• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور زنانہ دہشت گردی کی روایت۔۔رشید یوسفزئی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور زنانہ دہشت گردی کی روایت۔۔رشید یوسفزئی

SHOPPING
SHOPPING
  اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں وسیع ترین اور مضبوط ترین عمارت امریکی سفارت خانے کی ہے، اس جدید قلعہ نما بلڈنگ سفیر سے لے کر   نچلی  سطح کے ملازمین تک 750 افراد ملازم ہیں جبکہ حکومت پاکستان کی  ہدایت کے خارجہ قوانین و ضوابط کے مطابق کوئی سفارت خانہ 350 افراد سے زیادہ ملازم نہیں رکھ سکتا۔ یہ 750 ملازمین CIA کے سٹیشن انچارج اور  عملے  کے علاوہ ہیں۔ ان ملازمین میں سفارت کار، سیاسی،سماجی، تعلیمی، فوجی، اقتصادی،طبی، سائنسی، ثقافتی تجزیہ نگار سے لے کر پاکستانیوں کے اجتماعی نفسیاتی تجزیہ کے لئے نفسیاتی ماہرین  تک موجود ہیں جو اس ملک کی  انفرادی و اجتماعی نبض پہ ہمہ وقت ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔
تازہ ترین تجزیاتی رپورٹس کے مطابق 97 فی صد پاکستانی دنیا کے نقشے پر امریکہ کے  تعین سے ناواقف ہیں، 72 فی صد لوگ امریکہ مخالف ہیں۔ پاکستان کے تقریباً ہر  چھوٹے بڑے سیاسی اور مذہبی لیڈر نے گزشتہ آٹھ سال میں امریکہ ویزا کے لئے درخواست دی، گزشتہ صدی کے اواخر میں خیبر پختون خوا  کے ایک مشہور مذہبی لیڈر اور مولانا نے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے کی میزبانی کرتے ہوئے اپنی بیوی کا  اس سے تعارف کرواتے  ہوئے کہا کہ “ہم پٹھان جب کسی سے پکی دوست کرتے ہیں تو اس سے اپنی  گھر والی کا  پردہ نہیں کرواتے” ۔۔تو چند  دن بعد اوکلے کا مشہور زمانہ بیان آیا “کہ پاکستانی لیڈر کی قیمت امریکی سفارت خانے میں  ایک کپ چائے سے لے کر امریکی ویزہ  تک ہے”۔

یہ بھی پڑھیں :  مشترکہ محاذ۔۔محسن ابدالی

سابق امریکی پاک فوج کے کرنل سے اوپر تمام افسران امریکہ گئے ہیں اور سب کے بیٹے امریکہ میں زیر تعلیم تھے یا اب بھی ہیں۔ جس ملک  میں خود سوئی دھاگہ بنانے کی بھی صلاحیت نہیں وہ امریکی نقد امداد پر سوئی دھاگے تک چین سے درآمد کرتے ہیں۔ (آپ کو یقین نہیں تو نزدیکی کریانہ سٹور  پر جاکر سوئی کے ڈبے پر لکھی   تحریر   چیک کریں)، جس ایٹمی ریاست کی فوج کی علامت کراس تلوار ہیں(شجاع نواز نے اپنی   کتاب کا نام شاید اسی وجہ سے Cross Swords رکھا) اور موٹو “ایمان،تقوی،جہاد” اس جہادی فوج کا  47 فی صد بجٹ امریکہ سے سالانہ ملٹری ایڈ کی شکل میں آتا ہے،یعنی اگر امریکہ فوجی اقتصادی امداد آج بند کردے   تو جنرل صاحبان اس سال تنخواہ نہیں لیں گے۔سپر پیٹریاٹ اور ملکی آبی و غیر آبی وسائل کی  ڈینگیں مارنے والے اس بات سے شاید بے خبر ہیں کہ امریکہ اگر سالانہ گندم کی امداد بند کردے  تو 1996  میں  ہونے والی آٹے کی قلت والی حالت پھر سے ہوجائے گی ۔
تاہم امریکی خیرات، زکوۃ اور صدقات پہ زندگی بسر کرنے والی مومن قوم کی 72 فی صد عوام امریکہ سے جہاد کرنے کے حق میں ہے ، جبکہ 89 فی صد اس دینے والے ہاتھ سے نفرت کرتے ہیں،امریکہ کو صرف دشمن کی  عینک سے دیکھنے والی  کمزور نظروں کو پاک امریکہ تعلقات میں ہر نئے واقعہ سے امریکی جارحیت نظر آتی  ہے جبکہ امریکی دوستی کے لئے منافقت اور امریکی وقتی مفاد کے علاوہ کوئی دوسری اصطلاح نہیں رکھتے۔
ان کی  نظر میں یہ ساری ٹریفک یک طرفہ ہے، امریکی  رمزی یوسف لے گئے، امریکی  عافیہ صدیقی لے گئے جبکہ پاکستانی مجرم ادھر قید ہیں۔ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔
پہلی بات یہ کہ پاکستانی  کوئی بھی امریکہ کو مطلوب شخص کو گرفتار اور پاکستان سے برآمد کرنے کے ہمارے  اربابِ بست و کشاد کو منہ مانگی رقم دیتے ہیں،

یہ بھی پڑھیں:  عافیہ صدیقی کیس کی حقیقت

دوسری بات یہ ہے کہ کئی   پاکستانی مجرموں کو بڑی  بڑی  سزاؤں میں سخت ترین امریکی عدالتی قانون کے باوجود رہا کیا گیا ہے۔ ضیاء الحق دور کے اواخر 1987 میں لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کیینڈین ارشد پرویز کو عبدالقدیر خان نیٹ ورک کےلئے فلاڈلفیا سے ایٹمی پروگرام میں استعمال ہونے والے ممنوع آلات سمگل کرتے ہوئے پکڑا گیا، مذکورہ جرم کی سزا بیس سال قید تھی، جرم میں عالمی ممالک کےشدید ردعمل کا خدشہ تھا۔ امریکی صدر اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی  خفیہ دوڑ دھوپ سے ارشد پرویز راتوں رات رہا ہوا اور سپیشل طیارے سے پاکستان پہنچایا گیا۔
1985  میں اسی عبدالقدیر خان نیٹ ورک سے وابستہ تین افراد، بریگیڈیئر اکرام الحق(زندہ ہیں اور لاہور میں مقیم ہے، 2004 میں  اس کی بیٹی کی شادی تھی، جس میں  ساری  فوجی قیادت نے شرکت کی) کو امریکہ سے ایٹمی پرزے سمگل کرتے ہوئے ہوسٹن میں امریکی کسٹم حکام نے پکڑ لیا تھا ۔جسے  سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی  کانگریس سے جھوٹ بول کر رہا  کروا یا۔
1987  میں لاہورہی کے ایک اور شخص نذیر احمد واعظ( امریکی دستاویزات میں نام Nazir Ahmed Vaid لکھا گیا ہے) گرفتار ہوا،اس کو   28 سال کی قید ہوئی  لیکن ایک بار پھر نا صرف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نےاسے  چھڑایا بلکہ اپنے ہی ایٹمی توانائی کے ایک انسپکٹر رچرڈ بارلو Richard Barlow کا  کیرئیر تباہ کیا ، کہ اس نے کانگرس کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے متعلق راز کیوں بتائے۔ اس وقت کے امریکی صدر کے الفاظ تھے، ” پاکستان کمزور ملک ہے  اور طاقتور دشمن ہمسایہ رکھتا ہے. لہذا زیادہ سختی نہیں کرسکتے۔”

امریکی پالیسی کی سنگ بنیاد امریکی شہریوں کی حفاظت ہے،امریکی حکومت کسی بھی جرم پہ معاملہ کرسکتی ہے سوائے اپنے شہری کے قتل کے۔ پاکستان سے امریکہ کو مطلوب لوگوں کی فہرست صرف ان لوگوں کی ہے جو براہ راست امریکی شہریوں کے قاتل ہیں۔اسامہ بن لادن قاتلوں کی اسی فہرست  میں  ٹاپ پر تھے جبکہ ساتویں نمبر پر پاکستانی عورت ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے  امریکی ریاست مساچوسٹس تعلیمی ادارے برینڈیس Brandeis University سے اعصابی علوم Neuroscience میں MIT کی۔ خاندانی طور پر ایک anesthesia ڈاکٹر سے منگنی ہوئی اور کچھ عرصہ بعد عافیہ کے مشکوک کردار اور خفیہ سرگرمیوں کی وجہ سے طلاق  ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں :  پنجاب حکومت اور نیب ۔۔آرٹیکل 5کیا کہتا ہے؟…آصف محمود

عافیہ کی القاعدہ سے وابستگی بذریعہ انٹرنیٹ پیدا ہوئی اور ذہنی کیفیات نے عافیہ کو یہاں تک پہنچا یا کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی بیوی بننے کی  خواہش نے اس کے دماغ میں جگہ بنا لی، القاعدہ سے تعلق ہی کی  بناء پر عافیہ واپس پاکستان آگئی،ہدایات کے مطابق کراچی میں القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد سے وابستہ ہوئی اور رفتہ رفتہ تمام مراحل طے کرتے ہوئے القاعدہ کی باقی ماندہ قیادت سے ملاقاتیں  بھی کیں ۔جب  عافیہ کو اسامہ بن  لادن سے   شادی ہونا  ممکن   نظر نہ آیا تو   9/11 حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے بھانجے سے شادی  کرلی،  جس سے تین بچے ہوئے۔

2003 تک عافیہ افریقہ سمیت دنیا کے دوسرے کئی  ممالک میں گھومتی رہی۔عافیہ  ظاہری طور پر ہیروں  کا  کاروبار کرتی   جبکہ درپردہ افغان طالبان اور القاعدہ کے واحد ذریعہ آمدنی ہیروئین سمگلنگ کے بزنس کے ذریعے ان کے  مالی امور چلاتی رہی۔ ساتھ ہی عافیہ انٹرنیٹ کے ذریعے القاعدہ امور کی نگران بھی  رہی۔

2003 سے لے کر 2008 تک پانچ سال کا دورانیہ عافیہ کی زندگی میں انتہائی  خفیہ  ہے۔ اس کے بچے بھی اس دوران اس کی  سرگرمیوں سے متعلق کچھ نہیں بتاتے۔ اسی  دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے عافیہ کو ساتویں اہم مطلوب شخص کے طور پر ڈیکلیئر کیا. 2008 میں امریکی ادارے عافیہ کو افغانستان سے   گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا دعویٰ  ہے کہ عافیہ کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا،اور گرفتاری ک ےوقت اس کے پاس سے بم بنانے کے خاکے اور  زہریلا مواد بھی برآمد کیا گیا تھا، جبکہ عافیہ کے پاکستانی حامی کئی بار اپنے موقف بدلنے کے بعد کہتے ہیں کہ عافیہ حکام کی قید میں تھی اور کراچی میں اس  واقعے کو 2008 میں ظاہر کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ابتداء میں پاکستان کی اسلامی جماعتوں نے عافیہ سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد عورت قرار دیا جس نے اسلامی زنانہ معاشرے کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کی  خانہ نشین اور امن پسند عورتوں کے دماغ میں دہشت گردی کے بیج بو دیے تھے۔

SHOPPING

یہ بھی پڑھیں :  طلاق ثلاثہ، بابری مسجداور جلا وطن مسلمان: یہ کس مقام پر ہم کو حیات لائی ہے۔۔مشرّف عالم ذوقی

2010 میں جب امریکی عدالت نے عافیہ کو عمر قید کی سزا سنائی تو راتوں رات عافیہ پاکستانی اسلامی دنیا کی زنانہ قہرمان بن گئی اور امت کی مجاہد بیٹی کہلا ئی۔ سلاخوں کے پیچھے ایک نحیف و نزار شکل لئے عافیہ صدیقی کی  تصاویر اٹھائے جماعت اسلامی کے کارکنان نے عافیہ صدیقی کے مجاہدانہ اور پر عزیمت کردار کے نئے شاہکار افسانے گھڑ لیے ، جن میں مشہور افسانہ یہ ہے کہ “مجاہدہ اسلام عافیہ نےغزنی  میں ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کے اس کو جہنم واصل کیا”۔تاہم عافیہ صدیقی کے یہ قصہ گو غازی بھائی اپنے ہی قصے سے اٹھنے والے  یہ سوال بھول جاتے ہیں کہ ایک درمیانی عمر کی عورت، نامحرموں کے ساتھ وہاں   کیا کررہی تھی؟

SHOPPING
SALE OFFER

رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی ایک ایسا طالب علم ہے جس کی پیاس مزید بڑھتی جاتی ہے۔ چھ زبانوں کے ماہر رشید وقت سے بہت آگے سوچتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور زنانہ دہشت گردی کی روایت۔۔رشید یوسفزئی

  1. آپکے تبصرے سے آپ کی ذہنی کم مائیگی اور پست فکری ٹپک رہی ہے۔اگر یہ مضمون حقائق کے برعکس ہے تو اس کے جواب میں مضمون لکھ کر اسے غلط ثابت کریں۔ یہ بوڑھی خرانٹ عورتوں کی طرح بلا دلیل طعن و تشنیع سے آپ اپنی تربیت اور خاندانی پس منظر رسوا کر رہے ہیں

  2. ہمیشہ کی طرح شاندار ، جاندار اور مدلل مضمون۔۔۔۔۔فکری بانجھ پن کے شکار لوگوں کے طنز و تشنیع سے بھر پور کمنٹس پڑھ کر ڈارون کے نظریہ ارتقاء پر یقین آنے لگتا ہے۔ بھئی اگر اس مضمون کے مندرجات سے آپکو اختلاف ہے تو اسکے جواب میں ایک مدلل و مفصل مضمون لکھ کر اسے غلط ثابت کریں۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے اور سچ ہضم بھی نہیں ہورہا تو خاموش رہیں ۔ انسان طنز و دشنام پر تب اترتا ہے جب وہ دلیل و برہان سے تہی دامن ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ
    یہ ارتقا ء کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
    پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں
    مطالعہ پاکستان رٹ رٹ کر اور پی۔ٹی۔وی سن سن کر زندگی بسر کرنے والوں کو رشید یوسفزئی صاحب کی نئی باتیں کہاں ہضم ہوں گی۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *