یہ فلاں کا آدمی ہے۔۔محمد اظہار الحق

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

اس دن مایوسی گہرے بادلوں کی طرح چھائی ہوئی تھی ۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ کس  طرف کا رُخ کیا جائے۔کیا قلم توڑ کر پھینک دیا جائے؟ کیا لکھنا چھو ڑ دیا جائے؟ کیا دماغ کو جسم سے نکال کر کوڑے میں ڈال دیا جائے؟
ایسے مواقع پر گاڑی میں بیٹھتا ہوں اور سیدھا پروفیسر اظہر  وحید  کے پاس جاتا ہوں ،پروفیسر ظفر وحید ان آدمیوں میں سے ہیں جن پر صرف رشک کیا جاسکتا ہے۔پروفیسر کو بیس سال پہلے گردن کے پٹھوں کی تکلیف ہوئی تھی جسے Losis cervical .spondy کہتے ہیں ۔اتفاق سے انہی دنوں مجھے بھی یہی عارضہ لاحق ہوا۔ ڈاکٹر نے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہم دونوں کو ورزش بتائی۔ میں نے تندرست ہوتے ہی ورزش کو عاق کردیا ۔پروفیسر نے اس دن سے لے کر آج تک ایک دن بھی اس میں ناغہ نہیں کیا۔ وہ ہفتے میں سات دن شام کو سیر کرتا ہے۔شدید بارش او ر تیز ندھی کے سوا اسے کوئی امر اس سیر سے منع نہیں کرسکتا ۔خاندانی تقریب ہو یا شادی کی دعوت یا کوئی اور مصروفیت اس کے لیے سیر سے زیادہ کوئی اور شے  زیادہ اہم  نہیں !قدرت نے اسے معاشی آسودگی سے خوب  نوازا ہے مگر اس نےاس آسودگی کو اپنے حواس پر طاری نہیں کیا ۔ تیرہ سالہ پرانی گاڑی خود چلاتا ہے۔ اپنے کپڑے خود دھوتا ہے خود  استری کرتا ہے اپنے  جوتے خود پالش کرتا ہے۔ اپنا باتھ روم خود صاف کرتا ہے قسم قسم کے کھانے میز پر سجے ہوں تو ان میں سے سبزی ڈھونڈ کر کھائے گا۔ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے پھر بھی وہ اپنے مقررہ وقت پر سوئے گا اور مقررہ وقت پر ہی جاگے گا۔ایک بڑا ادارہ چلا رہا ہے۔ اگر وہ دیر سے پہنچے تو اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ، مگر وہ وقت پر  پہنچتاہے۔ جن دنوں’بہت مدت پہلے’وہ گورنمنٹ کے ایک کالج میں پڑھا رہا تھا۔ ہم دونوں سنگا پور گئے ‘والد گرامی کے ایک دوست نے وہاں اپنا ایک خالی فلیٹ ایک ہفتے کے لیےہمارے سپر د کردیا ۔ پروفیسر نے پہلا اعلان فلیٹ میں سامان رکھنے کے بعد یہ کیا کہ کھانا باہر سے نہیں کھایا جائے گا۔ حیران ہوکر پوچھا ‘یہاں کون پکائے گا؟کہنے لگا میں پکاؤں گا۔ چنانچہ ہم بازار سے سودا سلف لائے، اور پروفیسر نے جتنے دن رہے’کھانا خود پکایا۔ جس دن ہم دونوں کی واپسی طے تھی اس سے دودن پہلے اس نے اعلان کیا “میں ایک دن پہلے جاؤں گا”تم پروگرام کے مطابق آرام سے آؤ۔وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ تعطیلات کے بعد کالج کھل رہا ہےمیں اگر پروگرام کے مطابق تمہارے ساتھ جاؤں تو میرے پہلے دن کے پیریڈ مس ہوجائیں گے۔ حیران ہو کر کہا آپ بیرون ملک ہیں اور ایک ہی دن کی تو بات ہے۔ اس نے کہا”نہیں ،میں نے کبھی اپنی کلاس نہیں چھوڑی”!وہ جہاز میں بیٹھا اور مجھے چھوڑ کرچلا گیا۔
جب تعطیلات کے بعد کالج کھلا تو اس نے اپنا پیریڈ پڑھایا۔
یہاں ایک اور پروفیسر یاد آرہے ہیں دانشور!شاعر!مقرر! ناصح !سنا ہے کلاس میں اس طرح آتے تھے جیسے آٹے میں نمک!
سادگی سے تم نہ سمجھے ترک کا سبب
ورنہ وہ درویش پردے میں تھے دنیا دار بھی

ان کے بارے میں ایک واقعہ ثقہ راویوں نے روایت کیا کہ پرنسپل نے تمام اساتذہ کی میٹنگ بلائی اور تشویش کا اظہار کیا کہ امتحانی پرچے پروفیسر حضرات، تاخیر سے دیکھتے ہیں۔مقررہ وقت پر نتیجہ مرتب کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اس پر مذکورہ بالا پروفسیر صاحب نے ایک طویل’موثر ناصحانہ تقریر کی جس میں فرائض سرانجام دینے میں کوتاہی برتنے کے روحانی اور دنیاوی  نقصانات پر روشنی ڈالی ۔بہر طور’ جب پوچھا گیا کہ کس کس نے ابھی تک  پرچوں کی مارکنگ نہیں کیا تو سرِ فہرست جناب ہی کا اسم گرامی تھا!

بات پروفیسر اظہر وحید کی ہورہی تھی۔ ڈسپلن کے مطابق او قوائد کی رو سے زندگی گزارنے کے علاوہ اس میں اصل کشش  یہ ہے کہ وہ زندگی گزارنے کے اصول بھی بتاتا ہے۔ پریشانی کا اس سے ذکر کیا جائے تو وہ اس کا منطقی حل بتا کر باور کراتا ہے کہ اس سے رہائی پائی جاسکتی ہے۔
گاڑی میں بیٹھا اور پروفیسر کے پاس پہنچ گیا۔ دن کے گیارہ بجے تھے۔ مجھے دو جمع دو چار کی طرح معلوم تھا کہ یہ وقت پروفیسر کے پھل کھانے کا ہے’یہی ہوا۔اس کے ایک طرف پلیٹ پڑی تھی جس میں مالٹے اور امرود پڑے تھے۔ اس نے اپنے ادارے کی عمارت میں ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنا دفتر بنایا ہوا تھااس کے نزدیک دفتر کے بڑا یا چھوٹا ہونے کا معیار یہ نہیں تھا کہ وہ ادارے کا مالک یا سربراہ ہے۔ معیار یہ تھا کہ اس کی ضروت کیا ہے اور کتنی ہے۔
پروفیسر سے پوچھا کہ ہماری قسمت میں گالیاں کیوں ہیں ۔ہم مسلم لیگ نون کی اچھی بات کی تعریف کریں تو پی ٹی آئی والے طعنے دیتے ہیں کہ بِک گئے۔ عمران خان کے حق میں کچھ لکھیں تو مسلم لیگ والے دشنام دیتے ہیں۔شریف برادران پر تنقید کریں تو ادھر  سے گالیاں پڑتی ہیں ۔عمران خان کی دس اچھی باتوں کی تعریف کرنے کے بعد اس کی ایک غلطی کی نشاندہی کریں تو ایسی ایسی  دشنام طرازی ہوتی ہے کہ نظیری اور صائب  کم مائگی کا اعتراف کریں ‘ ایم کیو ا یم کے حق میں لکھا تو دوستوں نے بھی پوچھا کہ کتنے پیسے ملے ہیں ۔ایم کیو ایم سے پوچھا کہ لاس اینجلز سے لے کر ہوسٹن تک کاروبار کے طویل سلسلوں کے پیچھے کون ہی گیدڑ سنگھی ہے تو کراچی کے ساحل سے گالیوں کی وہ لہر اٹھی کہ سندھ کی ساری ریت اس میں جذب ہوگئی۔ دبئی کے محلات اور پیرس اور نیو یار ک کی جائیدادوں کا سرسری ذکر بھی کیا جائے تو پیپلز پارٹی والے مذہبی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جیسے یہ ساری جائیدادیں تو داس کیپٹل کے صفحات سےبنی ہیں!آخر کیوں ؟کسی شخصیت سے مستقل عقد کرنا ضروری ہے؟ کیا یہ لازم ہے کہ ہمیشہ تعریف ہی کی جائے؟ کیا یہ سب فرشتے ہیں  اور غلطی کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتے؟

پروفیسر نے گلاس بڑھایا اور  کہا’پانی پیو۔ پھر چائے منگوائی ۔پھر حسبِ معمول اپنی گفتگو کا آغاز اس فقرے سے کیا

“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں “
پھر وہ مسکرایا ۔پھر اس نے گفتگو جاری رکھی۔
یہ سب کچھ اس طرح نہیں ‘جس طرح تم دیکھ رہے ہو۔تم اس مسئلے کو ‘ا س سارے معاملے کو’ اس قضیے کو’اس بکھیڑے کو ‘ایک خاص زاویے سے دیکھ رہے ہو۔اس لیے کہ تم جس پہلو پر بیٹھے ہوئے ہو اس پہلو پر بیٹھنے سے یہی زاویہ بنتا  ہے۔ تم بیٹھنے کا پہلو بدل لو،زاویہ بھی بدل جائے گا۔ پھر تمہیں ہر شے مختلف نظر آئے گی۔ہمیں جو کچھ نظر آتا ہے’وہ اس سے یکسر مختلف ہوتا ہے   جواصل میں ہے!اسی لیےامیر المومنین علی المرتضٰی سے دعا مروی ہے کہ یا اللہ مجھے چیزیں اس طرح دکھا جیسے کہ وہ اصل میں ہیں ۔ اس طرح نہیں ‘ جیسے نظر آرہی ہیں ۔ تمہیں وہ چند افراد نظر آرہے ہیں جوگالیاں بھیجتے ہیں ۔ طعنے دیتے ہیں ‘برا بھلا کہتے  ہیں ۔مگر یہ افراد کتنے ہوں گے؟ بیس ؟پچاس؟پانچ سو؟پانچ ہزار؟ کیا تمہیں معلوم ہے کتنے پڑھنے والوں نے تم سے اتفاق کیا ہوگا؟ وہ تمہیں اس لیے نہیں دکھائی دے رہے کہ وہ اپنی پسندیدگی تم تک پہنچا نہیں رہے ۔ انہیں تم پر اعتماد ہے کہ تم شخصیت کو نہیں دیکھتے ‘صرف یہ دیکھتے ہو کہ یہ شخصیت کرکیا رہی ہیں  اور کہہ کیا رہی ہیں !اس لیے کہ “کون”سے “کیا “زیادہ اہم ہے؟یاد رکھو کہ خلق خدا ‘ان چند لوگوں سے زیادہ عقل  مند ہے جو کسی نہ کسی شخصیت سے وابستہ ہیں ۔اصل میں یہ لوگ’یہ دانشور’یہ لکھاری’ یہ اینکر’جو کسی نہ کسی لیڈر سے وابستہ ہیں اور ہر حا ل میں اس کا دفاع کرتے ہیں اور ہر حال میں اپنے لیڈر کے مخالفین کو برا بھلا کہتے ہیں ‘یہ لوگ ‘یہ دانشور’یہ لکھای’یہ اینکر’ قابلِ رحم ہیں ۔خلق خدا کو ان کا کچا چٹھا معلوم ہے ۔خلق خدا کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہیں گے؟کیا دلیل دیں گے؟ خلق خدا کو معلوم ہے کہ یہ کسی صورت میں بھی اس لیڈر کے قول اور فعل پر تنقید نہیں کریں گے جس سے اپنے آپ کو وابستہ رکھا ہے۔ نام لینے کی ضرورت نہیں ۔بالکل نہیں ! مگر ہر ایک کی اصلیت واضح ہے۔وہ اپنے آپ کو دانش کی چادر میں جتنا چاہیں لپیٹ لیں ۔جتنی چاہیں بھاری بھرکم علمی اصطلاحات استعمال کریں ‘جتنی چاہیں “نظریہ سازی” کریں ‘خلق خدا انہیں اندر سے جانتی ہے اور خوب جانتی ہے۔خلق خدا کو معلوم ہے کہ فلاں نے کیا حاصل کیا ہے’فلاں کا کون سا مفاد ہے۔ فلاں سرکار کے خرچ پر کہاں کہاں گیا؟ فلاں کو فلاں ادارے سے کیا مل رہا ہے؟فلاں کی اولاد کس سے فائدہ اٹھا رہی ہے؟  کسی سے کچھ نہیں چھپا ہوا۔ خلق خدا ان کی کسی بات کو’کسی تحریر کو ان کی دانش کے کسی ٹکڑے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔وہ صرف یہ جانتی ہے کہ یہ کس کا آدمی ہے۔یہ کہاں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ خلق خدا  کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ اتنا عرصہ پہلے کس ادارے میں تھا ۔پھر کس سے وابستہ ہوا۔اور اب اگر اپنے محسن یا محسنین پرتنقید کررہا ہے تو کیوں کررہا ہے؟

SHOPPING

تمہارے اور تمہاری قبیل کے لکھاریوں کے بارے میں خلق خدا جانتی ہے اور خوب جانتی ہے کہ کسی سے وابستہ نہیں ہو۔ کسی سے مستقل وفاداری کا عقد نہیں باندھا۔ جو اچھاکام کرے گا اس کی تعریف کرو گے۔دوسرے دن غلطی کرے گا تو نشان دہی کروگے۔پڑھنے والے اعتماد کرتے ہیں ۔تم نے شریف برادران کی تعریف بھی کی۔ ان پر تنقید بھی کی ۔تم نے عمرا ن خان کی تعریف بھی کی’ا س پر تنقید بھی کی۔یہی ہے وہ رویہ جسے خلق خدا چاہتی ہے اور جس کی تعریف کرتی ہےخلق خدا کو ایک ایک لکھاری کا معلوم ہے کہ کس نے فلاں لیڈر کے کسی کام یا کسی بات پرآج تک تنقید نہیں  کی! یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کی   بات سو فیصد درست ہو!
تم اپنا کام جاری رکھو۔تمہیں کو ئی غلط لگتا ہے اسے غلط کہو۔ جو صحیح لگتا ہے ‘اسے صحیح لکھو۔رہیں گالیاں  تو شورش کشمیری کا یہ شعر پڑھ لیا کرو
شورش تیرے خلاف زمانہ ہوا تو کیا
کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کے خلاف ہیں!
اور ہاں !یہ دعا کرو کہ ا س راستے پر تمہیں استقامت نصیب ہو!اسی راستے پر رہو! خد ا وہ دن نہ لائے کہ لوگ تمہاری شکل یا تمہاری تحریر دیکھ کرکہیں کہ “یہ فلاں کا آدمی” ہے۔

SHOPPING
SALE OFFER

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *