فلاحی اداروں میں چمکتاامن فاؤنڈیشن۔۔مہناز سبحان

خدمت خلق کا مفہوم ”مخلوق کی خدمت کرنا ہے رضائے حق حاصل کرنے کے لیے تمام مخلوق خصوصاً انسان کے ساتھ جائز امور میں مد د دینا ہے “لوگو ں کی خدمت سے انسا ن نہ صرف لوگوں کے دلوں میں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی عزت وحترام پاتا ہے دوسروں کو نفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضا ہے۔ ایک سچے مسلمان کی یہ نشانی ہے کہ وہ ایسے کام کرے، جس سے عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔مثلاً رفاعی ادارے بنانا، ہسپتال وشفاخانے بنانا، سکول وکالجز بنانا، دارالامان بنانا وغیرہ، یہ ایسے کام ہیں کہ جن سے مخلوقِ خدا فیض یاب ہوتی ہے اور ان اداروں کے قائم کرنے والوں کے حق میں دعائیں کرتی رہتی ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کی ٹیم کو ایک رفاعی ادارے کے مطالعاتی دورے پر بلایا گیا یہ ادارہ امن فاؤنڈیشن جو کراچی میں ایمبولینس سروس کی وجہ سے جانا جاتا ہے مگر اس کے علاوہ ان کا منصوبہ عوام الناس کی خدمت کرنا ہے اور وہ اس کار خیر کو بہت خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے ان کے مشن کی پہلی سیڑھی کراچی کے عوام کے لیے ایمبو لینس فراہم کرنا ہے جس سے لوگوں کی جان بچا ئی جا سکے اپنے اس مشن کا با قاعدہ آغاز 2007 میں خدا کی بستی سے کیا جہا ں  سکولوں میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں بچوں کو مفت صحت بخش کھانے فراہم کیے گئے تا کہ والدین بچوں کو  سکول بھیجیں اور ایک امن گھرقا ئم کیا یہ منصوبہ کامیاب رہا اور اب تک امن فاؤنڈیشن نے پو رے کر اچی کے امن گھر کے ذریعے 4ملین لوگوں کوکھانا فراہم کر چکے ہیں اس منصوبے کی کا میا بی کے بعد 2009میں امن ایمبو لینس سروس کا آغاز کیا گیا اور دس امن ایمبو لینس اسی سال پورے کراچی میں چلا ئی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں  آؤ امن قائم کریں۔۔شاہد شاہ

2011میں باقاعدہvocatinal traing institudeکا انعقاد کیا گیا جہا ں امن ایمبو لینس میں کام کر نے والے پیرا میڈیکل عملے کو تر بیت دی جا تی ہے۔ اب تک پورے کراچی میں کُل چھ اسٹیشنز موجود ہیں اور 90پوانٹس بنائے گئے ہیں تا کہ کم وقت میں زیا دہ سے زیادہ سروس فراہم کی جاسکے۔ٹوٹل80 ایمبولینس مو جود ہیں جس میں 60روڈ پہ چلا ئی جا ری ہیں با قی ایمبولینسز اس لیے   رکھی گئی ہیں تا کہ روڈ پہ چلنے والی ایمبولینس خراب ہو جائے تو بغیر کسی رکا وٹ ایمبولینس کی سروس جاری رکھی جا سکے ۔جان بچانے والی ان ایمبولینسز میں وہ تمام جدید آلات موجود ہیں جن سے مریض کو ہسپتال تک لے جانے کے دوران ہی طبی امداد دی جا سکے ۔ان ایمبو لینس سرو س کا پو را سسٹم ایم پی ڈی ایس(میڈیکل پیر یو ر یٹی دیسپا چ سسٹم ) کہلا تا ہے جو کہ 911 کے سسٹم کے تحت چلا یا  جا تا ہے ۔امن ایمبو لینس کی تین اقسام ہو تی ہیں جن کے نام اے سی ایل ایس(ایڈوانس کا ر ڈ یو لا ئف سپورٹ) دوسری اے ایل ایس (ایڈا نس لا ئف سپو رٹ) اورتیسری  بی ایل ایس (بیسک لا ئف سپو رٹ )ہیں۔

جب 1021 نمبر پہ کال کی جاتی ہے تو ایم پی ڈ ی ایس مر یض کی حالت کو مد نظر رکھتے ہو ئے فیصلہ کر تی ہے کہ کو ن سی ایمبو لینس سروس فراہم کی جائے۔ایمبو لینس میں میڈیکل ٹیکنیشنز۔ ڈاکٹرز، 56 سے زائد ادویات اور تمام جدید آلات نصب کیے  گئے ہیں جن میں آکسیجن مشین ۔ای سی جی ،بلڈ پریشر مشین اور خون پہ قابو پانے والے تمام آلات مو جو د ہیں جس سے مر یض کو فو ری طور پر طبی امداد مہیا کر کے زندگی بچا ئی جا سکے ۔ ان ایمبو لینسز اور تمام اسٹشنز کا بر وقت رابط اپنے سٹےلا ئٹ کمانڈ کنٹرول سٹسم سے مستقل رہتا ہے تا کہ دوران سروس کسی بھی قسم کی کوئی مشکل در پیش ہو تو بر وقت قابو پایا جا سکے ۔ امن ایمبولینس سروس کے چار جز بھی مناسب ہیں مر یض کو گھر سے ہسپتال تک 1000 روپے اور پرائیو ٹ ہسپتال سے دوسرے  کسی پرا ئیویٹ ہسپتال تک 2000چار جز لیے جاتے ہیں ۔امن فاؤ نڈیشن کا انسا نیت کی خدمت کا جذبہ یہاں تک ہی نہیں ہے بلکہ وہ ہر طرح سے خدمت خلق کرنے کا جذبہ رکھتی ہے ۔ کراچی کی دوسری بڑی گریجو یٹ اسی ادارے میں کروائی جاتی ہے۔اور وہ تمام سہولتیں دی جاتی ہیں جس سے طلبہ کو کسی بات کا احساس نہ ہو کہ وہ ایک فاؤنڈیشن میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں : گداگری اور اس کے اسباب۔۔محسن علی

اب تک 2800سے زائد طلبہ کو گریجو یٹ بنا چکے ہیں.کل۲۱ کورسز کروائے جا رہے ہیں جن میں آٹو مو با ئلز ، میکنیکل ، ا لیکٹریشن، ڈینٹر، ویلڈر ،کارپینٹر ،آپر یٹر اورخو ا تین کے لیے سلا ئی کڑ ھا ئی سر فہر ست ہیں یہ ہی نہیں بلکہ ٹیلی ہیلتھ سسٹم قائم کیا گیا ہے ۔ جہاں ڈاکٹرو نرس بر وقت موجود ہوتے ہیں ۔ 9123 نمبر ملا کر گھر بیٹھے مریض کو مفید مشورے دیے جاتے ہیں۔ ان تمام خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے2014 میں ایشیاءکی بہترین ای ایم ایس سروس کا ایوارڈ وصول کرچکے ہیں اور2017 میں ایکسیلینس ایوارڈ بھی وصول کر چکے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے ، جو کام ہماری حکومت کو کرنا چاہیے وہ کام امن فاؤنڈیشن ، ایدھی ،چھیپا جیسے ادارے سر انجام دے رہے ہیں۔ امن ایمبولینس سروس کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنے  عطیات اس ادارے کو دے کر اس کارِخیر میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے تاکہ امن فاؤنڈیشن اپنا مشن جاری رکھتے ہوئے عوام الناس کی خدمات سر انجام دیتا رہے۔

Avatar
مہناز سبحان
مہناز سبحان، اسکول آف جرنلزم کی طالبہ ہے گھومنے پھرنے ، کتب بینی اور لکھنے سے شغف رکھتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *