غالب داورِ محشر کے حضور میں۔۔۔ شاہ محی الحق فاروقی

SHOPPING

صور کی مہیب آواز سے دل بیٹھا جارہا تھا۔ مُردوں کی دنیا میں ایک ہنگامہ سا بپا تھا۔ سب کے سب ایک دوسرے کو دھکا دے کر آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ قیامت آگئی، قیامت آگئی کا روح فرسا شور دلوں میں دہشت پیدا کر رہا تھا۔ صدیوں پرانی اور ٹوٹی پھوٹی قبروں سے مُردے ایسی عجلت اور افراتفری کے عالم میں نکل رہے تھے جیسے زلزلہ کی خبر سن کر گاؤں والے گاؤں چھوڑ رہے ہوں۔ اس عالمِ وحشت میں میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایک قبر کے پاس سے گذرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اُس کا مُردہ سکون اور اطمینان کے ساتھ سو رہا ہے۔

میں وہیں کھڑا یہ سوچنے لگا کہ یا خدا۔۔ یہ بے فکرا انسان کون ہے جسے اس عالم میں بھی نیند آرہی ہے؟ میرے قریب سے دو عجیب الخلقت ہستیوں کا گزر ہوا۔ اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:

یہ لاشِ بے کفن اسد خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

اسدِ خستہ جاں یعنی مرزا غالب کا نام سُن کر میں وہیں کھڑا ہوگیا اور اُن کے قبر سے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اُس لاش میں حرکت ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے ہُو بہُو غالب شکل اختیار کرلی۔ غالب جھنجھلائے ہوئے انداز میں چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ اُن کی چتون سے سخت غصہ کا اظہار ہورہا تھا۔کچھ دیر بعد جلے بھنے انداز میں انہوں نے کہا:

وائے واں بھی شورِ محشر نے نہ دم لینے دیا
لے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھے

تھوڑی دیر بعد انہوں نے نظر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو نہ صرف مجھے بلکہ مجھ  جیسے اور کئی بے فکروں کو اپنی طرف گھورتے پایا۔ یہ منظر دیکھتے ہی وہ کھڑے ہوگئے اور پھر اوپر نظر اٹھا کر ایک اپنائیت بھرے لہجے میں کہنے لگے:

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

ابھی ہم لوگ اس نظارے میں مشغول تھے کہ یک بیک کہیں سے آواز آئی، میدانِ حشر میں چلو اور بارگاہِ ایزدی سے اپنے فیصلے حاصل کرو۔ میں بھی لپک کر پہنچا۔ وہاں طرح طرح کے انسانوں کا ایک انبوہِ کثیر تھا۔ تمام لوگ اپنے اپنے مراتب کے لحاظ سے مختلف قطاروں میں کھڑے تھے اور اپنے اپنے اعمال کی جواب دہی میں مشغول تھے۔
چند ناموں کے بعد آواز آئی، اسداللہ خان غالب ولد مرزا عبداللہ بیگ خان ، حاضر؟
غالب آگے بڑھے اور سجدہ کرکے ایک طرف کھڑے ہوگئے۔
آواز آئی، اس شخص کا نامہ اعمال سناؤ۔۔
ایک فرشتے نے آگے بڑھ کر سجدہ کیا اور کہنا شروع کیا!
اے ہمارے رب! اس شخص پر الزامات تو بے شمار ہیں اگر ہم ان کی تفصیل میں جائیں تو وقت ختم ہوجائے مگر بیان ختم نہ ہو۔ اے معبودِ حقیقی اس شخص نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو راہِ مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کی۔ اس وقت تیری اجازت سے میں اس شخص کے صرف اُن اشعار کو پیش کرتا ہوں جن میں اس نے طرح طرح سے جنت کا مذاق اڑایا اور اپنی ان حرکتوں سے لطف اندوز بھی ہوتا رہا:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

اے معبود حقیقی! اُسی زمانے میں اس نے یہ اعلان بھی کیا کہ اول تو اسے جنت کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اگر کبھی وہاں جانے کی خواہش ہوتی بھی ہے تو صرف شراب کے لیے۔ اس نے کہا:

وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادہ گلفام و مشکبو کیا ہے؟

ابھی فرشتہ کچھ کہنے والا تھا کہ ندا آئی۔
ندا : غالب
غالب : پروردگارِ غالب
ندا : غالب کیا تمہیں اس بیان کی صداقت پر کوئی اعتراض ہے؟
غالب : معبودِ حقیقی
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
ندا : غالب! یہ نہ بھولو کہ تم کہاں کھڑے ہو۔ یہ ہمارا انتظام تھا۔ اس انتظام میں دخل دے کر یا اس پر اعتراض کرکے سرکش اور باغیوں کے زُمرہ میں شامل ہونے کی کوشش نہ کرو۔
غالب : اے رحیم و کریم! میں اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
ندا : ہاں اُس میں بھی ہماری مصلحت تھی اور اِس میں بھی ہماری مصلحت ہے۔ تمہیں ایک بار پھر حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے دائرے میں رہو اور ہمارے انتظامات پر اعتراض نہ کرو۔ فی الحال تم ہمارے چند سوالات کا جواب دو۔
غالب : ارشاد یا رب العزت
ندا : قسم کھاؤ کہ تم جو کچھ کہو گے سچ کہو گے
غالب :
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

ندا : کیا تمہیں ہماری وحدانیت پر ایمان تھا؟
غالب : بے شک اے ذاتِ واحد، میرا یہ ایمان تھا کہ:

ہم مَوّحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
مِلّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں

ندا : کیا دنیا میں تم ہمارے پیارے نبیؐ کی رسالت کے قائل تھے؟
غالب : ہاں اے معبودِ برحق! میں نے ہمیشہ یہ کہا کہ
اُس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا

ندا : اچھا پھر یہ بتاو کہ ایسے قابلِ اعتراض اشعار تم نے کیوں لکھے؟
غالب : اے رحیم و کریم!

رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا

ندا : کیا تمہیں کچھ یاد ہے کہ دنیا میں تم نے کتنے گناہ کیے؟
غالب :

آتا ہے داغِ حسرتِ دل کا شمار یاد
مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ

ندا : کیا تمہاری کوئی خواہش ہے؟
غالب : پروردگار میرا حال تو دنیا میں یہ تھا کہ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

لیکن اے امیدوں کے بر لانے والے! اگر میں بیان کروں تو کیا میری خواہش پوری ہوجائے گی؟
ندا : بیان کرو!
غالب :

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کو ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

ایک فرشتے نے آگے بڑھ کر سجدہ کیا اور کہا:
پروردگار ! اس نے اتنے پر بس نہ کیا ‘ اس نے تو گستاخی کی حد کردی۔ لوگوں کو یہ تلقین کی کہ بہشت کو دوزخ میں ڈال دو۔
ندا : صاف صاف بتاؤ اس نے کیا کہا؟
فرشتہ : اے مالکِ کون و مکاں ! اس نے کہا کہ:

طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

ندا : کیا اس نے واقعی یہ کہا تھا؟
فرشتہ : ہاں اے پروردگار! اس نے یہی کہا تھا۔
ندا : پھر تو اس نے لوگوں کو ہماری اطاعت کا صحیح راستہ دکھایا۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ اطاعتِ خالص کے لیے بہشت وغیرہ کا خیال دل سے نکال دو۔ اطاعت کرو صرف اطاعت کی خاطر‘ نہ اس میں حرصِ بہشت ہو نہ خوفِ جہنم۔ فرشتو! اسے جنت میں لے جاؤ۔
فرشتے : بہتر یا رحیم و کریم!
غالب فرشتوں کی معیت میں گنگناتے ہوئے آگے بڑھ گئے:

SHOPPING

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا!

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *