اشتہار برائے رشتہ ۔۔تصنیف حیدر

SHOPPING

پچھلے دنوں ہمارے ایک شفیق دوست نے کہا کہ ان کے ایک شناسا کو شادی کی شدید خواہش ہے، چنانچہ وہ ایک جگہ اپنا بائیو ڈیٹا بھجوانا چاہتے ہیں۔پہلے تو میں حیران ہوا کہ یہ بات مجھ سے کیوں کہی جارہی ہے، مگر بعد میں مجھے بتایا گیا کہ بائیو ڈیٹا اردو میں بھیجا جانا ہے کیونکہ موصوف کی متوقع سسرال ہندوستان کے شہر حیدر آباد میں ہے، جہاں کے مسلم بزرگ ہندی یا انگریزی کے مقابلے میں اردو کو ترجیح دیتے ہیں۔اگر اردو میں بائیو ڈیٹا بھیجا جائے تو ایک امپریشن یہ بھی پڑتا ہے کہ رشتہ بھیجنے والا اپنی زبان سے پیار میں راسخ و سچا ہے۔

چنانچہ میں نے بادل ناخواستہ بائیو ڈیٹا منگوا لیا۔میری سُستی کی وجہ سے اچھے خاصے  کاموں میں  بھی کئی دن لگ جاتے ہیں ، پھر یہ تو ایک بالکل غیر متعلقہ  کام تھا، چنانچہ تین چار ہفتے ٹال مٹول میں بیت گئے۔مگر پھر میں نے ایک دن ان کے مسلسل اصرار کی سیٹی سے چھٹکارا پانے کے لیے انگریزی والا بائیو ڈیٹا ڈاؤنلوڈ کیا اور اسے اردو میں منتقل کرنے کے لیے پلوتھی مار کر بیٹھ گیا۔پہلے ان کا نام تھا، اس کے بعد کچھ کاروباری تفصیلات،پھر ان کے والد، والدہ، دادا، دادی حتیٰ کہ نانا اور نانی کی شخصیات کا تعارف کرواکر اپنے خاندانی تفاخر کی ایک لمبی چوڑی فہرست تیار کی گئی تھی، اس کے بعد نمبر آیا تھا اس تفصیل کا جس میں موصوف نے لکھا تھا کہ انہیں کیسی دلہن چاہیے ۔حالانکہ میں نفسیات کا طالب علم نہیں، مگر اخباروں میں بھی رشتوں کے اشتہارات پر اگر کبھی نظر پڑجائے تو میں اسی ڈیمانڈ کو بڑے غور سے پڑھ کر اپنے معاشرے کی خواہشوں کو سمجھنے کی کوشش کیا کرتا تھا، لہٰذا میں نے اس تفصیل کو ذرا دلچسپی کے ساتھ ترجمہ کرنا شروع کیا۔لکھا تھا کہ۔۔نوشہ صاحب کو پڑھی لکھی، خوش مزاج اور روشن خیال دلہن چاہیے ،کیونکہ وہ اپنی فیملی کو تو سابقہ تفصیلات کے مطابق یہ سب کچھ ثابت ہی کرچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : امیدوار برائے رشتہ۔۔عارف اللہ خان مروت 

آگے ایک لفظ پر میری نظر ٹھہر گئی۔رنگ کے خانے میں محترم نے ‘فیئر’ لکھا تھا، جسے میری ناقص اردو ‘گورے رنگ’ کے طور پر ترجمہ کرنے کے لیے مجبور تھی،ترجمہ تو خیر میں نے کردیا، مگر یہ سوچتا رہا کہ انسانی رنگوں میں اور بھی کئی رنگ یعنی کہ گندمی، سانولا، کالا اور ہلکا گورا موجود ہوتے ہیں۔اور ذرا غور کیجیے تو کچھ چھپکلیوں کی مانند گلے میں سبز رنگ جھلکاتے نظر آئیں گے، کسی کی زبان بھگوا رنگ کی ہوگی، لوگ غصے سے لال بھی ہوجایا کرتے ہیں اور ڈر کے مارے زرد بھی۔کبھی مسلکوں اور عقیدوں کا نیلا رنگ انسان کی آنکھوں سے چھلکتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کا دکھ، خوف یا حیرت سے رنگ ہی اڑ جائے۔مگر اتنے سارے آپشن ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی شخص محض گورے پر اصرار کرے تو ہم کیا سمجھیں ، اور محترم خود کو  روشن خیال  بھی گردانتے ہیں، تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں اور ایسی ہی بیوی بھی انہیں مطلوب ہے۔

میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گورے رنگ کی لڑکی میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ سب اسی بے چاری کے پیچھے رشتوں کے لٹھ لے کر دوڑے جا رہے ہیں۔اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ مظلوم اکثر اوقات یہی لڑکی ہوتی ہے، جس کا رنگ اتفاق سے گورا ہو، کیونکہ وہ بازار نکاح کی سب سے مقدس اور بکاؤ پروڈکٹ بن جایا کرتی ہے۔اس کے لیے مہنگے مہنگے، سونے سے لدے پھندے اور بہتر رشتے آتے ہیں چنانچہ اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کے نام پر اکثر اس کے لیے راستوں اور ناطقوں کو بند کرنے کے بہت سے حیلے تراشے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  رشتہ نکاح میں عورت کا حق واختیار اور ہمارے معاشرتی رویے۔۔۔ عمار خان ناصر

میں اس بائیو ڈیٹا کے کھیل کو ابھی تک نہیں سمجھ پایا۔انسان ، انسان سے زیادہ ، اس کی فکر، اس کے دماغ، اس کے رہن سہن، اس کی عادات و اطوار کو سمجھنے کے لیے ایک کاغذ پر بھروسہ کیسے کرلیتا ہے۔ہمارے محلے میں خود ایسی بہت سی چلتی پھرتی خالائیں یا آپائیں ہیں جو میرج بیورو کے متبادل کے طور پر موجود ہیں،ان کے موبائل مختلف لڑکیوں کی تصاویر اور ان کی تفصیلات سے بھرے رہتے ہیں۔رشتہ تلاش کرنے والے لڑکوں کے گھروالے لڑکیوں کی تصاویر دیکھ کر بات آگے بڑھاتے ہیں۔اصل میں ایک مرحلہ نہیں ہے، دونوں طرف کے تکلفات کی فہرست لمبی ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص کی والدہ کو لڑکی پسند آگئی، مگر اس کی ذات چھوٹی ہے، چنانچہ بات تھم گئی، دوسری لڑکی پسند آگئی، مگر زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے، تیسری آگئی ، مگر رنگ کچھ اور کھلتا ہوا ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔یعنی کہ ایک لڑکی مکمل پیکج ہونی چاہیے، رنگ بھی اچھا ہو، ناک نقشہ بھی درست ہو،تعلیم یافتہ بھی ہو، نوکری بھی کرسکتی ہو اور گھر بھی سنبھالنے میں طاق ہو۔جب یہ مرحلے طے ہوجائیں گے تب لڑکی والوں کے سوالات کی بوچھاڑ  ہوگی۔لڑکا کتنا کماتا ہے؟ اس کی فیملی کتنی بڑی ہے؟ فیملی بیک گراؤنڈ کیسا ہے اور ان سب سوالوں کے تسلی بخش جواب پانے والے خاندان ایک فروعی اور ضمنی سوال بہت ہی تکلف اور مروت کے ساتھ کربیٹھتے ہیں کہ تصویر تو دکھائیے ، دولہے میاں دکھائی کیسے دیتے ہیں۔ہم بھی تو دیکھیں۔یعنی لڑکی کی پہلی کوالیفکیشن ، لڑکے کی سب سے آخری اور اضافی قابلیت ہے اور اگر لڑکا سماجی سند یافتہ شریف اور اچھی نوکری کررہا ہے تب تو یہ خاندان کا خاندان اس سوال کو چائے کے اس گھونٹ کی طرح جلدی سے نگل لیتا ہے، جس میں اوپر جمی ہوئی پتلی سی جھلی بھی شامل ہو۔

شادیاں لوگ کیوں کرتے ہیں، اس کا جواب تو میرے پاس نہیں۔البتہ وہ کیسے کرتے ہیں۔اس کا نہ صرف میرے پاس جواب ہے، بلکہ یہ ایک بے حد مضحکہ خیز سی صورت حال ہے۔جسے شریف لوگ مختلف تقریبات کی صورت میں اپنی دل بستگی کے لیے پیدا کرتے چلے آئے ہیں۔

تصور کیجیے کہ ان سارے مراحل کےبعد یعنی تصویر اور بائیو ڈیٹا کے پاس ہوجانے کی صورت میں آپ کی ملاقات لڑکی سے کروائی جارہی ہے۔اس منہ دکھائی کا طریقہ اتنا  مضحکہ خیز  ہوتا ہے کہ آپ اگر خود پر سے ‘تہذیب یافتہ’ ہونے کا لیبل ہٹادیں تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں۔خیر ، میں کہہ رہا تھا کہ تصور کیجیے کہ آ پ ایک بڑے سے کمرے میں بیٹھے ہیں۔ادھر آپ کے ماں باپ، بھائی ، بہن، اور ایجنٹ صاحبہ تشریف فرما ہیں دوسری طرف لڑکی کے گھر والوں کی طرف سےان کے ماں باپ اور دیگر رشتے دار جمع ہیں۔ایک عجیب سی منحوس خاموشی چاروں جانب موجود ہے۔بیچ میں مٹھائیاں، نمکین اشیا خوردو نوش  اور شربت کے گلاس ایک ٹرے میں بڑی شرافت کے ساتھ آپ کا منہ دیکھ رہے ہوں۔ پھر اس خاموشی  کو ایک بوڑھی آواز توڑتے ہوئے کہے۔’اسما بتارہی تھیں کہ آپ لوگ لکھنئو کے رہنے والے ہیں؟ ہمارے منو بھیا کا سسرال بھی وہیں ہے۔’ پھر منو بھیا ایک ذرا لجاتے ہوئے لکھنو میں اپنی سسرال کا بالکل غیر متعلقہ  پتہ بتائیں اور پھر ایک دوسرے کے تعلق سے محبت کے ساتھ تمام معلومات اکٹھی کرنے کے لیے آہستگی سے چھلکے اتارنے کا عمل شروع کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :  ضرورت رشتہ

میرا سوال یہ ہے کہ انسان سیدھی بات کیوں نہیں کرسکتا۔دو لوگوں کو شادی کرنی ہے،انہیں ملوائیے، کہیں بھی تنہائی میں، پھر انہیں اپنے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیجیے۔بغیر یہ اندیشہ پالے کہ وہ آپ کی مشفقانہ سرپرستی کے بغیر ایک دوسرے کو لے کر سیدھے بستر میں چلے جائیں گے۔ہماری زندگیوں میں سے بیشتر لوگ خوشی اور ناخوشی کے ساتھ اس تعلق کو ایسے لوگوں کے ذریعے قائم کرواتے ہیں، جو اپنی نہایت مایوس کن، بورنگ اور واہیات ازدواجی زندگی یا تو گزار رہے ہوں یا اس میں بے حد ناکام ہوں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایجنٹوں، خاندان والوں یا دوسرے احباب و رفقاء  کو اپنے قائم کروائے جانے والے رشتوں کے ناکام ہوجانے کا رتی برابر افسوس نہیں ہوتا۔وہ اپنی دانست میں مسلسل ایک کار خیر کرتے رہتے ہیں، اور دوسروں کی لٹیا ڈبوتے رہتے ہیں۔

میرا سارا اعتراض انسان کی بولی لگانے پر ہے۔کوئی کتنا کماتا ہے، کیسا دکھتا ہے، کہاں رہتا ہے وغیرہ وغیرہ تمام باتیں نہایت اوچھی ، بے وقوفانہ اور غیر ضروری ہیں۔ایک اچھی زندگی کی ضامن نہیں ہیں۔خیر اچھی زندگی کی ضمانت تو خود زندگی نہیں دیتی،مگر انسانوں کو اگر آپس میں تعلق بنانا ہے ، تو خواہ وہ جنسی ہویا غیر جنسی ، ان کے تعلقات کی بنیاد ان کی ذہنی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔اور یہ ذہنی ہم آہنگی ، منافقت بھرے ماحول میں ، مختلف رشتوں کی پند و نصیحت کے ساتھ زبردستی ٹھونس ٹھانس کر ثابت نہیں کی جاسکتی۔اس کے لیے دو لوگوں کو اپنی فکر، اپنے طور طریقوں، مختلف حالات اور معاملات پر اپنے اپنے رد عمل کو جاننا ہوتا ہے۔ایک بائیو ڈیٹا اور ہلکی پھلکی تحقیق، رشتے داروں کے بیچ کی گئی چند ملاقاتیں ، آپ کو یہ تو بتاسکتی ہیں کہ آپ جس شخص سے شادی کرنے جارہے ہیں، اس نے کھانے کمانے کا کیا بندوبست کیا ہے، اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کے کیا راستے پیدا کیے ہیں مگر اس سے آپ یہ کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ وہ شخص آپ کے اندرون کی کیفیات کو سمجھنے کا اہل ہے بھی یا نہیں۔اس شخص کی رفاقت،آپ کے لیے وبال جان بنے گی یا راحت دل۔ایک تکنیکی اعتبار سے تو شادیوں کا یہ نظام اب تک ہمارے سماج  میں بہت اہمیت رکھتا ہے، مگر ہم کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ اگر دو لوگوں کو ان کی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کی آزادی دی جائے تو جہیزسے لے کر کثرت اولاد تک کے مسائل پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکتا ہے۔شادیوں کے بعد کیے جانے والے جبراً  سیکس کو روکا جاسکتا ہے اور آئندہ نسلوں کے سامنے ایک بہتر مثال قائم کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  جس قوم کو چار نکاحوں کی اجازت ہو۔۔اسد مفتی

رشتوں کے اشتہارات کے تعلق سے عرض ہے کہ جب تک تصویروں اور کاغذوں کے ذریعے لوگوں کے تعلقات قائم کرنے یا کروانے کا چلن جاری رہے گا، تب تک رنگ و نسل، ذات پات اور منافقت کے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔لوگوں کے لیے شادی ، اب صرف ایک جنسی آسودگی کا معاملہ نہیں رہا ہے، بلکہ یہ ایک معاشی، قلبی اور سماجی درجات بلند کرنے کی سبیل بھی بنتا جارہا ہے۔ایسی شادی ، جس کی بنیاد میں کسی بھی قسم کی پسند و ناپسند ، دو لوگوں کے علاوہ باقی افراد کی خواہشات پر مبنی ہو، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔خواہ وہ دور سے دیکھنے پر کتنی ہی خوشحال اور فرحت بخش کیوں نہ دکھائی پڑتی ہو۔اول تو زندگی کسی ایک شخص کے ساتھ گزارنے کا تصور ہی سوال کے گھیرے میں ہے، دوسرے اگر اسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس زندگی کوبنانے اور بگاڑنے کی ذمہ داری ان ہاتھوں کو سونپنی  چاہیے، جو براہ راست اس معاملے سے وابستہ ہوں۔

SHOPPING

ایک انجان آدمی سے شادی کرنا، بہرحال ایک قسم کا جوا ہے اوریہ جوا ان لوگوں کو ہرگز نہیں کھیلنا چاہیے، جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آپ کی جانب سے کسی کو جاننا یا پہچاننا دوسرے شخص کے لیے ممکن نہیں ہے۔اور آپ کسی کو بھی اس کے ساتھ تنہائی اور محفل دونوں جگہ بھر پور وقت گزارے بغیر جان ہی نہیں سکتے۔چنانچہ بستر سے لے کر باہر تک، رشتوں کی پائیداری یا عدم استحکام کے بارے میں تب ہی فیصلہ لیا جاسکتا ہے، جب انہیں برت لیا جائے اور سمجھ لیا جائے۔’کیا ہم پر بھروسہ نہیں ہے’ جیسے پھسپھسے جذباتی جملوں کا دور بالکل ختم ہوجانا چاہیے اور رشتوں کی ایک ترقی یافتہ شکل ایجاد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔اس کے بغیر رشتے کے ایسے اشتہاروں سے چھٹکارا ناممکن ہے، جن میں گوری چٹی بیویوں یا سرکاری نوکری کرنے والے شوہروں کی ڈیمانڈ کرتے وقت لوگ ایک دفعہ بھی نہیں سوچتے۔

SHOPPING

سید تصنیف
سید تصنیف
تصنیف حیدر دلی میں مقیم شاعر، ادیب اور معروف بلاگر ہیں۔ آپ لمبے عرصے سے "ادبی دنیا" نامی بلاگ کے ذریعے اردو کی خدمت کرتے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *