رنگروٹس اور بیس نمبریاں

رستم زماں گاما پہلوان کو ایک بار کشتی لڑنے کے لئے آمادہ ہونے پر بھاری رقم کی پیشکش کی گئی ۔معصوم اور سادہ لوح گاما کو رقم کی مالیت کا اندازہ نہیں تھا۔ پوچھا کتنی رقم ہے؟ کیا بیس بیسی سے بھی زیادہ ہے ؟ تب بیسی کو پیمانہ مقرر کرکے لین دین کیا جاتا تھا اور بیس بیسی یعنی چار سوسے آگے عام لوگوں کی گنتی گننے کی ہمت جواب دے جاتی تھی۔ رستمِ زمان کبھی چت نہیں ہواتھا اس حساب کے ہاتھوں چت ہوگیا۔سادہ دور تھا تب ۔ ویسے بھی بقول یوسفی صاحب ہم حساب میں کمزور ہونے کواپنے مسلمان ہونے کی دلیل گردانتے ہیں۔

آج جس طرح ہر طرف غلغلہ مچ رہا ہے باحجاب ہونے پر 5اضافی نمبرز دینے یا نہ دینے کا،اس پر ہمیں بھی اپنے ایامِ نوجوانی میں این سی سی کے اضافی بیس نمبرز یاد آگئے ۔جو اسی اور نوے کی دہائی میں انٹر پاس کرنے والوں کواین سی سی کی تربیت مکمل کرنے پر دیے جاتے تھے .اور مارکس شیٹ کے ساتھ یہ اضافی 20 نمبر وں کا دم چھلا دیکھ کر دل اچھل اچھل جایا کرتا تھا .
کالج میں نئے نئے آئے تو اک جہاں دگر درپیش تھا۔ بہت ساری اہم غیر نصابی سرگرمیاں تھیں جن سے اغماض ،وقت کے نباض کا شیوہ نہیں تھا۔ اہم امور میں کالج کی کینٹین میں بیٹھ کرمقدمہ شعر و شاعری کی بجائے جگت بازی اور لطائف پر واشگاف قہقہے اور چہچہے، اسٹوڈنٹ یونین میں پنگے ،دنگے اور کبھی کبھی پتنگے بن کر کسی شمع کو گرلز کالج سے گھر تک اپنی ذاتی اسکارٹ چھوڑنابھی شامل تھا۔کھیل تماشوں اور اور تاش سےکبھی وقت بچ رہتااور جب دل اداس ہوتااور کوئی آس پاس نہ ہوتا تو کلاس بھی پڑھ لیا کرتے تھے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے۔

این سی سی کی کلاسز کی شنید اپنے سینئیرز سے مل چکی تھی .بیس دن پر محیط یہ کورس دس دس دنوں کے دو حصوں پر مشتمل ہوتا تھاجسمیں رنگروٹوں کوعملی تربیت دی جاتی تھی ،ممکنہ امکانی صورتحال سے ڈرایا جاتا کہ پریڈ گراؤنڈ میں ڈرل ،لیفٹ رائٹ لیفٹ اور نعرہ تکبیر اور حیدری نعرے گونجیں گے .بھاری فوجی بوٹوں کی دھمک سے دل دہلائے جائیں گے اور کسی مٹیار کی جگہ رائفل کو بانہوں میں بھر کر بھاگنا پڑے گااور اگر ڈسپلن کی خلاف ورزی کی تو گراؤنڈ کے چکر اور لڑھکنیاں لگوائی جائیں گی .

کالج میں داخلے کے بعد خزاں شروع ہوا چاہتا تھا جب کالج میں مستقل ڈیرہ ڈالے ہوئے حوالداران اور ان کے انچارج صوبیدار صاحب کے سامنے سب اپنی اپنی درخواستیں ہجوم کی شکل میں جمع کروانے پہنچ گئے .بھرتی کا معیار دھرتی سے پیار کے ساتھ ساتھ چیتے جیسی رفتار، خوش گفتار اور باکردار ہونا بالکل بھی نہیں تھا۔نیک چلنی اور کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ بس نبض اور سانس چلتی ہو ۔ اوصاف حمیدہ کی جگہ کمرخمیدہ نہیں ہونی چاہئیےتھی ۔ ان تمام شرائط پر پورا نہ اترنے کی اہلیت کسی میں نہیں تھی سو تمام کے تمام اس کام مطلب جام اٹھانے کے لئے منتخب کر لئے گئے .

آج تو بات حجاب لینے یا نہ لینے پر نمبر دینے کی ہورہی ہے .تب بلا امتیاز تمام طالب علم اور طالبات ان 20 نمبروں کی حقدار تھیں۔ بس اک ذرا بیچ میں ٹریننگ کی سدِ سکندری حائل تھی جسے کسی نا کسی طور عبور کرنا پڑتا تھا مگر میڈیکل کالج اور انجئینرنگ یونیورسٹی اور اچھے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے ان دس ضرب دو نمبری کے لئے ـ آمناو صدقنا ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم گاتے اور گنگناتے پھرتے تھے .ان بیس نمبروں کے لالچ نے بڑے بڑے بزعمِ خویش پڑھاکو اور چالاکو بچے بچیوں کی بھوتنی بھلا رکھی تھی اور نیم خواندہ حوالداروں کے سخت ڈسپلن اور ٹریننگ کے نام پر روا رکھے جانے والے سلوک کے سامنے سر تسلیم خم اور سیلوٹ مارنے پر مجبور کر رکھا تھا .

وردی کے لئے خاکی پتلون اور شرٹ کا کپڑا خریدنے سے سلوانے تک اور فوجی اسٹور سے جوتے خریدنے تک کے تمام مراحل ہنسی خوشی اور شتابی سے طے کئے گئے۔سبز فوجی ٹوپیاں سر پر ترچھی کرکے ان دنوں کے مقبول عام گانے ترچھی ٹوپی والے بابو بھولے بھالے گنگناتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر فرضی بڑی بڑی مونچھوں کو تاؤ دیا جاتا اور علی الصبح فل تیار شیار ہوکر کرکٹ گراؤنڈ میں سب فال اِن ہوجاتے۔ چالیس سے پچاس رنگروٹس کا دستہ تشکیل دے کر ایک حوالدار کےسپرد کر دیا گیاتھا کہ تو مشق ناز کر ان اٹھتی جوانیوں پر ۔اور جو جوش اور ولولہ ان کے خون سے ٹپکا پڑتا ہے اسے پسینے کی شکل میں بہا دے۔

سیدھے چل ، اباؤٹ ٹرن ، اٹینشن اور ایٹ ایز کے حکم ناموں سے بہت جلد سب واقف ہوگئے ۔ کِس طرح کَس کر سیلوٹ مارا جاتا ہے اور حکم بجا لایا جاتا ہے یہ بھی آپ ہی آپ میکانکی انداز میں درست ہوتا گیا ۔ڈرل کی اس شدت اور بار بار دہرائے جانے کے عمل سے کچھ نازک مزاج بے ہوش اور چکر آنے کا ڈرامہ کرکے چند لمحوں کے ریسٹ کے مستحق بن جاتے مگر دوبارہ پھر اسی چکی میں دھکیل دیے جاتے ۔پورے کالج میں چند ہی سرپھرے ملے جو اسے تضیع اوقات سمجھ کر شامل نہیں ہوئے کہ ان دنوں کالج میں کلاسز نہیں ہوتی تھیں اور حصہ نہ لینے والے مزے سے چھٹیاں مناتے اور ہم انہیں حسرت بھری نگاہوں سے تکا کرتے اور دل ہی دل میں گالیاں بکا کرتے۔

ہمارے گروپ کاانچارج حوالدار کشمیری النسل گورا چٹا لال سیبوں جیسے گال والا شریف النفس انسان تھا۔ سگنل کور سے تھا مطلب اشارے بازی کا ماہر ۔ہم اسے گانا سنایا کرتے اشاروں اشاروں سے ڈرل کرانے والے ، تمہیں ہم سے کیوں شکایت ہوگئی ہے ؟ ہماری حرمزدگیوں کو حتی الوسع نظر انداز کرتا۔ مگر جب بھی اس سےمعکوس رنگت و مزاج والے پنجاب رجمنٹ کے صوبیدار صاب جو گولیوں کی بجائے گالیوں کی فائرنگ پر ذیادہ یقین رکھتے تھے ، کی نظرڈسپلن کی خلاف ورزی پر پڑ تی تو اس کی فہمائش کےساتھ ساتھ ہم سب کی بھی شامت آجاتی اور ڈنڈ بیٹھکوں کے ساتھ ساتھ گراؤنڈ کے چکر۔

ایک دن ڈرل کے خاتمے پر کسی کام سے جھنگ بازارگیا تو وردی پہنے دیکھ کر ایک لوہار نے فوجی سمجھ کر گرم لوہے اور مجھ پر ایک ہی سانس میں وار کیا۔ شاگرد جو لوہے کو ہتھوڑے کی ضربوں سے کوٹ رہا تھا کوغصے سے بولا۔ ہاتھوں میں جان نہیں کیا ؟ زرا زور سے ضرب لگا،ایسے ہی جیسے ہمارے فوجی بھائی سرحدوں پر دشمن کو لگاتے ہیں ۔سرحدوں کا تو پتہ نہیں مگر دہشت گردوں کے خلاف اندرون ملک ضرور ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں فوجی بھائی الحمدللہ۔

عملی تربیت کے ساتھ ساتھ فوج کے تمام متعلقہ محکمہ جات کے بارے کماحقہ پڑھایا جاتا اور آلات حرب کی پہچان اور ان کے استعمال کے بارے بھی معلومات دی جاتیں۔جب فائنل پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تیاریاں چل رہی تھیں تو ڈرل کرکے سب کے قدم یوں ایک ساتھ اٹھتے اور آگے بڑھتے لگتا کینٹ کی پریڈ گراؤنڈ ہے اور ریگولر آرمی کی پریڈ چل رہی ہے۔ سورڈ آف آنر اگر آپ کا خیال ہے ہمیں ملی تو آپ یقیناََ غلطی پر ہیں ۔یہ بلند رتبہ ایک اونچے لمبے میرے بچپن کے کلاس فیلو کو ملا جس کے ابا حضور کالج کے ہیڈ سپرنٹنڈنٹ تھے ۔اس کے آگے راوی مزید تفصیل بیان کرنے سے قاصر ہے کہ کیوں اور کیسے؟ کچھ باتوں کا انومان آپ خود بھی لگا سکتے ہیں۔

فائرنگ رینج میں جاکر چاندماری کرنا بھی تربیت کا اہم جزو تھا جسے مکمل کرنے کی صورت میں ہی سرٹیفیکیٹ عطا کیا جانا تھا۔فائرنگ رینج شاہ کوٹ کی وہ پہاڑیاں تھیں جہاں سے پتھر بھر بھر کر سڑکوں پر بچھایا جاتا تھا ۔ چوٹی پر شیر کے پنجہ لگے نشان کے ساتھ پیر صاحب کا مزار تھا ۔اس کی پچھلی طرف تنگ گھاٹی کے اندر رینج تھی ۔گول دائروں والے ٹارگٹ پر ہر کسی نے پیٹ کے بل لیٹ کر بیس بیس راؤنڈ فائر کرنے تھے ۔پہلے پندرہ راؤنڈ ٹارگٹ کے دائیں بائیں اور آخری پانچ ٹارگٹ پر ۔ایک ایک حوالدار ہر رنگروٹ کے سر پر کھڑا کیا گیا تھا کہ کہیں فرینڈلی فائرنگ ہی نہ کردے ۔درہ نما گھاٹی ہونے کی وجہ سے گولیوں کی دھائیں دھائیں دل دہلانے کے لیے کافی تھیں ۔آواز کی گونج کانوں کے پردے پھاڑنے والی تھی۔ ایک ہم جلیس جو ماہی منڈا ہونے کی وجہ سے پوآ* کہلاتا تھا مجھ سے اگلے بوریے پر لیٹا ہوا تھا اور باری آنے سے پہلے بہت نروس تھا ،کہنے لگا میں اگر انکار کردوں ؟ تو میں نے کہا !بیس نمبر اس مرحلہ پر گنوانے کا کیا فائدہ، حوصلہ رکھو ،کلمہ طیبہ اور آیت الکرسی کا ورد کرتے رہنا، سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ خدا خدا کرکے اس مرحلہ سے گذرا اور یوں لمبی سانس کھینچی جیسے کوئی مقتل سے جان بچا کر لوٹتا ہے۔ خیر سے آج کل ڈاکٹر صاحب آپریشن تھیٹر میں مریض کو لٹا کر یوں آپریشن کرتے ہیں جیسے جراحی بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ رنگ بدلتا ہے آسمان کیسے کیسے۔

کورس کی تکمیل پر سب کو سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا اور ساتھ ساتھ اس بات کا اعادہ بھی کروایا گیا کہ اگر وطن کو ضرورت پڑی تو آپ کی خدمات حاصل کی جائیں گی .بھلا بتائیں ،وطن کی خود مختاری پر آنچ آ رہی ہو تو کون پیچھے رہے گا ۔ ہماری پیشہ ورانہ خدمات سے مستفید ہونے کا موقع اللہ نے کبھی دلوایا ہی نہیں۔ جس ملک میں اتنی پروفیشنل آرمی موجود ہو وہاں اس کے مکین کیسے پیچھے رہیں گے اگر کبھی ضرورت پڑی تو۔جو کورس شروع میں نمبروں کے حصول کا ایک زریعہ لگ رہا تھا ،تکمیل کے بعد ایک بنیادی سول ڈیفینس سکھا گیا جو ساری عمر میں کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں کام آسکتی ہے۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *