عجیب لوگوں کی عجیب عادتیں ۔۔اے وسیم خٹک

 ہر روز ہمارا واسطہ مختلف قسم کے لوگوں سے  پڑتا ہے ،جن میں سے کچھ  ذہن پراچھے نقش چھوڑ جاتے ہیں اور  کچھ برے ۔ ـ ان میں بہت عجیب قسم کے لوگ  بھی شامل ہوتے ہیں ـ جن کے رویوں سے کوفت  ہوتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ کبھی ان سے دوبارہ ملاقات نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔ ـ ایسے لوگوں کا پیمانہ جدا ہوتا ہے ـ اپنے لئے اچھی سوچ اور دوسروں کے لئے بری سوچ، ـ اپنے رشتہ داروں اور حلقہ احباب کے لئے اور اجنبیوں کے لئے ان کے رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ـ کچھ لوگ تو بڑے عجیب ہوتے ہیں اُن کی عادتیں اُن سے بھی زیادہ عجیب ہوتی ہیں ، وہ کبھی بھی اخبار کو نہیں پڑھیں گے مگر جب سفر کریں گے تو انگریزی اخبار ہاتھ میں  ہوگا۔ چائے کے شوقین ہو ں گے مگر محفل میں”میں چائے نہیں پیتا “کا راگ الاپنے لگتے ہیں ، اگر بوتل آفر کی جائے تو کچھ مشروب لازمی چھوڑیں گے،  ایسے لوگ جنہیں کوئی مس کال بھی نہیں  دیتا  مگر جب  دوران سفر گاڑی میں  خواتین کو دیکھیں گے تو  فون کان سے لگا کر بے تکی باتیں شروع کر دیں گے، گھر میں   جن کی با ت کوئی  نہیں سنتا ،وہ بھی  باہر سب کو مشورہ دینا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں ،ان کے سامنے آپ کچھ بھی بات کر یں کیڑا نکالنا ان کی عادت ہوگی بعض صاحبان اخبار سےخدا واسطے کا بیر رکھیں گے مگر جب آپ اخبار خریدیں گے تو مانگ کے پڑھنے بیٹھ جائیں گے۔۔۔

یہ بھی پڑھیں :   کرائے دیاں فوجاں۔۔منصور ندیم

بعض طالب علم جب گاڑی میں فون پر بات کریں گے تو اس میں میڈم کا اور اسائمنٹ کا ذکر ضرورکریں گے حالانکہ یہ طلباء کلاس میں نظر بھی نہیں آتے ہوں گے اور اسائمنٹ کی انہیں سپیلنگ بھی نہیں آتے  ہوں گے، مگر دھاک بٹھانے کے لئے حربے استعمال کریں گے ـ اور اگر گاڑی جنوبی اضلاع کی جانب جا رہی ہو تو آرمی چیک پوسٹ پر چیکنگ کے بعد 2 4 گالیاں ضرور دیں گے. ایسے لوگ منفرد نظرآنے کے لئے ہمیشہ دوسرا خیال پیش کریں گے ـ ،ملالہ یوسف زئی کے واقعے سمیت بہت سے واقعات ہیں جن میں ان صاحبان کی سوچ علیحدہ ہوگی، ـ سازشی تھیوریاں بنانے میں یہ ماہر ہوتے ہیں ـ اور ایسے  دلائل کے ساتھ بات کریں گے کہ خدا  کی پناہ، ـ یہ عجیب الخیال لوگ اپنی باتوں کو اور کام کو زیادہ وزن دیں گے جبکہ دوسرے کے کام کو ہونہہ کہہ کر گزریں گے ۔

 ـ یہ بیماری ہمارے صحافی اورشاعروں  ادیبوں  میں بھی بدرجہ اتم   موجود ہے۔ ـ اپنی شاعری اور لکھائی کو   بہترین گریڈ دیں گے جبکہ دوسروں کے لکھے کو بے دلی سے دیکھیں گے، ـ کچھ لوگ نئے کرنسی نوٹوں کو سنبھال کر رکھیں گے اور پرانے نوٹوں کا استعمال کریں گے ـ محفل میں کولڈ ڈرنک میں تھوڑا سا لازمی چھوڑیں گے ـ کھانے سے جلد اُٹھ جائیں گے کہ میں اتنا زیادہ نہیں کھاتا حالانکہ بھوک زوروں کی لگی ہوگی ـ ۔

اسی طرح خواتین کے سر سے دوپٹہ بار بار سرکے گا ، لیکن ایک چھوٹی سی پِن نہیں لگائیں گی ،ـ ایسے لوگ دفتر میں گھس کے پوچھیں گے “کیا میں آ جاؤں۔۔۔؟” اور بڑی بڑی آنکھوں اورسمجھ بوجھ کے بعد دروازے پر Pull دیکھنے کے باوجود Push کرنا لازمی  خیال کریں گے، کچھ لوگ (مرد حضرات)تو اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ وہ بس سٹاپ، ایئرپورٹس اور ہاسپٹلز وغیرہ پر مخصوس لیڈیز سیٹوں پر  براجمان ہوجاتے ہیں،جہاز، بس یا ٹرین میں کھڑکی کے لالچ میں کسی دوسرے کی سیٹ پر بیٹھ جانے کو اپنا حق سمجھیں گے ـ کبھی کبھار تو  آپ بڑے انہماک سے کوئی کام کر رہےہوں گے اور یہ صاحب آپ سے پوچھیں گے “بھائی صاحب! کیا کر رہے ہو۔۔۔؟”

یہ بھی پڑھیں :  پشتون شوہر (بیچارا)۔۔عارف خٹک

بڑے بڑے شاپنگ مال سے شاپنگ کرنے کے بعد ٹیکسی والے سے دس بیس روپے پر بحث اور جھگڑا کریں گے ـ ایسے بھی لوگ ہیں جن  کو  فون  کیا جائے تو   جواب آئے گا”ارے میں  آپ کو ہی یاد کر رہا تھا”ـ اور آپ کی کال آگئی ۔ـ کسی بیمار کی بیمار پرسی کرنے جاتے ہی اپنی بیماری کا راگ الاپنا یا وہی بیماری خود میں محسوس کرنا ایسے لوگوں کی عادتوں میں شامل ہوتا ہے ــمیرا تو دماغ تب خراب ہوتا ہے جب  آپ گاڑی میں بیٹھے ہوں  اور ساتھ والے کی نظر آپ کی   موبائل سکرین پر ہو اور جب آپ متوجہ ہوجائیں  ہڑ بڑا کر کہے  ‘بھائی صاحب وقت کیا ہوا ہے۔

ایسی ہی   بہت سی عجیب عادتیں آپ میں بھی  موجود ہوں گی، ایک دو  بتادیں ،تاکہ سند رہے!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عجیب لوگوں کی عجیب عادتیں ۔۔اے وسیم خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *