اقبال کا تصورِ خودی!

SHOPPING

خودی کو کر بلند اتنا کے ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟(اقبال)
علامہ اقبال ؒ گزشتہ صدی کےعظیم مصنف، شاعر، قانون دان ، ما ہر معاشیات، صوفی ،فلسفی، سیاستدان اور احیاء اسلام کے داعی تھے ۔علامہ کی وجہ شہرت اگرچہ انکی اردو و فارسی شاعری ہے لیکن علامہ کا فلسفہء خودی بھی اپنی شہرت میں کسی درجے کم نہیں ہے ۔ علامہ نے خود اپنی زندگی میں بھی فلسفہء خودی کو خاص اہمیت دی اور علامہ کی وفات کے بعد بھی ان کے قدردان ان کے اس فلسفے کو عام کرنے میں آج تک سعیء مسلسل میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجود عام عوام آج تک حکیم الامت اور اپنے قومی شاعر کے اس فلسفے سے بے خبر ہے۔ علامہ اقبال کے فلسفہء خودی کی تشریح پر اپنے پاس سے کچھ کہنے سے بہتر ہے خود انہی کے خط کا ایک حصہ جو انہوں نے پروفیسر نکلسن کو انکی فرمائش پر لکھا تھا نقل کردوں جس کو ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنی کتاب عل”امہ اقبال اور ہم” میں نقل کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کائنات اور انسان کے متعلق میرا نظریہء ہیکل اور اسکے ہم خیالوں اور اربابِ وحدت الوجود سے بالکل مختلف ہے جن کے خیال میں انسان کا منتہائے مقصود یہ ہے کہ وہ خدا یا حیاتِ کلی میں جذب ہو جائے اور اپنی انفرادی ہستی کو مٹا دے ۔۔۔ میری رائے میں انسان کا مذہبی اور اخلاقی منتہائے مقصود یہ نہیں کہ وہ اپنی ہستی کو مٹا دے یا اپنی خودی کو فنا کر دے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادی ہستی کو قائم رکھے، قربِ الہٰی کا مقصد یہ نہیں کہ انسان خدا کی ذات میں فنا ہو جائے بلکہ اسکے برعکس یہ کہ خدا کو اپنے اندر جذب کر لے میں نے افلاطون کے فلسفے پر جو تنقید کی ہے اس سے میرا مقصد ان فلسفیانہ مذاہب کی تردید ہے جو بقاء کے عوض فنا کو انسان کا مقصد قرار دیتے ہیں ، ان کی تعلیم یہ ہے کہ مادہ کا مقابلہ کرنے کے بجائے انسان کو ان سے گریز کرنا چاہیے حالانکہ انسانیت کا جوہر یہ ہے کہ انسان مخالف قوتوں کا مقابلہ کریں اور انہیں اپنا خادم بنا لے ، اس وقت انسان خلیفتہ اللہ کے مرتبے تک پہنچ جائے گا۔ علامہ اقبال نے تصور خودی کی وضاحت پر ایک مستقل کتاب ( مثنوی) اسرارِ خودی تصنیف کی جو علامہؒ کے فلسفے کی بہترین تشریح ہے ذیل میں اسی کتاب سے خودی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا جا رہا ہے۔
نظام عالم کی اصل خودی :
ہم یہ جہاں(یونیورس) کہتے ہیں جسے اصل میں یہ آثارِ خودی ہےاور آنکھ جو دیکھتی ہے وہ اسرار خودی ہیں جب تک خودی سوئی تھی خدا کے سوا کچھ بھی نہ تھا اور جب پیدار ہوئی تو ایک عالم پندار ہو گیا۔ خود نمائی خودی کی قدیم عادت اور اسکی طاقت سے ہر شےء پوشیدہ ہے یہ قوت اگرچہ خاموش ہے لیکن بیتاب عمل ہے اور عمل کے ساتھ پابند اسباب عمل بھی ہے، اس جہاں کی زندگی خودی سے وابستہ ہے، خودی جتنی مضبوط ہوگی اتنی زندگی مضبوط ہو گی۔ قطرے نے جب خودی کو پا لیا تو بے معنی قطرے سے قیمتی موتی بن گیا پہاڑ نے جب خودی کھوئی تو بلندی سے زوال اسکا مقدر بنا اور صحرا کی شکل اختیار کر لی۔ زمین نے جب خودی کو پایا تو چاند اسکے گرد طواف کرنے لگا اور زمین سے مضبوط ٹھہرا سورج جسکی روشنی کی زمین بھی محتاج ہے، حیاتِ خودی مقصدِ زندگی سے وابستہ ہے، علامہ کے نزدیک خودی کی حیات کا دارومدار انسانی زندگی کے مقاصد پر ہے، علامہ کے نزدیک زندگی کی بقا مدعا یعنی مقصد میں پوشیدہ ہے، یہی وجہ علامہ نے اپنی اس مثنوی میں دل میں پختہ آرزو کی موجودگی کو ہی اصل زندگی سے تعبیر کیا ہے اور بے آرزو آدمی کو ایک مردہ شخص قرار دیا ہے۔
خودی عشق سے مستحکم ہوتی ہے :
علامہ کے نزدیک خودی جذبہء عشق سے مضبوط ہوتی اور خودی کی قوتوں کا ارتقاء عشق سے ہوتا ہے۔ علامہ کے نزدیک ہر مسلمان کے دل میں ایک معشوق بستا ہے اور وہ ذات محمد مصطفیﷺ کی ہے۔ علامہ کے نزدیک یہ عشق ہی تھا جس سے خاک ثریا پر پہنچ گئی ، عشق کی کیفیتوں میں جب وجد آیا تو زمین سے خاکِ نجد نے آسماں کا سفر طے کیا۔ علامہ نے یہاں بایزید بسطامیؒ کی مثال دی جنہوں نے عشقِ مصطفیٰﷺ میں خربوزہ کھانا ترک کر دیا اور مسلمانوں کے عشق کا معیاربھی بایزید بسطامی کا عشق قرار دیا۔
خودی ضعیف ہوتی ہے:
علامہ اقبال کے نزدیک سوال کرنے ، دوسروں پر انحصار کرنے ، محنت، ہمت و کوشش کو ترک کرنے اور دوسروں کے احسان اٹھانے سے خودی صعیف ہوتی ہے ۔علامہ مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنی روزی آپ حاصل کر اوروں سے نہ مانگ ،بھیک سے اجزاء خودی آشفتہ ہوتے ہیں ،چاند بن اور اپنی روزی اپنے پہلو سے حاصل کر لیکن یہاں علامہ نے ایک اور نقطہ بھی بیان کیا کہ چاند جو کہ سورج سے اپنی روزی ( روشنی) پاتا ہے اس لیے اسکے اپنے دل پر احسان کا داغ ہے ، مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں بھلے تمہیں پریشانیاں گھیر لیں تب بھی غیر کی نعمتوں سے روزی حاصل نہ کر تاکہ تو روزِ حشر تو محمدمصطفیﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہو جب دل و جاں سب بڑی مشکل میں ہوں گے۔
تربیت خودی کے تین مراحل :
اول: اطاعت۔
علامہ اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت کے تین مراحل ہیں جن میں پہلا مرحلہ اطاعت کا ہے ۔ اقبال کے نزدیک اطاعت اور فرمانبرداری ہی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتی ہے ۔ اقبال نے اونٹ کو بطور مثال پیش کیا۔ اونٹ ہر وقت محنت ، ہمت اور کوشش میں مصروف رہتا ہے ، صبر و استقلال کا دامن تھامے رکھتا ہے ، کوئی جنگل ایسا نہیں جس کی قسمت میں اسکے نقش پا نہ ہوں، اہلِ صحرا کی یہ کشتی جیسی بھی منزل ہو خوشی سے اپنے مالک کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کیے چل پڑتی ہے۔ اقبال مسلم امت کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ اپنے فرائض سے رو گردانی نہ کر بلکہ اطاعت کا دامن تھامے رکھو اور اپنے آپ پر جبر کرو تا کہ تمہیں خود پر اختیار حاصل ہو ۔ اطاعتِ معبود سے سرکش بھی فرماں بردار ہو جاتا ہے اور سرکشی سے آگ بھی مانند خس ہو جاتی ہے، ہوا نے پھولوں کے زنداں خانوں میں رہ کر خوشبو کی صفت پائی، قطرہء وصل کے آئین سے دریا بن گیا، ذرہ اسی آئین کی پابندی سے صحرا بن گیا ، اے غافل انسان جب کائنات کی ہر شےء نے آئین کی پاسداری و وفاداری سے قوی اور مضبوط دل حاصل کر لیے تو تم کیوں آئین کی پاسداری سے غافل ہو، اے مسلمان خود کو آئین سے آزاد نہ کر بلکہ اس آئین ( حق) کی زنجیر کو اپنے گلے کی زینت بنا لے اور آئین کی سختی کا گلہ نہ کر بلکہ خود کو حدودِ مصطفیﷺ کا پابند کر۔
دوم: ضبطِ نفس۔
اقبال کی خودی کی تربیت کا دوسرا مرحلہ ضبطِ نفس ہے۔ فرماتے ہیں تیرا نفس کس درجہ خود پرور ہے، خودسری اور خودپرستی سے اس کا سینہ پُر ہے۔ زندہ مرد بن اور اپنے نفس کی مہار کو اپنے ہاتھوں میں لے اور دنیا میں اپنی عزت و وقار حاصل کر ،جو اپنے آپ پر فرماں رواء نہ ہو وہ دوسروں کے احکام کے تابع ہو جاتا ہے ۔ تیرے دل میں عقبیٰ، دنیا، ایمان اور جان کا خوف ہے ، تیرا دل دولت ،جاہ و منصب، وطن، فرزند، اقرباء اور زن کی محبت کا مسکن بنا ہوا ہے۔ تیرے ہاتھ میں جب تک لا الہٰ کا عصا رہے گا ہر خوف و طلسم کو باطل بنائے گا، ایسے شخص کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور اسکا دل غیر اللہ کےڈر سے پاک ہو جاتا ہے۔ جو لا الہٰ کی حقیقت کو پا جاتا ہے وہ ہر فکر سے آزاد ہو جاتا ہے یہاں تک راہِ حق میں اپنے بیٹے کی قربانی بھی اس کو گوارا ہوتی ہے۔لا الہٰ ایک صدف ہے گوہر جسکا نماز ہے ، مسلماں کے ہاتھ میں شمشیر ہے جس کا کام قتل فحشا اور نہی و منکر ہے۔ روزہ تن پروری کے خیبر کو برملا توڑتا ہے، مومن کی فطرت حج سے جلا پاتی ہے، زکوٰتہ دل کو حُبِ دولت سے پاک کرتی ہے اور مساوات پیدا کرتی ہے۔ یہ سب احکام اور تعلیمات تیرے لیے وجہء استحکام ہیں (یعنی ضبطِ نفس میں معاون ہیں ، ان احکام پر عمل ہی سے ضبطِ نفس کے مرحلے میں کامیابی ممکن ہے ۔ راقم) اور تمہاری پختگی اور ضبطِ نفس بھی قائم ہوگی اگر اسلام تیرا محکم یعنی مضبوط ہے یا قوی کے ورد سے اپنی طاقت برقرار رکھ اور اشتر ( اونٹ) خاکی پر سوار ہو۔
سوم: نیابتِ الہی۔
اے مسلماں جب تو اس اونٹ پر سوار ہو جائے گا تو تیرے سر پر تاج ہوگا۔ حق کا نائب اس عالم کی جاں ہوتا ہے اور اسکا نام اسم اعظم ہوتا ہے۔ وہ بڑھاپے میں شباب کی صفات پیدا کرتاہے، وہ زندگی کی نئی نئی تفسیریں اور تعبیریں بیان کرتا ہے۔ غرضیکہ زمانے کو جینے کا انداز سکھاتا ہے۔عام شعرا کے برخلاف علامہ اپنے پیچھے اپنے دیوان اور اندازِ بیاں کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی چھوڑ گئے ہیں جنکو اہل علم اور اقبال شناسوں نے اگرچہ خوب سمجھا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کے امت کی اس خستہ حالی اور اخلاقی زوال کے دور میں اقبال کی اردو اور فارسی شاعری کو عام کیاجائے، ٹی وی ،اخبارات ، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ادبی میلوں اور ادبی و علمی پروگراموں میں اقبالیات کو خاص اہمیت دی جائے اور قوم باالخصوص نوجوان نسل کو اقبال کے پیغام اور فلسفے سے شناسائی پیدا کی جائے، بلاشبہ اقبال کے اشعار و خیالات قوم کے حق میں مانندِ آب حیات ہیں اور احیائے امت ،احیائے اسلام اور قومی تربیت کے لیے جامِ شفاء ہیں۔
نہ ستارے میں نہ گردشِ افلاک میں ہے
تیری تقدیر میری نالہء بے باک میں ہے
کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں ہے(اقبالؒ)

SHOPPING

اعزاز کیانی
اعزاز کیانی
میرا نام اعزاز احمد کیانی ہے میرا تعلق پانیولہ (ضلع پونچھ) آزاد کشمیر سے ہے۔ میں آی ٹی کا طالب علم ہوں اور اسی سلسلے میں راولپنڈی میں قیام پذیر ہوں۔ روزنامہ پرنٹاس میں مستقل کالم نگار ہوں ۔ذاتی طور پر قدامت پسند ہوں اور بنیادی طور نظریاتی آدمی ہوں اور نئے افکار کے اظہار کا قائل اور علمبردار ہوں ۔ جستجو حق اور تحقیق میرا خاصہ اور شوق ہے اور میرا یہی شوق ہی میرا مشغلہ ہے۔ انسانی معاشرے سے متعلقہ تمام امور ہی میرے دلچسپی کے موضوعات ہیں مگر مذہبی وقومی مسائل اور امور ایک درجہ فضیلت رکھتے ہیں۔شاعری سے بھی شغف رکھتا ہوں اور شعرا میں اقبال سے بے حد متاثر ہوں اور غالب بھی پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اقبال کا تصورِ خودی!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *