متبادل بیانیہ یا دوسرا مذہب ؟

الحاد کی بات چل رہی ہے..آزاد فکری اور روشن خیالی کے علمبردار ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے..بہت آسان ہے کہ کسی دن سیکولرازم اور لبرل ازم کو بھی انکار خدا کا فلسفہ قرار دلوا کر تہہ تیغ کرنے کا فیصلہ صادر فرما دیا جائے..کیونکہ چند نام نہاد فری تھنکرز اور ملحدین نے ریشنلزم کی آڑ میں بیہودگی اور بداخلاقی کا بازار گرم کر رکھا ہے..حقیقت یہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں کا آزاد فکری اور روشن خیالی کے ساتھ دور دور کا کوئی واسطہ نہیں ہے..کیونکہ ریشنلزم کا پہلا اصول انسان اور انسانیت کا احترام ہے اور جو شخص عقل پرستی کا دعوی کرنے کے باوجود انسانیت کی تذلیل میں ملوث ہو وہ ریشنلسٹ نہیں ہو سکتا..عقل و خرد کی بات یہ ہے کہ بدتہذیبی اور بداخلاقی پر مبنی ایسی گھٹیا حرکتوں کی روک تھام کے لئے ہر ممکن طریقہ آزمایا جائے تاکہ انسانیت کی تذلیل کا یہ عمل روکا جا سکے..

لیکن الحاد کو فقط ان حرکتوں میں محدود سمجھنا بھی حماقت ہو گی.. پیور عقلی استدلال پر کھڑی الحاد کی عمارت کچھ ایسی بودی بھی نہیں ہے کہ اس سے صرف نظر کیا جا سکے کیونکہ 1901 میں پوری دنیا کے ملحدین کی تعداد کل انسانوں کا ایک فیصد تھی جبکہ 2001 میں یہ تعداد بڑھ کر 30 فیصد تک جا پہنچی ہے..بنظر غائر دیکھا جائے تو مذہب سے انکار کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود دسیوں آسمانی مذاہب اور سینکڑوں “انسانی افکار” کا مسئلہ ہے..بیسویں صدی کو سائنس (علم ،معلومات اور تجربہ) کی صدی کہا جاتا ہے.. ٹیلی کمیونیکیشن اور خاص طور پر انٹرنیٹ کی ایجاد نے جہاں انسانوں کو قریب کیا ہے وہیں افکار و علوم کے تصادم کی راہ بھی ہموار کر دی ہے.. پہلے جو علوم کتابوں کی صورت چند پڑھے لکھے لوگوں کی دسترس میں تھے وہ اب گلی محلے کے ہر شخص کے لئے “فکری عیاشی” کا سامان بن چکے ہیں..جن علوم پر گفتگو کے لئے لمبے اور مہنگے “ایجوکیشنل پراسس” سے گزرنا پڑتا تھا اب وہ آسان اور عام فہم زبان میں ہر سطح کی ذہنیت کے لئے ایک “کلک” کی دوری پر دستیاب ہیں..لیکن انٹرنیٹ نے علوم و معارف کا جو خزینہ ہر خاص و عام کے لئے مہیا کر دیا ہے اس میں “اہل مذہب” نے اپنا معتد بہ حصہ نہیں ڈالا.. آج بھی دنیا بھر کی ہر گھسی پٹی تھیوری اپنے بہترین دلائل کے ساتھ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے لیکن اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اہل مذہب کے دلائل ہیں اوراہل مذہب کا بیانیہ ہے..

انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمیں جہاں بپتسمہ کے فضائل، گنگا جمنا کی تاثیر، بدھ مت کے روحانی فوائد اور کلام الہی میں سے چنیدہ وظائف جگہ جگہ نظر آتے ہیں وہاں ایسی کاوشیں خورد بین سے بھی نہیں دکھتیں جو مذہب کو انسانیت کی ضرورت ثابت کرنے پر عقلی دلائل فراہم کرتی ہوں..ایسے میں مذہب کا مقدمہ روایتی استدلال کے سہارے لڑنا اور پھر اسے کامیاب بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے..اور ایسا بھی نہیں ہے کہ مذہب کے مقدمے میں عقلی استدلال کی ضرورت محسوس کرنے والے ہم پہلے لوگ ہیں..

معتزلہ نے پہلی صدی ہجری ہی میں تصور خدا، صدق نبوت ، اقلیتوں کے حقوق اور کائنات کی ساخت سے لے کر اس کے آغاز تک مختلف موضوعات پر ریشنل اپروچ اختیار کی تھی..ان موضوعات میں سے اقلیتوں کے حقوق کے علاوہ سب ما بعد الطبیعات سے متعلق تھے.. دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ معتزلہ پر ما بعد الطبیعاتی موضوعات کو لے کر بے دریغ تنقید ہوئی بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ انہیں کامل اسلامی تاریخ میں مسلسل دیوار سے لگا کر رکھا گیا سوائے ایک مختصر سے دور کے.. لیکن اقلیتوں کے حقوق کا معتزلی فلسفہ بلا چوں و چراں نہ صرف یہ کہ تسلیم کر لیا گیا تھا بلکہ معتزلہ کو اس کا کریڈٹ تک نہیں دیا گیاکیونکہ معتزلہ کا وہ فلسفہ وقت کی ضرورت تھی.. بہرحال ازمنہ وسطی میں اسلام اور مسلمان غالب حیثیت میں رہے تو انہیں جوابدہی کے لئے کٹہرے میں کھڑا ہونے کا موقع بھی نہیں ملا یہی وجہ ہے کہ مذہب کی عقلی تعبیر و تشریح ہو یا روایتی، صوفیانہ ہو یا متشددانہ، جیسے تیسے رائج رہی .. لیکن اب وقت بدل چکا ہے.. دنیا میں مذہب کو غلبہ یا عقیدت کی بنا پر قبول کرنے یا کروانے کا رواج ختم ہو چکا ہے..

شاہ ولی اللہ نے قریب ڈھائی سو سال قبل لکھا تھا کہ مذہب کو عقیدت کے زور پر منوانے کا وقت گزر چکا ہے، شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ قرآن کا اعجاز فقط اس کے الفاظ اور بلاغت میں سمجھنا عرب کی “ٹرائبل سوسائٹی” کے لئے تو کافی ہو سکتا تھا مگر عرب سے باہر کی دنیا کو اگر اسلام کی حقانیت سمجھانی ہے تو قرآن کی حکمت ،اسلامی احکام کے دنیاوی مصالح، بیان کرنا ضروری ہے، قرآن کی حکمت کو مقاصد شریعت بھی کہا جاتا ہے..اڑھائی سو سال قبل شاہ ولی اللہ نے حکمت و معقولیت سے چشم پوشی کی وجہ سے مذہب کو لاحق جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ آج ہم سر کی آنکھوں سے عمل پذیر ہوتے دیکھ رہے ہیں.. کیونکہ سوال اٹھتے ہیں یا اٹھائے جاتے ہیں لیکن مذہب ان سوالوں کا جواب دینے سے قاصر نظر آتا ہے..

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذہب اگر سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے تو کیا مذہب میں خامی ہے یا مذہب کے نمائندے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں؟ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ مذہب جواب دینے سے اس لئے قاصر ہے کہ اہل مذہب نے ولی اللہی حکمت کا راستہ ترک کر رکھا ہے..ہم یہاں مذہب کی بجائے اہل مذہب کو قصوروار اس لئے ٹھہراتے ہیں کہ یہی مذاہب ڈیڑھ دو سو سال قبل (جب عقلی بنیادوں پر سوال اٹھانے کی ریت عام نہیں تھی) تو کل انسانیت کے لئے محفوظ شیلٹر کا کام دیتے تھے.. اس عرصے میں مذاہب کا ڈھانچہ تو تبدیل نہیں ہوا پھر اور کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ جو مذاہب کچھ سال پہلے ہر ایک کے لئے محفوظ پناہ گاہ تھے آج ایک بڑی تعداد کے لئے بیزاریت اور نفرت کی آماجگاہ بن چکے ہیں؟؟

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ سوشل میڈیاہی اس خرابی کی جڑ ہے اور سوشل میڈیا کی بندش سے الحاد کی آبیاری بھی رک جائے گی لیکن جدید دنیا نے لوگوں کے افکار و خیالات میں جو تلاطم بپا کر رکھا ہے اسے دبانا ممکن نہیں ہے بھلے اس مقصد کے لئے سوشل ویب سائٹس ہی نہیں کامل انٹرنیٹ پر بھی پابندی لگا دی جائے..ہاں اگر الحاد کا مقابلہ کرنا ہے تو شاہ ولی اللہ کے بیان کردہ حکمت کے اصولوں کو اپنی توجہات کا مرکز بنانا پڑے گا.. مسلمانوں کوتسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ فکری، نظریاتی اور افرادی حیثیت میں اقلیت ہیں..انہیں غلبے، قبضے اور خبط عظمت کے دھوکے سے نکلنا ہو گا.. انسانیت کی آفاقی حیثیت کو جدید دنیا کی پیرا ڈائم کے مطابق مان کر اسے عقلی دلائل اور معروضی حالات کے پیش نظر اپنا مقدمہ سمجھانےکی جدوجہد کرنی ہو گی اور اس کے بعد بھی انسانیت کا یہ حق تسلیم کیے بنا چارہ نہ ہو گا کہ مان جائے تو بھلا نہ مانے سو بھلا نہ کہ تلوار یا خراج میں سے کسی ایک کے ساتھ فیصلہ ہو گا..

اور آخری بات.!

اس نئی تعبیر کو آپ متبادل بیانیہ کہیں، دوسرا مذہب کہیں یا کوئی نفرت انگیز خطاب دے دیں، ہرگز فرق نہیں پڑنا کیونکہ اہل مذہب کی بقا کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا…

Avatar
وقاص خان
آپ ہی کے جیسا ایک "بلڈی سویلین"

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *