میں اور میرا اسلام۔۔۔ مبشر زیدی

 میرا سچے دل سے ایمان ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کا مطلب میں یہ سمجھا ہوں کہ فطرت کے خلاف جو شے ہے، وہ اسلام نہیں۔ چنانچہ میں فطرت کے خلاف عقائد اور مقدس ہستیوں کو سوپرمین قرار دینے والے قصے کہانیوں کو نہیں مانتا۔ ہرگز نہیں مانتا۔

میں نہیں مانتا کا مطلب ہے کہ میں نہیں مانتا۔ آپ مانیں، آپ کی مرضی۔ میں کوئی مبلغ نہیں کہ آپ کا مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کروں۔ مذہب اپنی شعوری کوشش سے بدلنا چاہیے، قلم یا خنجر کی نوک پر نہیں۔

tripako tours pakistan

میں نے چند دن پہلے لکھا کہ میں ہر اس مذہب کو ماننے سے انکار کرتا ہوں جس کا خدا اعمال کے بجائے عبادت کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ کسی ایک مذہب کو نہیں، ہر اس مذہب کو جو ایسا کرتا ہے۔ کوئی ہندو خفا نہیں ہوا۔ کسی مسیحی نے اعتراض نہیں کیا۔ کسی یہودی نے سوال نہیں اٹھایا۔ ایک خاص ذہن کے بونے اچھل پڑے۔

بجائے اس کے کہ لوگ کہتے، شکر الحمداللہ، ہمارا رب العالمین صرف عبادت پر فیصلہ نہیں کرتا، نیک اعمال ہی دیکھتا ہے، شور مچ گیا کہ خدا کی توہین ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں :  ہیں کواکب کچھ۔۔ رعائیت للہ فاروقی

میں سمجھتا ہوں کہ توہین غلط مطلب سمجھنے والوں نے کی کہ ان کا خدا اعمال کے بجائے اپنی عبادت پر فیصلے کرتا ہے، گویا خوشامد پسند ہے۔ اگرچہ میں ملحد نہیں ہوں، لیکن ملحدین کو ان کے خیالات کی آزادی دینے کا قائل ہوں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ملحد کے خیالات سے آپ کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ کیا ملحد کے کوئی جذبات نہیں؟ آپ کے خدا خدا کرنے سے اس کے جذبات مجروح نہیں ہوتے؟

ایک بار میں نے ایک ملحد دوست کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ اس سے پوچھا کہ کس خواہش کے تحت آج نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے؟ اس نے کہا، اس خواہش کے تحت کہ کاش خدا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اس ملحد کی خواہش بے شمار مذہب پرستوں کے ایمان سے زیادہ خدا کو محبوب ہوگی۔

اسلام قیامت تک کے لیے آخری دین ہے۔ اس بات کو سمجھیں کہ دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے۔ یہ چودہ سو سال پرانے دور میں کھڑی نہیں رہ سکتی۔ رسول پاکﷺ آج کے  دور میں تشریف لاتے تو اونٹ یا گھوڑے پر سوار نہ ہوتے۔ وہ بھی کار میں بیٹھتے، جہاز میں سفر کرتے۔ ملازمت کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ تو کیا آپ خواتین کو گھر سے نکلنے نہیں دیں گے؟ انھیں برابر کا انسان نہیں سمجھیں گے؟ کیا آپ مدرسوں میں فقط فرقہ پرستی کی تعلیم دیتے رہیں گے؟ کیا آپ جمہوریت کی جگہ خلافت لائیں گے؟ کیا آپ ریاست کے کچھ شہریوں کو اقلیت کہنے پر بضد رہیں گے؟ کیا واقعی آپ اونٹ پر بیٹھے رہنا چاہتے ہیں؟

ایک بات تواتر سے کہی جارہی ہے کہ مبشر صاحب پاکستان میں ایسے نہیں تھے۔ امریکہ  جاکر خیالات بدل گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  پاکستان کیخلاف عالمی پروپیگنڈہ۔۔۔طاہر یاسین طاہر

خیالات تو نہیں بدلے، اظہار میں کچھ توانائی ضرور آئی ہے۔ میں نے پاکستان میں دیکھا ہے کہ کچھ خواتین چادر لیتی ہیں۔ عمرہ کرنے جاتی ہیں تو خود کو برقعے میں لپیٹ لیتی ہیں۔ یورپ جاتی ہیں تو شرٹ اسکرٹ پہن لیتی ہیں۔ ہر معاشرے کے کچھ رسوم و رواج ہوتے ہیں، کچھ قوانین ہوتے ہیں۔ ہمیں رواج اور قانون کا احترام کرنا چاہیے۔ پاکستان گھٹن کا شکار معاشرہ ہے۔ امریکہ  میں اظہار رائے کی آزادی ہے۔ معاشرے کا فرق سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی سڑک پر رفتار کی حد چالیس میل فی گھنٹا ہوتی ہے، کسی شاہراہ پر سو میل۔ ایک شارع کا قانون دوسری پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

Advertisements
merkit.pk

اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں نے کوئی ریڈ سگنل توڑا ہے تو امریکہ  میں توڑا ہے۔ پاکستان میں کسی کو کیا پریشانی ہے؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply