توہین رسالت اور قتل کا جواز۔۔افراز اختر

‎توہین رسالت کے سلسلے میں کعب بن اشرف کا واقعہ ریفرینس کے طور پر لیا جاتا ہے اس واقعے کے متعلق کئی احادیث میں واضح کیا گیا ہے، روایت ہے کہ کعب بن اشرف مسلمانوں کے خلاف ایک سربراہ کے طور پر جنگ لڑ رہا تھا اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کی کوششیں کر رہا تھا۔
بدر الدین امام، حنفی  سکول کے ایک عالم لکھتے ہیں،‎في هذا كله أنه لم يقتلهم بمجرد سبهم وإنما كانوا عونا عليه ويجمعون من يحاربونه ويؤيده

‎ان روایات میں یہ دکھایا گیا ہے کہ وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے لئے محض ہلاک نہیں کیا گیا ہے. بے شک، وہ صرف اسلام دشمنوں کی ان کی امداد کی وجہ سے ہلاک کیا اور جنگ کے لئے ان کے ساتھ دینے اور ان کی حمایت کرنے پر قتل کیا گیا ۔ صیحیح بخاری شریف 34/413
کعب بن اشرف مسلمانوں کے خلاف انتشار پھیلانے کے لئے مشہور تھا اور ان کے خلاف تشدد پر لوگوں کو ابھارتا تھا اس کو قتل کرنا سیلف ڈیفنس کے لئے تھا نہ کہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے لئے ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ایسے قتل کی مذمت کی جس سے امن معاہدے یا سکیورٹی معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہو ۔

‎ابوہریرہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:

‎الإيمان قيد الفتك لا يفتك مؤمن”‎ایمان نے غدار ، مرتد کے   قتل روک دیا ہے. ایک مومن قتل نہیں کرتا”. سنن ابو داؤد 2769، گریڈ: صحیح

‎اصل میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی خود کے خلاف بدسلوکی کی کارروائیوں کا بدلہ نہیں لیا، لیکن اس کے بجائے صرف قانونی عمل کے ساتھ انصاف کا نفاذ کیا۔‎عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:‎وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه إلا أن تنتهك حرمة الله فينتقم لله بها”‎اللہ کے رسول نے خود کے خلاف کچھ بدلہ نہیں لیا، لیکن اگر کوئی اللہ کے مقدس قانون کی خلاف ورزی کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خاطر اس سے بدلہ لیا
.” صحیح بخاری 3367، متفق حدیث  علیہ!

‎پیغمبر اسلام کی زندگی میں بہت سے واقعات ہیں جس میں  آپ ﷺ  نے توہین ، مذاق اڑانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی طرف سے نقصان پہنچا نے پر بھی ،   صبر، تحمل، اور مغفرت کے ساتھ جواب دیا.

‎عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: یہودیوں کا ایک گروہ  نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے   کی اجازت طلب کی اور جب وہ آپ سے ملنے آئے تو انہوں نے کہا، ”
‎آپ پر اللہ موت طاری کرے .” میں نے ان سے کہا، “بلکہ موت اور اللہ کی لعنت ہو تم پر اور موت طاری ہو تم سب پر!” نبی امن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:

‎يا عائشة إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله”‎اے عائشہ، اللہ کی قسم اللہ مہربان ہے اور وہ تمام معاملات میں رحم دلی پسند کرتا ہے” صحیح بخاری 6528، متفق علیہ :

‎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تعلیمات لاگو کرنا چاہتے تھے جو توہین اور مذاق کے بدلے معافی ،تحمل اور برداشت کی تلقین کرتی ہیں ۔‎اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:‎خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين” بخشش دکھائیں نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کریں”‎سورہ اعراف 7: 199

‎اور اللہ نے فرمایا:‎وعباد الرحمن الذين يمشون على الأرض هونا وإذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما”‎رحمن کے بندے عاجزی سے زمین پر چلتے ہیں اور جب جاہل ان سختی سے پیش آتے ہیں تو وہ جواب میں امن کی تلقین کرتے ہیں.‎سورہ فرقان 25:63

‎اور اللہ نے فرمایا:‎وإذا سمعوا اللغو أعرضوا عنه وقالوا لنا أعمالنا ولكم أعمالكم سلام عليكم لا نبتغي الجاهلين”‎وہ جب برے الفاظ سنتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال ہیں اور تم کو تمہارے اعمال . ہم جہالت کی راہ کے طالب نہیں ہیں سلام ہو تم پر”.‎سورہ القصص 28:55

‎اور اللہ نے فرمایا:‎فاصبر على ما يقولون وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب”‎ان کی باتوں پر صبر کرنا اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف اور  پاکی بیان کرتے رہو”سورہ ق 50:39

‎اور اللہ نے فرمایا:‎واصبر على ما يقولون واهجرهم هجرا جميلا”‎ان کی باتوں پر صبر کرنا اور احسان سے بچنے کے ساتھ ان سے بچنے کے”.‎سورہ مزمل 73:10

‎توہین کا سامنا کرتے ہوئے صبر اور تحمل کی روایت نبی صلی اللہ علیہ نے صحابہ کو سکھائی۔‎ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ آپ خلیفہ تھے اس نے کہا اے ابن خطاب ! آپ نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ہمیں پورا حصہ نہیں دیا،عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور اس پر حملہ کرنے  لگے،۔‎

حر نے کہا :‎يا أمير المؤمنين إن الله تعالى قال لنبيه صلى الله عليه وسلم خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين وإن هذا من الجاهلين

اے امیر المومنین ، اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آپ بخشش دکھائیں ، اور نیکی کی تلقین کریں اور جاہل سے منہ پھیر لیں ۔ (7: 199)، اور بے شک، یہ شخص جاہل ہے.‎ صحیح بخاری 4366، گریڈ: صحیح

‎ابن عباس نے کہا، “اللہ کی قسم، عمر رضی اللہ عنہ ساکت ہو گئے جب اس آیت اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کی گئی،” وہ ہمیشہ اللہ کی کتاب پر سختی سے کاربند ‎ رہنے والے تھے “۔
‎لہذا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس لئے کہ کسی نے توہین کی ہو کسی کو قتل نہیں کیا، بلکہ اگر وہ مسلمانوں کے خلاف جنگی تیاری کا مظاہرہ کر رہا ہو یا اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہوا تو ہی اس کو قتل کیا گیا ۔

“اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اگر کسی کو اعتراض ہو تو صرف باتوں سے یا پاکستان کے قوانین کو گالیاں دے کر نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اس کے بعد کی روایت سے ضرور مجھے اس بات کا جواب دیں ۔
اور علماء سے گزارش ہے اگر میں غلط ہوں تو مجھے آپ گائیڈ ضرور کریں ۔

نوٹ: یہ تحریر کچھ عرصہ پہلے  مشال  کے قتل کے بعد  لکھی گئی تھی۔۔

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *