پاکستان اور نیا بیانیہ

گزشتہ دنوں مملکت خداد کے تیسری باری لینے والے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے علماۓ کرام سے نیا بیانیہ لانے کی اپیل کی ہے۔ نیا بیانیہ کیا ہوگا؟ اس کے حاصلات اور اہداف کیا ہوں گے؟ کیا نئے بیانیے سے پاکستان کی لاغر عوام کو بھی فوائد ملیں گے، یہ ایک الگ بحث ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں نیا بیانیہ لانا وقت کی ضرورت ہے۔ نیا بیانیہ ہی واحد راستہ ہے سیکولرازم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے، نیا بیانیہ ہی واحد حل ہے لبرل ازم کے پرچار کوختم کرنے کے لئے کیونکہ نیا بیانیہ اعتدال اور رواداری پر مشتمل ہوگا۔ موجودہ بیانیہ جس پر ریاست کی نظریاتی سرحدیں خود ساختہ استوار کی جاچکی ہیں، جس میں شدت پسندی اور مزاحمت کا عنصر کافی تعداد میں موجود ہے۔ اس بیانیے سے چلنا ہی دراصل ریاست کی موت ہے۔
نیا بیانیہ جو بھی ہو، اس میں ایک واضح موقف ہونا چاہیے۔۔ اچھے برے کی تقسیم کے طریقہ کار سے لے کر، بے جا فتویٰ ساز فیکٹریوں کی بندش تک، ہر چیز کو واضح ہونا چاہیے۔ اس نئے بیانیے میں ان تمام عناصر کی حوصلہ شکنی شامل ہونی چاہیے جو اپنی یقینی شکست کو مدنظر رکھتے ہوئے، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مکروہ عزائم کو جلا بخشتے ہیں لیکن اس نئے بیانیے کی آمد سے کیا ہماری ترجیحات بدل جائیں گی؟ کیا ہماری سیاست درست ہوجائے گی؟ کیا ہمارا اخلاقی معیار بہتر ہوگا؟ کیا ہم معاشی طور پر مستحکم نظر آئیں گے؟ ان تمام سوالوں کے جوابات نفی میں ہیں۔ ہم اس وقت صرف دہشت گردی سے ہی نبرد آزما نہیں ہیں بلکہ اخلاقی، سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے بھی پستی کا شکار ہیں۔ ریاست پاکستان کو اس وقت ہر شعبے میں نئے بیانیے کی ضرورت ہے۔ تعلیم ہو یا معاشرت، معیشت ہو یا سیاست یا پھر ثقافت ہو یا مذہب، ہمیں ہر طرف نیا اور معتدل بیانیہ لانا ہوگا۔ آج ہماری تاریخ کو بھی ایک نئے اور نیوٹرل بیانیے کی ضرورت ہے، جس میں محمد بن قاسم اور راجہ داہر کے کردار کا تعین ہو۔ ایک ایسا نصابی اور تاریخی بیانیہ جس میں مذہبی معامالات اور تعصبات سے الگ ہوکر کرداروں کا تعین کیا جاۓ اور یہ بات سمجھانے کی سعی ہو کہ مذہب کا وارث اکیلا محمد بن قاسم ہی نہیں۔ ہمیں آج ایک اخلاقی بیانیے کی بھی ضرورت ہے ایک ایسا بیانیہ جس میں ورکر کی بداخلاقی کی ذمہ داری لیڈر پر عائد ہو، اور اسکی سزا براہ راست لیڈر کی ذات پر اثر انداز ہو
ہمیں اس وقت سیاست میں بھی نیا بیانیہ لانے کی ضرورت ہے، جس میں کریم ابن کریم کا ” کانسیپٹ” مسترد تصور کیا جاۓ۔ ایسا بیانیہ جس میں اہلیت کا معیار عوام دوستی ہو نہ کہ موروثیت۔ ایک ایسانظام وضع کرنا ہوگا جس میں ڈلیور کرنے والا ہی آگے آۓ، ایک ایسا بیانیہ لانا ہوگا جس میں کوئی بهی مراد سعید، جاوید لطیف، دانیال عزیز اور طلال چوہدری بننے کی کوشش نہ کرے، ایک ایسا بیانیہ ہو جس کی رو سے کوئی بھی مریم نواز اور پرویز رشید کی طرح میڈیا سیل کو ہیڈ کرکے کردار کشی نہ کرے۔ آج ہماری سیاست ایک ایسی غلط سمت کی جانب چل پڑی جس کا تصور بھی غلط محسوس ہوتا تھا۔ ہم بطور قوم معاشی طور پر برہنہ لوگ ہیں۔ آج ہماری برآمدات اور درآمدات میں ہزاروں اعشاریوں کا فرق ہے۔ آج ہمارا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ آج ہم سی پیک کو سر پر اٹھاۓ، ایک چھابڑی والے کی طرح آوازیں لگا رہے ہیں۔ دنیا میں ماسواء چین کے کوئی بهی ہمیں سنجیدہ نہیں لیتا، آج ہم ایک مسخرہ قوم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایمل کانسی ہو یا عافیہ صدیقی ہم نے ہر دفعہ قومی غیرت کو فروخت کیا۔ حسین حقانی ہو یا شکیل آفریدی یا پھر ڈاکٹر عاصم ہم ہر بار مصلحت کا شکار رہے۔ کیا اس بابت نئے بیانیے کی ضرورت نہیں ہے؟ لیکن سہاگن وہی جو پیا من بھاۓ۔۔۔۔ہماری حکومت کو پتہ ہے یہ لوگ ٹف ٹائل، سولنگ پر بکنے والے لوگ ہیں۔ ان کو کیا پتا شعور کیا چیز ہے۔ خوب الو بنو اور مال بھی بناؤ۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *