جس قوم کو چار نکاحوں کی اجازت ہو۔۔اسد مفتی

فرانسیسی حکومت نے فرانس کے ایک مسلمان  شہری کو “وارننگ” دی ہے کہ وہ تعداد ازواج پر عمل پیرا ہے اور فرانس کے قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس لیے اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا جائے گا۔ اس مسلمان شخص نے کہا ہے کہ وہ صرف ایک بیوی رکھتا ہے اور باقی سب داشتائیں ہیں ۔

الجیریائی نژاد مسلمان  لیس حباج جو ایک قصاب ہے 2013 میں ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کی اور فرانس کا شہری بن گیا۔ حباج کا ،معاملہ اس وقت سامنے آیا جبکہ اس کی ایک بیوی نے شکایت کی کہ اس کو حجاب پہن  کر کار چلانے کی پاداش میں جرمانہ کیا گیا ہے۔ حباج پر الزام لگایا گیا کہ وہ چار بیویاں رکھتا ہے، حباج نے جواب میں کہا کہ اس کی قانونی طور پر صرف ایک بیوی ہے اور باقی سب داشتائیں ہیں ، اگر داشتائیں رکھنے سے فرانس کی شہریت ختم ہوسکتی ہے تو کئی فرانس کے لوگ شہریت سے محروم ہوجائیں گے، حباج نے بیوی کی موجودگی کو چھپا کر فرانس کی خاتون سے شادی کی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا ہے کہ وہ اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ادھر سعودی عرب میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہونے کے باوجود ملک میں ٖغیر شادی شدہ عربوں  کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ خواتین میں سے صرف 29 لاکھ دو ہزار 15 خواتین شادی شدہ جبکہ 30 سال تک کی وہ خواتین جن کی عمر شادی سے گزر چکی ہے ۔ان کی تعداد میں 18لاکھ 13 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان غیر شادی شدہ عورتوں کی اکثریت مکہ اور ریاض میں ہے۔،یہی وجہ ہے کہ یہ سعودی عرب میں غیر شادی شدہ عورتوں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کے لیے سعودی نوجوانوں کے ایک گروپ نے ایک سے  زیادہ شادیوں کی وکالت کی ہے ، اور ہر حجاز سعودی مرد سے درخواست کی ہے کہ وہ چار عورتوں سے شادی رچائے۔

گروپ  نے فیس بک پر اس کے لیے ایک مہم شروع کردی ہے، جس کا عنوان we want them four ہمیں چار کی ضرورت ہے ۔اس مہم کا مقصد غیر شادی شدہ  عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانا بتایا جاتا ہے۔ ہر چند کہ سعودیہ عرب میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد کا شمار نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سعودی معاشرے میں شادی مالی اعتبار سے   بڑے مہنگے سودے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

مہم چلانے والوں نے اپنی اشتہاری مہم میں کہا ہے کہ ہر سعودی مرد کو جو مالی اور جسمانی اعتبار سے ایک سے زیادہ شادیوں کا متحمل ہے وہ اس معاملے میں ہرگز ہچکچاہٹ سے کام نہ لے، اس طرح معاشرے میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے، جو شادی کے مہنگے اخراجات کا نتیجہ ہے۔
فیس بک میں عرب گھرانوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ شادی کو ایک دشوار مرحلہ نہ بنائیں اور لڑکے والوں پر جہیز اور دوسرے مالی  تقاضوں کا بوجھ نہ ڈالیں کہ اکثر نوجوان یہ “قیمت “چکا نے کے متحمل نہیں ہیں ۔ فیس بک پر یہ عجیب و غریب انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں  کرنے کا نظریہ کوئی اسلامی نظریہ نہیں ہے ،اسلام نے صرف اس کی شکل درست کی ہے ،اس لیے اہل مغرب ایک سے زیادہ بیویا ں رکھنے والے مسلمانوں کو شبے  کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، فیس بک کے آرگنائزرز کے مطابق  اب تک جتنی درخواستیں آئی ہیں ان میں سے بیشتر تیسری یا چوتھی بیوی کے لیے ہیں ۔

مسلمانوں   میں دوسری،تیسری،چوتھی کا حکم، رواج، یا ضرورت صرف سعودی عرب میں ہی نہیں بلکہ بہت  سے مسلم ممالک میں یہ “شوق” پایا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں زندگی ایک اور “خوشگوار” موقع سے دوچار ہوجائے گی۔ اور یہ بات اس وقت اور بھی یقینی  ہوجاتی ہے جب یہ دوبارہ یا  سہ  بارہ  شادی کا موقع ہوتا ہے،

یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں عقد ثانی کے خواہش مند کی تعداد میں اضافہ  ہوتا جارہا ہے، میں ایسے کئی پاکستانیوں کو جانتا ہوں جو عقد ثانی کے خواہش مند ہیں ، ایک مسلم شادی بیورو کا دعویٰ ہے کہ ان کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ارکان ہیں جن میں ہر ماہ پانچ تا دس ہزار کا اضافہ ہورہا ہے۔ جو اکثر یہ کہتے ہیں اس مرتبہ وہ ضرور رشتہ پورٹل سے بہتر انتخاب کرتے ہوئے اپنے لیے بہتر فیصلہ کریں گے۔
عقد ثانی کے بارے  میں جھجھک اور ہچکچاہٹ کا تیزی سے خاتمہ ہورہا ہے۔ مسلم ممالک میں طلاق کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شادی کے خواہشمندوں ( دوسری،تیسری،چوتھی) میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
طلاق شدہ افراد کا ایقان ہے کہ تلخ تجربہ کے بعد بھی وہ دوسری بیوی کے ساتھ “بہتر شادی شدہ  “ زندگی گزارسکتے ہیں ۔ ۔

سماج میں بھی اب دوسری شادی یا طلاق شدہ کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔،پچاس سے ساٹھ سال کے افراد بھی عقد ثانی کی دوڑ میں برابر کے شریک ہیں ۔ اور یہ بات ذہنوں میں جگہ پا گئی ہےکہ طلاق مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ دوسری یا تیسری شادی خوشگوار زندگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
پہلی بیوی کی موجودگی میں عقد ثانی کا معاملہ اب صرف بڑےشہروں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ یہ چھوٹے شہروں اور قصبوں تک پہنچ رہا ہے ایک مسلم ویب سائٹ نے دعو یٰ  کیا ہے کہ اس کے پاس یورپ،ایشیا، افریقہ اور یوایس اے کے پانچ سو سے زائد شہروں کے افراد کی رجسٹریشن ہے ،جن میں  سے بیشتر دوسری یا تیسری شادی کے خواہشمند ہیں ۔
دوسری شادی کے مسئلہ پر شرعی حوالے سے علما کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے،بہر حال اس خیا ل پر زور دینا شاید غلط نہ ہوگا کہ دنیا میں ہونے والی پیش رفت اور اسلام کے درمیان کوئی تعلق   ہے لیکن یہ خطرہ موجود ہے کہ اسلام کو الزام دھرنے کے لیے استعما ل کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں اور غیر مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمی بڑھتی جارہی ہے، لیکن اس بات سے بھی نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ ایسی عادات و روایات  جو اسلام سے متصاد م نہیں تھیں ۔انہیں نا صرف قبول کرلیا گیا بلکہ بعد ازاں مقامی باشندوں نے بعض روایات کو بسا اوات اسلام کا جز نہیں تو کم از کم اسلام  کے عین مطابق حرام قرار  دے دیااور پھر بتدریج کہنے اور سمجھنے لگے کہ یہ روایات درحقیقت اسلام کے کارکن اور سماجی ماہر نے سعودی نوجوانوں کو “بیرونی خواتین” کے ساتھ تو شادی کرنے کے خلاف انتباہ دیا ہے ۔

اس سعود ی دانشور کا اندیشہ ہے کہ مملکت میں کئی سعودی جوان لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہیں اس کے علاوہ غیر سعودی خواتین کے ساتھ شادیوں کے نتیجے میں کئی سماجی اور مالی مسائل پیدا ہورہے ہیں ان مسائل  سے بچنے کے لیے ضرور ی ہے  کہ جو سعودی نوجوان غیر سعودی خواتین سے شادی کے خواہش مند ہیں انہیں سرکاری طور پر پر اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا جیسے اسرائیل یا یہودی خاتون سے شادی کے لیے سرکاری طور پر اجازت لینی پڑتی ہے۔

شاہ مسعود یونیورسٹی کے سنٹر  برائے تحقیقات نوجوان کے معاون جنرل سیکرٹری نظارہ الصالح نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ جسے”بعض سعودی  شہری بیرونی ممالک کا محض اس لیے سفر کرتے ہیں کہ عارضی طور پر شادیاں کریں جسے”معیادی شادی”بھی کہا جاتا ہے، (یہاں  یہ بات  یاد  رہے کہ سعودی مردوں اور مصری خواتین سے پیدا ہونے والے ان “سفری بچوں “ کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے)سعودی شہری بیرونی ممالک میں قیام کی مہلت یا معیاد ختم ہوجانے کے بعد وہ اپنی ان غیر سعودی بیویوں کو طلاق دے دیتے ہیں ۔

نطارہ الصالح نے کہا ہے کہ سعودی شہری عارضی طور پر لطف اٹھانے کی خاطر اس طرح کے اقدامات کرتے ہیں جو خاندانی اقدار کے مغائر ہے،جو افراد بیرونی خواتین کےساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں وہ بیرونی ممالک میں ہی اپنی بیویوں اور بچوں کو بے سہارا و بے یار و مدد گار چھوڑ دیتے ہیں ۔اس سے کئی سعودی خاندان مسائل کا شکار ہوگئے ہیں ۔بالخصوص کئی سعودی دوشیزائیں بن بیاہی بیٹھی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت ،بیرونی خواتین کے ساتھ شادیوں کے معاہدات کو ہرگز قبول نہیں کرتی اور نہ ہی بیرونی خواتین ( بیویوں ) کو مملکت میں داخلے کی اجازت دیتی ہیں ۔

میں کچھ لوگوں کو جانتا ہوں جو بجلی گل ہوجانے پر الماری میں رکھی موم بتی  نہیں جلاتے بلکہ نزدیک کی دوکان سے مزید موم بتی  خرید کر الماری میں لا کر رکھ دیتے ہیں ۔

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جس قوم کو چار نکاحوں کی اجازت ہو۔۔اسد مفتی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *