آوارہ عورت۔۔مریم مجید/،قسط1

گیلی ریت پہ چلتے چلتے ہم جانے کتنی دور نکل آئے تھے کہ لوگوں کا شور، ہنگامہ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ سمندر کے اس کنارے پہ اکا دکا لوگ ہی تھے یا پھر لہروں کے ساتھ ساتھ اڑتے سمندری پرندے جو چھوٹی مچھلیاں پکڑتے یا لوگوں کے پھینکے گئے خوراک کے ٹکڑے چنتے تھے۔
“آو وہاں بیٹھتے ہیں ” اس نے ہاتھ کے اشارے سے کچھ دور پتھروں کے ایک چھوٹے سے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا اور میں مسکرا کر اس کے ساتھ چل پڑی۔ شام ایک سمفنی میں ڈھل رہی تھی ۔۔
ہم اس ٹیلے پہ بیٹھ کر آتی جاتی لہریں گن رہے تھے جب اس نے مجھے مخاطب کیا” سنو! کیا تم اس برس بھی۔۔ ۔۔۔؟؟ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی مگر مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ میں اس کا سوال بھی جانتی تھی اور اس کا من پسند جواب بھی ۔لہٰذا تیز سمندری ہوا سے اپنے چہرے پہ آتے بال ہٹا کر محض ہنس دی۔
اس نے گردن گھما کر میری جانب دیکھا اور خفگی اس کی ذہین آنکھوں سے ٹپکنے لگی۔ “اب اس میں ہنسنے کی کیا تک ہے بھلا”؟؟ وہ خفا لہجے میں کہتا ہوا رخ موڑ گیا اور اس وقت وہ مجھے اس قدر معصوم اور اتنا پیارا لگا کہ میں اسے چوم لینے کی خواہش کو پورا کیے بنا رہ نہ سکی اور اس کے سرد اور نم گال پہ چپکے سے ایک بوسہ ثبت کر دیا۔
میں جانتی تھی اب وہ مزید خفا نہ رہ سکے گا اور یہی ہوا۔ اس نے میرا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا لیا اور میں اس کے چوڑے شانے سے ٹیک لگائے فضا میں گھلتی شام کے رنگ دیکھنے لگی۔ ۔

یہ بھی پڑھیں :  عورتوں میں جنسی خواہش کم ہونے کی وجوہات۔ ڈاکٹر لبنی مرزا
یہ لمحات آج پورے ایک سال بعد میسر آئے تھے ۔۔
اور ساحل پہ ملنے کی ضد بھی اسی کی تھی ورنہ مجھے سمندر کبھی بھی پسند نہیں رہا ۔ مجھے ہمیشہ سے گہری گپت اور تنہا جگہیں پسند رہی ہیں ۔ اسکا دل بھی تو زیر زمین بہنے والے کسی دریا جیسا تھا جہاں دن کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی ۔بس ایک پراسرار سیاہ اور گپت تنہائی ہے اور اس کے آخری سرے پہ میرا ٹھکانہ ہے ۔
کئی پل اس پراسرار خاموشی کی نذر ہو گئے پھر اس نے دھیرے سے کہا” کوئی بات کرو ناں ۔۔ایک سال بعد ملے ہیں، کچھ بتاو تو تم نے سال بھر کیا کیا”؟؟ میں جو اس کے بازو پہ انگلی سے نادیدہ لکیریں کھینچ رہی تھی ،سیدھی ہو بیٹھی اور ملگجی روشنی میں اس کے چہرے پہ چھپی وہ تحریر ڈھونڈنے لگی جو سال بھر میں نے اپنے خیالوں میں اس پہ خط کی تھی۔۔وہ کہیں نہیں تھی۔ “میں نے کائنات کی سب سے حسین شے کو کھوج لیا  ہے۔” میں نے ایک نیا خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جواب دیا ۔”اور وہ شے کیا ہے “؟؟ اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے دریافت کیا ۔ نم فضا میں پھیلتی بینسن اینڈ ہیجز کی کڑوی مہک میرے آس پاس چکرانے لگی ۔۔
میں نے اسے ایک بار پھر دیکھا” آوارہ عورت ” میں نے چھوٹا سا ایک پتھر لہروں میں اچھال دیا۔
وہ چونک کر میری طرف مڑا اور میں نے اس کی آنکھوں میں پھیلتی ہوئی حیرانی اور تلخی کو بآسانی دیکھ لیا۔ “خدا کے لیے اب ان باتوں کو مت دہرانا۔۔میں تمہیں کتنی مرتبہ بتاؤں کہ میں اپنی ماں کے ان الفاظ کا ذمہ دار نہیں ہوں ۔۔”وہ بھڑکتے لہجے میں بولتے ہوئے سگریٹ کے طویل کش لینے لگا۔
اوہ! وہ مجھے غلط سمجھ رہا تھا۔ میں نے تسلی دینے کے انداز میں اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور چین کے خالص ریشم کو لہجہ بنا کر اس کی غلط فہمی رفع کرنے کا آغاز کیا۔
“نہیں! تم غلط سمجھے ہو۔۔میں تمہاری ماں کے کہے وہ لفظ کب کی بھلا چکی ہوں جو مجھے مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہے تھے ۔ میری بات سمجھو تو سہی۔۔۔میں تو ان کی شکر گزار ہوں کہ ان کی بدولت میں خود کو پہچان پائی ہوں ۔”میری بات نے اس پہ خاطر خواہ اثر کیا اور وہ کچھ معمول پہ آنے لگا۔ ” تو پھر تمہاری یہ کھوج کہاں اور کیسے شروع ہوئی بھلا کہ آوارہ عورت کائنات کی سب سے حسین شے ہوتی ہے۔۔ آخر تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو “؟؟ اب وہ جرح کر رہا تھا۔ ایک وکیل اور جرح نہ کرے ؟؟ مجھے بے ساختہ ہنسی آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں :  عورت کارڈ اور جدائی کے اسباب
اب وہ جواب کا منتظر تھا مگر میں مختصر جواب دینے کے موڈ میں نہیں تھی۔ وہ سال بھر کے بعد پاکستان آیا تھا اور دو دن بعد اسے پھر چلے جانا تھا۔ ۔ لہٰذا مجھے حق تھا کہ آج کی اس شب میں میں اسے سال بھر کے لیے یاد رہ جاتی۔ اور یہ تبھی ممکن تھا جب جواب مختصر نہ ہوتے ۔ میں آج اسے روک لینا چاہتی تھی سو میں نے اپنی اس ذہانت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس نے عرصہ قبل ہماری راہیں جدا کر دی تھیں
” کیا بہتر نہ ہو گا کہ ہم اس گفتگو اور اس حاصل عشق کا آغاز اپنی پسندیدہ کافی سے کریں “؟؟ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ خاموشی سے اٹھ کر کچھ دور بنی ایک کافی شاپ کی جانب چل دیا۔وہ اب بھی کتنا شاندار دکھتا ہے! عمر کی اڑتیس سلاخیں کاٹ لینے کے بعد بھی وہ مجھے آج بھی پگھلا دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے ! میں اسے جاتے دیکھ کر سوچ رہی تھی۔
وہ لوٹا تو اس کے ہاتھوں میں کافی کے دو کاغذی کپ تھے جن سے اٹھتی تلخ مہک مجھے بتا رہی تھی کہ وہ ڈبل شاٹ ایسپریسو ہے۔۔ہماری پسندیدہ ترین کافی!
میں نے اپنا کپ تھام لیا اور کچھ پل کے لیے خاموشی ہمارے درمیان آن بیٹھی۔وہ میرے بولنے کا منتظر کافی کے آخری گھونٹ لے رہا تھا ۔ میں نے دیکھا اس کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے ناخن بھورے پڑ رہے تھے۔ “اوہ! تو اب وہ اس قدر سگریٹ پینے لگا ہے ” میں نے تشویش سے سوچا ۔اس دوران وہ ایک سگریٹ مزید سلگا چکا تھا۔
ہلکی پھلکی باتوں سے شروع ہوئی گفتگو اب اس مقام تک آن پہنچی تھی کہ یا تو وہ ٹھہر جاتا یا اس پانچ ستارہ ہوٹل میں واپس لوٹ جاتا جہاں وہ مقیم تھا۔
“میں تمہاری کھوج کی داستان سننا چاہتا ہوں مہر!” ۔۔جانے کتنے عرصے بعد اس نے میرا نام پکارا تھا ۔؟؟
“اچھا ! اب میں بھی مزید تمہارے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہتی۔۔ مگر پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو” میں نے کہا تو وہ استفہامیہ انداز میں مجھے دیکھنے لگا۔۔” تمہارے خیال میں دنیا کی سب سے بااختیار اور حسین عورتیں کون ہیں ” ؟میرے سوال پر وہ چند لمحے سوچ میں پڑ گیا۔ “ہمم!! خوبصورت تو بہت سی ہیں مگر بااختیار ہونے کی بات کی جائے تو۔۔ وہ کچھ پل رکا” کسی سربراہ مملکت سے یا کسی ملکہ سے زیادہ بااختیار عورت کون ہو سکتی ہے “؟؟ اس نے مجھے دیکھا اور میں اس کے جواب پہ یوں مسکرا دی جیسے چھوٹے بچے کی کسی معصوم بات سے محظوظ ہوا جاتا ہے۔ “کچھ عرصہ قبل میں بھی یہی سوچتی تھی۔۔جب مجھے مسترد کر دیا گیا۔۔۔اُونہوں! بات مکمل کرنے دو ۔۔” میں نے اسے لب کھولتے دیکھ کر تیزی سے کہا۔ ” ہاں! جب تمہاری ماں نے مجھے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ مجھ جیسی آزاد خیال اور “اوارہ” عورت انکے خاندان کی عزت بننے لائق نہیں ہے تو مجھے اپنا آپ بے حد کمتر لگا۔مجھے اپنے ان سب خیالات اور نظریات سے نفرت محسوس ہونے لگی جنہیں اپنے تئیں میں اپنے سیلف میڈ ہونے ،اپنے مضبوط ہونے کی وجہ سمجھتی آئی تھی۔۔ میں ہفتوں روئی تھی اور مہینوں ایک عام عورت کی طرح خود کو کوستی اور کڑھتی رہی تھی۔ ” وہ خاموش مجھے سن رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :  اکیلی عورت ۔۔۔۔ عائشہ اذان
” جانتے ہو!؟؟ جب تم مجھے ملے بغیر یہ ملک چھوڑ گئے تھے اور میں خود کو اتنا تنہا اتنا ویران پاتی تھی کہ آئینے میں مجھے قبرستان دکھتا تھا تو۔۔ایسے ہی ایک دن میں اپنے فلیٹ سے نکل کر بے مقصد سڑک پر گھومنے لگی اور اس دن۔۔اگر مجھے وہ آوارہ عورت نہ ملی ہوتی تو میں نیٹی جیٹی کے پل سے کود مرنے کا مصمم ارادہ کر چکی تھی۔ ۔وہ پل پہ کھڑی سگریٹ پی رہی تھی ۔ اس کا حلیہ بھی معاشرے کے قائم کردہ اصولوں کے مطابق آوارہ تھا۔ گھسی ہوئی میلی اور بدرنگ جین اس کے متناسب کولہوں پر کھال کی طرح منڈھی ہوئی تھی اور باریک گلابی شرٹ سے اس کا سیاہ زیر جامہ جھلک دکھا رہا تھا ۔
میں اسے دیکھتی رہی کہ ان دنوں مجھے خود کو دیکھنے کا حوصلہ کب تھا؟؟ اس کے چہرہ تیز دھوپ سے جھلسا ہوا تھا اور بھورے سنہرے بال الجھے اور بکھرے ہوئے تھے۔۔
اس نے شاید میری محویت کو محسوس کر لیا تھا جبھی وہ میری طرف مڑی اور ایک دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ “ہیلو” کہا۔ میں اسے چپ چاپ دیکھتی رہی تو اس نے مسکرا کر اپنی جین کی جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور میری طرف بڑھا دیا” نہیں! میں سگریٹ نہیں پیتی” میں ذرا خفیف ہو گئی کہ یہ شاید مجھے کوئی سگریٹ نوش سمجھ رہی ہے جس کے پاس نشہ پورا کرنے کے پیسے نہیں ہیں ۔ ” اس نے شانے اچکائے اور پیکٹ دوبارہ جیب میں ڈال کر آخری کش لیا، فلٹر ہوا میں اچھالا اور ذرا جھک کر پاوں کے قریب پڑا ایک نارنجی اور سیاہ سفری بیگ اٹھا لیا۔ وہ مڑی اور ٹریفک کے ہجوم میں شامل ہونے کو تھی کہ جانے کیوں؟ کس قوت کے زیر اثر میں نے اسے پکار لیا۔ ” اے سنو!” وہ واپس پلٹی اور مجھے دیکھنے لگی۔۔”تمہارا نام کیا ہے “؟؟ میں نے بے ارادہ یہ الفاظ ادا کیے تھے شاید میں اپنی چیخوں سے اس قدر خائف ہو چکی تھی کہ اب کسی کو سننا اور کسی سے بات کرنا چاہتی تھی۔ چاہے وہ سڑک کنارے سگریٹ پیتی ایک انجان اجنبی عورت ہی کیوں نہ ہوتی۔۔
وہ قدم قدم چلتی میرے قریب آئی اور دھیرے سے میرے شانے پہ ہاتھ رکھ کر بولی ” میرا کوئی نام نہیں ہے۔۔میں ایک آوارہ عورت ہوں ”
میں سانس لینے کو رکی تو میں نے اسکی آنکھوں میں وہی دلچسپی دیکھی جو زمانہ طالب علمی میں کسی مباحثے کے دوران ہوا کرتی تھی جب مجھے لگتا تھا کہ اپنے قدموں پہ کھڑا ہونا ہر عورت کا حق ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں :  ایک شام ساحل پر۔۔۔ حمیرا گل
وہ مجھے دیکھ رہا تھا اور شام اب رات کا لبادہ پہن رہی تھی۔ ” مہر! شام گہری ہو گئی ہے تمہیں گھر جانا چاہئے ” اس نے تشویش سے کہا ۔
” گھر پہ میرے سوا کوئی نہیں ہوتا اور میں یہاں ہوں ، سو کوئی مسلہ نہیں ہے” میں نے جواب دیا تو وہ خاموش سا ہو گیا۔ ۔ “اچھا تو پھر اس آوارہ عورت سے تمہاری مزید کیا گفتگو ہوئی” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے دوبارہ سوال کیا تو میں بھی گہری سانس بھرتے ہوئے ماضی کے اوراق الٹنے لگی۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”آوارہ عورت۔۔مریم مجید/،قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *