فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟ ۔۔محمد شاہ زیب صدیقی/قسط5

(فلیٹ ارتھرز کے 200 اعتراضات کے جوابات پر مبنی سیریز)
اعتراض 60:سطح سمندر کے ذریعے زمین کو فلیٹ ثابت کرنے کا بہترین نسخہ یہ ہے کہ 6 سے 12 فٹ لمبا پالش شدہ لکڑی کا تختہ لیں ، اس کو ٹرائپوڈ کے سہارے کھڑا کریں۔ اب اُفق اور لکڑی کے تختے کو اپنی آنکھوں کے ذریعے بالکل متوازن کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ لکڑی کے تختے کے درمیان پر سمندر کا پانی اسی لیول پر نظر آئے گا جیسا تختے کے کناروں پر ہوگا۔
جواب: اس تجربے کے لئے فلیٹ ارتھرز زمین کے خم کو اس انداز سے دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ کناروں سے دریا مُڑا ہوا نظر آئے۔ اس کے لئے ہم calculationsدیکھتے ہیں۔ 5 فٹ کی height سے اُفق آپ سے تقریباً 4.5 کلومیٹر دُور ہوگا۔ اگر آپ لکڑی کے تختے کو اُفق سے متوازن رکھیں گے تو فرض کرلیں آپ کے سامنے 10کلومیٹر تک کا بھی علاقہ ہو تو کناروں پر خم 0.09ڈگری ہوگا، یہ بات انتہائی قابلِ فکر ہے کہ کیا انسانی آنکھ متحمل ہوسکتی ہے کہ اس قدر معمولی خم کو نوٹ کرلے؟ آئیے اگلے اعتراض میں اس کی تفصیل سمجھتے ہیں۔

اعتراض 61:سمندر حقیقی طور پر مُڑا ہوا کیوں نظر نہیں آتا ؟
جواب: ہماری زمین کا circumference تقریباً 40 ہزار کلومیٹر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فی کلومیٹر اس کے کناروں کا خم 0.009 ڈگری ہوتا ہے ، سمندر کے کنارے کھڑے ہوکر اگر آپ کے سامنے اُفق کی لائن 100 کلومیٹر لمبی بھی نظر آرہی ہو تو اس کے کناروں پر خم 0.9 ڈگری ہوگاجو کہ عام آنکھ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا اسی خاطر سمندر حقیقی طور پر مُڑا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہاں پر کوئی فلیٹ ارتھر یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ پہلے curvature of earth کو میٹرز میں ناپا جارہا تھا اب ڈگری میں کیوں ناپا جارہا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ اگر علاقے کے حساب سے ناپا جائے گا تو 1 مربع میل (1 sq. mile) پر آٹھ انچ ہی جھکاؤ آئے گا مگر جب آپ کئی کلومیٹر دُور کھڑے ہوکر لکڑی کے تختے کے ذریعے horizon کا جھکاؤ لمبائی دیکھ کر ناپنا چاہ رہے ہیں تو angles کے ذریعے ہی فرق ناپا جاسکتا ہے۔ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر curvature of earthدیکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ دُوربین لے کر کسی بحری جہاز کو اپنی جانب آتے دیکھیں آپ کو صاف نظر آئے گا کہ پہلے بحری جہاز کا اوپری حصہ نظر آئے گا آہستہ آہستہ بحری جہاز پورا نظر آئے گا، اگر آپ mirage اور حقیقی تصویر میں فرق کرکے یہ بھی نوٹ نہیں کرسکتے تو سمندر کنارے سورج کو غروب ہوتا دیکھ لیں۔(mirage کا تفصیلی ذکر آگے ہوگا)

اعتراض62: Samuel Rowbotham ایک برطانوی سائنسدان تھے، انہوں نے old Bedford نامی ایک تجربہ کیا ۔اس تجربے کے دوران وہ ایک سیدھی نہر کے کنارے پر ٹیلی سکوپ لے کر بیٹھ گئے، انہیں حیرانگی اس وقت ہوئی جب وہ اپنے ساتھی کو مسلسل ٹیلی سکوپ سے دیکھتے رہے اور ان کا ساتھی کشتی میں بیٹھ 10 کلومیٹر دُور پہنچنے کے باوجود ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہوا۔ اگر زمین گول ہوتی تو کشتی کو ان کی نظروں سے غائب ہوجانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔
جواب: جی بالکل! یہ تجربہ آج سے 150 سال پہلے کیا گیا اور تاریخ کے اوراق کا حصہ ہے ۔ اس تجربے کو فلیٹ ارتھرز کی جانب سے پیش کیےجانے والے اہم ثبوتوں میں سے ایک مانا جاتا ہے اس تجربے کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہمیں یاد رہنا چاہیے کہ اس کے بعد اسی نوعیت کا ایک اور تجربہ Henry Yule Oldham نامی محقق نے 1901ء میں کیا جس کے ذریعے زمین کے curve کو ثابت کردیا گیا تھا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر سیموئل کے تجربے میں کشتی کیوں 10 کلومیٹر تک نظر آتی رہی؟ اس کے متعلق سائنسدانوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ Atmospheric refraction کے باعث کشتی سیموئل کو نظر آتی رہی، temperature inversion کی وجہ سے superior mirage imageبنا جس کی وجہ سے کشتی سیموئل کی نظر سے غائب نہیں ہوئی ۔ ایسا اکثر leveling اور celestial navigation کے دوران دیکھا گیا ہے۔mirage اُس نظر کے دھوکے کو کہا جاتا ہے جب شدید گرمی کے دوران ہمیں صحرا یا سڑک پہ پانی کھڑا نظر آتا ہے، بالکل اسی طرح سمندر میں گرمی یا ٹھنڈ کے دوران اکثر کئی کلومیٹر دُور موجود جزائز یا بحری جہازوں کی شبیہ دکھائی دیتی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ ہم دیکھنے کے لئے روشنی کے محتاج ہیں اس خاطر فضا میں گرمی یا ٹھنڈ کے باعث جب روشنی کی لہریں مڑتی ہیں تو ہمیں mirageدیکھنے کو ملتے ہیں۔mirage کا ثبوت ہمیں اس واقعے سے بھی ملتا ہے جب 25 جولائی 1986ء میں گرانٹ مورو نے سیموئل روبوتھم کا تجربہ دُوبارہ انجام دیا تو انہیں 8 کلومیٹر دُور اپنا ٹارگٹ پانی سے 18 انچ اوپر نظر آیا جس سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ زمین میں خم نہیں بلکہ ہم جیسے جیسے بڑھتے جائیں گے زمین جھکنے کی بجائے اُٹھتی جائے گی ، گرانٹ مورو کی بات کو سچ مان لیا جائے تو امریکا ہمارے نیچے ہونے کی بجائے ہمارے اوپر ہوتا۔ خیر اس تجربے کے بھی حیران کن نتائج atmospheric refraction کی کارستانی تھے۔

اعتراض63: ڈاکٹر Rowbotham نے ایک اور تجربہ کیا جس میں انہوں نے سیدھی نہر میں 6 میل کے فاصلے تک ہر میل بعد 5 فٹ کا ایک جھنڈا لگایا تو جب انہوں نے ٹیلی سکوپ سے دیکھا تو تمام جھنڈے ایک ہی سیدھ میں نظر آرہے تھے جو کہ زمین کے فلیٹ ہونے کی دلیل ہے۔
جواب: اس تجربے کی کسی معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی نہ ہی اس کا حوالہ مل پایاسو یہ واقعہ دیگر اعتراضات کی طرح جھوٹ پر مبنی ہوسکتا ہے۔

اعتراض64: ڈاکٹر سیموئل روبوتھم اپنی کتاب “زمین گول نہیں ہے” میں لکھتے ہیں کہ اگر زمین گول ہوتی تو سمندر سے اُفق سیدھا کیوں نظر آتا ؟ اس کے لئے انہوں نے ایک تجربہ بھی سرانجام دیا جس میں انہوں نے 2 پولز کے درمیان رسی باندھ کر اُفق کے سیدھے ہونے کا مشاہدہ کیا۔
جواب: اعتراض نمبر 60 میں اس کو مفصل طور پر بیان کیا جاچکا ہے۔

اعتراض 65: ڈاکٹر روبوتھم مزید لکھتے ہیں کہ واٹر لو کے ساحل پہ انہوں نے ٹیلی سکوپ لگائی اس دوران ایک بہت بڑا اسٹیمر ان سے دُور جارہا تھا انہوں نے دیکھا کہ 4 گھنٹے بعد اسٹیمر اُفق پر غائب ہوگیا، اگر زمین گول ہوتی تو جہاز کو step by step افق سے نیچے ہوتے ہوئے غائب ہوجانا چاہیے تھا۔
جواب: اسٹیمر بہت بڑا جہاز ہوتا ہےلہٰذا کافی دُور پہنچ کر بھی یہ نظر آتا رہتا ہے ، چونکہ ڈاکٹر روبوتھم کے اس تجربے کا ویڈیو ثبوت موجود نہیں جس کے باعث اس پر بحث کرنا ممکن نہیں البتہ جدید دور میں بہت سے لوگوں نے یہ تجربات کیمرے میں محفوظ کیے ان ویڈیوز کو اگر دیکھا جائے تو اسٹیمر کا نچلا حصہ step by stepغائب ہوتا صاف دِکھائی دے گا البتہ بہت دور چلے جانے کے باعث اسٹیمر آہستہ آہستہ نظر آنا بند ہوجائے گا اور غائب ہوتا دِکھائی دے گا۔ اس لمحے کو فلیٹ ارتھرز چپٹی زمین کے لئے بطور ثبوت استعمال کرتے ہیں۔

اعتراض 66: ڈاکٹر روبوتھم کے مندرجہ بالا تجربات سے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا اور سائنسدان حیران رہ گئے ، اس کے بعد فلیٹ ارتھ پر دوبارہ بحث ہو نا شروع ہوگئی۔سب نے ان کی 30 سالہ کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔
جواب: ایسا کچھ نہیں ہوا تھا بلکہ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تومعلوم ہوگا کہ سائنسدانوں نے ڈاکٹر روبوتھم کو serious ہی نہیں لیا اور ان کے بیشتر تجربات کو غلط ہونے کے باعث رد کردیا گیا۔

اعتراض67: Isle of Man اور Great Orm’s Head کے مابین 60 میل کا فاصلہ ہے پھر بھی clear day کے دوران سو فٹ کی اونچائی سے Great Orm’s Head کی بندرگاہ کو آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔
جواب: یہاں پر سمجھنے کی ضرورت ہےکہ سمندری علاقوں میں clear day سے مراد گرمیوں کا دن ہوتا ہے، گرمیوں اور ٹھنڈ میں صحراؤں اور سمندروں میں mirage images کا نظر آنا عام بات ہے ۔ mirage ایک حقیقت ہے ، سو گرمیوں کے دنوں میں Isle of Man سے 100 فٹ کی اونچائی سے Great Orm’s Head نظر آسکتا ہے۔

اعتراض68: نیوجرسی میں Apple Pie نامی پہاڑی سے 40 میل دُور فلاڈیلفیا کا دائرہ افق واضح دیکھا جاسکتا ہے ، اگر زمین واقعی گول ہوتی تو فلاڈیلفیا100 میٹر نیچے ہوتا۔
جواب: نیوجرسی میں موجود Apple Pie Hill تقریباً 205 فٹ بلند ہے۔ Atmospheric refraction کے باعث فلاڈیلفیا کا نظر آنا ممکن ہے ، اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس ضمن میں جو تصاویر فلیٹ ارتھرز بطور ثبوت استعمال کرتے اس میں عمارتوں کی رنگت دیکھ کر refractionکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔mirageکے علاوہ بھی فلاڈلفیا میں عمارتیں 700 سے ایک ہزار فٹ تک بلند ہیں جس کی وجہ سے ان عمارتوں کو 205 فٹ کی اونچائی سے دیکھا جاسکتا ہے۔

اعتراض69: Harriman Stat Park کی Bear نامی پہاڑی سے 60 میل دور نیویارک کی عمارتوں کا دِکھائی دینافلیٹ ارتھ کو ثابت کرتا ہے۔
جواب: Bear نامی پہاڑی 1300 فٹ بلند ہے ، اگر calculations کی جائیں تو اس پر کھڑے ہوکر اُفق 44 میل دور تک دیکھا جاسکتا ہے، مزید یہ کہ آگے 16 میل تک 170 فٹ کا خم آجانا چاہیے۔نیویارک کی عمارتیں ہزاروں فٹ اونچی ہیں لہٰذا ان کا اس پہاڑی سے نظر آجانا کوئی اچھنبے کی بات ہرگز نہیں۔

اعتراض70: جس دن clear day ہو، اس دن نیوجرسی سے 400 فٹ کی بلندی سے نیویارک اور فلاڈیلفیا کے دائرہ اُفق واضح نظر آتے ہیں جبکہ ان شہروں کا فاصلہ 120 میل ہے۔
جواب: اوپر ہم نے اس متعلق تفصیلاً پڑھا کہ clear day کے دوران atmospheric refractionبہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے mirage دِکھائی دیتے ہیں۔ نیوی سے وابستہ افراد اس متعلق زیادہ اچھے سے جانتے ہیں کیونکہ نیوی میں عموماً ان کے متعلق بتایا جاتاہے۔

اعتراض 71: مشی گن سے شکاگو شہر کے دائرہ افق کا نظارہ۔
جواب: اعتراض 62،67،68اور 70 کا جواب ملاحظہ کیجئے۔

اعتراض72: 1854ءمیں ملکہ کے دورہ کے دوران Great Grimbsy سے 70 میل دُور موجود ساحلی روشنی کے مینار کا نظارہ کیا گیا۔
جواب: اعتراض 62،67،68اور 70 کا جواب ملاحظہ کیجئے۔

اعتراض73: 1872ء میں Captian Gibsonاور ان کے ساتھی چین سے لندن واپس آرہے تھے ،clear day تھا ،اس دوران انہوں نے75میل دُور سے ہی St. Helena Islandدیکھ لیا تھا۔
جواب: اس سفر کا کوئی مستند حوالہ نہیں مل پایا بہرحال St. Helena Island تقریباً 2700 فٹ بلند ہے اس کے علاوہ مذکورہ سفرمیں صاف دن کا ذکر ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے یہ بھی mirageکا شاخسانہ ہے ۔

اعتراض74: اٹلی میں واقع Genoa میں ایک جگہ 70 فٹ بلند ہے مگر وہاں سے 81 میل دور جزیرہ دیکھا جاسکتاہے ۔

اعتراض 75: اس مقام سے Island of Corcica بھی اکثر واضح دیکھاجاسکتا ہے جو تقریباً 100 میل کی دُوری پر واقع ہے۔

اعتراض76: اسی مقام سے Island of Capraia بھی کبھی کبھار نظر آتا ہے جو 102 میل دُوری پر واقع ہے۔

اعتراض77: اسی مقام سے اکثر clear day کے دوران Island of Elba بھی دیکھا جاسکتا ہے جو 125 میل کی دُوری پر واقع ہے۔
جواب74تا77: یہ سچ ہے کہ ان مقامات کےmirages واقعی Genoa سے دِکھائی دیتے ہیں مگر یہ جھوٹ ہے کہ یہ سب 70 فٹ کی اونچائی سے دِکھائی دیتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کے لئے بطور ثبوت پیش کی جانے والی تصاویر مختلف عمارتوں کے اوپر سے کھینچی گئی ہیں جس کے باعث ان دعوؤں میں 100 فیصد سچائی نہیں۔آئیے اوپر ذکر کئے گئے مقامات کا highest pointمعلوم کرتے ہیں۔
الف۔ Island of Gorgona کی اونچائی 833 فٹ ہے۔
ب۔ Island of Corica کی اونچائی 8900 فٹ ہے۔
ج۔ Island of Capraia کی اونچائی 1530 فٹ ہے۔
د۔ Island of Elba کی اونچائی 3340 فٹ ہے۔
سو مندرجہ بالا ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ Genoa کی اگرچہ اونچائی 70 فٹ ہے مگر وہاں کسی بھی بلند عمارت سے یہ جزیرے دیکھے جاسکتے ہیں، کچھ تو بنا mirage کے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

اعتراض78: الاسکا میں Anchorage سے 120 میل دُور موجود Mount Foraker ننگی آنکھ سے پورے کا پورا پہاڑ بنیادوں سمیت صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

اعتراض79: Anchorageسے 130 میل دور موجود Mount McKinley بھی ننگی آنکھ سے پورے کا پورا پہاڑ بنیادوں سمیت صاف دیکھا جاسکتا ہے۔
جواب: Mount Foraker کی بلندی 17400 فٹ ہے جبکہ Mount McKinley کی بلندی 20310 فٹ ہے جس کے باعث یہ اتنی دُوری سے باآسانی دیکھے جاسکتے ہیں البتہ فلیٹ ارتھرز کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے کہ اتنی دُوری سے دونوں پہاڑ بنیادوں سمیت دِکھائی دیتے ہیں، اگر کوئی ایسا واقعہ کبھی وقوع پذیر بھی ہوا ہو تواسے mirage کی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے ، اس کے علاوہ اصل تصویر اور mirage میں فرق باآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔

جاری ہے!
قسط نمبر 4 میں موجود اعتراضات کے جوابات پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے شکریہ
https://www.mukaalma.com/21031

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *