کامران ٹیسوری یا زرداری کی پسوڑی ۔۔سید عارف مصطفٰی

  گزشتہ 1یک ہفتے سے فاروق ستار کی حرکتیں دیکھیں تو لگتا ہے کہ ان پہ کالا جادو کرادیا گیا ہے کیونکہ بلاشبہ پی آئی بی کے اس مکین نے کامران ٹیسوری کا یرغمالی بن کر ایم کیوایم کے ساتھ وہ کچھ کردیا ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ بھی نہ کرسکی تھی اور اپنے مفاد پرستانہ و آمرانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کی بدترین پستیوں‌کی جانب گامزن ہیں کیونکہ وہ عملاً اپنی ٹوٹی پھوٹی تنظم کو چیتھڑوں میں تبدیل کرڈالنے کے لیے  خوب استعال کرلیے  گئے اور ایسے میں اگر ان کے مخالفین ان کے اس انداز سیاست کے پیچھے کوئی بڑی ڈیل تلاش کررہے ہیں تو اس میں حیرت کی بات کیا ہے ۔

ستم ظریفی یہ  ہے  کہ  وہ مسلسل یہ بھی کہے جارہے ہیں کہ ایم کیوایم ایک تھی ایک ہے اور ایک رہےگی اور پہلے سے مجروح تنظیم کو مسلسل اپنے ان نت نئے حربوں اور پینتروں سے برباد بھی کرتے چلے جارہے ہیں جو انہوں نے اپنے سابق قائد الطاف حسین سے سیکھے ہیں ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہی سب داؤ پیج تو اسی بانی ایم کیو ایم سے ان کے  باقی سب چیلے چانٹوں نے بھی سیکھے ہوئے ہیں اور پی ایس پی سمیت یہ سارے گروپ کردار و عمل کے لحاظ سے تقریباً ایک جیسے ہی ہیں ۔ جب سینیٹ کے ٹکٹ کے لیے  تین افراد پہ دونوں گروپ متفق ہوچکے تھے تو پھر کسی ایک شخص کی خاطر پارٹی کی دھجیاں بکھیر ڈالنے والی بات کسی کو بھی ہضم نہیں ہورہی ہے ۔ لیکن اب دھندلے نقش نمایاں ہورہے ہیں اور رفتہ رفتہ اندازہ ہو رہا ہے کہ ٹیسوری نے فاروق ستار کو کسی بہت بڑی بات پہ بلیک میل کررکھا ہے ، کوئی ایسی بات یا ایسا راز جو پردے کے پیچھے موجود بڑے کھلاڑیوں نے ٹیسوری کو دے دیا  ہے اور اب فاروق صرف انہی کی بساط کا مہرہ بنے رہنے پہ مجبور ہوچکے ہیں ۔ یاں مناسب ہے کہ کامران ٹیسوری کی شخصیت اور ماضی پہ بھی ایک نظر ڈال لی جائے ۔

یہ بات سبھی باخبر لوگ جانتے ہیں کہ عشرت العباد کی گورنری کے آخری دو برس اس کیفیت میں گزرے تھے کہ ان کا جانا ٹھہرگیا تھا اور یہ منظرنامہ دیکھتے ہوئے کئی موقع پرستوں نے اپنی کمر کس لی تھی اور کامران ٹیسوری ان میں سب سے نمایاں موقع پرست تھا جو کہ سونے کا تاجر اور بلڈر ہے اور اب اپنی دولت کے بل پہ اپنی سیاسی امنگوں کے خاکے میں جلد سے جلد رنگ بھرنے کا آرزو مند ہے اور اسی لیے  اس نے بڑی ہوشیاری سےاسٹیبلشمنٹ کا ایک مہرہ بن کے اپنے سماجی و سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور مشرف کے چرنوں میں بیٹھ کےوہ ق لیگ میں نمایاں ہونے کی بھرپور کوششیں کرتا رہا پھر مشرف کو زوال آیا تو وہ چھلانگ مارکے فنکشنل لیگ میں جا بیٹھا اور اسی دولت اور اثر رسوخ کے بل پہ این اے 250 سے قومی اسمبلی کے الیکشن کا ٹکٹ پانے میں کامیاب ہوا تاہم بری طرح ناکام ہوا اور ضمانت تک ضبط کروا بیٹھا پھر اس نےادھر ادھر بھی ہاتھ پاؤں پھیلائے اور اندر ہی اندر پیپلز پارٹی سے بھی خصوصی مراسم استوار کرلیے  لیکن ان تمام جماعتوں میں اس کے لیے  مرکزی رہنماء بننے کا رستہ بہت طویل نظر آرہا تھا لہٰذا اسی دوران جب ایم کیوایم پہ زوال آیا تو اس نے ایم کیو ایم کے اس بحران میں اپنے ابھرآنے کے روشن امکانات دیکھے اور فروری 2017 میں فاروق ستار کے کیمپ کا حصہ بن گیا جہاں وہ ان کی اے ٹی ایم مشین بن کر صرف دو ہفتوں ہی میں مرکزی رابطہ کمیٹی میں شامل ہونے میں کامیاب رہا ۔

جولائی 2017 کے آتے آتے وہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات میں اس ایم کیوایم کی طرف سے امیدوار بننے میں بھی سرخرو ہوگیا ۔۔ لیکن اس کی یہ سب بڑھوتری صرف اس لیے  برداشت کی جارہی تھی کیونکہ ایم کیوایم کو بھتے بند ہوجانے کے بعد فنڈز کی شدید قلت کا سامنا تھا اور ایسے میں ٹیسوری کی مخالفت مول لینا خلاف مصلحت سمجھا گیا تھا تاہم بتدریج ایم کیوایم کو   ان عہدیداران کو بھی یاد آنے لگا کہ  کامران ٹیسوری محض اپنے پیسے کی طاقت کے بل پہ آگے آگیا ہے اور انہیں نیچے دھکیلنے میں لگا ہوا ہے کیونکہ اسی دوران ٹیسوری کو ایک بہت بڑی کامیابی یہ بھی مل گئی تھی کہ اسے فاروق ستار نے اپنا نمبر 2 بنالیا تھا یعنی رابطہ کمیٹی کا ڈپٹی کنوینر بنادیا تھا ۔۔ لیکن پھر ردعمل آنا شروع ہوا اور ٹیسوری کی مخالفت پہ مبنی سوچ طاقتور ہوتی چلی گئی کیونکہ اس کی پشت پہ عامر خان آچکے تھے جو کہ فاروق ستار کے بعد پارٹی کے دوسرے طاقتور ترین رہنماء بن کے ابھرے ہیں اور جنہیں ٹیسوری کی وجہ سے پیچھے کردیا گیا تھا یوں ان کی آشیرباد سے ٹیسوری کی یہ مخالفت ہر سطح پہ پھیلتی چلی گئی جو کہ اب تک فاروق ستار کا بالکل ویسے ہی مالی سہارا بن چکا تھا جیسا کہ جہانگیر ترین عمران خان کے لیے  بن چکے ہیں اور اسی مالیاتی سہارے کی بدولت انہیں عدالت اعظمیٰ سے نااہلی کے باوجود پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے سبکدوش نہیں کیا گیا ہے۔

جب ٹیسوری نے اپنی یہ مخالفت بہت بڑھتی دیکھی تو دو ماہ پہلے اس نے فاروق ستار سے ناراضگی کا بہانہ کرکے ایم کیوایم کو چھوڑنے کا ڈرامہ رچایا اوراس ردعمل پہ وقتی طور پہ مخالفین بھی چپ ہوگئے کیونکہ ابھی تک مالی طور پہ پارٹی مستحکم نہیں ہوسکی تھی ۔۔۔ تاہم اب دو ماہ بعد وہ مرحلہ آگیا تھا کہ جب ٹیسوری کے مخالفین نے اپنی کوششیں تیز تر کرکے فنڈنگ کے اور کئی متبادل ذرائع تلاش کرلیے  اور ویسے بھی بلدیہ کراچی میں عامر خان گروپ کے رکن کے میئر کے منصب پہ آجانے کے بعد فنڈز کی صورتحال میں بہتری بھی یقینی ہوتی جارہی تھی لہٰذا عامر خان نے رابطہ کمیٹی کے اکثریتی ارکان کی تائید حاصل کرکے ٹیسوری کو سائیڈ  لائن پہ بٹھانے کا بھرپور اقدام کرڈالا ۔ عامر خان یہ سمجھے تھے کہ فاروق ستار اس بڑے قدم  پر  مزاحمت نہیں کریں گے  لیکن کبھی گھاٹے میں نہ جانے اور حساب کتاب میں خصوصی دسترس رکھنے والے اس میمن بچے کی صلاحیتوں‌ کا ادراک کرنے میں انہوں نے بڑی غلطی کی تھی کیونکہ فاروق ستار اس کے خلاف ایک دم ہی ڈٹ گئے جس کی وجہ بالکل عیاں‌تھی ۔۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ ویسے بظاہر تو مخالفین انہیں پارٹی کے سربراہ کے طور پہ قبول کرنے کا گانا گا رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ مرحلہ بھی وقتی ہے اور محض فیس سیونگ کے لیے  ہے،

درحقیقت برسوں ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے باعث فاروق ستار اس مخالف گروپ کے ہر داؤ کو خوب سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر وہ ذرا بھی پیچھے ہٹتے ہیں تو پھر سارے حالات پہ قابو پالینے کے بعد عامر خان ان پہ دس الزام لگاکے ان کی چھٹی کرانے میں دیر نہیں لگائیں گے ۔۔۔ اب معاملہ یہ ہے کہ اس فساد کا جو سب سے ذمہ دار ہے وہ خود کامران ٹیسوری نامی مکار شخص ہے جسے اگر ایم کیوایم اور اس کے ووٹرز کا مفاد ذرا بھی عزیز ہوتا تو وہ ازخود اپنی ذات کی قربانی دینے کا اعلان کردیتا لیکن اس قدر ہنگامے کے باوجود وہ سینٹ  کے لیے  نامزدگی حاصل کرنے میں کامران ہوگیا ہے، اب بات بالکل صاف ہے کہ ٹیسوری دراصل زرداری کی ڈالی ہوئی پسوڑی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے اشتراک سے بھیجا گیا وہ مہرہ ہے جو ایم کیوایم میں بھیجا ہی توڑ پھوڑ کرانے کے لیے  گیا ہے تاکہ کسی صورت پی ایس پی کا رستہ  صاف ہوسکے اور اگر ایسا ہوسکا تو پھر اسی ٹیسوری کو پی ایس پی بطور انعام سندھ کا گورنر کیوں نہ بنوائے گی اور ٹیسوری کو اس کے رنگین خوابوں کی تعبیر کیوں نہ مل جائے گی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *