مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 5 ۔ لالہ صحرائی

مثنوی معنوی از پیرِ رُومی

نثر نگاری و اندازِ بیان

لالہء صـحـرائی

بانسری کا بیان:

مثنوی شریف بانسری کے باطنی مفہوم سے شروع ہوتی ھے اور اسی کی تشریح میں مولانا روم ایک سے ایک نئی گرہ کھولتے چلے جاتے ہیں، وہ ایک بات کی تشریح میں دوسری بات شروع کرتے ہیں اور پھر اس بات کی تشریح میں اگلی بات، آدھی کتاب پڑھنے کے بعد وہ پھر پہلی والی بات پہ آ جاتے ہیں اور بندہ حیران رہ جاتا ھے کہ میں کتنا جہان گھوم آیا ہوں اور اسرار و معنی کے اتنے گھنے جنگل سے گزرنے کے بعد پھر مجھے وہیں لا کھڑا کیا جہاں سے چلا تھا، شائید بصیرت افروزی کی اس سے عمدہ حالت کوئی نہ ہو کہ بندہ زمین و آسمان کی سیر کر چکنے کے بعد دیکھے کہ میں اپنی جگہ سے ہلے بغیر اپنے اندرونی انسان میں ایک خاص تبدیلی محسوس کر رہا ہوں جو بندے سے اللہ کی طرف رغبت کا ایک ایسا تقاضا کرتی ھے جس میں ایک خاص اپنائیت کا عنصر ھے بر عکس اس کے کہ جیسا وہ ایک خوفناک معبود ملاؤں کے وعظ و نصیحت سے اخذ کرتا ھے۔

مثنوی کا پہلا مضمون ہی بندے کو اٹھا کر فکری آسمان پر لے جاتا ھے اور اس کے آگے کے کلام میں یہ خاصیت بدرجہء اتم موجود ھے کہ وہ پھر بندے کو واپس زمیں پر نہیں آنے دیتا۔

ابتداۓ مثنوی شریف :

بشنوازِ نے چوں حکایت می کند

وزجدائیــــــــمہا  شکائیت می  کند

کز نیستاں تا مرا ببریدہ اند

از نفیرم مرد و زن نالیدہ اند

سینہ خواھم شرحہ شرحہ از فراق

تابگوئیم شرحِ دردِ اشــــــــــــتیاق

ھر کسے کہ دور ماند از اصل خویش

باز جوید روزگارِ وصــــــــــل خویش

اے میرے عزیز

ذرا بانسری سے سن کیا فریاد کرتی ھے، اور وہ جدائیوں کی کیا شکائیت کرتی ھے

کہ جب سے مجھے بنسلی سے کاٹا ھے ،میرے نالہ سے سب مرد و عورت روتے ہیں، میں اپنی بات سمجھانے کے لئے ایسا سینہ چاہتی ہوں جو جدائی سے پارہ پارہ ہو، تاکہ میں عشق کے درد کی تفصیل سناؤں

جب کوئی اپنے اصل سے دور ہو جاتا ہے تب وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر سے تلاش کرتا ہے، میں بھی ہر مجمع میں روئی ہوں، خوش اطوار اور بداحوال لوگوں کے ساتھ رہی ہوں لیکن ہر شخص اپنے خیال کے مطابق میرا دوست بنا اور میرے اندر سے میرے رازوں کی جستجو کسی نے نہ کی

میرا راز میرے نالہء جدائی سے دور نہیں لیکن آنکھ اور کان کےلئے وہ نور نہیں کہ اسے کوئی سمجھ سکے، بدن روح سے اور روح بدن سے چھپی ہوئی نہیں ہے لیکن یہاں کسی کےلئے روح کو دیکھنے کا رواج و دستور ہی نہیں

بانسری کی یہ آواز اک آگ ہے، ہوا نہیں، جس میں یہ آگ نہ ہو وہ نیست و نابود ہو ، عشق کی اک آگ ہے جو بانسری میں لگی ہوئی ہے، عشق کا جوش ہے جو شراب میں آیا ہوا ہے

بانسری اس کی ساتھی ہے جو اپنے دوست سے جدا ہو گیا ہو، اس بانسری کے راگوں نے ہمارے دل کے پردے پھاڑ دیئے ہیں کیونکہ ہم جدائی کے مارے لوگ اس کا درد سمجھتے ہیں

بانسری جیسا زہر اور تریاق کس نے دیکھا ہے، بانسری جیسا ساتھی اور عاشق کس نے دیکھا ہے، یہ بانسری خطرناک راستہ کی بات کرتی ہے، مجنوں کے عشق کے قصے بیان کرتی ہے

بانسری کی طرح گویا ہم بھی دو منہ رکھتے ہیں، ایک منہ اس پھونک مارنے والے کے لبوں میں چھپا ہے اور ایک منہ روتا ہوا تمہاری طرف ہے، آسمان میں شور و غل مچائے ہوئے ہے، لیکن جسے آنکھ میسر ہے وہ جانتا ہے کہ اس سرے کی آہ و فریاد اس پھونک مارنے والے ہی کی جانب سے ہے جیسے ہمارا ہر کام مشیت الہی کی وجہ سے ہے، اس بانسری کی آواز اسی پھونکوں کی وجہ سے ہے جیسے ہماری روح کا شور و غل اس کی تنبیحات سے ہے

اس ہوش کا رازداں بیہوش کے علاوہ کوئی نہیں ہے، (میٹھی) زبان کا خریدار (سننے کے مشتاق) کان جیسا کوئی نہیں ہے، بانسری کی فریاد کا اگر کوئی نتیجہ (سننے والا) نہ ہوتا تو بانسری دنیا کو عشق کے شکر (چاشنی) سے نہ بھرتی

ہمارے غم میں بہت سے دن ضائع ہوئے، بہت سے دن سوزشوں کے ساتھ ختم ھوئے

دن اگر گزریں تو کہہ دو گزریں، پرواہ نہیں، اے وہ کہ تجھ جیسا کوئی پاک نہیں ہے، تو ہمیشہ رہے گا

جو مچھلی (عاشق) کے علاوہ ہے اس کے پانی سے سیر ہوا، جو بے روزی ہے اس کا وقت ضائع ہوا، کوئی ناقص کسی کامل کا حال معلوم نہیں کر سکتا، پس بات مختصر یہی ہے

شراب جوش میں ہمارے جوش کی محتاج ہے، آسمان گردش میں ہمارے ہوش کا قیدی ہے، (شراب کا جوش دیکھنا ہو تو اسے اپنے اندر انڈیلنا پڑتا ھے اسی طرح آسمان کے اسرار ہماری توجہ کے متقاضی ہیں)

شراب ہم سے مست ہوئی نہ کہ ہم اس سے، جسم ہماری وجہ سے پیدا ہوا نہ کہ ہم جسم کی وجہ سے ( جس طرح شراب نے اپنا رنگ ہمارے اندر جا کر دکھایا اسی طرح روح نے بھی اس جسم میں جا کر اپنا رنگ دکھایا، یہ جسم ہمارے لئے پیدا کیا گیا نہ کہ ہم اس جسم کےلئے تاکہ ہم شراب کی طرح اس جسم میں وارد ہو کر اپنا رنگ دکھائیں)

جس طرح انجیر ہر پرندے کی خواراک نہیں اسی طرح سچی بات سننے پر ہر شخص قادر نہیں،

اے بیٹا قید کو توڑ آزاد ہو جا، سونے چاندی کا قیدی کب تک رہے گا

اگر تو دریا کو ایک پیالے میں ڈالے تو کتنا آئے گا محض ایک دن کا حصہ

حریصوں کی آنکھ کا پیالہ نہ بھرا، جب تک سیپ نے قناعت نہ کی موتی نہ بھرا (اگر سیپ حرص کرے اور بہت سارا پانی پی لے تو موتی نہیں بنتا، موتی بنانے کےلئے اسے محض ایک قطرہ بارش کا پانی چاھئے ہوتا ھے) جس کا جامہ عشق کی وجہ سے چاک ہوا، وہ حرص اور عیب سے بلکل پاک ہوا ( جو جان لے کہ اصل کام یہاں خدا سے تعلق استوار کرنا ہے تو وہ پھر ضرورت کے علاوہ دیگر دنیاوی چیزیں اکٹھی کرنے کی حرص سے پاک ہو جاتا ہے)

خوش رہ ہمارے اچھے جنوں والے عشق، اے ہماری تمام بیماریوں کے طبیب

اے ہمارے تکبر اور عزت طلبی کی دوا، اے کہ تو ہمارا افلاطون اور جالینوس ہے

خاکی جسم عشق کی وجہ سے آسمانوں پر پہنچا، پہاڑ ناچنے لگا اور ہوشیار ہو گیا

اے عاشق، عشق طور کی جان بنا، طور مست بنا اور موسٰی علیہ السلام بیہوش ہو گئے، اس زیروبم میں اک راز چھپا ہوا ہے، صاف صاف کہہ دوں تو دنیا کو درہم برہم کر دوں (جس طرح ایک بڑی تجلی طور کی قوت برداشت سے باہر ہے اسی طرح سب کچھ ایک ساتھ کھل کر کہہ دینے سے بہت بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے)

ان دنوں معاملوں میں بانسری جو کچھ کہتی ہے، اگر میں بیان کردوں تو دنیا تباہ ہو جائے گی، اگر میں اپنے یار کے ہونٹ سے ملا ہوا ہوتا تو بانسری کی طرح کہنے کی باتیں کہتا، جو شخص دوست سے جدا ہوا وہ بے سہارا ہوا ، خواہ سو سہارے رکھے (اگر بانسری میں کوئی پھونک مانے والا نہ ہو خواہ دنیا بھر کا سامان اس کے ارد گرد رکھا ہوا ہو تو بیکار ہے، بانسری کی آواز اس پھونک مارنے والے کی محتاج ہے)

جب پھول ختم ہوا اور باغ جاتا رہا، اس کے بعد تو بلبل کی سرگزشت نہ سنے گا

جب پھول ختم ہوا اور باغ ویران ہو گیا، پھول کی خوشبو کس میں تلاش کروں؟ عرق گلاب میں ( جب انسان عالم ارواح سے رخصت ہوا تو خدا سے جدا ہو گیا اب اس کی خوشبو کس میں تلاش کریں، اب بوئے یار ہی تسلی کا موجب ہے)

تمام کائنات معشوق ہے اور عاشق پردہ ہے، معشوق زندہ ہے اور عاشق مردہ ہے

جب عشق کو اس کی پرواہ نہ ہو، وہ بے پر کے پرندے کی طرح ہے، اس پر افسوس ہے، ہمارے بال وپر اس کے عشق کی کمند ہیں ، اس عشق کے بال و پر کھینچتے ہوئے مجھے اس دوست کے کوچہ تک لے جاتے ہیں

میں کیا کہوں کہ میں آگے پیچھے کا ہوش رکھتا ہوں جبکہ میرے دوست کا نور ساتھی نہ ہو لیکن اس کا نور دائیں بائیں، نیچے اوپر ہے، تاج اور طوق کی طرح میرے سر اور گردن میں ہے

عشق چاہتا ہے کہ یہ بات ظاہر ہو، تیرا آئینہ غماز نہ ہو تو کیونکر ہو؟ تو جانتا ہے تیرا آئینہ غماز کیوں نہیں ہے، اس لئے کہ زنگ اس کے چہرے سے علیحدہ نہیں ہے، وہ آئینہ جو زنگ اور میل سے دور ہے، وہ نورِ خدا کے آفتاب کی شعاؤں سے بھرا ہے

جا بیٹا اس کے رخ سے زنگ کو صاف کر، اس کے بعد اس نور کو حاصل کر

اس حقیقت کو دل کے کان سے سن لے، تاکہ تو پانی اور مٹی سے بالکل نکل آئے

اگر سمجھ رکھتے ہو تو روح کو راستہ دو، اس کے بعد شوق سے راستہ پر چلو

حاصل کلام:

انسان کا درد بھی بانسری کی طرز کا ہے جسے اس کے اصل سے جدا کر دیا گیا پھر اس کو اک نیا وجود دیا گیا، بانسری کی شکل اختیار کرنے کے بعد اس بنسلی کے ٹکڑے کی خاصیت بدل گئی، اس میں پھونک ماریں تو اک نغمہ پیدا ہوتا ھے، اس کے نغمے میں اک درد کا اظہار ہے، ہر کوئی بانسری کو دوست رکھتا ھے مگر اس کے اندر سے اٹھنے والے درد کی اصل وجہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا، بانسری کا درد اس کے اصل سے جدائی کی بنا پر ھے

انسان بھی بانسری کی طرح ہے جس کا ایک منہ بانسری کی طرح دنیا کی طرف ہے اور دوسرا منہ چھپا ہوا ھے جس میں کوئی پھونکتا ھے تو یہ انسان بانسری کی طرح نغمہ سنج ہوتا ہے، جس طرح شراب کو اپنا اثر دکھانے کے لئے انسانی جسم کی ضرورت ہوتی ھے اسی طرح روح کو اپنا اثر دکھانے کےلئے جسم کی ضرورت تھی اسی لئے جسم پیدا کیا گیا، روح جسم کے لئے نہیں پیدا ہوئی بلکہ جسم روح کےلئے پیدا ہوا تاکہ روح اپنا اثر دکھا سکے

انسان نے اپنے اس چھپے ہوئے منہ (روح) کو بھلا دیا اور ظاہری منہ کو سنوارنا شروع کر دیا، جس طرح پھونک مارنے والے کے بغیر بانسری نہیں بولتی خواہ اس کے گرد دنیا بھر کا سامان رکھ دیا جائے اسی طرح انسان کا ہر کام اسی امر ربی (روح) کا محتاج ہے

جس طرح سیپ حرص کرنے سے اپنا پیٹ تو بھر لے گی لیکن موتی سے محروم رھے گی اسی طرح انسان اگر دنیا کو اوڑھنا بچھونا بنا لے تو اس کا وقت تو گزر جائے گا لیکن معرفت نصیب نہ ہو گی، خدا کی معرفت اس عشق کی محتاج ہے جو انسان کو خدا سے لگاؤ دے، انسان کی بقا بھی اسی ذات کی محتاج ہے سامان دنیا کی نہیں

انسان کا شوروغل اور بے چینیاں محض اس وجہ سے ہیں کہ وہ خدا کی تنبیہات کو نظر انداز کرکے شغل دنیا میں الجھ گیا ہے جبکہ وہ تنبیہات مسلسل انسان کے اندر سے اٹھ رہی ہیں کیونکہ بانسری کا ایک منہ اس کے ہاتھ میں ہے جو اس میں پھونکتا ہے

جیسے باغ اجڑنے کے بعد بلبل کا نغمہ ختم ہو جاتا ھے اسی طرح عالم دنیا میں آنے سے ہمارا اس باغ (عالم بالا) سے تعلق ختم ہو گیا اور ہمارا سکون بھرا نغمہ بھی ختم ہو گیا، اب اس کا حصول ایسے ممکن ہے کہ جیسے پھول ختم ہونے کے بعد پھول کے عرق سے اس کی خوشبو سونگھی جا سکتی ھے اسی طرح اس جدائی کے عالم میں بوئے یار سے زندگی پائی جا سکتی ھے

انسان کو یہ حقیقت کیسے نظر آ سکتی ھے جبکہ اس کا آئینہء دل زنگ آلود ھے اسی لئے ان بیان کی گئی حقیقتوں کا غماز نہیں، جو آئینہ زنگ سے پاک ہے وہ (آئینہ، شفاف دل) خدا کے نور سے معمور ہے، تم بھی جا کر اس (احکامات خداوندی) سے اپنے زنگ کو دور کرو اور پھر خدا کے نور کو حاصل کرو تاکہ تم انسان کے مٹی اور پانی ہونے کے چکر سے نکل سکو اور انسان کی اصل ہئیت کی پہچان کر سکو۔

بانسری کا درد بیان کرکے پیرِ رومی نے دراصل انسان کا ذوق خدا پرستی جگانے کی کوشش کی اور پھر اس کے راستے میں حائل دنیاوی رعب کو جھاڑنے کے لئے اسے دنیا کی سیر پر لے گئے جس میں طرح طرح کے واقعات سنا کر اسے دنیا کے عیب اور رہزنی سے آشنا کرواتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ صحیح راستے کی بھی پہچان کرواتے جاتے ہیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *