پدماوتی کا “دانشمندانہ” جائزہ۔۔معاذ بن محمود

SHOPPING
SHOPPING

حال ہی میں اردو مضمون نگاری کو فروغ دینے والی ایک مقبول سائٹ کی جانب سے پدماوتی فلم پہ تحقیقاتی مقالہ شائع ہوا۔ بخدا ہم مذکورہ سائٹ کی نیک نیتی پہ ذرہ  برابر شک نہیں کرتے۔ بس مذکورہ مقالے میں دانش کی مقدار تھوڑی زیادہ ہوگئی، اتنی کہ مضمون سے باہر چھلک پڑی۔ موقع پاتے ہم نے بھی تھوڑی سی دانش اٹھا لی۔ بعد ازاں مصنف والا قلم اور منصف والا ہتھوڑا تھامے مضمون نگار کی ذہنی سطح پہ اپنا تخیلاتی جہاز لینڈ کر کے قلم کار کو خراج تحسین ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذیل میں اسی سطح کی چربہ گیری پیش ہے:

پدماوتی کا “دانشمندانہ” جائزہ

راقم بچپن میں فلمیں دیکھنے کا بہت شوقین تھا۔ ابا نے بتایا فلم دیکھنا گناہ ہے۔ اس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ ابا (شاید) (نہیں شاید نہیں یقیناً) ضیاء کے مرید تھے۔ مکمل فلم دیکھنے کے بعد ہمیں اہتمام سے منع فرمایا کرتے۔ ابا کا لیکچر سن کے ہم پہ واضح ہوجاتا کہ یہود و ہنود ہمہ وقت ہمارا  ہر آنے والا وقت سخت کرنے کی سازش پہ گامزن ہیں۔ مزید یہ کہ اگر ہمارے ابا جان ان کی یہ منصوبہ بندی پہلے سے فلم دیکھ کر ہمارے لئے باطل نہ کرتے تو ہم دوران شیرخواری، خواری و “ہشیاریِ” بلوغت کی آگ میں اپنا آپ جلا بیٹھتے۔ مسئلہ البتہ یہ تھا کہ خون ہماری رگوں میں بھی ابا جان کا ہی دوڑتا تھا۔ ابا کی جانب سے وقت کے ضیاع کا معاملہ ہم نے اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ زندگی بھر مکمل فلم دیکھتے وقت ضائع کرنے سے اجتناب برتا۔ ہم نے جب دیکھے فلموں کے “ٹوٹے” دیکھے۔ کسی خوار کے ساتھ اگر ململ فلم دیکھنی بھی پڑتی تو پوری سولہ گنا  رفتار  سے میڈیا  پلئیر کو بھگایا کرتے تاوقتیکہ مطلوبہ “سین” نہ پکڑ لیتے۔ کرم رہا اوپر والے کا۔ ہیں ناں؟

پچھلے دنوں فلم رام لیلا کا بڑا چرچا رہا۔ کہتے ہیں رام ہندوؤں کے بھگوان کا نام ہے۔ سنجے لیلا بھنسالی کے بارے میں سنا ہے کافی مشہور فلمساز ہے اور ہر سال ایک ہٹ فلم دیتا ہے۔ سمجھ  سے باہر ہے کہ اتنا مشہور فلمساز ہونے کے باوجود اس طرح ہندوؤں کے نام والی فلمیں کیوں بناتا ہے۔ فلم کا نام دنبہ لیلا بھی ہوسکتا تھا۔ بلکہ بکرا لیلا زیادہ بہتر تھا کیونکہ لیلا جیسا بھی ہو، بکرے میں لیلے کے ساتھ جوڑا بنانے کی صلاحیتیں ٹھیک ٹھاک موجود رہتی ہیں۔ رام لیلا میں نے دیکھی نہیں۔ میں ایسی فلمیں دیکھتا بھی نہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتلایا ابا جی منع فرماتے ہیں۔ لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں پاکستان سنسر بورڈ پہ کہ رام لیلا کی پاکستان میں نمائش کے لیے اجازت کیسے دے دی۔

آپ اندازہ لگائیے، پرسوں رات مری میں ایک عباسی دوست کے گھر مہمان تھا۔ کھانے کے دوران میں نے میزبان کے بچے کی تربیت ماپنے واسطے ازراہِ مذاق کہا “بیٹا تمہاری امی نے کھانے میں نمک تھوڑا زیادہ کر دیا ہے”۔ اندازہ لگائیے رام لیلا کے قبیل کی فلموں کا ان ننھے معصوم ذہنوں پہ اثر کا، بچے نے چھوٹتے ہی جواب دیا “کھانا اے تے کھا نئی تے جل اؤئے *** دیا”۔ میں نے عباسی کو دیکھا، عباسی نے مجھے اور پھر ہم دونوں واپس مرغ مسلم کی جانب متوجہ ہوگئے۔ ٹی وی چینلز کی وجہ سے میرے اور آپ کے گھر میں کس قدر اثر پڑ رہا ہے اس کا اندازہ ہوچکا ہوگا آپ کو۔

یہاں میں قصور سنسر بورڈ کا قرار دوں گا۔ دیکھیے سنیما میں جب بھی فلم دیکھنے جاؤ فلم کی ریٹنگ لکھی ہوتی ہے۔ کہیں PG18 تو کہیں PG13 یعنی ہر فلم کی ریٹنگ ضرور ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں یہ ریٹنگ والدین کے لیے مشورہ ہوتا ہے کہ کون سی فلم بچوں کو کیسے دکھانی ہے۔ ہمارے یہاں سنسر بورڈ اس قدر گھٹیا ہے کہ سینما والوں کو حکم ہی نہیں دیتا کہ PG18 کو اردو میں پ ج اٹھارہ لکھے۔ ہمارے سنسر بورڈ ان فلموں پہ پابندی کیسے لگائیں گے جبکہ ان کا تو کعبہ ہی بھارتی فلم انڈسٹری ہے۔ میں حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں کہ میں نے خود سنسر بورڈ کے افسران کو ممبئی کی جانب دو رکعت نفل ادا کرتے دیکھا ہے۔

SHOPPING

ناقدین کچھ بھی کہیں، آپ دل والے دلہنیا لے جائیں گے دیکھ لیں یا محبتیں۔ شاہ رخ خان کے ہر کردار میں ایک دہشتگرد دکھایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ ہر خان دراصل ایک دہشتگرد ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ناقدین اب واویلا مچائیں گے کہ پدماوتی کا یہ ریویو حقائق سے مختلف ہے، لیکن حقائق بھاڑ میں گئے، آپ بس میری نیت دیکھیں اور صفائی کے دس نمبر دیجئے۔ میں کہتا ہوں پدماوتی کھڈا نمبر پانچ میں گئی، سنسر بورڈ کا بتائیں آپ، ایسے ادارے کا وجود میں ہونا اپنی تہذیبی اور ثقافتی بقا کی جدوجہد کرنا کلہاڑی پہ پاؤں مارنے کے مترادف نہیں تو پھر اور کیا ہے۔۔۔۔۔؟

SHOPPING

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *