• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • پاکستان دہشت گردی کا کفیل نہیں،بلکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے

پاکستان دہشت گردی کا کفیل نہیں،بلکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے

پاکستان دہشت گردی کا کفیل نہیں،بلکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے
طاہر یاسین طاہر
دنیا میں پھیلی ہوئی دہشت گرد و انتہا پسند تنظیموں کی تاریخی طور پر کسی نہ کسی حوالے سے امریکی حمایت و امداد ثابت شدہ ہے۔دہشت گردی کی تاریخ تو بہت طویل ہے مگر پاکستان کے ساتھ اس کی جڑت کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا اور امریکہ نے اپنے سامراجی مفادات کے تحفظ کی خاطر دنیا بھر سے ایسے مسلم جوانوں کو جمع کیا جو شدت پسندانہ رحجانات رکھتے تھے۔جو مذہب کو آفاقی کے بجائےانسان کش ہتھیار سمجھتے تھے۔اسامہ بن لادن اور اس کی القاعدہ کا ظہور بھی امریکی سامراج کی پیچیدہ پالیسیوں کا مظہر ہے۔دہشت گردی کی دیگر مقامی،علاقائی،معاشرتی و مذہبی اور فرقہ وارانہ وجوھات کے ساتھ ساتھ ایک وجہ دنیا بھر میں جاری امریکی پالیسیاں بھی ہیں۔داعش جو کہ امریکہ و اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم ہے اس کی فکری حواری تنظیمیں جبکہ طالبان کے مختلف دھڑے اور النصرہ جو داعش مخالف ہے، اس سمیت سب کا اس بات پہ اتفاق ہے کہ امریکہ و یورپ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ سب دہشت گرد تنظیموں کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر مسلم دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔
دراصل دہشت گردی کی اتنی شاخیں اور مختلف انتہا پسند تنظیموں کی وبا اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ انسانیت اپنی دونوں بانہیں سر پہ رکھ کر رو رہی ہے۔ہر ملک اور ہر سماج دوسرے پہ دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا رہا ہے۔سچ بات تو یہی ہے کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور سب نے مل کر اس عفریت سے لڑنا ہے۔یاد رہے کہ امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس بل کو پیش کرنے والے بااثر رہنما ٹیڈ پو نے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں ایک تبدیلی کی بھی کوشش کی ہے۔
ٹیڈ پو کانگریس میں ایوان نمائندگان میں دہشت گردی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے صدر ہیں اور اس سے پہلے بھی وہ پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔اس بل کے تحت صدر کو 90 دنوں کے اندر جواب دینا ہو گا کہ پاکستان بین الاقوامی دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہے یا نہیں۔ اس کے 30 دن بعد وزیر خارجہ کو ایک رپورٹ دینا ہوگی جس میں انھیں یا تو پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار کرنا پڑے گا یا تفصیل سے بتانا ہوگا کہ وہ کیوں اس زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ٹیڈ پو نے بل میں لکھا ہے، ’پاکستان نہ صرف ایک ایسا ساتھی ملک ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس نے برسوں سے امریکہ کے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے اور مدد کی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینا ہو یا پھر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کس کے ساتھ ہے اس کے کافی ثبوت ہیں اور یہ واضح ہے کہ وہ ’امریکہ کے ساتھ نہیں ہے۔ٹیڈ پو نے ایک ایسا ہی بل گذشتہ سال ستمبر میں پیش کیا تھا لیکن اس کے پاس ہونے کے آثار انتہائی کم تھے کیونکہ یہ اوباما انتظامیہ کا آخری دور میں تھا اور اس پر بحث یا کسی فیصلے کا وقت ہی نہیں بچا تھا۔ٹیڈ پو نے اس بل کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دی نیشنل انٹرسٹ میگزین میں سابق نائب وزیر دفاع جیمز كلیڈ کے ساتھ ایک مشترکہ مضمون لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کہ بھارت اور پاکستان کے باہمی رشتوں سے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ پالیسی پرانی ہو چکی ہے۔ان کا مشورہ ہے کہ جنوبی یا جنوب مغربی ایشیا میں پیدا کسی نئے بحران کی وجہ سے امریکہ کی توجہ نہیں بٹنا چاہیے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دوسرے ایسے اداروں کا قرض ادا کرنے میں ناکام رہنے والے پاکستان کی مدد کے لیے دوڑنا نہیں چاہیے۔
ہم نہیں سمجھتے کہ ٹیڈپو کا بل حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔بلکہ اس بل کے اندر بھارتی خواہشات چھلک رہی ہیں۔ اس امر میں کسی کو کلام نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں امریکہ اور یورپ نے ہمیشہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے ۔یہی ممالک گاہے پاکستان کی دہشت گردی کے میدان میں دی جانی والی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں،لیکن جب بھی انھوں نے “ڈو مور ڈاکٹرائن “کے تحت پاکستان سے مزید کام لینا ہوتا ہے تو یہ الزام لگا دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ کبھی مزید دباو بڑھانے کے لیے یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان اور اس سے متصل دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہا۔
دنیا کے عدل پسندوں کو بہر حال یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف اس قدر قربانیاں نہ تو امریکہ اور اس کے شہریوں نے دی ہیں،اور نہ ہی یورپ کے کسی ملک یاعوام نے دی ہیں، جس قدر قربانیاں پاکستان ا ور پاکستانی عوام و سیکورٹی فورسز نے دی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا کفیل ملک نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے۔امریکہ،یورپ اور دنیا بھر کے عدل پسندوں کو اس حقیقت کا اعتراف و ادراک کرنا چاہیے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *