بنو سعد کا درخت کیوں صاف کرادیا گیا؟

جدہ…. گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل کی ہدایت پر بنو سعد کے علاقے میں ”شجرة رسول“ سمیت4 مقامات ختم کردیئے گئے۔ یہ فیصلہ مشرکانہ رسوم کے خاتمے کیلئے کیا گیا۔میسان کمشنری میں بنو سعد کا علاقہ طائف شہر سے 75کلو میٹر جنوب میں واقع ہے جہاں ایک دیو ہیکل درخت کی بابت یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اسکا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ داد اعبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبچپن میںبی بی حلیمہ السعدیہ کے حوالے کیا تھا اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی برس گزارے تھے۔ کہا جارہا تھا کہ اس درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا ایک حصہ گزرا۔ عمرے پر آنے والے لوگ اس درخت کی زیارت کیلئے جارہے تھے اور وہاں مشرکانہ رسوم بڑے پیمانے پر انجام دی جارہی تھیں۔

گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے مذکورہ درخت سمیت دیگر 3مقامات کو ختم کردینے کا حکم جاری کیا تھاجسے منگل کو نافذ کردیا گیا۔ وزارت اسلامی امور مکہ مکرمہ کے ڈائریکٹر جنرل شیخ علی صالح العبدلی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے توحید اور سنت کی فتح ہوئی ہے۔ اس سے اسلامی خصوصیات کو تحفظ ملا ہے۔ اسلامی فقہ اکیڈمی کے ماہر ڈاکٹر حسن سفر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس میں ایسے مقام کی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن گزارا ہو یا ایسا درخت جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہے ہوں یا گزرے ہوں، اس سے تبرک کی کوئی ہدایت کی گئی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *