• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • الحمد اللہ کوئی ہمیں نکال باہر نہیں کرسکتا، چیف جسٹس

الحمد اللہ کوئی ہمیں نکال باہر نہیں کرسکتا، چیف جسٹس

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ہماری ذمہ داری انصاف کرنا ہے جس سے معاشرہ قائم رہتا ہےاور الحمد اللہ کوئی ہمیں نکال باہر نہیں کرسکتا۔

بدھ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران سردار عبدالطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوگئے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ آئین سے متصادم ہے اس لئے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے، انہوں نے سسلین مافیا اور گاڈ فادر کی عدالتی آبزوریشن کو بھی درست قرار دیا۔

چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  آپ کے مطابق آئین کی روح یہ ہے کہ ریاست پرایماندار شخص حکمرانی کرے ،  اگر ادارے کا سربراہ ایماندارنہ ہوتو پورے ادارے پر اثر پڑتا ہے۔

چیف جسٹس نے یہ استفسار بھی کیا کہ کیاموجودہ وزیراعظم کے بیانات کاریکارڈ موجود ہے  موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں انہیں کسی نے وزیراعظم بنایاہے   ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے ،  نہ ہم پریشان ہیں اور نہ ہی قوم پریشان ہے الحمد اللہ کوئی ہمیں نکال باہر نہیں کرسکتا،عدلیہ کی تضحیک اور تذلیل پر آرٹیکل 204 کے تحت سزا دی جاسکتی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار اور راجہ ظفر الحق میں مکالمہ بھی ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا راجہ صاحب آپ عدالت آتے ہیں ہمیں خوشی ہوتی ہے آج کل آپ کے ڈرانے والے لوگ نہیں آتے ان کو کبھی پیار سے تو لے کر آئیں زرا ہم بھی دیکھیں کہ ہم ڈرتے ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تقدس واضح نظر آنا چاہیے تھا، جس کو جو ملتاہے یہاں سے تول کرلے جائے ،سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *