پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر۔۔ممتاز یعقوب خان

پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کا دن کہا جاتا ہے- پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہر سال اس دن عام تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ کشمیر اور پاکستان یک جان دو قالب (بلکہ یک جان کہنا زیادہ درست ہو گا) ہیں اور ان کے دکھ درد ، خوشی اور غمی سب کچھ  سانجھا ہے-

یہ بڑی ہی خوش آئند بات ہے اور اس کے لیے یقیناً  پوری کشمیری قوم پاکستانی عوام اور ان کی حکومت کی شکر گزار ہے کہ  چلیں  دنیا  میں کوئی تو ہے ، جو (بظاہر ہی سہی) انهیں اپنا تو کہہ رہا ہے- (انتہائی معذرت کے ساتھ)کشمیری عوام دنیا کی وہ بدقسمت ترین قوم ہے جو صدیوں سے غلامی کی چکی میں مسلسل پس رہی ہے- آفرین ہے اس قوم کے صبر اور برداشت پر کہ غلامی سے چھٹکارا تو دور کی بات آج تک بنیادی حقوق سے آشنائی تک حاصل کر سکی اور نہ اس نے کبھی خود کو غلام ہی تصور کیا-
1586ء میں مغلوں کے حملے کے بعد سے آج اکیسویں صدی تک صدیوں پر محیط غلامی کے اس طویل ترین دورانیہ گزر جانے کے بعد بھی تا دم تحریر یہ قوم جمود کا شکار ہے-

ہمارے نزدیک آزادی آج بھی محض جغرافیائی لکیروں تک ہی محدود ہے- ان لکیروں کی حد ود ہی ہے جن کے اندر ہم بستے ہیں – ہمارے اوپر کوئی حملہ نہ کرے باقی جو مرضی ہوتا رہے- ان آڑھی ترچھی  لکیروں کے اندر ہم کس حالت میں جی رہے ہیں ، اس سے آزادی پر فرق نہیں پڑنے والا- کیونکہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے ، چھینا جھپٹی اور نفسا نفسی تو ہے مگر ہم بہرحال آزاد ہیں-

زندہ اقوام آزادی اور حقوق کی جدوجہد کیا کرتی ہیں اور ان کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھتیں- بدقسمتی سے اس معاملے میں ہم ضرورت سے کچھ  زیادہ ہی چاپلوس اور حقیقت سے نظریں چرانے والی قوم نکلے- جسے اتنا بھی  علم نہیں کہ آزادی اور حقوق کیا ہوتے ہیں اور اقوام ان کے لیے کیوں لڑتی ہیں- یہی چیز ہمارے لیے زہر قاتل ثابت ہوئی جس کی وجہ سے ہم غلامی کا طوق اپنے گلے سے نہ اتار سکے-

مخصوص جغرافیائی حدود کے اندر رہنے والی عوام مذہب ، رنگ اور نسل سے بالاتر ایک قوم کہلاتی ہے- قومی دھارے میں شامل افراد  کے درمیان قدریں مشترک ہوتی ہیں اور ان کے درمیان معاشی ، سماجی ، تمدنی ، روایتی ، معاشرتی ، اخلاقی اور تاریخی رشتے کی ایک مضبوط زنجیر ہوتی ہے جو انهیں باہم متحد رکھتی ہے-

جب زمین کے اس مخصوص ٹکڑے پر آباد قوم کو جغرافیائی حدود کی پامالی اور کسی بیرونی جارحیت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو ، جب اس قوم کے داخلی اور خارجی معاملات اس کے اپنے پاس ہوں اور وہ اپنے تمام تر فیصلے بنا کسی بیرونی یا اندرونی دباوء کے خود کرنے کے قابل ہو ، جب اس قوم کے حقوق اسکی ریاست اسے گھر   کی دہلیز پر فراہم کرتی ہو ، اس کی حکومت کسی دھاندلی یا دباؤء کے بغیر اس کے دئیے ہوئے مینڈیٹ کے مطابق بنتی ہو-

جب اس قوم کی ریاست کا اقتدار اعلی  کسی دوسرے ملک/ممالک کے ہاتھ  میں نہ ہو ، اس کے ادارے مکمل آزادی اور دیانتداری کے ساتھ  فعال ہو کر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوں ، جب قوم کو روزگار کے لیے دھکے نہ کھانے پڑتے ہوں ، جب اس کی نسلوں کو مفت اور میعاری تعلیم کی سہولت دستیاب ہو ، جب اسے علاج معالجے کے لیے اچھے  ہسپتال دستیاب ہوں ، جب اس قوم کو انصاف پیسے دے کر نہ خریدنا پڑتا ہو-

جب اس قوم کو معمولی سے کام کے لیے بھی رشوت نہ کھلانی  پڑتی ہو ، جب اسے چوری ، ڈاکہ زنی ، قتل و غارے گری  اور کرپشن سے نجات حاصل ہو ، جب  اس کی ریاست کے اندر آئین و قانون کی بالا دستی قائم ہو ، جب اسکی ریاست میں امن و امان کا دور دورہ  ہو اور وہ بنیادی حقوق کے جھجھٹوں سے آزاد ہو کر تعمیر و ترقی اور جدید ایجادات کی راہ پر گامزن رہنے کے قابل ہو ، تب بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ قوم آزاد ہے-

ہمارے ہاں اس کا تصور بالکل ہی الٹ ہے- ہماری ریاست چار حصوں میں منقسم ہے- بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بربریت اور اس کے  قوانین لاگو ہیں ، اقصائے  چن  میں  چین  کا سکہ چلتا ہے ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ایک ہی ملک کے زیر انتظام ہونے کے باوجود بھی  الگ الگ قوانین کے تحت چلائے جاتے ہیں- ریاست ہی نہیں ہے تو حقوق اور آزادی کیسی؟ بہرحال جس مقام پر ہم اور ہماری ریاست کھڑے ہیں ، یہاں پر بھی  ہم نے ذاتی مفادات کو مقدم رکھنے اور اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے سوا کچھ  نہ کیا- کبھی اس قائد کے نعرے تو کبھی اس قائد کے- ہاتھ  کیا آنا تھا ،کچھ بھی نہیں –

گلگت بلتستان کے نظام کو دیکھا   جائے تو وہ کسی آئین و قانون کے تابع ہی نظر نہیں آتا ، جبکہ آزاد کشمیر میں ماورائے آئین قسم کا ایکٹ 74ء نافذ  ہے ، جس نے آزاد کشمیر حکومت کو بالکل ہی مفلوج بنا کر رکھا ہوا ہے- اس ایکٹ کے تحت آزاد کشمیر کے 54 شعبہ جات براہء راست پاکستان کے کنٹرول میں ہیں اور آزاد کشمیر کی بے بس اور لاچار حکومت کو اس کے وسائل کا عشر عشیر بھی  نہیں ملتا اور نہ ہی لینٹ آفیسران کی منظوری کے بغیر اس کا وزیراعظم اور اس کی پارلیمنٹ کوئی فیصلہ ہی کرسکتی ہے-

دوستوں کو گلہ رہتا ہے کہ کشمیر کی نوجوان نسل پاکستان کے خلاف ہے- بعض حقائق سے نا آشنا قسم کے لوگ جوش میں آ کر غداری کے طعنے اچھالتے رہتے ہیں- انهیں ایسا لگتا ہے کہ آزادکشمیر والے انکا دیا ہوا کھاتے ہیں اور انہی کے خلاف بات کرکے نمک حرامی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں ، جبکہ حقائق اسکے بالکل ہی برعکس ہیں-

پاکستان ہمارا بازو ہے اور کشمیری عوام پاکستان کو کسی بھی  قیمت پر کمزور نہیں دیکھنا چاہتی- ہم اسے ہمیشہ مضبوط ومستحکم دیکھنا چاہتے ہیں ، ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ، چاہے الحاق کریں یا پھر  آزاد و خود مختار ملک کی حیثیت میں رہیں-

یہاں ہمارے حقوق کا معاملہ ہے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا کسی ملک یا اس کی قوم کے خلاف ہونا نہیں ہوتا- یہ جدید دور ہے اور آج ہر دوسرا آدمی اتنا پڑھا لکھا  ضرور ہے کہ وہ اچھے ، برے ، حق اور سچ میں تمیز کرسکے- وگرنہ سب جانتے بوجھتے بھی  اگر کوئی حق کو دبانے کی کوشش کرے تو یہ بدترین قسم کی منافقت ہے اور منافق کا ٹھکانہ جہنم ہے- اس لیے ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے منافقت سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے-

ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام خود اپنے ہی حکمرانوں کے بدترین استحصال ، لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے شدید مشکلات سے گزر رہی ہے- مگر یقین جانیے کہ اس میں کشمیر عوام کا رتی بھر بھی  قصور نہیں ہے کیونکہ آپکے حکمران آپ ہی کےانتخاب سے اقتدار میں آتے ہیں اور آپکے ملک اور قوم کو لوٹ کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں- پانچ سال کے بعد پھر سے منظر عام پر آتے ہیں تو آپ ان کے دیے چرکے یکسر فراموش کرکے ان پر صدقے واری ہو جاتے ہیں-

ہم ہر اس شخص کو پاکستان کا بدترین دشمن سمجھتے ہیں ، جس نے اپنی ہی قوم سے مینڈیٹ لے کر اسے پسماندہ رکھا ، پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور بیرونی طاقتوں کی پالیسیوں کی تکمیل کرتا رہا- پاکستان صرف پاکستانی عوام کا ہی نہیں بلکہ اس کے اداروں میں موجود جملہ افراد کا ہے ، چاہے ان کا تعلق پولیس سے ہے ، فوج سے یا پھر  دیگر اداروں سے ، کیونکہ ان کا تعلق بھی  عوام سے ہی ہے- ہم اس ملک کی بقاء اور سالمیت کے لیے دعا اور اس کی قوم سے اسے بچانے کی اپیل ہی کرسکتے ہیں-

ایک دو حقائق بطور مثال قارئین کے سامنے رکھنا ضروری ہیں- گلگت بلتستان میں دیامر ڈیم اور آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم ، کروٹ ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کہیں منصوبوں سے بجلی پیدا ہوتی ہے- جو کل ملا کر کم ازکم اڑهائی تین سے ساڑھے تین ہزار میگا واٹ بنتی ہے- آزادکشمیر کی کل ضرورت تین سے ساڑھے تین سو میگا واٹ بجلی ہے مگر اسے وہ بھی نہیں ملتی- حالانکہ ان پراجیکٹس کی رائیلٹی پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا حق ہے- اسی طرح قیمتی پتھروں اور لکڑی کو بھی غیر قانونی طور پر اسمگل کیا جاتا ہے ، جس کا آزاد کشمیر کی عوام کو رتی برابر فائدہ بھی نہیں پہنچتا-

تاریخ سے معمولی سی آشنائی رکھنے والے بھی اس واشگاف اور درخشاں  حقیقت سے واقف ہیں کہ کشمیر تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے انڈو پاک کا حصہ نہیں بلکہ ایک الگ ریاست ہے اور اسی لیے بین الاقوامی طور پر متنازعہ مانی جاتی ہے- اس کا فیصلہ ابھی اسکی عوام نے کرنا ہے کہ انهیں کسی کے ساتھ الحاق مطلوب ہے یا وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں-

تاہم اس بات سے قطع نظر اگر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ کے تناظر میں ہی لیا جائے تب بھی رائیلٹی کے حق سے اسے محروم نہیں کیا جاسکتا- جیسے سوئی گیس پر بلوچستان کی رائلٹی بنتی ہے- متنازعہ علاقہ پر صوبائی قوانین کا نفاظ نہیں کیا جا سکتا ، یہ صرف عکس دکھایا ہے- کشمیری عوام کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع اور اختیار بہرحال ملنا چاہیے  جو اس کی عوام کے ساتھ ساتھ  پورے خطے کے امن اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے-

بات اظہار یکجہتی سے شروع ہوئی اور کہیں دور نکل گئی- تفصیل میں جانا نہیں تھا  مگر صورتحال کو واضح کرنے کے لیے چند حقائق کو بطور مثال مجبوراً  سامنے لانا پڑ جاتا ہےتاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو اور اسے محض کسی قسم کی الزام تراشی سے تعبیر نہ کیا جائے- ورنہ ایک ہی بات کو بار بار لکھنا ضروری نہیں ہوتا-

اظہار یکجہتی کا بہترین عمل یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متنازعہ علاقہ کو تاتصفیہ ایک مشترکہ حکومت اور ایک ہی آئین کے تحت لایا جائے تاکہ دونوں حصوں کی عوام کو باہم ملنے اور اپنے دیرینہ مسئلے  پر تبادلہ خیال کا موقع مل سکے- اس کے ساتھ  ساتھ  ایکٹ 74ء ، گلگت بلتستان کی وفاقی وزارت اور لینٹ آفیسران وغیرہ کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے آزاد کشمیر حکومت کو ہر قسم کے دباوء سے آزاد  کرکے مکمل بااختیار بنایا جائے- ریاستی وسائل کا کنٹرول آزاد حکومت کے ہاتھ  میں دیا جائے تاکہ قومی حکومت عوامی ٹیکسز اور ریاستی وسائل کا پیسہ ریاست کے اس ٹکڑے کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرے-

یقین کیجیے کہ کشمیری عوام کے ساتھ  اظہار یکجہتی کا تقاضہ بھی  یہی ہے اور سب سے بہترین طریقہ بھی  ، جس کی مثال دنیا  میں  ڈھونڈنے سے بھی شاید نہ  ملے- اگر ایسا ہو جائے تب کشمیری عوام اور دنیا کو لگے کہ انکے ساتھ  واقعی کوئی قوم اور اسکی حکومت مخلص ہو کر اظہار یکجہتی کا اعلان کر رہی ہے-

یاد رہے کہ پانچ فروری کے دن چھٹی  کرکے روایتی انداز میں آزاد پتن اور کوہالہ پل پر انسانی ہاتھوں کی علامتی زنجیر بنا کر زبانی جمع خرچ سے دنیا کے سامنے کشمیری عوام کے ساتھ  ہمدردی دکھانے  سے کشمیری عوام کو درپیش بنیادی حقو ق کے مسائل اور انکی تحریک آزادی کو کوئی تقویت نہیں ملنے والی ، اگر ایسا ہوتا تو ستر سال میں کوئی نتیجہ سامنے ضرور آتا- پاکستانی عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے کشمیر پالیسی پر نظرثانی کرنے پر زور دے اور ہمارے حقوق کی بحالی میں مدد کرکے یکجہتی کی بہترین مثال قائم کرے-

کشمیری عوام کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ اظہار یکجہتی کے اس دن کی مناسبت سے اپنے مربی و محسن سے مذکورہ بالا اقدامات کو قابل عمل بنانے کا مطالبہ کرے اور اس پر واضح کرے کہ ہمارے حقوق لوٹانے سے اچھا  یکجہتی کا کوئی اور عمل نہیں ازراہء کرم اس پر غور فرمائیے- وگرنہ اس دکھاوے کو ترک کرکے کشمیری عوام کو آئینہ دکھا کر شکریہ کا موقع دیجئے-

شاید آپ کے اس نیک عمل سے ہماری آنکهیں کھل جائیں اور آپ کے نزدیک ہمیں اپنی اہمیت اور قدر و منزلت کا احساس ہو سکے- کیا پتہ آپکی اس نوازش کے طفیل ہی ہمیں غفلت کی نیند سے بیداری نصیب ہو جائے اور ہمیں اپنے مستقبل کے فیصلے میں سنجیدگی سے کام لینے کی توفیق حاصل ہو سکے-اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو-

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *