اکّڑ بکّڑ بمبے بو۔۔شکور پٹھان

(صرف بالغان کے لئے) چالیس سال سے کم عمر بچے اسے نہ پڑھیں۔

کہاں گیا میرا بچپن ۔ ( پھول چمن اور ہری من بھری)

جانے کہاں یہ جملہ پڑھا تھا کہ اپنے یہاں بچے ، بچپن سے سیدھے بڑھاپے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جوانی انہیں چھو کربھی نہیں گذرتی ۔ اس کا مطلب شاید یہ تھاکہ ہمارے ہاں زندگی اس قدر مشقت آزما ہے کہ ہوش سنھالتے ہی ہم روزگار کےچنگل میں جکڑے جاتے ہیں۔ بات شاید یہی سچ ہے۔ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ وہ بچے پھر بھی اچھے رہے۔

آپ ان بچوں کو کیا کہیں گے جو پیدا ہوتے ہی بڑے ہوگئے اور بچپن کا منہ بھی نہ دیکھا

جی ہاں ، میں آج کے ، اس دور کے، بچوں کی بات کررہا ہوں۔ جن کے بارے میں ہم یہ کہتے پھولے نہیں سماتے کہ۔۔

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے ہیں۔۔

یہ بھی پڑھیں : بچپن اور سہراب کی سائیکل

اور سچ تو یہ ہے کہ جس اسمارٹ فون یا آئی پیڈ کے سر پیر کا میں سمجھ نہیں پاتا، میرا ڈھائی سالہ نواسہ جانتا ہے کہ اس میں اسکے پسندیدہ کارٹون، نرسری رہائمز اور اینگری برڈ اور ٹیمپل رن جیسے بے شمار کھیل کیسے تلاش کیے  جاتے ہیں اور انہیں کیسے  کھیلا جاتا ہے۔ مجھے اپنے موبائیل فون  یا کمپیوٹر یا ٹیلیویژن میں کوئی بات سمجھ نہیں آتی تو پاس کھڑے کسی بچے سے پوچھ لیتا ہوں کہ میرا تعلق اس نسل سے ہے  جو اتنی ، سادہ، بے خبر بلکہ بے وقوف ہوا کرتی تھی جب گھروں میں کسی اونچی جگہ رکھے ریڈیو کو بھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی اور صرف ایک دو لوگ جنہیں ریڈیو ،، چلانا  آتا تھا وہی اسٹیشن بدل سکتے تھے یا آواز اونچی کرسکتے تھے۔

آج کا بچہ ذہانت، فطانت، عقل ، سمجھ بوجھ ہر چیز اتنی رکھتا ہے جو ہمیں کہیں نوجوانی میں جاکر ملی تھی۔ یہ بچے اپنے تئیں خوش نصیب ہیں کہ انہیں جدید ٹکنالوجی میسر ہے۔ جس گھر میں ذرا سی بھی معاشی فراغت میسر وہاں کے بچے ہاتھوں میں آئی پیڈ، اینڈرائیڈ فون اور نجانے کیا کیا لئے گھومتے رہتے ہیں۔ دیاروں پر ٹنگے ایل سی ڈی یا پلازمہ ٹی وی سے دنیا جہاں سے اپنے مطلب کے پروگرام ڈھونڈ لیتے ہیں۔ پلے اسٹیشن کے  ذریعے دنیا کا ہر کھیل کھیل سکتے ہیں۔اور کیا کچھ نہیں ہے جو انہیں میسر نہیں ہے، سوائے اس کے، جسے بچپن کہتے ہیں۔

آج کا باپ اپنے بچے کو یہ سب کچھ اس لئے لے کر دیتا ہے کہ اسے گھر سے باہر سڑکوں اور گلیوں پر چنگھاڑتے، دھاڑتے بے ہنگم ٹریفک سے ڈر لگتا ہے۔ اسے ڈر لگتا ہے کہ اس کا لال باہر کسی انجانی گولی کا نشانہ نہ بن جائے۔ اور وہ چاہے بھی تو بچے کو کہاں کھیلنے بھیجے کہ جہاں کبھی کھلے میدان ہوتے تھے وہاں اب مکان، بازار اور دوکانیں بن گئی ہیں۔ وہ گھر جن کے صحن اور مکینوں کے ذہن کھلے ہوتے تھے اب مرغی ، کبوتروں کے دڑبوں اور کابک جیسے فلیٹوں میں بدل گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پابلو بیہودہ کی غیر ادبی خدمات۔۔معاذ بن محمود

آج کا بچہ برگر، فرنچ فرائیز اور آئسکریم کھاکر بھی شاکی رہتا ہے اور ہم وہ بے وقوف تھے ، کسی دن ماں جنہیں بچی ہوئی روٹی (اگر ہم ان خوش نصیب گھروں میں سے ہیں جہاں روٹی بچ جاتی تھی) کو نچوڑ کر ، اس پر چینی چھڑک کر اور ذرا سا دودھ ڈال کر ہمیں دیتی تو یہ “ملیدہ” ہمارے لئے دنیا جہاں کی نعمتوں سے بڑھ کر ہوتا ، یا پھر کبھی روٹی پر ہلکا سا گھی چُپڑ کر اور اس پر چینی یا کھرچا ہوا گڑ ڈال کر ایک رول سا بنادیتی جس کے سامنے آج کے سوئس رول بھی ہیچ ہیں۔

ماں گھر کے کاموں میں جتی ہوتی اور ابا دفتر میں سر کھپا رہے ہوتے اور ہم اسکول سے گھر آتے ہی بستہ ایک طرف پھینک یونیفارم اتار، جوتے یا چپل ایک طرف ڈال، گلی میں نکل جاتے۔ پھر سارا دن نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھان رہے ہوتے۔ گلیوں میں ننگے پیر گھوم رہے ہیں، کہیں کوئی کانٹا چبھ گیا انگلیوں سے پکڑ کر خود ہی کھینچ نکالا،، کسی کانچ کے ٹکڑے سے پیر کٹ گیا، کمیٹی کے نلکے سے پیر دھو لیا، ایسی ،ہلکی ، باتوں کی کبھی رپورٹ گھر پر نہیں کی۔

مٹی کے سنے پیر اور کالے ہاتھوں کے ساتھ گھر آتے ہی پہلا حکم ہوتا پہلے ہاتھ پاوٗں دھو کر آوٗ۔سکول کا کام، یعنی تختی دھوکر، اس پر نئی چکنی، ملتانی مٹی پوت کر دھوپ میں سکھانے رکھنے کے بعد اور حساب کے ماسٹر کے دئے ہوئے سوال ، سلیٹ پر نکال کراب ہم فارغ ہیں۔

لڑکیاں بالیاں تو گھر کے کسی کونے کھدرے میں یا کہیں دو متوازی کھڑی چارپائیوں پر چادر ڈال کر ، آپا آپا، یا ، گھر گھر کھیل رہی ہیں۔ مٹی کے بنے کھلونا چولہے پر دیگچی چڑھائے، ہنڈیا  پک رہی ہے۔ ایک طرف اماں کے ہاتھ کی بنی گڑیا بٹھائی ہوئی ہے۔ کبھی جی میں آئی اور روز کے جیب خرچ (جو دو یا ایک پیسہ ہوتا) سے پیسے بچا کر گڑیا کی شادی رچارہی ہیں۔ پاس پڑوس کی سکھیوں کو دعوت دے دی گئی ہے اور انتہائی سنجیدگی سے تیاریاں ہورہی ہیں۔ دلہن اور دولہا کے جوڑے بن رہے ہیں ، شادی بیاہ کے گیت گائے جارہے ہیں۔ شادی کے دن کچھ کھانے پینے کا انتظام بھی ہے اور ویسی ہی سادگی ہے جیسے ان دنوں کی سچ مچ کی شادیوں میں ہوتی تھی۔ دلہن کو رخصت کرتے ہوئے ویسے ہی رونادھونا ہورہا ہے جیسا ان کی اپنی بدائی پر ہوگا۔

شام ہوئی ، کھانے سے فارغ ہو کر پاس پڑوس کے بچے بچیاں کسی ایک بڑے گھر کے صحن یا گلی میں اکٹھے ہو کر ، کوڑا جمال شاہی، پہل دوج، یا ، کھو کھو، کھیل رہے ہیں۔

اور یہ دیکھیں ذرا کہ ساتھیوں کا انتخاب کیسے ہورہا ہے یا ٹیم کیسے بن رہی ہے۔ سب دائرہ بنائے اور ہاتھوں کی پشت جوڑے کھڑے ہیں ، ہاتھ اوپر اٹھائے جارہے ہیں، کسی کا ہاتھ ہتھیلی کی طرف سے تو کسی کا پشت کی طرف سے اٹھا ہوا ہے۔ جی ہاں” پگّم پگائی” ہورہی ہے۔

یہ تو ایک طریقہ ہوا۔ یہ دیکھیں کیا ہو رہا ہے دو ہم عمر، گلے میں ہاتھ ڈالے ، دوسروں سے کچھ ہٹ کر ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیوں میں کچھ طے کر رہے ہیں پھر ویسے ہی پلٹ کر گلے میں ہاتھ ڈالے دونوں ٹیموں کے کپتان (جو عام طور پر سب سے بڑے بچے ہوتے تھے) کے پاس آکر ایک خاص سر میں آواز لگاتے’ ڈاک ڈاک کس کی ڈاک” کپتانوں میں سے ایک کہتا یا کہتی، میری ڈاک !۔ جواب میں کہا جاتا”کوئی لے راجہ کوئی لے رانی” کپتان جسے لیتا وہ اس کی طرف ہوجاتا۔ ایسے ہی دوسری جوڑی آتی، کوئی  لے سپاہی کوئی چور!

اور یہ ذرا یہ بھی دیکھیں۔ کتنے سریلے انداز میں کہا جارہا ہے،، ہم پھول چمن سے آتے ہیں ، آتے ہیں، دوسری جانب سے پوچھا جاتا ہے ” تم کس کو لینے آتے ہوآتے ہو؟ ہم نیلو کو لینے آتے ہیں آتے ہیں۔ اب نیلو الگ ہو کر دوسری طرف چلی گئی۔

(کہاں گیا میرا بچپن)

یہ فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے کہ کیا کھیل کھیلا جائے گا۔ آنکھ مچولی کھیلیں۔ لاوٗ تم چور بنے ہو ، تمھارے آنکھوں پر دوپٹہ باندھ دیں۔ یہ بہت ہوگیا، آوٗ چھپن چھپائی یا ایمپریس کھیلیں (یہ نام کہاں سے آیا، آج تک سمجھ نہیں آئی)۔ اب طے ہورہا ہے کہاں چھپ سکتے ہیں اور کہا ں کی ، نہیں ہورہی،۔

آج لنگڑی ٹانگ کھیلیں یا اونچ نیچ ، گھر کے آنگن یا گلی کے بیچ ایک بڑا سا دائرہ بنا کر کھیل کے میدان کا تعین ہوگیا۔ اس سے باہر گئے تو آؤٹ، جی نہیں ، مر گئے، یعنی کھیل سے باہر ہوگئے۔اوریہ لڑکیاں جو دائرے میں ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے گھوم رہی ہیں اور درمیان میں ایک یا دو تین لڑکیاں ہیں۔ اور ایک اواز ہو کر گا رہی ہیں۔

“ہرا سمندر، گوبھی چندر، بول میری مچھلی کتنا پانی ؟”۔

جواب ملتا ، اتنا پانی، اس سے آگے بھی کچھ ہوتا تھا جو اب یاد نہیں رہا۔اور دروازے کی منڈیر پر بیٹھی یہ دوبچیاں بائیں یاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے محراب سی بنائے داہنے ہاتھ سے ایک گِٹّا چھال کے اس محراب سے چھوٹے چھوٹے چکنے پتھر گزار ہی ہیں۔۔۔یہ گُٹّے کھیلے جارہےهیں.اور گلی کے بیچوں بیچ دو لڑکیاں ایک دوسرے سے چار چھ گز دور کھڑی یہ رسی گھمارہی ہیں. اور یہ دیکھیں تیسری نے دوپٹہ گلے سے گھماکر کمر میں لپیٹا، شلوار کو ذرا اونچا کھونس لیا، چپل ایک طرف پھینک اور رسی کے بیچ  آکر کودنا شروع کردیا. یہ لو یہ دوسری بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئی.رسی سر ےس اوپر اور پاؤں کےنیچے سے گذر رہی ہے  اور ان بچیوں کے پیروں کی دھمک اور ایک مستی کے سے عالم میں سر کی جنبش، لگتا ہے

رقص میں ہے سارا جہاں۔۔۔

یہ بھی پڑھیں :  الوداع دلہن باجی۔۔انعام رانا

اور یہ کیا کہ لڑکے لڑکیاں ساتھ کھیل رہے ہیں، توبہ، یوں تو آج کے روشن خیال اور ماڈرن زمانے میں بھی نہیں ہوتا۔ جی ہاں یہ بچے بالے جی میں کوئی کھوٹ نہیں رکھتے، انہیں ان بھید بھاوٗ کی کوئی خبر نہیں جن سے آج کا بچہ بچہ واقف ہے۔ اور پھر یہ کہ جو کچھ ہورہا ہے گھر والوں کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ یوں نہیں کہ بچہ فیس بک یا ای میل پر کس سے ،،چیٹنگ، کر رہا ہے ، گھر والوں کو کوئی خبر نہیں۔

کھیل کے تھک گئے یا رات زیادہ ہوگئی، اماں کی پکار آئی اور گھر چلے آئے۔ سب چیزوں سے فارغ ہو کر، پھر کسی دری ، چوکی یا پلنگ پر جمع ہوکر آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں اور اب ہم بہن بھائی ہی رہ گئے ہیں یا پھر کوئی عم زاد، خالہ یا ماموں زاد جو ہمارے ہاں رہنے آئے ہیں یا جن کے یہاں ہم گئے ہوئے ہیں، وہی رہ گئے ہیں۔ اپنے اپنے دونوں ہاتھ سامنے رکھے بیٹھے ہیں اور سب سے بڑی باجی ہر ایک کے سینے یا ہاتھ پر اشارہ کر کے کہ رہی ہیں۔

اکّڑ بکّڑ بمبے بو

اسی نوے پورے سو

سو میں لگا  دھاگہ

چور نکل کے بھاگا

اب جس کے سامنے یہ ،مصرعہ، ختم ہوتا وہ چور بن جاتا یعنی کھیل سے خارج

یہ اکڑ بکڑ اپنے اپنے محلوں اور گھروں میں مختلف شکلوں میں ہوتا۔ چور نکل کے بھاگا کے بعد بھی بہت کچھ کہا جاتا۔

، سپاہی بن کر آوٗں گا ۔ اچھے کھانے کھاوٗں گا ، ریل بولی چھکا چھک، ڈبل روٹی بسکٹ۔

جی نہیں یہ کوئی بے معنی بول نہیں ہیں۔ ہم بچے ان کا مطلب اچھی طرح جانتے تھے، اب بڑے ہو کر بھول گئے۔

اب بستروں پر بیٹھے ہیں ، سب نے شہادت کی انگلی اپنے اپنے سامنے چادر پر رکھی ہے ، بڑی آپا کہ رہی ہیں۔ چیل اڑی، سب کی انگلیا اٹھ گئیں۔ کوا اڑا، انگلیاں پھر اٹھیں، بلی اڑی، کچھ انگلیاں رک گئیں۔ ایک انگلی اٹھ گئی ۔ سب نے ٹھٹھے لگائے اوہو بلی بھی اڑی، چلو ہاتھ آگے کرو۔ مجرم نے معافی مانگنے کے اندازمیں ہاتھ آگے بڑھائے اور سامنے والے نے اسکے ہاتھ پر زور دار چپت لگائی۔۔ اور کھیل یونہی چلتا رہا۔ نئے نئے کھیل تجویز ہورہے ہیں، کبھی ایک دوسرے کا کان پکڑ کر آگے پیچھے ہورہے ہیں۔ کبھی سب سے کہا جا رہا ہے لکڑی لاؤ ، سب نے پیر آگے کردئیے، اب کہا، تیل دو، کسی نے ہاتھ بڑھا کر خیالی تیل دے دیا جو لکڑیوں پر چھڑک دیا گیا اب ماچس مانگی گئی اور ، شوں، کی آواز کے ساتھ آگ لگائی گئی سب نے زور زور سے پیر ہلائے اور ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے۔

ایسے ہی کھیلتے کھیلتے نیند کا غلبہ شروع ہوگیا۔ بستر میں گھس کر بھی ، آسہیلی بوجھ پہیلی، کھیلا جارہا ہے۔

ہری تھی من بھری تھی۔۔۔ نو لاکھ موتی جڑی تھی۔۔۔ راجہ جی کے باغ میں دوشالہ اوڑے کھڑی تھی۔۔

سوبار کی سنی ہوئی پہیلی لیکن کسی نے کوئی غلط بوجھنا بھی ضرور تھا۔ جواب آتا جی نہیں۔۔۔بھٹا۔۔

اس سے جی بھر گیا تو بیت بازی شروع ہوگئی۔۔ لائیے میم کا شعر

اور کچھ نہیں تو امی یا دادی سے مطالبہ ہورہا ہے کہ کہانی سنائیں اور مزیدار بات یہ کہ کئی بار کی سنی ہوئی کہانی کی ہی فرمائش ہوتی ۔

اور واقعی ہم بے وقوف ہی تھےکہ ہمیں یقین تھا کہ چاند میں بڑھیا بیٹھی روئی کات رہی ہے۔

ہائے ۔ کہاں سے لائیں۔۔۔۔۔ وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی۔

کھیل جو ہم نے کھیلے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تو تھا گھر آنگن کا اور لڑکیوں بالیوں کے مشغلوں کا حال۔ اب یہ دیکھیے ان لونڈے لپاڑیوں نے گلیوں اور میدانوں میں کیا ، لونڈھار، مچائی ہوئی ہیں۔ اس کے لئے آپ کو پہلے اس چھوٹے سے میدان کی طرف لئے چلتے ہیں جو بستی کی ایک طرف ہے۔ ذرا اس بستی کو بھی دیکھ لیں۔ یہاں مزدور پیشہ، ہنر مند، خرادئیے، سرکاری دفتروں میں کام کرنے والے چپڑاسی، کلرک، افسر،  سکولوں میں پڑھانے والے استاد ریلوے میں کام کرنے والے مکینک غرض ہر کوئی رہتا ہے۔ کچھ کی اپنی دکانیں ہیں۔ ان کے بچوں کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ کسی کا باپ کیا کرتا ہے۔ بستی کی ایک طرف ایک بڑا سا مکان شیخ صاحب کا ہے جن کے گھر کے سامنے محلے کی واحد موٹر کار کھڑی ہوتی ہے کہ شیخ صاحب آٹے کی چکی کے مالک ہیں اور محلے کے امیر ترین شخص ہیں لیکن ہمیں کیا۔ یہاں ہر کوئی اپنے گھر کا بادشاہ ہے۔

ہاں ہمارے لئے ایک مصیبت ہے وہ یہ کہ محلے کا کوئی بھی بزرگ ہمارے کان اینٹھ سکتا ہے اور جھاڑ پلا سکتا ہے۔ ہمارے گھر والوں کو کوئی غرض نہیں، کوئی اعتراض نہیں۔

آئیں دیکھیں اس میدان میں کیا ہورہا ہے۔

یہ زمین جو بالشت بھر کھودی گئی ہے ، بل،کہلاتی ہے۔ اس بِل کے کنارے یہ پانچ چھ انچ کا لکڑی کا گول ٹکڑا جو دونوں سروں پر مخروطی ہے یہ، گِلّی” ہے، اور اسکے نیچے ، لیور ، کے سے انداز میں ،ڈنڈے، سے گلی کو دور اچھال کر پھینکا جائے گا۔ سامنے کھڑے لڑکے مستعد ہیں کہ گلّی کو ہوا ہی میں اچک لیں۔ گلّی کسی کے ہاتھ  ” کیچ” ہوگئی تو آوٹ کا شور ورنہ جہاں گری ہے وہاں سے کسی نشانچی نے تاک کر ، بل پر رکھے، ڈنڈے کا نشانہ لیا اور پھر آؤ ٹ  کا شور مچا۔ لیکن ہیں یہ کیا ہوا، نشانہ خطا ہو گیا۔ لیجیے ڈنڈے والے صاحب فاتحانہ انداز میں گلی کے پاس پہنچے اورنعرہ لگایا” ہل جل صاف صوف”۔۔یعنی انہیں اختیار ہے کہ گلی کے نیچے سے مٹی، کنکر وغیرہ ہٹا سکتے ہیں۔ اب گلی کی نوک پر ضرب لگا کر ہوا میں اچھالا اور ڈنڈے سے زور دار” ٹٰلّا” لگایا۔ گلی ہوا میں لہراتی دور گئی، کچھ لونڈے اسے لپکنے دوڑے لیکن ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ باری لینے والے نہ کہا ،ایک، اور اب  آگے بڑھ کر وہی عمل دہرایا اور کہا ، دو، پھر آگے بڑھ کر تیسرا ، ٹلّا، لگایا اور گلی کے گرنے کی جگہ سے ،بل، کی طرف دیکھ کر، کچھ اندازہ لگایا اور باآواز بلند اعلان کیا۔ یہاں سے مانگے پچاس، مخالف نے بھی نظروں سے فاصلے کو جانچا اور کچھ سوچ کر کہا ۔دیے!! اب ڈنڈا بل پر واپس رکھا جائے گا یا اگر بل بہت دور ہے تو گلی اس جانب پھینکی جائے گی۔ اگر جتنے ،مانگے ، اتنے نہیں دئیے تو اب ڈنڈے کے مدد سے متنازعہ فاصلہ ناپا جارہا ہے۔ اگر فاصلہ مکمل ہے تو ٹھیک ورنہ پچھلے سارے ۔ مانگے ہوئے”گُھل” گئے۔

کسی دن یہ گلی ڈنڈا، مربعے، کے اصول پر کھیلا جاتا ہے اور اس میں بل نہیں بنتا بلکہ ایک عدد گز بھر کا مربع زمین پر کھینچ کر کچھ مختلف قواعد کے تحت کھیلا جاتا ہے۔

اور یہ بل والا ہو یا مربعے والا۔۔ صدیق مستری  کو بالکل پسند نہیں کہ ایک دن ایک لونڈے کا شاندار ، ٹلا، سیدھا ان کے سر سے آٹکرایا تھا اور آنکھ بال بال بچی تھی اور اس دن سے وہ ان، سسرے لمڈو ، سے نالاں تھے۔
اور ان سب سے ہٹ کر یہاں دیکھیں کیا ہو رہاہے۔ یہ فیضی بھائی ہیں، استاد پتنگ باز۔۔ ایک لکڑی کے بڑے سے کیس میں بڑی بڑی ، رنگ برنگی پتنگیں رکھی ہوئیں۔ ایک صندوقچی میں چھوٹی بڑی چرخیاں۔ ایک بڑی سی چرخی پر سفید ، سادی، دور لپٹی ہوئی۔ دوسری چرخیوں میں سرمئی، نارنجی، سرخ اور طرح طرح کے رنگوں کے ، مانجے، الٹی بل کا مانجا، سیدھی بل کا مانجہ، اور یہ سفید ،انڈئی، مانجا جو ٹوٹ کر نہ دے کہ انڈا پلایا گیا ہے۔

فیضی بھائی نے پتنگوں میں سے ایک منتخب کی، ،کانپ، ٹھّڈے، بغور جانچے، کنّے باندھ کر پھر جائزہ لیا پتنگ کی نوک اور دوسرے سرے پر دونوں ہاتھوں سے ہلکا سادباوٗ ڈال کر سر پر رگڑا۔ پتنگ پر بالوں پر لگے تیل کی چمک ابھر آئی۔

زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی اور ہوا میں اچھال کر ہوا کے رخ کا اندازہ کیا۔ ڈور کنوں سے باندھی جاچکی ہے، ہاتھ کی ٹھمکی سے پتنگ کو اونچا اڑانے کی کوشش کی، ہوا تیز نہیں ہے۔ پاس کھڑے لونڈے کے ہاتھ پتنگ تھمائی، جابے!!، درگائی دیجیو!! لڑکا الٹے قدموں چلا جا رہا ہے، پندر بیس قدم پر رک کر درگائی دی اور پتنگ ،شوں شاں کرتی فضا میں بلند ہوگئی۔

فیضی بھائی کے دائیں جانب ان کا سالا چرخی لئے کھڑا ہے اور اسے خوب پتا ہے کہ کب ڈھیل دینی ہے اور کب چرخی لپیٹنی ہے۔

لیجئے پیچ پڑگیا۔ ڈھیل پر ڈھیل دی جارہی ہے، سامنے میدان میں لونڈوں کی نظریں دونوں پتنگوں پر ہیں، کچھ صرف مانجا اور ڈور لوٹنے کیلئے کھڑے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں ، جھاکڑ، ہے کہ اس کا قد چھوٹا ہے اور اس کا ہاتھ ڈور تک نہیں پہنچ سکتا لیکن وہ درخت کی اس ٹہنی (جھاکڑ) سے سب سے پہلے پتنگ لوٹے گا۔

فیضی بھائی استاد پتنگ باز ہیں۔ اگر پتنگ کٹ جائیے تو ڈور۔ وہیں سے توڑ دیتے ہیں کہ ایسی دغاباز ڈور کو رکھ کر کیا فائدہ جس نے ناک ہی کٹوادی۔

آس پاس اور بھی بچے پتنگیں اڑا رہے ہیں۔ آئیے انہیں یہیں چھوڑ کر گلی کی طرف چلتے ہیں۔

یہ دیکھیں نکڑ پر کچھ لڑکے ہاتھوں میں ،لٹو، لئے تیزی سے اس پر ،لتی، (ڈور) لپیٹ رہے ہیں۔ زمین پر بنے ایک دائرے میں تیزی سے گھومتے ہوئے لٹونچا رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے کہ رہا ہے یار تیرا لٹو تو بڑا۔ بھِن ، ہے ، ذرا بھی آواز نہیں، میرا تو بڑا کھڑ کھڑیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  سوشل میڈیا کے وڈے منڈے۔۔ عمران حیدر

یہ کیا ہوا۔ بحث ہورہی ہے۔ ابے “گتّے گتّے ” کی بدی تھی۔ دوسرا کہہ رہا ہے یار میں تو صرف “آرم پار” ہی کھیلتا ہوں میں ،گتّے، نہیں مارتا، لٹو لیتا ہوں۔اور یہ کچھ بچے چپٹا سا لٹو چلا کر خوش ہو رہے ہیں۔ یہ ، چکری ، لٹو ہے جوصرف مزے لینے کیلئے چلایا جاتا ہے ۔ کھیل میں استعمال نہیں ہوتا یعنی ریس کا گھوڑا نہیں ہے۔

اور یہ جولڑکا دیوار کے ساتھ کھڑا زمیں پر چھوٹے سے گڑھے پر ایڑی رکھے گھوم گوم کر رگڑ رہا ہے اور دوسرے اس سے کچھ ہٹ کر ایک لکیر کھینچ رہے ہیں اور ایک نے دوتین گز کے فاصلے پرایک پتھر رکھ دیا۔

ان کے ہاتھوں میں کنچے (کانچچ کی گولیاں)ہیں ۔ یہ اپنی اپنی گولی اس گڑھے تک پھینک رہے ہیں۔ کوئی بحث شروع ہوگئی کہ میری گولی یا بنٹا ، پل، کے نزدیک ہے دوسرا دعویٰ کر رہا ہے لاوٗ۔” تڑ” لو۔ اب انگوٹھے اور چھنگلی انگلی سے بالشت بھر کا فاصلہ “تڑا” جارہا ہے۔

کھیل چل رہا ہے۔ بہت ساری گولیاں ، پِل، کے آس پاس ہیں ایک لڑکا ایک گولی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دوسری جانب پتھر سے ذرا پیچھے کھڑا لڑکا نشانہ لگاتا ہے اور مقررہ گولی کو صفائی سے اڑا دیتا ہے اور جوش جذبات میں جیتی ہو گولیاں سمیٹمنے آگے بڑھ رہا ہے کہ دوسرے قانونی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ابے تو نے”کھٹکے سے”  نہیں کہا۔ لیجئے جیتنا ایک طرف اسے تو” ڈنڈ” پڑگیا۔ اب اسے ایک اور گولی کھیل میں شامل کرنا ہوگی۔اور یہ بچے بھی کنچوں سے ہی کھیل رہے ہیں لیکن یہ زمین پر پنجوں کے بل بیٹھے، ٹونٹ، کہنی اور پل کھیل رہے ہیں۔

یہی بچے بڑے ہوکر دعویٰ کرینگے کہ ہم نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔

کچھ بچے یہی کھیل کھیل رہے ہیں لیکن کنچوں سے نہیں بلکہ ، املی کی گٹھلیوں ( چیاں) یا اخروٹ سے گولیوں کا کام لیا جارہا ہے۔

اور یہ دیکھیں اس لرکے کو کہیں سے سائیکل کا پہیہ مل گیا ہے اور اسے وہ ایک فٹ بھر کی لکڑی سے ایسی مہارت سے آگے دھکیل رہا ہے گویا سائیکل ہی چلا رہا ہے لیکن منہ سے ووں ووں کی سی یعنی موٹر کار کی آوازنکال رہا ہے۔

کچھ دن پہلے بارش ہوئی تھی۔ زمین ابتک کہیں کہیں سے نم اور نرم ہے۔ لرکے ان پر سریے گاڑ کر آگے بڑھتے جارہے  ہیں۔ او ہو یہاں زمین کچھ سخت ہے، سریا نہیں گڑا اور زمین پر گر گیا۔ لیجئے ملزم، لنگڑی ٹانگ سے وہاں دوڑتا جا رہا ہے جہاں سے کھیل شروع کیا گیا تھا۔

یہ کچھ بگڑے ہوئے سے لڑکے لگتے ہیں۔ ان کے پاس مختلف برانڈ کے رنگ برنگے سگریٹ کے پیکٹ ہیں اور یہ تاش کے انداز میں”پاکٹ” کھیل رہے ہیں۔یہ کچھ کچھ جوا سا ہے۔

اور یہ کیا واہیات سا کھیل ہے۔ یہ دروازوں اور دیواروں کے پیچھے کوئلے یا چاک سے چھوٹی چھوٹی لکیریں لگائی جارہی ہیں۔ جی ہاں یہ” کِل کِل کانٹا”ہو رہا ہے۔ پہلی بار کھیلنے پر ہی کسی دیوار کے مالک سے ایسی مار پڑی کہ پھر نہیں کھیلا۔

اور یہ میاں ،گُدّی، پر ہاتھ رکھے کیوں چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پانچ بجے کی ،گدّی پکڑ چانٹا، کی رکھی ہوئی تھی اور محتاط ہیں کہ کہیں ان کا دوست اچانک ااکر گدّی پر چانٹا نہ جڑدے۔

اور دوست جس نے کسی اور کے ساتھ ، پابچ بجے کی، اسٹاپ ، کی رکھی ہوئی تھی وہ اس ے ڈھونڈ رہا ہے تاکہ وہ اسے ، اسٹاپ، کہ کر اس وقت تک ساکت حالت میں رکھے جب تک وہ اگلے وقت تک کیلئے ملتوی نہ کر دے۔ اس بیچ اگر اس کا دوست ہل گیا تو پیٹھ پر سات یا پانچ مکے اس کا مقدر ہیں۔

اور ان بچوں کو کیا سوجھی ہے کہ ہر آنے جانے والے کو دوڑ کر چھو رہے ہیں اور کہتے جارہے ہیں دو، تین، چار۔

ہاں جی، یہ ،سات کھڑوں کو چھو لو،، کھیل رہے ہیں۔

اور ایسے ہی کئی کھیل یہ بے وقوف بچے کھیلتے تھے جن میں کوئی پیسہ یا سامان نہیں لگتا تھا۔ کھیل کے اصولوں کی پابندی انکے ایمان کا حصہ تھا اور ،بیمنٹی، کرنے والے ہمیشہ کیلئے ناپسندیدہ قرار پاتے۔ لفظ ، بور، ان کی لغت میں شامل نہیں تھا اور یہ بچے پتھر، سریا، سگریٹ کے پیکٹ اور سائیکل کے پہیے میں بھی وہ کچھ حاصل کرلیتے جو کسی ائی پیڈ، اینڈرائیڈ فون  اور ہزاروں کے پلے اسٹیشن میں کبھی نہیں مل سکتا۔

آئیے کچھ دیر آنکھیں بند کریں اور زور سے دہرائیں

اکّڑ بکّڑ بمبے بو
اسّی نوّے پورے سو

ایمان سے بتائیں کہ آپ کہاں پہنچے ہوئے ہیں؟

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اکّڑ بکّڑ بمبے بو۔۔شکور پٹھان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *