• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مذہبی حرمت ، آزاد خیالی کا قضیہ اور توجہ طلب مسائل

مذہبی حرمت ، آزاد خیالی کا قضیہ اور توجہ طلب مسائل

گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان کے مقتدر حلقوں میں مذہبی حرمت ، آزاد خیالی، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گستاخانہ مواد کی تشہیر ، عدالتی فیصلے ، قانون ساز اداروں کی کارروائی اور ریاستی ذمہ داران کے بیانات زیرِ بحث رہے۔کبھی کبھی یہ خبر بھی سنائی دی کہ مذہبی حرمت اور گستاخانہ مواد کی اشاعت کی وجہ سے سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹس پر پابندی بارے بھی غور و غوض جاری ہے مگر تاحال پاکستان میں سوشل سائٹس پر پابندی کے لئے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا اور شنید ہے کہ مستقبل قریب میں بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ کم و بیش ایک ماہ سے ذرائع ابلاغ پر کبھی جسٹس صدیقی اور کبھی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دبنگ بیانات سماجی ویب سائٹس استعمال کرنے والے عام افراد کو دھمکاتے رہے اور کچھ دنشورانِ فیسبک و ٹویٹر “ہمیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا” کے مصداق ایک نفسیاتی کشمکش کا شکار رہے۔۔مذہب پاکستانی سماج کا ایک نازک مسئلہ ہے کیونکہ ایک بظاہر جدیدیت کا رسیا انسان بھی مذہبی حرمت پر فدا ہونے کو تیار بیٹھاہے۔ ایسی صورتحال مذہب ، مذہبی اخلاقیات اور مذہبی اکابرین کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ کا اعشاریہ ہے۔مذہب کے ناقدین اگر کچھ لوگوں کی ذاتی حرکات و سکنات کو مذہبی تعلیمات اور اخلاقیات سے جوڑنے کی کوشش کریں تو ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایک خاص گروہ یا کچھ اشخاص کی سرگرمیاں اگرچہ وہ مذہب کی آڑ میں کرتے ہیں مگر مذہب کی بنیادی تعلیم اور اقدار ایسا نہیں کہتیں یا وہ مخصوص گروہ مذہبی اخلاقیات کی غلط تفہیم سے مذہب کو اپنے ذاتی مقاصد اور فوائد کے لئے استعما ل کر رہا ہے۔ مذہبی معاملات، عقائد اور اکابرین کی بے حرمتی کے بارے ریاست کا موقف ملک کی اکثریت کے جذبات کی نمائندگی ہے لیکن سوچنا یہ ہے کہ آزاد خیالی (لبرلزم) کے حامی خواتین و حضرات مذہبی توہین کے مرتکب کیوں ہو رہے یا وہ مذہب پر طشت ازبام ہونے سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ آزاد خیالی کے نظریے کا حصہ ہے؟ یا خود کو آزاد خیال کہلانے والے محض مذہب بیزاری اور اپنی شہرت کے لئے یہ ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں؟۔ ان سب سوالوں کے جوابات کے لئے آزاد خیالی یا لبرلزم کی بنیادی تعریف اور فلسفے کے ساتھ آزاد خیالی کے ہم عصر نظریات کو بھی سمجھنا ہوگا اور اس بات کا اندازہ لگانا ہو گا کہ ایسی حرکات بحیثیت مجموعی عوامی مسائل کے حل میں کیوں کیسے اور کہاں آڑے آتے ہیں۔ آزادخیالی اور اس کے ہم عصر نظریات کا تقابلی جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ لبرلزم کے ناقدین مختلف ذرائع ابلاغ پر زبانی یا تحریری طور پر تمام نظریات کے پیروکاروں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے دکھائی دئیے اور ایک عمومی تاثر دیا گیا کہ سارے سیکولر، اشتراکیت پسند اور اشتمالیت پسند آزاد خیال ہیں اور ان کے ساتھ بھی ریاست وہی سلوک کرے جس کا ارادہ اس نے آزاد خیال اور مذہب کے ناقدین کے لئےکیا ہوا ہے۔ آزاد خیالی اور اس سے مشابہت رکھنے والے دوسرے نظریات کی بنیادی تعریف اور ان کی تفریق کا پتا لگانا اسلئے ضروری ہے کہ آزاد خیالی کے ناقدین اور تمام ہم عصر نظریات کے بنیادی فرق کو جانتے ہوئے تنقید کرتے وقت امتیاز رکھ سکیں۔
آزاد خیالی کے بانیوں نے آزاد خیالی کو ایک سیاسی نظریئے کے طور پر متعارف کروایا تھا ، ایسا نظریہ جس میں انفرادی انسانی آزادی کو محفوظ بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ شخصی آزادی دی جائے، ایک طرف آزاد خیال یہ مانتے ہیں کہ انسانی آزادی کے لئے حکومت ضروری ہے اور دوسری طرف وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت آزادی کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ انیسویں صدی میں آزاد خیالی کے حامیوں کا یہ نعرہ تھا کہ حکومت کے معاملات کم سے کم ہونے چاہئیں تاکہ انفرادی آزادی زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔ آزاد خیالی میں ایک اصطلاح معاشی آزاد خیالی کی ہے جس کے مطابق انفرادی سطح پر معیشت کو منظم کرنے میں ہی معاشی خوشحالی کے امکانات ہیں، یعنی نجی ملکیت اور دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہی انسانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ آزاد خیال اس نظریئے پر ایقان رکھتے ہیں کہ ریاست کے افراد کو انفرادی معاشی آزادی حاصل ہونی چاہئے اور معاشی فیصلے انفرادی سطح پر ہونے چاہئیں۔ کلاسیکی آزاد خیالی ایک ایسی اصطلاح ہے جس کے مطابق لوگوں کو انفرادی آزادی کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی ، طباعت کی آزادی، اسمبلی کی آزادی اور معاشی آزادی حاصل ہو۔مندرجہ بالا تمام تعریفوں کے مطابق کہیں بھی ایسا نہیں جس میں آزاد خیالی کا مطلب مذہب کو گالی دینا یا مذہبی اکابرین کی رسوائی کا شائبہ تک بھی ہو۔ تعریف کے مطابق اظہار رائے کی آزادی اور مذہبی آزادی کے الفاظ کو سہولت سے استعمال کرتے ہوئے شاید آزاد خیال خواتین و حضرات مذہبی اکابرین کی گستاخی یا مذہبی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سارے سیکولر، اشتراکیت اور اشتمالیت پسند ایسے ہی ہیں ۔ کیا وہ بھی ایسے ہی موقعوں کی تاک میں رہتے ہیں کہ مذہبی شعائر اور مذہبی اکابرین کا ایسے ہی مذاق اڑایا جائے؟ اور کیا مذاق اڑانے اور برا بھلا کہنے سے عام انسان کےمسائل پر فرق پڑتا ہے؟ اسکے جواب کے لئے بھی ہمیں مذکورہ نظریات کی تعریف اور فلسفے کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
سیکولرازم ایک ایسا نظام ہے جس میں مذہبی معاملات کو ریاست کے معاملات سے الگ رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ مطلب سیکولر ازم اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہب ریاست کے عوام کا ذاتی مسئلہ ہے نہ کہ ریاستی مشینری کا، اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سیکولرازم لوگوں کو مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ عمومی طور پر ناقدین سیکولرازم کو لادینیت اور الحاد کے نام سے موسوم کرتے ہیں جو حقیقت کے برعکس ہے۔ اشتراکیت منصوبہ بند معیشت کا نظام ہے جس کے مطابق ریاست تما م وسائل کی نگہبان ہوتی ہے اور لوگوں کی بنیادی ضروریات کی ضامن ، اشتمالیت اشتراکیت کا اگلا درجہ ہے جس میں منصوبہ بند معیشت اور عوامی ملکیت کے ساتھ ساتھ ہر انسان اپنی قابلیت کے مطابق اپنے ملک کے لئے کام کرتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق وسائل موصول کرتا ہے لیکن سیکولرازم، اشتراکیت اور اشتمالیت کے نزدیک مذہب کو استعمال میں لاتے ہوئے استحصال کی نفی کی گئی ہے۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ آزاد خیال جتنی نفرت مذہب پسندوں سے کرتے ہیں، اشتراکیت اور اشتمالیت پسندوں سے بھی انکی نفرت تنقید اور بغض بھی ایسا ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پچانوے فیصد مذہب کو ماننے والے سماج میں مذہبی شعائر اور مذہبی اکابرین کو برا بھلا کہہ کرتبدیلی کے عمل کے لئے لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا جا سکتا ہے؟ کیا مذہبی بے حرمتی کرتے ہوئے ہم ریاست کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر ایک ہی مسئلے پر نہیں لگا رہے؟ کیا ہمارا مسئلہ مذہبی لوگوں کی وجہ سے استحصال ہے یا براہ راست مذہب؟ یہ مان لیتے ہیں کہ موجودہ مذہب پسند اور مذہبی رجحانات کے اکابرین استحصال کرنے والوں کے پشت بان ہیں مگر کیا ہم اس بات کے متحمل ہو سکتے ہیں کہ ساری عدلیہ پچاس پچاس سال سے لٹکتے مقدمات پر توجہ دینے کی بجائے حرمتِ مذہب اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے بارے قانون سازی میں مصروف ہو جائے؟ کیا یہ ایک ایسے نان ایشو کی تخلیق نہیں کہ حکومتِ وقت تمام بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس مسئلے پر غور و غوض شروع کر دے؟ اور صحت ، تعلیم ، منصوبہ بند معیشت اور وسائل کی مساوی تقسیم کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ کیا یہ استحصال اور فرائض سے غفلت برتنے کے لئے سہولت کاری کا عمل نہیں؟

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”مذہبی حرمت ، آزاد خیالی کا قضیہ اور توجہ طلب مسائل

  1. بہت خوب شاندار ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کہ ایسا توہین آمیز مواد کافی عرصے سے فیس بک پر موجود ہے یہ کس کی حرکت ہے اس پر تحقیق ہونی چاہیے تھی لیکن ایک مخصوص وقت پر حکومت اور عدلیہ کیوں ایسا کر رہی ہے کیسا ایسا تو نہیں ہے کہ یہ حکومت اور عدلیہ ناموس رسالت کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *