِن بحرانوں کو حل کرنے کے لائحہ عمل طے کرنے میں جتنی یہ کتاب مدد کرتی ہے شاید ہی کوئی دوسری کتاب کرے گی. سرمایہ دارانہ نظام کے ایک بحران کے بعد دوسرے بحرانوں کی پیدائش نے اِس کتاب کو مزید اہم بنا دیا ہے. یقیناً کمیونسٹ مینی فیسٹو راہ انقلاب کی بنیادی دستاویز ہے

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *