ہم بھی کتنے عجیب ہیں؟۔۔مرزا شہبا ز حسنین بیگ

 بحیثیت قوم ہم اس قدر تضادات کا شکار ہیں  کہ سمجھ نہیں آتا اس صورتحال پہ رویا جائے یا ہنسا جائے۔ہمارا ہر عمل  دوسرے سے جدا اور انوکھا ہے جس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال نظر آئے۔ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ۔مذہب سے لے کر سیاست تک اور ہر شعبہ زندگی میں یہی چلن عام ہے ۔اب مذہب سے آغاز کر لیں ۔
اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید پر کامل یکسوئی کے ساتھ ایمان ہے۔مگر ہماری اکثریت سب سے زیادہ تذبذب کا شکار اسی عقیدے پر ہوتی ہے۔اللہ تعالی کو قادر مطلق ماننا اس عقیدے کی واحد شرط ہے ۔مگر ہمارا ہر عمل اس کی نفی میں گزرتا ہے۔۔نئی گاڑی خرید کر ہم پہلی عجیب حرکت کے تب مرتکب ہوتے ہیں  جب ہم گاڑی کی انشورنس ہونے کے باوجود گاڑی کے تحفظ کے لیے جوتا یا کالا کپڑا نظر بد سے بچانے کے لیے گاڑی کے بمپر پر باندھنا فرض عین سمجھتے ہیں ۔گویا جس خدا نے توفیق دی گاڑی خریدنے کی اس پہ بھروسہ ختم ،اب کالا کپڑا یا جوتا ہی گاڑی کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔
ویسے تو ان عجیب رویوں پر ان گنت مثالیں دی جا سکتیں ہیں،جو کہ جا بجا توحید کے فلسفے کی نفی کرتی نظر آتی ہیں ۔میں اک دفعہ عمرہ پر گیا ۔کسی نے فرمائش کی کہ مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے گرد جو کبوتر ہوتے ہیں،ان کو جو دانہ ڈال جاتا ہے اس میں سے جو تلاش کر کے بھیجیں ۔ان کو کھانے سے بے اولاد حضرات کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے۔میں بھی بلا سوچے سمجھے جو تلاش کرنے میں مگن تھا ۔اچانک اک بزرگ شخص نے سلام کے بعد کہا بیٹا میری اک چھوٹی سی بات تو سنو۔میں نے کہا جی فرمائیں ۔کہنے لگے بیٹا کتنی عجیب بات ہے تم خدا کے گھر میں موجود ہو ۔خدا سے دعا نہیں مانگ رہے کہ اللہ بے اولاد کو اولاد کی نعمت سے نواز دے  بلکہ کبوتروں کے بچے ہوئے دانے دنکے میں سے اولاد کے لیے جو ڈھونڈنے میں مصروف ہو۔بیٹا لمحہ بھر کے لیے سوچو تو سہی جو پوری کائنات کا خالق مالک رازق اور ہر شے پر قادر ہے ۔۔جو ہر نعمت سے نوازتا ہے اس کو تم فراموش کر رہے ہو ۔ذرا کامن سینس استعمال میں لاؤ۔ سچ میں بہت شرمندگی ہوئی کہ اتنی عام فہم سی بات پہلے کیوں ذہن میں نہیں آسکی ۔
تو جناب ہم پاکستانی ایسے عجیب رویئے اور انوکھے کام روزانہ کی بنیاد پر بنا کسی عقلی استدلال کے کیے جارہے ہیں ۔اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کا حلیہ ہم نے اپنی مرضی سے بگاڑنے  کا  گویا اجازت نامہ حاصل کر رکھا ہے۔صفائی نصف ایمان ہے  ، ہمیں دیکھیں بچپن سے یہی بات   بتائی جاتی ہے۔مگر چونکہ ہم انوکھے ہیں لہذا یہاں بھی اپنا یہ اعزاز برقرار رکھنا فرض عین سمجھتے ہیں ۔ہر  جگہ گندگی پھیلانا ہمارا وطیرہ  بن چکا ہے ۔بطور انسان ایک امتیازی وصف ہمارے اندر عقل کی صورت موجود ہے۔مگر ہم کس قدر عجیب ہیں، عقل کو استعمال میں ہی نہیں لاتے اور پھر اپنی محرومیوں کو یہود و نصاریٰ کے کھاتے میں ڈال کے مطمئن ہو جاتے ہیں ۔ہمیں کوئی بھی شخص مذہب کے نام پر محیر العقول واقعات سناتا  ہے ۔اور ہم ان کو سن کر سر دھنتے ہیں ۔سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد کرتے ہیں ۔اس دوران عقل کے خانے کی مکمل تالا بندی ہوتی ہے۔اسلام کا پہلا حکم علم کے لیے نازل ہوا۔علم کے حصول کے لئے بے شمار احادیث کی موجودگی کے باوجود ہم کتنے عجیب ہیں کہ ماسوائے علم کے تمام  غیر علمی مشاغل میں مصروف رہتے ہیں ۔
علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین  مکہ کے قیدیوں سے رہائی کے لیے ایک شرط یہ بھی مقرر کی کہ تم  میں سے کوئی بھی جنگی قیدی مسلمان کو دس لفظ سکھا کر بھی رہائی حاصل  کر سکتا ہے۔اس ایک واقعہ سے معمولی شعور رکھنے والا شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضور اقدسﷺ  کے پیش نظر مسلمانوں کی دنیاوی تعلیم کی کس قدر اہمیت ہے۔ظاہری بات ہے کفار مکہ کے قیدیوں نے دینی تعلیم تو نہیں دینی  تھی ۔لیکن آفرین ہے ہمارے رویوں پر آج تک ہم کنفیوژن کا شکار ہیں ۔ہمارے علماء کی اکثریت دینی تعلیم کے فروغ میں کوشاں ہے  اور دنیاوی تعلیم کی ان کے نزدیک ہر گز کوئی وقعت نہیں ۔ہر نئی سائنسی ایجاد جو غیر مسلموں کی جانب سے ہو۔اس پر ایک جملے میں تبصرہ فرماتے ہیں  کہ قرآن نے 1400  سال قبل اس بابت آگاہ کیا تھا۔جبکہ لمحہ بھر کے لئے نہیں سوچتے کہ قرآن میں موجود ہر بات سے غیر مسلم ہی کیوں استفادہ حاصل کر رہے ہیں ۔
ہمیں کس نے روک رکھا ہے سوائے ہماری جاہلیت کے’مگر ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ پچھلے چار سو سال سے ہمارا سائنسی  ایجادات میں کتنا حصہ ہے۔اور یہود و انصاریٰ  نے انسانیت کی خدمت کے  لیے کس قدر مفید تحقیقات کی ہیں ۔ مذہب اسلام نے  معاشرے کے سدھار کو حد درجہ اہمیت دی۔جھوٹ سے اجتناب سچ کے فوائد جاننے کے باوجود جھوٹ ہماری رگوں میں لہو بن کر گردش کر رہا ہے۔ہم بھی کتنے عجیب ہیں، ہمسایوں کے حقوق سے آگاہ ہونے کے باوجود ان کی ادائیگی  کو ہر گز کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔محلے میں موجود مخیر حضرات سال میں چار چار عمرے کر رہے ہیں ۔مگر ہمسائے میں موجود غریب کی غربت ختم کرنے سے ان کو کوئی سروکار نہیں ۔بھلے اس غریب کی جوان  بچیوں کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہے ۔مگر ہمیں  اس سے کیا؟
الغرض اس عجیب رویئے اور انوکھے تضادات پر صفحات کے صفحات سیاہ کیے جا سکتے ہیں ۔ہم بھی کتنے عجیب ہیں نہ ان سب تضادات کو حرزجاں بنا کر اپنی ہر محرومی کا کارن غیر مسلموں کو قرار دے کر جان چھڑا لیتے ہیں ۔اور یہ مضمون بھی پڑھ کر فقط مسکرا کر آگے چل دیں گے۔جبکہ ضرورت صرف اور صرف ان تضادات سے جان چھڑا کر عملیت پسند بننے کی ہے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *