جماعت اسلامی بنگلہ دیش۔۔اشفاق پرواز

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔۔

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے زیر قیادت بر سر اقتدار پارٹی عوامی لیگ نے آئندہ پارلیمانی الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم سرکار نے یہ اٹھایا کہ ملک کی مقبول عوامی جماعت،
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ۱۱۲ سرگرم افراد بشمول سابق امیر جماعت مقبول احمد، نائب امیر جماعت پروفیسر میاں غلام پرور اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شفیق الرحمن کو ’حفظ ما تقدم‘ کے طور پر گرفتار کر کے پس زندان دھکیل دیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ شیخ حسینہ نے اپنے اقتدار کا غلط استعمال کر تے ہوئے 2014 سے ہی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود شدتِ خوف سے جماعت کے قائدین و وابستگان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر شیخ حسینہ کی یہ ستم آزمائی  نئی  نہیں ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کے معزز عوامی رہنما،ممبر پارلیمنٹ، سابق مرکزی وزیر اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی کو ڈھاکہ سنٹرل جیل میں شہید راہ شوق کیا جا چکا ہے۔ اس سعادت کو حاصل کرنے والے وہ تنہا نہیں تھے بلکہ وہ ملا عبدالقادر، پروفیسر قمر الزماں، علی احسن مجاہد کے بعد جام شہادت نوش کرنے والے جماعت اسلامی کے قائدین کے سلسلتہ الزہب کی چوتھی کڑی تھے۔ کل کے قائدین کی شہادت اور آج کے قائدین کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی، کیونکہ نشہ قوت میں مست بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے اسلام پسندوں کے خلاف ان ہی شرمناک اقدامات کی توقع تھی۔میرے نزدیک جماعت کے قائدین کی شہادت افسوس ناک بھی نہیں ہے کیونکہ سزائے  موت پر آہ و بکا تو وہ کرتے ہیں جو اسیر دنیا ہوتے ہیں۔ راہ حق پر گامزن انقلابی دیوانوں کے تن بدن میں حیات اخروی کی سرخروئی  کا پاکیزہ جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ وہ موت کے فیصلوں کو خندہ پیشانی سے تسلیم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے سیاسی اسٹیج پر گذشتہ چھ برسوں سے جاری ڈرامے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش کے سیاسی طور پر یر غمال مین اسٹریم میڈیا کو شیخ حسینہ کی جانب سے احکام جاری کر کے دنیا کے سامنے حقائق  کو پیش نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ برصغیر کا میڈیا بھی (بسا اوقات بعض اردو میڈیا بھی) شاید حقائق  سے ناواقف ہے،یا نا واقف رہنا چاہتا ہے پا پھر ایک خاص پالیسی کے تحت دانستہ طور پر جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ میڈیا کا اس قسم کا غیر دیانتدارانہ رویہ کسی بھی مسئلے پر منصفانہ موقف اختیار کرنے سے عوام کو محروم کر دیتا ہے۔ گذشتہ مہینوں بھی جماعت کے قائدین کی شہادت کے موقع پر میڈیا کے اس صریح غیر دیانتدارانہ رویے کو قارئین کرام نے نوٹ کیا ہوگا۔

بنگلہ دیش کا موجودہ سیاسی ڈرامہ شیخ حسینہ کی جانب سے2010 میں اس پالیمانی انتخاب کے لیے رچا گیا تھا جو جنوری 2014  میں عمل میں آیا تھا۔شیخ حسینہ کی قیادت میں بنگلہ دیش کی اس وقت کی عوامی لیگ کی حکومت گوناگوں حکومتی محاذ پر بری طرح ناکام ہوچکی تھی۔ملک سنگین اقتصادی و سیاسی بحران کا شکار تھا۔ عوام پر یہ واضح ہوچکا تھا کہ عوامی لیگ کی حکومت انتہائی  بدعنوان اور کرپٹ حکومت ہے۔ معاشی ابتری کے سبب آسمان کو چھوتی مہنگائی ، پیٹ کاٹتی غربت اور مستقبل کو تاریک کر دینے والی بے روزگاری نے بنگلہ قوم کی کمر توڑ دی تھی۔ ایک طرف شیخ حسینہ کی یہ سیاسی ناکامی تھی دوسری جانب جماعت اسلامی بنگلہ دیش اپنے سابقہ سیاسی ریکارڑ کی بنیاد پر ایک بڑے سیاسی متبادل کے طور پر ابھرنے لگی تھی۔ جماعت اسلامی، عوامی لیگ کی حکومت سے پہلے خالدہ ضیا   کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی)کے ساتھ بر سر اقتدار رہ چکی تھی۔

جماعت کے صف اول کے قائدین  اس حکومت میں مختلف اہم وزارتوں اور عہدوں پر فائز  تھے۔شہید مولانا مطیع الرحمٰن نظامی وزارت زراعت اور صنعت کے عہدوں پر فائز  تھے۔ اُس وقت جماعت کے وزرا   نے صاف و شفاف کارکردگی کے ذریعے تعلیم اور زراعت کے محاذوں پر زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے  غیر معمولی انقلاب برپا کیا تھا۔ جس کی بنا پر جماعت اسلامی کو بے پناہ عوامی مقبولیت اور حمایت حاصل ہو گئ تھی۔ جماعت کی اس بڑھتی مقبولیت کے سبب جنوری 2014 کے قومی انتخابی پارلیمان میں شیخ حسینہ کی سیاسی ہزیمت تقریباً طے تھی۔ چناچہ شیخ حسینہ نے 2010  میں نام نہاد انٹرنیشنل وار ٹریبیونل بحال کر دیا۔ آناً فاناًجماعت اسلامی بنگلہ دیش کے صف اول کے رہنماؤں  اور بی این پی کے چند اہم لیڈران کی گرفتاریاں عمل میں لائیں  گے۔

بنگلہ دیشی حکومت نے جماعت کے لیڈران پر یہ الزام لگایاکہ جماعت نظریاتی طور پر غدار وطن ہے۔ کیونکہ اس نے 1971  میں سقوط ڈھاکہ اور قیام بنگلہ دیش کی مخالفت کی تھی۔ اس الزام کے ردعمل میں جماعت کے امیر مولانا مطیع الرحمٰن نظامی کی وضاحت کافی اہم سمجھتا ہوں۔ایک مرتبہ انہوں نے کسی بنگلہ اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے  کہا تھا کہ ”جب ہم نے پاکستان کی حمایت کی تھی تب بنگلہ دیش وجود پذیر نہیں ہوا تھا۔پاکستان ہم سب کا وطن تھااور یہ حب الوطنی کا تقاضا تھا کہ ہم تقسیم وطن کی مخالفت کریں۔لیکن جب بنگلہ دیش وجود میں آہی گیا تب ہم نے اپنی ساری وفاداریاں بنگلہ دیش کے لیے خاص کر لیں“۔

اس کے بعد مطیع الرحمن نظامی صاحب دیگر رہنماوں کے ساتھ شہید کیے گیے۔ جماعت کے سبھی قائدین  پر جھوٹے الزامات و مقدمات عائد  کیے گئے  کہ انہوں نے تقسیم پاکستان کے وقت دو طرفہ جنگ کے دوران تین ملین بنگلہ دیشیوں کا قتل عام، ہزاروں خواتین کی آبرو ریزی اور کروڑوں کی املاک کو برباد کیا تھا۔ ایک عام شخص جو جماعت اسلامی کی فکر، اس کی دعوت، اس کی تاریخ اور اس کے مزاج سے واقف ہو جماعت کا مخالف ہونے کے علی الرغم یہ شہادت دے گا کہ کم از کم جماعت اسلامی کے افراد پر اس قسم کے گھناؤنے مقدمات بے بنیاد ہیں۔بہر حال جعلی مقدمات کی بنیاد پر خانہ ذاد وار ٹریبیونل نے انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عدالتی قتل کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔
خون سے ہم نے گلشن سینچا
رنگ بھی بخشا پھولوں کو
پہلی فصل پر اہل چمن نے
پیش ہمیں کو خار کیے

اس ٹریبیونل کے پورے پروسیس کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے حقوق انسانی کے کئی  عالمی اداروں نے بیان جار ی کیا کہ انٹرنیشنل وار ٹریبیونل نے انصاف کے عالمی ضابطوں کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔بنگلہ دیش کے کئ اہم اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں  کہ بنگلہ دیش میں شہری و سیاسی حقوق کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔سیاسی کارکنوں کو بڑے پیمانے پر قید و بند اور موت کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ان خبروں اور بیانات نے دو باتیں ثابت کر دیں۔ ایک یہ کہ جماعت اسلامی پر مقدمات ایک سیاسی دباؤ کا حصہ ہیں، جس کا انصاف اور قانون سے کوئی  واسطہ نہیں۔ دوسرا یہ کہ بنگلہ دیش ایک نئے  داخلی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے عوامی لیڈران کی Target Killings کے بعد شیخ حسینہ2014  کے پارلیمانی الیکشن کے لیے اپنے ڈرامے میں کامیاب بھی ہو گئیں۔ انتخاب سے عین قبل حکومت نے جماعت اسلامی اور خالدہ ضیا   کی بی این پی کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے  پابندی عائد  کر دی اور انتخابات میں حصہ لینے کے جمہوری حق سے ان دونوں سیاسی محاذوں کو محروم کر دیا۔ملک کی اکثریت نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔چناچہ پارلیمانی انتخاب میں محض 10فیصد پولنگ ہوئی  اور شیخ حسینہ دوبارہ نام نہاد جمہوری طریقے سے بر سر اقتدار آگےآئیں۔ اب جبکہ حکومت کی پانچ سالہ میعاد مکمل ہونے کو ہے، دوبارہ نئے سرے سے جماعت اسلامی پر شکنجہ کسنے کی مہم شروع ہو چکی ہے۔

اس وقت ایشو یہ نہیں ہے کہ 1971 میں پاکستان کیوں تقسیم ہوا؟کس نے کس کی حمایت کی؟اور کس نے کس کی مخالفت کی؟ بلکہ اس وقت اصل ایشو یہ ہے کہ چار دہائیاں گذر جانے کے بعد گڑے مردے اکھاڑ کر مقدمات کا ڈرامہ کیوں رچا جارہا ہے؟ عدل و انصاف اور ملکی و عالمی قانون کو پامال کرتے ہوئے  محترم اور مقتدر سیاسی شخصیات کو میدان سے ہٹانے اور جماعت اسلامی کو سیاسی ڈور سے خارج کرنے کا گھناؤنا  کھیل کیوں کھیلا جارہا ہے؟ واضح رہے کہ یہ معاملہ جماعت اسلامی کی حمایت یا مخالفت کا بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسانی حقوق کی پامالی، معصوم انسانوں کے عدالتی قتل، قید و بندکی سعوبتیں اورسیاسی تبدیلی کے لیے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کا عالمی معاملہ ہے۔

بہرحال ماضی کے گڑے مڑے اکھاڑ کر شیخ حسینہ نے در اصل اپنی ہی سیاسی قبر تیار کر لی ہے۔ ظلم و جبر کا یہ سلسلہ چند روزہ ہے۔ خود شیخ حسینہ بھی اس حقیقت سے نا واقف نہیں ہے کہ اس ظلم کے نتیجے میں جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے خون میں غرق ہو جائے  گی اور یہ قربانیاں بنگلہ دیش میں اسلامی انقلاب کی نوید لے کر آئیں   گی۔

اشفاق پرواز
اشفاق پرواز
اشفاق پرواز معروف کتاب "تعمیر معاشرہ اور اسلام " کے مصنف ہیں ۔ آپ مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ ۔سال ٢٠١٢ سے لکھ رہیں۔ آپ کے مضامین برصغیر ہند و پاک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔ درس و تدریس کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کی تحاریر اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اردو ان کا وضیفہ حیات ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *