ایک جنگجو عورت کی اس کے گھوڑے پر موت۔۔عارف انیس ملک

SHOPPING
SHOPPING

 یہ اکتوبر 2017 کی بات ہے جب عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کچھ عرصے کے بعد ملاقات ہوئی. اس بار وہ سرفراز پاکستان لیکچر سیریز کے سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی آئی  ہوئی تھیں. وہی بانکپن، وہی تیور، لگی لپٹی رکھے بغیر، الفاظ چبائے بغیر پاکستان میں جمہوری ارتقاء اور قانون کی حکمرانی کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا. وہاں پر کچھ انڈین سٹوڈنٹس بھی موجود تھے، ان میں سے ایک بار بار پاکستان میں مارشل لاء اور فوج کی حکمرانی کے حوالے سے سوالات اٹھاتا رہا. جب لیکچر ختم ہوا اور وہی سٹوڈنٹ دوبارہ سامنے آیا تو عاصمہ تقریباً ڈانٹتے ہوئے بولیں کہ وہ پورے خطے میں شدت پسندی کی اٹھان پر فکرمند ہیں اور خاص طور پر مودی کی حکومت اور ہندوستان میں شدت پسندی کی لہر بھارتی جمہوریت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوں گے. انہوں نے خاص طور پر ہندوستانی مصنفہ اروندھتی رائے کازکر کیا جن کے پیچھے شدت پسند ہندو لٹھ لے کر پڑ گئے تھے. پھر وہ کہنے لگیں، ‘کل ہو یا آج، خالص سچ کہنا مہنگا سودا ہے کیونکہ وہ کسی نہ کسی کے بزنس انٹرسٹ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے’.

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کا انوکھا ترین جزیرہ۔ شمالی سینٹینل آئی لینڈ۔۔محمد عبدہ

خیر یہ بات اس سے بہتر کون جانتا تھا. عاصمہ ابھی اکیس برس کی قانون کی طابعلم تھی جب اس کے والد کو جنرل یحییٰ خان نے جیل میں ڈال دیا تھا اور پاکستان کے نامی گرامی وکیلوں نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے خوف سے کیس لینے سے انکار کردیا تھا تو اس دھان پان سی لڑکی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے والدکا کیس خود لڑے گی ، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ کیس لڑا گیا اور وہ لڑکی کیس جیت گئی. عاصمہ نے نہ صر ف اپنے والد کو رہا کرایا بلکہ ڈکٹیٹر شپ کو عدالت سے غیر آئینی قرار دلوا کر پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا. عاصمہ جب ٹین ایجر تھی تو ایوب خان اور یحییٰ خان کے خلاف لڑی، نوجوان ہوئی تو ذوالفقارعلی بھٹو کے غلط اقدامات کے خلاف آوازاٹھائی، یہ ضیاالحق کے خلاف جمہوریت پسندوں کی ننھی ہیروئن کہلاتی تھی، یہ اپنی بہترین سہیلی بے نظیر بھٹو سے لڑی، اس نے نوازشریف کے اقدامات کو چیلنج کیا اور پھر وہ پرویز مشرف کے لیے سوہان روح بن گئی. اس سے لڑنا اس لیے مشکل تھا کہ ان تپتی راہوں پر چلنا اس کا اپنا ایجنڈا تھا. بہت عرصہ قبل جب فرانسیسی صدر ڈیگال نے اپنے عہد کے نامور فلسفی سارتر کو یہ کہ کر جیل بھیجنے سے انکار کر دیا تھا کہ سارتر فرانس کا ضمیر ہے. عاصمہ بھی پاکستان کا ضمیر تھی اور اس کی موت ہمارے عہد کے ضمیر کی آواز کی موت ہے. کیسی کمال عورت تھی، ہمارے عورت کش معاشرے کے بے شمار مردوں پر بھاری تھی. ایسا معاشرہ جہاں عورت بہت سے حوالوں سے آج بھی آدھی ہے، جہاں ایک دوست کے بقول مسجد کے منبر سے بھی اولاد نرینہ کی دعا مانگی جاتی ہو، وہاں اپنی شرائط اور اپنے آئیڈیلز پر ڈٹ کر زندگی گزار کے عاصمہ نے کمال کردیا. بحثیت مجموعی ہم ایک لیفٹ، رائٹ، چپ راست معاشرہ ہیں. ہمیں ایسے لوگ ہرگز راس نہیں آتے جو اپنا راستہ خود تراشتے ہوں، ہجوم کے بر عکس اپنا آدرش رکھتے ہوں، اپنے سچ (جو متنازعہ بھی ہو سکتا ہے) کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا جانتے ہوں اور جنہیں حب الوطنی یا جنت اور دوزخ کے ٹھیکیداروں کی دھونس، دھاندلی یا دھمکی سے خریدا نہ جا سکے اور جن کا بیان کردہ سچ مطالعہ پاکستان میں طبع شدہ سچ سے مختلف ہو. عاصمہ ان نایاب لوگوں میں سے ایک تھی.

یہ بھی پڑھیں :  ’عاصمہ جہانگیر کس کی ایجنٹ تھیں ؟۔۔رعایت اللہ فاروقی

سچی بات تو یہ ہے کہ عاصمہ وہ پہلی آواز تھی جس نے ضیاء دور کے اختتام کے دوران پروان چڑھنے والی میری نسل کو بتایا کہ ایک سچ اور بھی ہے، جو مستور ہے، ڈھانپا ہوا ہے، جسے کہنے کی اجازت نہیں، مگر وہ پھر بھی بولتا ہے. اور پھانسیوں، کوڑوں اور قیدیوں کی سزاؤں کے باوجود زندہ رہتا ہے. داستان طرازی اور عمومی رائے کے برعکس جب بھی عاصمہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے عاصمہ کو ایک پرجوش پاکستانی پایا، جو صرف کڑھنا ہی نہیں، کرنا بھی جانتی تھی!وہ ایک باوقار پاکستانی تھی جس نے پے درپے دھمکیوں اور صعوبتوں کے باوجود اپنی پاکستانی شناخت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا مگر وہ پاکستانیت کے نام پر لائسنس ٹو کل دینے کی مخالف تھی. وہ عدالتی فعالیت، وکلاء کی دھونس، جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے حوالے سے قدرے مختلف نقطہ نظر کی حامل تھی اور بعد ازاں یہی ثابت ہوا کہ وہ پاکستانی عدالتوں کو بہت سوں سے بہتر جانتی تھیں. عاصمہ جہانگیر کی رخصتی پر ایزراپاؤنڈ کے حوالے سے لکھا ہوا مرثیہ قدرے تصرف کے ساتھ پیش ہے!

SHOPPING

تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں کہ تو جدا ان موسموں میں ہوئی جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں ہم قحط الرجال ہی نہیں، قحط النساء کا بھی شریک ہیں. عاصمہ کے بعد اس جیسا دور تک کوئی نظر نہیں آتا. آج جب سماجی فعالیت فیس بک اور ٹویٹس تک محدود ہو گئی  ہے، عاصمہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ تھی جو زورداروں کے سامنے دیوار بن جایا کرتی تھی. عاصمہ کی موت کے حوالے سے نفرتیں بیچنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ برائے مہربانی اپنی دوکانیں بند رکھیں! عاصمہ کے دین اور آخرت کا معاملہ اب ان کے اور ان کے خالق کے درمیان ہے جہاں کسی کو بھی جنت اور دوزخ کے ٹکٹ بانٹنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی. یہ ایک جنگ جو کہ  اس کے گھوڑے کے اوپر موت ہے, بھلے وہ مخالف صفوں میں سے ہو. اور یہی ایک وجہ عاصمہ کی عزت کے لیے کافی ہے –

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایک جنگجو عورت کی اس کے گھوڑے پر موت۔۔عارف انیس ملک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *