آدھی گواہی (ورشا گورچھیا کا خاکہ)۔۔تصنیف حیدر

قصہ یہ ہے کہ میں خوبصورت لڑکیوں کا ہمیشہ سے دیوانہ رہا ہوں، اور پھر خوبصورت، شاعر اور ذہین۔یہ تینوں صفات تو بڑی مشکل سے ہی کسی شخص میں جمع ہوتی ہیں۔آدمی اپنی آدھی ادھوری فراغتوں کے ساتھ آج کل جس طرح فیس بک کو ٹٹولا کرتا ہے، میں بھی کرتا رہا ہوں۔ابھی مشکل سے ایک سال پہلے کی ہی بات ہوگی کہ میں نے ورشا کو فیس بک پر دیکھا، تصویریں دیکھتا رہا اور نہال ہوتا رہا، سوچا فرینڈ ریکوسٹ بھیجی جائے۔وہ تو بھیج دی، قبول بھی ہوگئی، مگر کافی عرصے تک ورشا سے کوئی بات نہیں ہوسکی۔یہ میرا مسئلہ ہے، میں جب بھی کسی بہت خوبصورت لڑکی یا عورت کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل کرلیتا ہوں، اکثر اوقات کئی کئی روز تک اس سے گفتگو نہیں کرتا، بس تسلی ہوتی ہے کہ وہ دوستوں کی کاغذی فہرست میں موجود ہے۔

ایسے ہی سوئیڈن میں رہنے والی ایک پاکستانی شاعرہ تھیں، بڑی خوبصورت معلوم ہوئیں، انہیں ایڈ کیا اور کئی روز تک ان سے بات نہیں کی، ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ چھوٹے بھائی تالیف ان کی تعریف میں پوسٹ شیئر کررہے ہیں، پھر ان دونوں کی دوستی ہوگئی ، پھر دوستی ختم ہوگئی اور کسی ایسے جھگڑے پر ختم ہوئی کہ محترمہ مجھے بھی بلاک کرگئیں،ایسے حسین اور خاموش تعلق کو اتنی بے دردی سے گنوادینے پر بھی میں بے چارہ زیادہ شکایت نہ کرپایا کہ اس کا موقع بھی نہ مل سکا تھا۔

خیر،شاید پچھلے سال مئی کا مہینہ تھا، جب کسی شعری پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا، اپنے دوستوں کے ساتھ ہال کی سیٹ پر بیٹھا ہوا گپیں ہانک رہا تھا کہ سامنے دیکھا،پچھلی طرف سے ایک لمبے قد، چھریرے بدن اور گورے رنگ کی بے حد حسین لڑکی بیٹھی ہوئی تھی، لمبی گھنگھریالی زلفیں گھنی کالی تھیں، وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ آئی تھی، جس نے پروگرام کے فوٹوز کھینچنے کی ذمہ داری لے رکھی تھی۔کیا پہن رکھا تھا، سوٹ یا ساڑی ، اب دھیان نہیں ہے، شاید سوٹ ہی پہنا ہوگا کہ ہلکی پیلی اور ہری رنگت کا سا کچھ دھیان آتا ہے، سوچتا ہوں ورشا سے پوچھ لوں ، مگر رات کے چار بج رہے ہیں، سورہی ہوگی۔

خیر، پروگرام جس وقت ختم ہوا تو ہم لوگ باہر نکل کر چھوٹے سے کیفے ٹیریا میں گئے، یہ کسی کالج سے ملحقہ ایک ہال تھا۔اس لیے کیفے میں کالج کے کچھ لڑکے لڑکیاں بھی موجود تھے، خوب رونق تھی، میں ادھر ادھر دوستوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔فوزیہ داستان گو اور ان کی دو تین سہیلیوں کے ساتھ محو گفتگو تھا اور کن انکھیوں سے برابر میں بیٹھی ہوئی ورشا کو دیکھ رہا تھا۔وہ ٹیبل پر بیٹھی شاید وپل کمار یا کسی دوسرے شخص سے بات کررہی تھی۔میں فوزیہ اینڈ کمپنی کی ٹیبل سے اٹھ کر برابر والی سیٹ پر گیا اور بیٹھتے ہی اس کو بتادیا کہ میں اسے جانتا ہوں اور اس کی نظمیں پڑھتا رہا ہوں۔ورشا نے کچھ یقین اور کچھ بے یقینی کے ساتھ سر ہلادیا۔اظہر اقبال ، جو دلی میں اپنی شرافت اوررواداریوں کے لیے خاصے مشہور ہیں، انہی نے یہ پروگرام کرایا تھا، چنانچہ وہ میزبان تھے،میں اس ٹیبل سے اٹھ کر تو چلا آیا مگر دوران گفتگو اظہراقبال نے اپنی مذکورہ شرافت کے ساتھ مجھے ایک بار ورشا کے لیے ایسا وارفتہ و پابستہ دیکھ کر چھیڑا بھی۔

خیر، بات آئی گئی ہوگئی۔میں وہاں سے چلا آیا اور میرے ساتھ گھر تک پہنچیں، ورشا کی تیز، سینے میں گہری اترجانے والی گھنی آنکھیں، جن کی تاب لانا جان عزیز کی حفاظت کے لیے بے حد ضروری ہوگیا تھا۔پھر کچھ روز بعد میں نے اسے میسج کیا، گفتگو ہوئی، نمبر لیا۔فون پر بات ہوئی اور ایسا ہوا کہ پوری رات ہوتی رہی۔نئے تعلقات پر اکثر ہر دو جانب سے محنت کرنی پڑتی ہے،اگر آپ کو انہیں استوار کرناہو، مستقبل میں کامیاب بنانا ہو یا وہ محض اس وقت اچھے محسوس ہورہے ہوں۔ورشا کے ساتھ یہ تینوں باتیں تھیں، وہ ہریانہ سے تعلق رکھنے والی ‘جٹی’ ہے۔اپنے انداز و اطوار، طریقے و سلیقے، بناوٹ و لگاوٹ اور غصے، جھنجھلاہٹ ، بردباری اور شرارت تمام چیزوں میں ایک ہریانوی شیڈ صاف محسوس ہوتا ہے۔حضرت ہریانہ کے کھیتوں سے لے کر سڑکوں تک ‘بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’ نعرے نے بہت شور مچایا ہے۔حالانکہ جو کہانیاں مجھے ورشا نے سنائیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ دہلی کے جلو میں آباد اس ریاست میں بیٹیوں کا اصل مقام کیا ہے، مقام شاید پھر بھی کوئی بڑا لفظ ہے، آپ اس کی جگہ اوقات پڑھ لیجیے۔خون اور تیزاب کی جھلیوں میں لپٹی ہوئی ہریانوی لڑکیاں، اپنے بنیادی حقوق کی لڑائی لڑنے تک سے کس طرح محروم رکھی جاتی ہیں، اس کا بیان ورشا سے جب سنا تو خوف سے بھری ہوئی حیرت نے اپنے حصار میں لے لیا۔وہ تو ایسی کہانیاں ہیں کہ اس مضمون میں ان کی جگہ نہیں نکل سکتی، ورنہ یہ بہت طویل ہوجائے گا اور ورشا کے خاکے کے بجائے ہریانہ کا خاکہ بن جائے گا۔ورشا ایک خود کفیل لڑکی ہے۔اس نے گھر والوں سے لڑ بھڑ کر اپنا جو حق منوایا ہے، اس کی داستان بڑی دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی۔

دہلی کے ایک دو ریستورانوں میں اس سے ملاقات اور فون پر کی جانے والی گفتگو سے مجھ پر یہ راز کھلا کہ وہ واقعی بے حد اچھی شاعر ہے۔اردو کے نستعلیق اور نفاست پسند ماحول سے کوسوں دور، تلفظ اور تراکیب کی دنیاؤں  سے ناآشنا ، وہ جو شاعری کررہی ہے، اس میں بے باکی، سفاکی اور شاعرانہ زیرکی کے پہلو صاف نظر آتے ہیں۔میں نے ایک رات اس کی کئی نظمیں سنیں، پھرانہیں منگوا کر پڑھا بھی اور مجھے وہ اس قدر پسند آئیں کہ ان کا تعارف لکھ کر ایک ادبی ویب سائٹ پر میں نے انہیں اردو میں شائع کروایا۔اس کی نظمیں میں پڑھا کرتا تھا، مگر ان پر ایسا دھیان میں نے نہیں دیا تھا، اب جب اس کے منہ سے سنیں ، اور ایک ساتھ بہت سی نظمیں تو ایک تاثر قائم ہوا۔مجھے حیرت ہوئی کہ اظہر اقبال سمیت دہلی کے وہ دوسرے افراد، جو جانتے تھے کہ ورشا اتنی اچھی شاعری کرتی ہے، کمال کی نظمیں لکھتی ہے، کیوں اب تک اسے ادبی نشستوں اور پروگراموں کا حصہ بنانے سے واضح طور پر کتراتے رہے۔شاید وجہ اس کا تلفظ رہا ہو، مگر تلفظ ، بحر یا پھر ایسی ہی بے کار کی چیزوں میں پڑ کر کسی کی شاعری کو پست درجے کی چیز سمجھنا یا اسے نظر انداز کرنا میرے نزدیک بالکل غیر ضروری سی بات ہے۔

ورشا کی نظمیں بتاتی ہیں کہ اس کی فکر اور شاعری کی صلاحیت بہت سے گھسے پٹے اور لکیر کے فقیر معاصر غزل گو شاعروں سے کئی گنا زیادہ ہے۔وہ لفظوں کو برتنے کا ہنر جانتی ہے، اس کے پاس زندگی کا عمیق مشاہدہ اورتلخ حقائق کا تجربہ اور کمال کی قوت برداشت ہے۔کچھ روز کی گفتگو کے بعد ورشا اکتا گئی، اسے لگا کہ شاعر صاحب تو پیچھے ہی پڑ گئے۔چنانچہ اس نے بات کرنی بند کردی۔میں نے ایک دو بار ملنے پر زور دیا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی اور ایک روز مجھے کھری کھوٹی سنادیں۔ادھر مجھے اپنی بے وقوفی کا جتنا احساس ہوا، ادھر اس کو کچھ ہلکی سی پشیمانی کا بھی سامنا کرنا پڑا، چنانچہ اس نے ڈانٹنے کے بعد پچکارا بھی اور کہا کہ وہ جلد مجھ سے کسی روز ملے گی۔

اصل میں ، کوئی کرے کیا۔جب اچانک اسے اتنی دولت ایک ساتھ مل جائے۔ایسی حسین لڑکی، بے باک، بالکل جیسی خیالوں میں سوچی جاسکتی تھی۔نہ جسے اپنے حسن سے فائدہ اٹھاکر شاعر کہلوانے کا شوق، نہ دوسروں کو بھائی جی، بھیا اور برادر کہنے کی جھوٹی عادت۔جس سے دل لگا، لگالیا، جس سے بات ہوئی کرلی۔جب تک ساتھ رہنا ہوا رہے، جب بیزار ہوئے تو پوٹلی اٹھا منظر نامے سے غائب۔میرے اور ورشا کے درمیان اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ یہ کہ ہم دونوں کو بہت محبت ہوتی ہے، بار بار ہوتی ہے اور جب بھی ہوتی ہے، جس سے بھی ہوتی ہے،شدید قسم کی ہوتی ہے۔یقین جانیے ہم دونوں نے آج تک کئی شناساؤ ں  کو یہ کہا ہوگا کہ ہمیں تم بے حد پسند ہو یا تم سے بہت پیار ہوگیا ہے اور ایک دفعہ بھی جھوٹ نہیں کہا۔خیر، اس کے ذکر خیر میں بلا وجہ اپنی عادتوں کا لستگا لگا کر میں خود کو کسی نہ کسی طرح اس جیسا ثابت کرکے خوش ہورہا ہوں۔البتہ وہ بہت سے معاملوں میں مجھ سے الگ ہے۔دہلی کی جھولا چھاپ جدید شاعرانہ کولونیاں عجیب سی سیاست کی شکار ہیں، ان جھولا چھاپ کالونیوں میں بڑی ویب سائٹوں کے ذریعے کیے جانے والے سالانہ جشن بھی شامل ہیں اور ٹچے مچے ادب فروشوں کے محلے بھی، جہاں خوشامد پرست اپنی اصلاح شدہ غزلوں کے خوانچے لگا کر روز شام کو میدان میں اترتے ہیں اور خود کو جون ایلیا سے لے کر ثروت حسین تک ثابت کرنے کی کوششوں میں جٹ جاتے ہیں۔وہ ایسے لوگوں میں کھری باتیں کہنے کی عادی ہے، جنہیں شرافت کے نام پر صرف جھوٹ سننے کی عادت ہے۔اس منافقت کی رواداد وہ نہیں ہوپاتی ، اس کے کٹیلے نینوں کے ساتھ ساتھ کٹیلے جملوں کو سننا بعض اوقات شاعروں کے لیے کافی مشکل ہوجاتا ہے۔رونے پر آجائے تو بقول ذوق دریا بہادے اور ہنسنے پر آئے تو زندگی کا بڑے سے بڑا غم اسے اپنی جگہ سے  ہلا  نہیں سکتا۔

حالیہ دنوں میں جب میں نے ‘دی بیل جار’ کا مطالعہ کیا تو وہ مجھےسلویا پلاتھ کے تراشے گئے کردار ایستھر گرین ووڈ کا عکس معلوم ہوئی۔حالانکہ میں ایسا چاہتا نہیں ، مگر پھر بھی دونوں میں کئی باتیں مشترک ہیں، جیسے کہ کسی سے محبت ہوجائے تو ہفتوں کے لیے غائب ہوجانا،کتنا بھی کھالینے پر پیٹ نہ نکلنا، راتوں کو نہ سوپانا، مختلف مردوں سے محبت کرنا اور اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ ایک والہانہ تعلق ہونا وغیرہ وغیرہ۔

اب یاد آیا، جب مجھے اس سے دوستی کا شرف حاصل ہوا، تو ایک شاعر صاحب کو اچانک میری فکر ہوئی اور انہوں نے مجھے یہ یاد دلایا کہ ورشا کا تعلق ہریانہ سے ہے اور ہریانہ کی لڑکیوں سے زیادہ تعلق کا مطلب مجھ جیسے دھان پان لڑکے کے لیے خسارے کا سودا بھی ہوسکتا ہے اور اس پر بیش یہ کہ ورشا کا سرنیم ‘گورچھیا ‘ ہے۔گورچھیا اصل میں گورکھشا کا مخفف ہے۔یہ بات مجھے خود پہلے ہی ورشا نے بتادی تھی، لیکن میں نیم کی طرح سرنیم کے لیے بھی یہی سوچتا ہوں کہ اس میں کیا رکھا ہے، مگر کچھ دلچسپ قصے بھی ہیں ، جو روشا کی ذات سے وابستہ ہیں، جن کا یہاں ذکر ضروری ہے۔ورشا ایک خالص روایتی خاندان سے تعلق رکھتی ہے،اس کے گھر میں پیسے کی ریل پیل ہے، والد کسی اونچے سرکاری عہدے پر ہیں، دو بھائی ہیں اور ایک بہن۔ماں بے حد سیدھی سادی ہیں، جن کےساتھ ورشا کا ایک جذباتی اور حقیقی سا تعلق ہے۔ورشا نے جب مجھے پہلی بار بتایا کہ جب اس پر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے اسے گھریلو بندی بنانے کی کوشش کی گئی تو کس طرح اس نے اپنے بھائی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرادی تو مجھے اس کی بولڈ نیس کا اندازہ ہوا، مگر پھر بھی ‘بھائی رے بھائی، تری کون سی کل سیدھی’والے اس معاشرے میں کبھی کبھی نڈر لڑکیوں کو روپوش بھی ہونا پڑتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ورشا کی والدہ کچھ روز کے لیے اس کے پاس دہلی رہنے آئیں، وہ انہیں مختلف جگہوں پر لے گئی،مال سے لے کر عمارتوں تک سبھی جگہ لے جانے کے لیے اس نے باری باری ہر جگہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے موبائل میں موجود ایپلی کیشن سے کیب بک کی اور اپنی والدہ کے ساتھ ان کی ایک سہیلی کے موجود ہونے کی وجہ سے وہ بشامت اعمال ہر دفعہ ڈرائیور کے برابر بیٹھ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ والدہ جب گھر پہنچیں تو انہوں نے واویلا مچایا اور رو رو کر اپنی بیٹی کے چال چلن پر افسوس کرنے لگیں کہ وہ تو دہلی جاکر بالکل ہی بگڑ گئی ہے،ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے ہر بار موبائل پر بات کرکے کسی نئے لڑکے کو اس کی گاڑی سمیت بلالیتی تھی اور خود اس کےبرابر بیٹھ کر مزے سے باتیں کرتی رہتی تھی۔اس کی والدہ کا یہ بھولپن اس کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا تھا، بھائی گھر سے بہن کی تلاش میں نکلا اور جب ورشا کو اس بات کی خبر ہوئی تو اسے اپنی ایک سہیلی کے ساتھ ہنگامی حالات میں کہیں اور شفٹ ہونا پڑا۔

ورشا کو میں نے بہت کم وقت میں قریب قریب ہر اعتبار سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔مجھے جب دوسرا شدید عشق اس کی موجودگی میں ہوا تو میں نے اسے بتادیا،وہ بہت خوش ہوئی۔اب ہم کافی گہرے دوست ہیں اور ایک دوسرے کے مزاج اور حالات دونوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ ورشا کے حسن کا جادو سر سے اتر گیا ہے ، وہ میرے لیے ابھی بھی حسین ہے، مگر میں نے اس کےبیرونی حسن کے ساتھ اس کے اندرون کا حسن بھی کھوج نکالا ہے اور کمبخت اندر سے بھی ایک دم چمچماتی ہوئی دھوپ کی طرح گرم و نرم ہے۔مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں،وطن سے محبت ہے، مگر وطن پرستی کا بھوت سوار نہیں ہے ۔اس نے دیویوں کو پوجنے والی اس دھرتی پر انہی کےچہروں، جسموں حتیٰ کہ شرمگاہوں پر پھینکے جانے والے تیزاب کی مہک کو بہت نزدیک سے محسوس کیا ہے،ایسے لوگوں کو دیکھا ہے، جن کو سوچ کر بھی نازک مزاج میر جی کو برسوں تک نیند نہ آسکے۔خود کے ساتھ بدسلوکی کی حد پار کرجانے والے مہذب شاعروں کی ہزاروں حرکتوں کو نظر انداز کیا ہے۔کھل کر بولنا سیکھا ہے اور غلط رویوں، منافق انسانوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت جٹائی ہے۔ایسی لڑکی ، ظاہر ہے کہ روز روز کہاں ملتی ہے۔

آج کل وہ بہت پریشان ہے، مگر اس مضمون میں اس کی پریشانی کا سبب میں نہیں بتا سکتا۔کسی خدا کو میں مانتا نہیں ، جس سے دعا   کروں، مگر چاہتا یہی ہوں کہ حالات بہتر ہوجائیں اور وہ اندر سے خوش اور مطمئن ہوسکے۔اب سارا کچھ اس کے اس چھوٹے سے خاکے میں تو میں لکھنے سے رہا۔ابھی تو اس پر آگے بہت کچھ لکھنا ہوگا، یہ تو ایک زندہ لڑکی کے حق میں دی جانے والی مجھ جیسے بدکردار لڑکے کی آدھی گواہی ہے، سو قبول کیجیے یا نہ کیجیے، آپ کی مرضی۔

سید تصنیف
سید تصنیف
تصنیف حیدر دلی میں مقیم شاعر، ادیب اور معروف بلاگر ہیں۔ آپ لمبے عرصے سے "ادبی دنیا" نامی بلاگ کے ذریعے اردو کی خدمت کرتے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *